اسٹار فٹبالرز لوئس فیگو ، کاکا کراچی پہنچ گئے

پاکستان میں ورلڈ سوکر اسٹارز2019 کے افتتاح کے لیے عظیم فٹبالرز برازیل کے ریکارڈو کاکا اور اسپین کے اسٹار لوئس فیگو پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

جمعرات کو کراچی پہنچنے والے کاکا اور فیگو کی ٹیمیں ورلڈ سوکر اسٹارز 2019 کے سلسلے میں 26 سے 29 اپریل تک کراچی اور لاہور میں مدمقابل ہوں گی۔

کراچی کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فیگو نے کہا کہ کراچی میں بہترین انداز میں خوش آمدید کہے جانے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں لوگ فٹبال سے جنون کی حد تک لگاؤ رکھتے ہیں۔

کاکا اور فیگو کراچی میں منعقدہ تقریب کے دوران گفتگو کر رہے ہیں

انہوں نے پاکستانی ٹیم کے کوچ ہوزے انتونیو نوگوئرا کو اسٹیج پر بلاتے ہوئے کہا کہ ہم اپریل میں میچ کھیلنے کے لیے 10 عظیم کھلاڑیوں کے ہمراہ آئیں گے۔

کاکا نے بھی شاندار استقبال پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پہلی مرتبہ پاکستان آئے ہیں اور وہ اس ملک اور یہاں کے عوام کے بارے میں بہت اچھی رائے رکھتے ہیں۔

تقریب میں پاکستان فٹبال ٹیم کے کپتان صدام حسین اور مڈفیلڈر سعداللہ سمیت میڈیا کے نمائندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

صدام حسین غیراسٹارز فیگو اور کاکا کے لیے پاکستانی ٹیم کی جرسی لے کر آئے اور انہوں نے کہا کہ اگر وہ میرا تحفہ لیتے ہیں تو میرے لیے بہت اعزاز کی بات ہو گی۔

تقریب کے دوران ایک رپورٹر نے نشاندہی کی کہ پاکستانی ٹیم کے کپتان کو اسٹیج پر نہیں بلایا گیا تو صدام بھی اسٹیج پر پہنچ گئے اور انہوں نے دونوں اسٹارز کو پاکستان کی جرسی پیش کرتے ہوئے پاکستان آنے پر شکریہ ادا کیا۔

فیگو سے پوچھا گیا کہ وہ ریال میڈرڈ کو سپورٹ کرتے ہیں یا بارسلونا کو تو انہوں نے کہا کہ یہ ایک آسان سوال ہے، میں ریال میڈرڈ کا رکن ہوں۔

فیگو سے جب سوال کیا گیا کہ کرسٹیانو رونالڈو اور رونالڈو میں سے بہتر کون ہے تو انہوں نے کہا کہ میں کھیلنے کے مختلف انداز کے سبب کھلاڑیوں کا موازنہ نہیں کرتا اور اگر ایک کو منتخب کریں گے تو ایسا لگے گا کہ دوسرا اتنا اہم نہیں ہے ۔ میں دونوں کے ساتھ کھیلا ہوں اس لیے کسی ایک کا انتخاب نہیں کر سکتا۔

انہوں نے نوجوان کھلاڑیوں کو محنت اور ہمت نہ ہارنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ کھلاڑیوں کو پروان چڑھانے اور کھیل کے فروغ کے لیے حکومت اقدامات کرے۔

کاکا نے تسلیم کیا کہ پاکستان میں کرکٹ کی طرح فٹبال زیادہ مقبول نہیں لیکن انہوں نے کہا کہ اب دروازے کھل رہے ہیں اور نوجوان کھلاڑیوں میرا مشورہ ہے کہ وہ خواب دیکھیں اور پھر اس کی تکمیل میں لگ جائیں لیکن بہت سے لوگ ایسا نہیں کرتے۔

اس سے قبل کراچی ایئرپورٹ پہنچنے کے بعد دونوں کھلاڑیوں نے خوشی کا اظہار کیا، جبکہ انہیں سخت سیکیورٹی میں کراچی کے نجی ہوٹل پہنچا دیا گیا۔

ایک روز قبل سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کاکا نے پاکستان میں اپنے مداحوں کو مخاطب کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ پاکستان آرہے ہیں، اور یہاں چند روز قیام کریں گے۔

پرتگال کے لوئس فیگو اور برازیل کے کاکا نے چند روز قبل بھی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے اپنے دورے کے بارے میں بتایا تھا۔

برازیلین اسٹار کاکا نے کہا کہ ’میں پاکستان کا دورہ کرنے اور ملک میں فٹ بال کو فروغ دینے میں اپنا کردار ادا کرنے پر خوش ہوں ، میں کبھی پاکستان نہیں گیا لہٰذا میں بہت زیادہ پُرجوش ہوں‘۔

پرتگال کے لوئس فیگو کا کہنا تھا ’میں ایشیا کے ایک اور ملک میں فٹ بال کو ابھرتے ہوئے دیکھنے کے لیے پُرجوش ہوں، میں پُریقین ہوں کہ 22 کروڑ کی اس آبادی میں اپنی فٹ بال کو عالمی منظرنامے پر لانے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے‘۔

مزید پڑھیں: فٹبال ورلڈ کپ کی تاریخ کے چند ہیروز اور ولنز

اس دورے کے منتظمین نے ایک نیوز ریلیز میں بتایا تھا کہ ’ یہ دورہ کراچی اور لاہور کے شہریوں بالخصوص فٹ بال کے پرستاروں کو لوئس فیگو اور کاکا کی جھلک دیکھنے کا موقع فراہم کرے گا‘۔

ریال میڈرڈ کلب کے ساتھ کھلاڑیوں کو برطانیہ کی کھیل اور ایونٹ مینیجمنٹ کمپنی ٹَچ اسکائی گروپ کی جانب سے مدعو کیا گیا ہے۔

اسی کمپنی نے سال 2017 میں ایک علیحدہ نمائش میں رونالڈینو اور دیگر کھلاڑیوں کو بھی پاکستان مدعو کیا تھا۔

خیال رہے کہ کاکا 2002 میں ہونے والے فیفا ورلڈ کپ میں برازیلین اسکواڈ کا حصہ تھے جب برازیل نے 5واں اور اب تک کا اپنا آخری ورلڈ کپ اپنے نام کیا تھا۔

کاکا اپنے کیریئر کے دوران روایتی کھیل کی مدد سے شائقین فٹبال کو محظوظ کرتے رہے ہیں جبکہ انہوں نے 2007 میں فیفا پلیئر آف دی ائیر کا ایواڈ ’بیلن ڈی اور‘ بھی حاصل کیا تھا۔

اسٹار فٹبالر لوئس فیگو معروف فٹبالر کرسٹیانو رونالڈو کے بعد پرتگال کی جانب سے سب سے زیادہ 127 میچز کھیل 32 گول بھی اسکور کرچکے ہیں۔

کاکا کی طرح لوئس فیگو بھی دنیا کے دیگر عالمی شہرت یافتہ فٹبالرز کی طرح فیفا فٹبالر آف دی ائیر کا ایوارڈ اپنے نام کر چکے ہیں اور انہوں نے یہ ایوارڈ 2001 میں حاصل کیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *