شریف فیملی نے ثبوت فراہم کرنے کی اپنی ذمہ داری پوری کی

" احمد نورانی "

پاناماجےآئی ٹی کی جانب سے ’’اہم ثبوت‘‘قرار دی گئی چاربڑی کامیابیاں پہلےہی غلط ثابت ہو چکی ہیں یاکوئی غلط کام ثابت کرنے میں ناکام رہی ہیں جبکہ جے آئی ٹی رپورٹ وزیراعظم نواز شریف یاکسی دیگر ریسپانڈنٹ کو قانون کے مطابق کسی جرم یا غلط کام کا مرتکب قرار دینے کیلئے کوئی ایک ٹھوس ثبوت پیش کرنے میں بھی ناکام رہی ہے۔

پاناما عملدرآمد بنچ کے معزز ججز ہی جے آئی ٹی کی طرف سے پیش کئےگئے ثبوتوں اور دستاویزات کے میرٹ پرہونے یا نہ ہونے کافیصلہ کر سکتے ہیں لیکن جیسا کہ اس رپورٹ کو عام کردیا گیا ہے تواسکی صحت اورالزامات سےتعلق ہونےکے حوالے سےفائنڈ نگزکاتجزیہ کیاجارہاہے۔

ایک بیانیہ تشکیل دیاجارہاہےکہ جےآئی ٹی کو’’ثبوت ‘‘ نہیں دیئے گئے جبکہ یہ نہیں بتایا گیا کہ درجنوں الزامات میں سے کس الزام کے ضمن میں شواہد،دستاویزات جمع نہیں کرائے گئے۔پوری جے آئی ٹی رپورٹ بظاہروزیراعظم نوازشریف کےخلاف ایک کیس بنانےکی غیر متاثر کن لیکن اس سے بڑھ کر مایوس کن کوشش لگتی ہے تاہم جے آئی ٹی اور وہ لوگ جنہوں نے اس کی مدد کی اس کوشش میں بُری طرح ناکام ہوئے۔ 20اپریل کے پاناما فیصلے میں عدالت عظمیٰ کی جانب سے اُٹھائے گئے 13سوالات کے حوالے سے جے آئی ٹی نے محض اپنے تخیل کی بنیاد پر ہی وزیراعظم پر شکوک و شبہات اُٹھائےہیں لیکن کسی حوالے سے وزیراعظم کو ذمہ دار قرار دینے کے لئے ایک ثبوت بھی سامنے نہیں لایا گیا ۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ 20اپریل کے فیصلے میں سپریم کورٹ کی جانب سے اُٹھائے گئے 13جمع2سوالات کےحوالے سے حقائق کی کھوج میں جے آئی ٹی نے وزیراعظم کےعمل دخل کےحوالے سے کوئی نتیجہ خیز بات نہیں کی لیکن ان سوالات کے جوابات کی بات کی جائے تو جےآئی ٹی نےیکا یک قراردیا’’یہ بات کسی شک و شبے سے بالا ثابت ہو چکی ہے کہ یہ وزیراعظم نواز شریف تھے………‘‘ کس نےاور کہاں سےیہ نتائج نکالے ،یہ سوال ہمیشہ رہےگا۔عدالت عظمیٰ کے سامنے عائد کئے گئے الزامات اور شریف خاندان کے جمع کرائے گئے جوابات کے پیش نظر نمائندے کاخیال ہےکہ اس سےنیب یا ایف آئی اے کے ذریعے مکمل تحقیقات کا کیس بنتاہے۔

تاہم جے آئی ٹی کی رپورٹ اور اس کی تحقیقات کے بعد لگتا ہے کہ تمام ریاستی وسائل بروئے کار لائے جانے کے باوجود الزامات خود ساختہ اورکھوکھلے تھے، سپریم کورٹ کی جانب سےمقرر کی گئی 6رکنی ٹیم کوئی ایسا ثبوت پیش کرنےمیں ناکام رہی جواس الزام کوقانونی طورپرسپورٹ کرتاہو۔باہمی قانونی معاونت کی درخواستوں میں بیرونی ریاستوں سے مخصوص جوابات حاصل کرنے کے لئےچالاکی سےتیارکئےگئےسوالات پوچھے گئےجوبذات خودحیل وحجت ہیں اورکسی غلط کام کی نشاندہی نہیں کرتے۔جب برٹش ورجن آئی لینڈکی فنانشل انویسٹی گیشن ایجنسی سےدوخطوط کی ’’موجودگی‘‘ کی تصدیق کے لئے پوچھا گیا تو اس سےکمپنیوں کی بینی فیشل ملکیت کی اصل معلومات کاپوچھاتک نہ گیا۔دبئی کے حکام کوزیر تفتیش معاہدہ بھی نہ بھجوایا گیا اور اُن سے اپنی مرضی کے جوابات لینے کے لئے غیر متعلقہ اور اُلجھائو والے سوالات پوچھےگئےمثلاًمخصوص ریکارڈکی موجودگی۔

اگر سپریم کورٹ خود دبئی کےمتعلقہ حکام کو معاہدے / لائسنسوں کو انکی تصدیق و توثیق کےلئے بھیجےتو صورتحال خود بخود صاف ہو جائے گی ۔ یہ ایک تسلیم شدہ حقیقت ہے کہ شریف خاندان پاکستان کا وہ واحد کاروباری خاندان نہیں جس نے 1970ء کی دہائی میں نیشنلائزیشن کےبعددبئی میں سرمایہ کاری کی۔جیساکہ دیگرکاروباری خاندان بیرون ملک سرمایہ کاریہ کرتےہیں،گلف سٹیل ایک بڑا یونٹ تھا جو اس وقت خلیج میں سٹیل کے شعبے کا پہلاکارخانہ تھا۔

تمام معاہدے اور لائسنس دبئی میں جاری ہوئے جن میں سے چند ایک پردبئی کے حالیہ حکمراں شیخ محمد بن راشد المکتوم کے والد شیخ راشد بن سعید المکتوم نے دستخط کئےجو سپریم اور جے آئی ٹی میں جمع کرائے گئے ہیں اور سپریم کورٹ اصل معاہدات کو بھجوا کر خود ان کی تصدیق کرا سکتی ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ ایک سوچے سمجھے مقصد کے تحت لکھی گئی اور الزامات ثابت کرنے کے لئے مضحکہ خیز کوششیں کی جارہی ہیں جس سےیہ ساری دستاویزمذاق ، اغلاط ، تضادات اور غلط فہمیوں کی ایک مثال یاحقائق کی چالاکی سےغلط توجیہہ بن گئی ہے۔وزیراعظم کی آف شور کمپنی اس سے تنخواہ وصولی اور پاکستان میں ظاہر نہ کرنےکاالزام:جے آئی کی جانب سے وزیراعظم پر عائد کیاگیاسنجیدہ الزام انکی ’’آف شور کمپنی‘‘ ایف زیڈ ای کیپٹل ، اس سے تنخواہیں لینے اورانہیں پاکستان میں اپنے سالانہ گوشواروں میں ظاہر نہ کرناہے۔ جبل علی فری زون میں ایک یو اے ای کی کمپنی کو آف شور کمپنی کہہ کر جے آئی ٹی نے کوئی قانونی بنیادفراہم کرنے کے بجائے معاملے کو سیاست زدہ کرنے اور سنسنی پیدا کرنے کی دانستہ کوشش کی۔

جے آئی ٹی میں ایس ای سی پی کانامزدرکن جسےایسے معاملات سے بخوبی آگاہ ہونا چاہئے کےپیش نظریہ کہناکہ ایک کمپنی کا مالک جس کے پاس چیئرمین کا تقررنامہ بھی ہےبذات خود حیرت کی بات ہے۔ ایف زیڈ ای کمپنی سے تنخواہ لینےکی نواز شریف خود تردید کرچکے ہیں اورجے آئی ٹی ان کے اکائونٹ میں تنخواہ کی منتقلی کا کوئی ثبوت بھی پیش نہیں کر سکی ، حقیقی ملکیت یاشیئر ہولڈنگ کے بغیر ویزا اورسفری سہولیات حاصل کرنے کے لئے کسی کمیٹی کاخودچیئرمین بننا،یو اے ای میں ایک معمول کی بات ہےاورتقرر نامے کا ہمیشہ ایک مخصوص طرزہوتا ہے جس میں تنخواہ لکھناپڑتی ہے۔

تنخواہ وصول کرنےکا ثبوت کمپنی سے وزیراعظم نواز شریف کے اکائونٹس میں رقم کی منتقلی ہو سکتا ہےجو جے آئی ٹی نہیں دے سکی۔ جبل علی فری زون دبئی کےمعاملےمیں صرف وہ معلومات ہیں جن سے کوئی غلط کام ثابت نہیں ہوتا۔ واضح ہے کہ دانستہ طور پرملکیت کے حوالے سے وضاحت نہیں لی گئی یا جے آئی ٹی رپورٹ میں شامل نہیں کی گئی۔

مزید برآں وزیراعظم کے سالانہ گوشواروں میں لاکھوں کی آمدن دیکھی جا سکتی ہے جن میں بیرون ملک سے آنے والی رقوم بھی شامل ہیں،اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ وہ اس چھوٹی سی رقم کو اس میں شامل نہ کریں۔ اس معاملے میں جے آئی ٹی جس واحد غلط کام کو ثابت کرنے کی کوشش کررہی ہے وہ اس بتائی گئی تنخواہ پر ٹیکس نہ دینا ہے لیکن وہ یہ بھی ثابت نہیں کرسکتی۔ وزیراعظم پر یو اے ای کی کسی کمپنی میں اعزازی عہدے کے حوالے سے کوئی چیز سالانہ ٹیکس گوشواروں میں یا الیکشن کمیشن کے کاغذات میں ظاہر کرنا لازم نہیں تھا کیونکہ وہ اس سے کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں کررہے تھے۔ذرائع سے زائد آمدن کا بڑا اور آخری الزام:صحیح اعدادوشمار ،تمام اثاثوں اورذرائع آمدن کی کلی تفصیل پیش کرنے کے بجائے جے آئی ٹی نے جست لگا کریہ الزام لگایاکہ سب وزیراعظم نواز شریف اورانکے خاندان کے پاس معلوم ذرائع سے زائد اثاثے ہیں اس بناء پر اس نےنیب قانون کی بعض دفعات شامل کرنےکی سفارش کی۔یہ واضح طورپر ایک عمومی بیان ہے جس میں الفاظ اوراعدادو شمار کی شعبدہ بازی شامل ہےجوکہ کسی چارٹرڈ اکائونٹ کاروزکاکام ہے۔

جے آئی ٹی میں ایک چارٹرڈ اکائونٹنٹ عامر رضا اس عہدے پر گزشتہ 17سال سے مسلسل کام کررہےہیں۔انکی باتیں انکےتعصب کی بنیاد پر ہیں اور ایسی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں جس پر ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں کی بات کہی جائے۔ایسی صورت میں جب ملک میں تمام اثاثے،ذرائع آمدن اورخاندان کے بیرون ملک اثاثے نان ٹیکس ریذیڈنٹ پاکستانیزچلڈرن کے طور پر ہر سال سالانہ گوشواروں میں ظاہر کئے جارہے ہوں انہیں ملکی قانون کے تحت اثاثہ قراردینا ضروری نہیں ۔

بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ کون سے اثاثے ہیں جنہیں ذرائع سےبالاقرار دیا جارہا ہے اورجن کے حصول/ خریداری کے لئے ذرائع آمدن ظاہر نہیں کئے گئے۔بالفاظ دیگر وزیراعظم کے کوئی خفیہ اثاثےہیں؟جےآئی ٹی کےپاس اس سوال کاکوئی جواب نہیں ۔ دی نیوزکیطرف سےوزیراعظم نوازشریف کے سالانہ گوشواروں کے تجزیئے سے پتہ چلتا ہے کہ ان کے ظاہر شدہ اثاثے زرعی زمینوں، گھروں ، بینک اکائونٹس اور متعلقہ کمپنیوں میں شیئرز کی شکل میں ہیں ۔

جے آئی ٹی نے وزیراعظم نواز شریف کا ایک بھی خفیہ اثاثہ نہیں بتایا۔ یو اے ای کی ایف زیڈ ای کیپٹل کی ظاہر نہ کی گئی تنخواہ سے ذرائع سے زائد آمدن کا کیس نہیں بنتا جیسا کہ پہلے ہی تفصیل اس حوالےسے تذکرہ کیاجاچکا ہے،اسی طرح جے آئی ٹی رپورٹ کے پہلے والیم کے صفحہ 244کے پیرا(v) میں جے آئی ٹی نے الزام لگایا ہے کہ وزیراعظم نے ٹیکس سال 2011ء کی ویلتھ سٹیٹمنٹ میں ایم بی ٹی ایم ایل میں اپنے 467950شیئرز ظاہر نہیں کئے۔اس الزام مقصد صاف صاف وزیراعظم کو ہدف بنانا ہے تاکہ عدالت کی جانب سے ان کی نااہلی کے کے لئے ایک قانونی نکتہ اٹھادیاجائے۔

جے آئی ٹی میں تمام دستاویزات پیش کئے گئے اور وہ حقیقی صورتحال سے آگاہ تھی پھربھی اس نکتے کودانستہ طور پر عدالت عظمیٰ کو گمراہ کرنے کے لئے طول دیا گیا ۔ جے آئی ٹی میں پیش کئے گئے دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ ایم بی ٹی ایم ایل ایک غیر فعال کمیٹی جس نے کبھی کاروبار نہیں۔ یہ شیئرز 2011ء سے پہلے اور بعد کے تمام گوشواروں میں ظاہر کئے گئے ۔

جے آئی ٹی بخوبی آگاہ تھی کہ ایم بی ٹی ایل ایل جیسے شیئرز کو چھپانے کا کوئی مقصد نہیں ہو سکتا تھا کیونکہ اس پر کوئی ویلتھ ٹیکس ہی نہیں بنتا تھا جو 1999ء میں بند ہوگئی اور خاص طور پر اس حقیقت کے پیش نظر کہ جب یہ خریدی گئی اوراس کےبعدکےسالوں میں بھی انہیں ظاہر کیا گیا تھا۔جے آئی ٹی کو علم تھا کہ یہ شیئرز خاندان کی وراثتی تقسیم کی سکیم کےتحت منتقل ہونا تھے۔ جے آئی ٹی کو فراہم کردہ دستاویزات ثابت کر تے ہیں اور ایم بی ٹی ایم ایل شیئرز 2013ء میں وزیراعظم نواز شریف کے ایف بی آر ریٹرنز میں شامل ہوئے جب میاں شریف کے اثاثے خاندانی وراثت کی تقسیم کے نتیجے میں وارثان کو منتقل ہوئے۔ایم بی ٹی ایم ایل شیئرز کی حقیقی منتقلی 2013ء میں ہوئی۔

حقیقی صورتحال سے آگاہی اور تمام متعلقہ دستاویزات پاس ہونےکےباوجود اس نکتے کو’’ غلط بیانی‘‘ قرار دینا دراصل ایک شہری کو بدنام کرنا اور عدالت کو گمراہ کرنے کی مجرمانہ کوشش ہے۔ عدالت عظمیٰ کودستاویزات کا جائزہ لیناچاہئےاوروہ اس معاملے میں جے آئی ٹی کے مقصد کا تعین کرنےکیلئے انکوائری کا حکم دے سکتی ہے۔ وزیراعظم کی ملکیتی کمپنیوں کے شیئرز اب تک ظاہر کئے گئےہیں جو ایف بی آر گوشواروں سےحاصل کئے گئے ۔1991ء سے پہلے اور بعد انکی جانب سے خریدی گئی اراضی اور اس خریداری کیلئےذرائع آمدن سالانہ گوشواروں میں ظاہر کئے گئے۔ جے آئی ٹی کی کامیابی تب ہوتی اگر اس نے کوئی ایسااثاثہ یا اراضی بتائی ہوتی جو چھپائی گئی ہویاایسے کسی اثاثے کی خریداری کیلئے یاکسی دوسری جائیدادکیلئے ذرائع آمدن ایف بی آر کی ریٹرنز میں نہ ہوں۔

سالانہ گوشواروں میں کوئی اثاثہ ظاہر کیا جائے تو اس کی خریداری کیلئے ذرائع بھی بتانے پڑتے ہیں۔ اگر دونوں چیزیں ظاہر کی گئی ہیں تو ’’ معلوم ذرائع آمدن سے زائد اثاثوں‘‘ کاا لزام کیسے عائد کیا جاسکتا ہے۔ یہ کیس یا تو ظاہر نہ کئے گئے اثاثے /آمدن کی نشاندہی سے بن سکتا ہے جو کم ازکم جے آئی ٹی نہیں کرسکی یا یہ کیس بنتا ہی نہیں۔ سب سے مضحکہ خیز’’جے آئی ٹی‘‘ کا خیال ہےکہ کمپنیاں خسارے میں جار ہی تھیں تو نواز شریف اور انکے خاندان کی دولت کیسے بڑھتی رہی۔

ایسےکیسز جن میں سالانہ گوشوارے کمپنیوں یا متعلقہ افراد کی جانب سے جمع کر ائے جائیں،آمدن سےزائد اثاثوں کے الزامات عائدکرنےکیلئے کسی کو ان اثاثوں کی خاص طور پر نشاندہی کرنا پڑتی ہے جن کے ذرائع آمدن معلوم نہ ہوں۔ عوامی عہدہ رکھنے والوں کیلئے کرپشن یاکک بیکس کا خاص طور پر حوالہ دینا پڑتا ہے۔ جے آئی ٹی ایسا کچھ بھی کرنے میں ناکام رہی ہے۔

کمپنیوں کے سالانہ گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ خاندان کی ملکیتی تمام کمپنیوں بشمول ٹیکسٹائل ملز ، شوگر ملزوغیرہ کو ہر سال مسلسل خسارے کا سامنا نہیں رہا۔ جے آئی ٹی کی ازخود حاصل کردہ دستاویزات جنہیں بظاہر اس کے ارکان نے نہیں پڑھا کےمطابق کئی کمپنیاں بالخصوص ٹیکسٹائل اورشوگر سیکٹر سے متعلق کمپنیاں بھاری منافع کماتی رہیں۔

یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کچھ کمپنیوں کو کچھ سالوں میں نقصان کا سامنا رہا مگر ایسا ہر وقت نہیں ہوا۔ شیئر ہولڈرزڈیوڈنڈلیتے رہے اور ان میں سے کمپنی میں عہدہ رکھنے والے تنخواہ بھی لیتے رہے۔ دستاویزات ظاہر کرتےہیں کہ نواز شریف وزیراعظم بننے سے قبل لاکھوں کا معاوضہ وصول کرتے رہے جس پر انہوں نے ایف بی آر کے ریٹرنز کے مطابق انکم ٹیکس بھی ادا کیا۔

یہاں یہ ذکر اہم ہے کہ یہ معاوضہ ڈیوڈنڈکے مقابلے میں برائے نام ہے۔ڈیوڈنڈ اور تنخواہ کے ظاہر کردہ اعدادو شمار کے مطابق نواز شریف کی دولت بڑھتی رہی جیساکہ اکثر بزنس مین کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس میں کیا چھپا ہواتھا؟ جے آئی ٹی یہ قراردےکر کہ کمپنیوں کےخسارے کےباوجوددولت میں اضافہ ہوتاچلاگیا ، عدالت عظمیٰ کو بتانا چاہتی ہے ،بالکل غیر واضح ہے۔مزیدبرآں اکائونٹنگ نقصانات کیش نقصانات سےبالکل مختلف ہوتےہیں اوراکائونٹنگ نفع جات صرف ڈیوڈنڈزکی رقم کاتعین کرتےہیں۔وہ اپنےڈائریکٹرز،سٹیک ہولڈرزکوتنخواہوں،معاوضوں کی ادائیگی سےقطعی نہیں روکتے۔تاہم جے آئی ٹی نے اپنے تجزیئے میں شریف خاندان کی 1960ء سے 2015ء تک کی تمام کمپنیوں کی کارکردگی کی حمایت کی جن میں کمپنی کے اثاثے، ایکویٹی،قرضے اور منافع وغیرہ شامل ہیں۔

جے آئی ٹی کے کارکردگی تجزیئے کا نتیجہ یہ ہے کہ اثاثے ذرائع سے کہیں زیادہ ہیں،جے آئی ٹی کسی ایک قرضے کی نشاندہی میں بھی ناکام رہی جو شریف خاندان نے معاف کرایا ہو۔ ڈیفالٹ کیا ہویا پورا سیٹل کرایا ہو۔ سپریم کورٹ میں داخل کرائی گئی دستاویزات ظاہر کرتی ہیں کہ شریف خاندان نے التوفیق انویسٹمنٹ سے لئے گئے ایک غیر ملکی قرضے میں تاخیر کی جو حدیبیہ اور التوفیق کے درمیان تنازع طے ہونے کے بعد سیٹل ہوا مگر قرضوں اور منافع جات کے حوالے سے جے آئی ٹی نے کسی غلط کام کی نشاندہی کی؟ شریف خاندان کے کاروبار میں غلطیاں ہوسکتی ہیں مگر جے آئی ٹی نے تصدیق کی کہ کچھ بھی غلط نہیں ہوا۔ لندن فلیٹس کی منی ٹریل کے کون سے ثبوت عدم دستیاب اور انکا وزیراعظم سے تعلق ہے:شریف فیملی نے 4لندن فلیٹس کی وضاحت کی اور منی ٹریل پر کئی سوالات اٹھائے گئے بہت سے سوالات اہم ہیں اور کئی بار اخبارات کی زینت بھی بنے۔ شریف فیملی کے مطابق لندن فلیٹس بذریعہ آف شور کمپنیوں نیلسن اور نیسکول حسین نواز کی ملکیت ہیں اور یہ پاکستان میں ڈیکلئیر نہیں کئے گئے کیونکہ حسین نواز پاکستان میں ٹیکس ریذیڈنٹ نہیں ہیں اور قانون کے تحت ٹیکس ریٹرنزجمع کرانے کے پابند نہیں۔

یہ طے شدہ اصول ہے کہ کسی بزنس ٹرانزیکشن کو بوگس یا غلط ثابت کرنے کیلئے ثبوت دینے پڑتے ہیں۔جیسا کہ دبئی کے کاروبار میں زیر بحث آ چکا کہ گلف سٹیل ملز/اہلی سٹیل کی بندش کے معاملے میں ال اہلی فیملی سمیت متعلقہ گواہوں سے ملاقات کئے بغیر غیر ضروری طورپر جلدی میں صرف’’ ریکارڈ دستیاب نہیں‘‘ کے مشکوک بیان پر انحصار کیا گیا، اس سے جے آئی ٹی کی یہ ثابت کرنے کی نیت واضح ہوتی ہے کہ منی ٹریل ثابت نہیں ہوئی۔

یہ ذکر کرنے کی پروا بھی نہیں کی گئی کہ کیسے اور کس شکل میں بینک قوانین کے تحت ریکارڈ 5سال اور کارپوریٹ کا 10 سال سے زائد کسی اتھارٹی کے تحت رکھا جا سکتا ہے، امکانات موجود تھے اگر جے آئی ٹی خلوص اور ایمانداری کے ساتھ کام کرتی تو منی ٹریل ثابت کر لیتی کہ شریف خاندان ثابت نہیں کر سکا۔ جے آئی ٹی کے اختیار کردہ طریقہ کار سے سازش واضح ہے کہ دیئے گئے ہدف پر گرائونڈ پر حقیقی تحقیقات کے بغیر تمام معاملے میں جلدی دکھائی گئی۔ ذرائع آمدنی اور اثاثوں کے تمام تجزیئے کے بعد اگر صرف لندن فلیٹس اثاثوں کی منی ٹریل پر سوال اٹھایا جا رہا ہے، وزیراعظم کی وضاحت کردہ منی ٹریل پر کسی کو بھی شک اور سوال اٹھانے کا حق ہے مگر یہ سوال کہ منی ٹریل کسی ثبوت کے ذریعے غلط ثابت ہو گئی؟ اس طرح کا جملہ کہ’’گلف سٹیل ایک تصوراتی کہانی ہے‘‘ کہنا آسان ہے مگر اس کیلئے جو گلف کے سٹیل سیکٹر میں بڑی سرمایہ کاری سے ناواقف ہو۔ 70کے عشرے کے حوالے سے دبئی میں سرمایہ کاری سے متعلق جے آئی ٹی ارکان کی غلط فہمیوں کی تمام تفصیلات اس سٹوری میں زیر بحث آئی ہیں مگر زیادہ متعلقہ سوال یہ ہے کہ ؛وزیراعظم کا اپنے خاندان کی اس وقت کی سرمایہ کاری سے کیا تعلق ہے جب وہ عوامی عہدے پر نہیں تھے؟ کیا جے آئی ٹی یہ کہنا چاہتی ہے کہ نواز شریف بطور وزیراعظم اپنے خاندان کا واحد ذریعہ آمدنی تھے اور خاندان نواز شریف کے وزیراعظم بننے کے بعد ہی دولت مند بن گیا؟کیا خاندانی کاروبار کی آمدنی چند ملین ڈالر کے یہ لندن فلیٹس خریدنے کے لئے کافی نہیں تھی جو گزشتہ 5یا 6عشروں میں کسی بھی وقت خریدے جا سکتے تھے؟ سوال پیدا ہوتا ہے کیا میاں نواز شریف غریب آدمی تھے ؟ کیا دادا کے اثاثے پوتے کو منتقل نہیں ہو سکتے؟ کیا سماج میں یہ معمول کی بات نہیں؟ جے آئی ٹی نے اس معاملے میں کیا ثابت کیا؟ یہاں تک وزیراعظم کے لندن فلیٹس میں قیام پر سوال اٹھایا گیا۔ کیا باپ اپنے بیٹے کو وراثت میں ملنے والے یا اس کے خریدے گئے فلیٹس میں نہیں رہ سکتا؟ کیا غلط ثابت ہوا؟ منی ٹریل دینا شریف خاندان کی ذمہ داری تھی، جو مہیا کر دی گئی اب اسے قبول کیا جائےیا کیس کا پٹشنر یا جے آئی ٹی غلط ثابت کریں۔

جے آئی ٹی نے اپنی تحقیقات مکمل کرنے اور تمام گواہوں کے جائزوں میں سنجیدہ اعتراضات اُٹھائے ہیں لیکن غیر متعلقہ اعتراضات اجاگرکئے جس کی بنیاد کاروبار سرکل کی غلط فہمیاں ہیں اور ذیل میں ان پر تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ جے آئی ٹی نے اگرچہ گلف سٹیل ملز کی پوری ’’کہانی‘‘ کو ’’مسترد‘‘ کردیا مگر اس کی تحقیقات کو گہرائی میں پڑھنے سے ظاہر ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر 1980ء میں 25فیصد حصص کے سیل معاہدے کی منی ٹریل میں ایک پوائنٹ پر شبہ دکھائی دیتا ہے ۔

جے آئی ٹی کی فائنڈنگز میں نیچے دیئے گئے اس نکتے پر کوئی بھی پڑھنے والا فیصلہ کر سکتا ہے کہ ان میں کوئی وزن ہے اور یہ کہ جے آئی ٹی اس حوالے سے کوئی چیز وزیراعظم سے کیسے منسلک کرسکتی ہے ؟سپریم کورٹ کے20اپریل کے فیصلے کے13سوالات اور جے آئی ٹی فائنڈنگز:سپریم کورٹ کے13سوالات اور اُن پر جے آئی ٹی کی فائنڈنگز،کیس ثابت کرنے کے لئے پیش کردہ شواہد پرتجزیہ درج ذیل ہے، یہ قارئین پر منحصر ہے کہ وہ سوالات، الزامات، جے آئی ٹی فائنڈنگز کا جائزہ لیں اور نتیجہ اخذ کریں کہ پیش کردہ ثبوت کچھ ثابت کرتے ہیں یا نہیں۔گلف سٹیل ملز، یو اے ای میں 1970ء کی دہائی میں سرمایہ کاری، جے آئی ٹی کا منی ٹریل پرواحداعتراض:درج ذیل 7سوالات (ایک تا پانچ اور7اور8)دبئی میں سرمایہ کاری اور منی ٹریل سے متعلق ہیں جو لندن میں 4فلیٹس کی خریداری/ ملکیت کا باعث بنی ۔(1)گلف سٹیل مل کیسے قائم ہوئی۔(2) اس کی فروخت کی کیا وجہ بنی۔(3) اس کے ذمہ واجبات کا کیا ہوا۔(4) اس کی فروخت کا معاملہ کیسے ختم ہوا(5) وہ جدہ ، قطر اور برطانیہ کیسے پہنچے۔(7) آیا حمد بن جاسم بن جابرالثانی کےخطوں کا اچانک ظہور حقیقت ہے یا فسانہ ۔(8) بیئررشیئرز فلیٹوں میں کیسے بدل گئے۔

جے آئی ٹی گلف سٹیل ملز کی کہانی کو فرضی قرار دے چکی ہے ۔ وہ دبئی کی اتھارٹیز کے ایک خط پر انحصار کررہی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدالت عظمیٰ میں شریف خاندان کی طرف سے پیش کردہ تین میں سے ایک معاہدے کا انکے ریکارڈ میں کوئی تذکرہ نہیں ۔

یو اے ای کی طرف سے آنے والا خط چالاکی سےکئے گئے سوالوں کے جوابات پر مشتمل ہے حتیٰ کہ مذکورہ معاہدے کو بھی یو اے ای کو نہیں بھیجاگیا۔ یہ کیا ثابت کرتا ہے ؟ گلف سٹیل ملز1970ء کے عشرے میں دبئی میں شریفوں کا مشہور کاروبار تھا۔کوئی اور نہیں بلکہ اس وقت کے دبئی کے حکمران شیخ راشد بن سعید المکتوم مرحوم نے نہ صرف گلف سٹیل ملز کے ریفرنس کودیکھاتھابلکہ معاہدوں کے ساتھ منسلکہ ملز لائسنسز بھی اُنکے دستخط کردہ ہیں۔ یہ تمام دستاویزات دبئی اتھارٹیز کے پاس1970ء اور1980ء کے عشروں میں رجسٹرڈکرائی گئی تھیں۔ 1980ء کے یہ معاہدے 1980ء میں دبئی کی عدالتوں سے تسلیم شدہ ہیں۔

تمام اصل دستاویزات موجود ہیں اور اب انکی یو اے ای کی وزارت انصاف، وزارت خارجہ اور پاکستانی قونصل خانے سے تصدیق کرالی گئی ہےلیکن پُر پیچ سوالات صرف وزارت انصاف کو ارسال کئے گئےجن سے کچھ ثابت نہیں ہوتا اور معاہدےبھیجنےکےبعد عدالت عظمیٰ میں انکی دوبارہ تصدیق کی جاسکتی ہے۔

عدالت عظمیٰ میں شریف فیملی کےبیانات کے مطابق 1978ء کے معاہدےکے مطابق گلف سٹیل کے75فیصدشیئرز دبئی کی اہلی فیملی کو فروخت کئے گئے تھے۔ بی سی سی آئی بینک بھی پارٹنر تھا اور اُس نے شریف خاندان کے قرضوں کے عوض رقم وصول کی ۔ منی ٹریل کی وضاحت کرتے ہوئے شریف خاندان کا بیان تھاکہ باقی ماندہ25فیصد شیئرز بھی 14اپریل 1980ء کو 12ملین درہم کے عوض اہلی فیملی کو فروخت کردیئےگئےتھےاور رقم کی قطرمیں سرمایہ کاری کی گئی۔

یہ بہت دلچسپ بات ہے کہ اگرچہ جے آئی ٹی نے گلف اسٹیل کی کہانی کو اپنی تحقیقات میں تصوراتی بیان کیا ہے، اس نے بنیادی طور پر شک 1980 میں 25 فیصد حصص کی فروخت پر ظاہر کیا ہے۔ مزید دلچسپ بات یہ ہے کہ جے آئی ٹی نے صرف مشکوک جواب ’’کوئی ریکارڈ دستیاب نہیں‘‘ پر انحصار کیا ہے اور اہلی خاندان کی گواہی کو ریکارڈ کرنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی جو اب بھی دبئی میں وہی اہلی اسٹیل مل چلا رہی ہے۔ کم سے کم یہی کہا جاسکتا ہے کہ اہلی خاندان سے واضح وجوہات اور مقاصد کی وجہ سے رابطہ نہیں کیا گیا۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک سے 12 ملین درہم کے لین دین کی عدم موجودگی کا بیان خود اپنے اندر بہت سارے سوالات لیے ہوئے ہے کیونکہ متحدہ عرب امارات کا مرکزی بینک ہی 1980 میں وجود میں آیا اور لین دین کا ریکارڈ رکھنے کی قانونی طور پر ضرورت پانچ سال کے لئے ہے جو انفرادی طور پر بینکوں کی ذمہ داری ہے اور مرکزی بینک کی ذمہ داری نہیں ہے۔ یہاں تک کہ اگر مرکزی بینک نے متعلقہ بینک کے رابطے کے بعد جواب دے دیا ہوتا (جس کا اگرچہ ذکر نہیں)لیکن مرکزی بینک کس طرح اس حقیقت کو اپنے قواعد بیان کیے بغیر اس حقیقت کو بیان کر سکتا ہے کہ بینک پانچ سال سے زیادہ پرانا ریکارڈ رکھنے کے پابند نہیں ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جے آئی ٹی کے لئے نامزد کو ایسی بنیادی حقیقت سے آگاہ ہونا چاہیے تھا۔

جے آئی ٹی کی اہلی اسٹیل مل کی 1978 تا 1980 اصل دستاویزات دیکھے بغیر تفہیم اور تصور کہ مجموعی طور پر کاروبار گھاٹے میں جارہا تھا اور اس وجہ سے شریف خاندان کو 25 فیصد حصص فروخت کرنے سے کوئی رقم حاصل نہیں ہوئی۔ یہ واقعی عجیب بات ہے کہ کس طرح جے آئی ٹی کسی دستاویزی شہادت کے بغیر اس نتیجے پر پہنچی۔ شریف خاندان کا دعوی ہے کہ 1980 میں دبئی میں اسٹیل کا کاروبار بہت منافع میں تھا لہٰذا انہیں 25 فیصد حصص فروخت کرکے اچھی خاصی رقم حاصل ہوئی تھی۔ جے آئی ٹی نے شریف خاندان کے اس دعوے کو غلط ثابت کرنے کے لئے کوئی اعداد و شمار نہیں دیے جو آسانی سے دستیاب تھےاور صرف یہ اصرار کیا اور مخصوص الفاظ میں یہ نتیجہ نکالا کہ 25 فیصد حصص کاروبار کے مالی واجبات نمٹانے میں صرف ہوگئے اور شریف خاندان کو کچھ نہیں ملا۔اس معاملے میں کوئی شہادت پیش نہیں کی گئی اور اس طرح اعلان کردیا گیا کہ جیسے کوئی جے آئی ٹی کے ارکان کو آسمانی پیغام پہنچایا گیا تھا۔

اس کے علاوہ کئی بھی بنیادی اکاؤنٹنٹ یہ جانتا ہے کہ کاروبار اور کمپنیوں کی قدر کا اندازہ کسی سال میں نفع یا نقصان سے نہیں لگایا جاتا اور یہ نوٹ کرنے والی بہت حیران کن بات ہے کہ اس طرح کابنیادی اور معمول کا معاملہ اس طرح کے نتیجے پر پہنچنے کے لئے جے آئی ٹی کے ارکان کے علم میں نہیں ہوگا۔ منی ٹریل میں اہم نکتہ؛کیا اہلی اسٹیل 1978 اور 1980 کے دوران نقصان میں تھی؟ بینک گارنٹی کیا تھی؟ جے آئی ٹی کا خیال واضح طور پر قیاس آرائی اور غلط فہمی کی بنیاد پر ہیں کہ نقصانات ہورہے تھے یہاں تک کہ 12 ملین درہم تک مخصوص مالی واجبات کی ادائیگی میں استعمال ہوگئے تھے۔اس کو ثابت کرنے کے لئے کوئی دستاویزی شہادت فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی اور فراہم کی گئی شہادت کی بنیاد پر یہ تجزیہ اور مفروضہ کہ اہلی اسٹیل کو نقصانات کا سامنا تھا دنیا میں کسی بھی اکاؤنٹنٹ کے لئے ناقص ہوگا۔ شریف خاندان کے بیان کے مطابق 1978 میں بی سی سی آئی کو ادائیگی کے بعد باقی رہ جانے والے مالی واجبات دو ذرائع طارق شفیع اور میاں محمد شریف کے ذریعے ادا کیے گئے تھے-

پہلا ذریعہ 20 ہزار ٹن اسکریپ کی فروخت سے تھا جو بیلٹ اور ریبر کی صورت میں اسٹاک میں تھا جب فیکٹری نے 1977 میں پیداوار بند کی۔ان کا تعلق ایم ایم ایس سے تھا اور یہ 1978 کے پہلے معاہدے کا حصہ نہیں تھے جو صرف غیرمنقولہ اثاثوں جیسے پلانٹ اور مشینری اوعر اسٹورز اور فاضل پرزہ جات سے متعلق تھا اور اس کا تعلق خام مال یا اسٹاک سے نہیں تھا۔ باقی ماندہ مالی واجبات کی ادائیگی کے لئے دوسرا ذریعہ اہلی اسٹیل میں 25 فیصد شراکت سے میاں محمد شریف کو ملنے والا منافع بنا جو 1978 سے 1980 کے درمیان ملا، یہ وہ وقت تھا جب گلف میں اسٹیل کا کاروبار عروج پر تھا۔جے آئی ٹی کے ارکان کا خیال ہے کہ اگر میاں محمد شریف کو اگر حصص کا منافع مل رہا تھا تو حصص کم اور ختم بھی ہو رہے تھے، واضح طور پر 25 فیصد 1980 میں موجود تھے اور مارکیٹ کی قیمت پر فروخت کیے گئے جب بزنس ترقی کر رہا تھا……

اگر جے آئی ٹی کے ارکان نے 12 ملین درہم کے منی ٹریل کا تعاقب کرنے کی کوشش کی ہوتی تو ہوسکتا ہے کہ انہیں شریف خاندان کی منی ٹریل کو غلط ثابت کرنے کے لئے کوئی ٹھوس چیز حاصل ہوگئی ہوتی۔ لیکن جے آئی ٹی خود پھنس گئی، بظاہر اس کی وجہ وقت کی پابندی تھی اور انہوں نے تصوراتی نتیجے پر پہنچنے کا فیصلہ کیا۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ریبر (سریا)کی قیمت 800درہم کی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی تھی لیکن 1978 میں ان کی قیمت میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ شریف خاندان کے مطابق 1978 کے سہ فریقی معاہدے کے تحت بی سی سی آئی کا قرض 1978 میں ادا کیا جاچکا تھا، اہلی اسٹیل کی مالی لاگت قابل ذکر حد تک کم ہوگئی تھی جو 1978 اور 1980 کے دوران زبردست منافع کا نتیجہ تھی اور بزنس کی خالص قدر میں قابل ذکر اضافہ ہوا اور اس کے نتیجے میں میاں محمد شریف کو 12 ملین درہم بہت آسانی سے مل گئے جو انہیں 6 قسطوں میں ملنے تھے۔ یہ میاں محمد شریف کو 6 ادائیگیوں کی بینک گارنٹی تھی، جیسے ہی تمام 6 ادائیگیاں انہیں ملیں تو بینک گارنٹی کبھی کلیم نہیں کی گئی اور وہ غیر موثر ہوگئیں۔

جے آئی ٹی نے اس بینک گارنٹی، جو کبھی کیش نہیں ہوئی، کی دستاویزات کی عدم دستیابی پر اپنے نتائج کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی ہے۔ عام طور پر اور یو اے ای میں مرکزی بینک کو ایسا ریکارڈ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی جو عام بینکوں کو پانچ سال کے لئے رکھنا ہوتا ہے۔ لہذا اس معاملے میں یہ جے آئی ٹی ہے جسے بہت زیادہ وضاحت کرنی ہے کیونکہ قانون سے لاعلمی اور یہ بنیادی حقیقت کہ آیا سینٹرل بینک انفرادی بینکوں کے لین دین کے ریکارڈ کو برقرار رکھتے ہیں ایسی بات ہے کہ جس کی اسٹیٹ بینک کے نامزد فرد سے توقع کی جاتی ہے اور ایسا جرات مندانہ تصوراتی نتیجہ اور دعوی وہ بھی کسی شہادت کے بغیر، اس میں گمراہ کن مقاصد واضح ہیں۔ اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح جے آئی ٹی اس حد تک چلی گئی کہ اس نے اعلان کردیا کہ گلف میں اتنا بڑا کاروبار اب بھی جاری ہے، تصوراتی کہانی ہے۔

اس سب کو اور وقت کی پابندی کو مدنظر رکھتے ہوئے قطری شہزادے سے جے آئی ٹی کی ملاقات میں ہچکچاہٹ کو اچھی طرح سمجھا جاسکتا ہے۔ اسی جے آئی ٹی کے کچھ چک شہزاد میں جنرل پرویز مشرف سے تفتیش کرنے کے لئے ان کے گھر کے دروازے پر طویل وقت تک کھڑے انتظار کرتے تھے۔ شریف خاندان کی جانب سے واضح طور پر وضاحت کرتا ہے کہ کس طرح قطری شاہی خاندان کی ملکیت آف شور کمپنیوں کے بیئرر شیئرز 2006 میں لندن کے فلیٹوں میں 1980 میں رئیل اسٹیٹ کے بزنس میں سرمایہ کاری سے تبدیل ہوئے اور بیئرر شیئرز کے حوالے سے متعلقہ قوانین اور قواعد کی ذیل میں آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے حصے میں وضاحت کی گئی ہے۔

لندن فلیٹوں کا ارتباط التوفیق لون کے پہلو بہ پہلو۔ یہ ثابت کرنا کہ 1990 میں شریف خاندان کا مالک تھا اور 2006 کی کہانی جعلی ہے، جو شہادت دی گئی وہ لندن ہائی کورٹ کوئینز بینچ ڈویژن کا فیصلہ ہے جس میں لندن کے ان چار فلیٹوں کو منسلک کرنے کا حکم جاری کیا تھا کیونکہ شریف خاندان قرض کی ادائیگی میں تاخیر کر رہا تھا۔ اس نمائندے نے لندن کے فلیٹوں کی دستاویزات اور لندن ہائی کورٹ کے فیصلے کی نقل حاصل کرنے کے بعد یہ بھی رپورٹ کیا تھا کہ یہ دستاویزات ثابت کرتی ہیں کہ 1990 میں لندن کے فلیٹس شریف خاندان کی ملکیت تھے۔ کئی اینکرز نے اس نکتے پر سلسلہ وار پروگرام بھی کیے۔

تاہم شریف خاندان نے سپریم کورٹ میں یہ موقف اختیار کیا کہ لندن کے فلیٹس التوفیق سے مالی سہولت حاصل کرنے کے لیے بطور وثیقہ استعمال کیے گئے تھے۔ شریف خاندان کے بیان کے مطابق لندن ہائی کورٹ نے شیزی نقوی کی درخواست پر فلیٹس کو منسلک کرنے کا حکم دیا تھا۔ مخالف فریق کے وکلا نے دلائل دیے کہ چونکہ شریف خاندان تحویل عرصہ سے ان فلیٹوں میں رہ رہا ہے لہٰذا اس بات یقین کرنے کی قابل قبول وجہ موجود ہے کہ یہ ان فلیٹوں کے مالک ہیں لہٰذا ان فلیٹوں کو منسلک کیا جائے۔

شریف خاندان نے شیزی نقوی سے حاصل کردہ تازہ حلف نامہ منسلک کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے علم میں نہیں تھا کہ شریف خاندان1990ء میں ان فلیٹوں کا مالک تھا۔ ان ان فلیٹوں کو التوفیق سے قرض حاصل کرنے کے لیے بطور وثیقہ استعمال نہیں کیا گیا تھا اس کے باوجود کیے یہ سوالات کرتے ہیں کہ اس سے شریف خاندان کا نقطہ نظر مکمل طور پر ثابت نہیں ہوتا اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستاویزی شہادت لے کر آئیں اور کسی شک و شبہ کے تحت یہ ثابت کریں کہ لندن کے فلیٹس اس وقت بطور وثیقہ استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ شریف خاندان 2نکات جواب دیتا ہے۔ پہلا نکتہ یہ تھا کہ قرض کا بنیادی معاہدہ ریکارڈ کا حصہ تھا اور1999ء کہ فوجی انقلاب میں فوج نے لے لیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں کیا تھا۔ تمام اینکرز صرف اس نکتہ کو اٹھاتے ہیں اور شریف خاندان پر شہادت فراہم نہ کرنے پر طوفان اٹھاتے ہیں۔

دوسرا نکتہ یہ تھا کہ کیونکہ قرض غیر ملکی کرنسی میں ملا تھا اور لاکھوں ڈالرز پاکستان آئے تھے۔ یہ شریف خاندان (حدیبیہ پیپرز ملز) کے لیے لازمی تھا کہ وہ دستاویزی شہادتوں کے ساتھ فنڈز کے ذرائع کے بارے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو آگاہ کرتے (اس وقت کی کارپوریٹ لاء اتھارٹی)۔ قرض کا معاہدہ اور تفصیلات دونوں اداروں میں جمع کرائیں گی تھیں۔ جے آئی ٹی کو اس حقیقت کا معلوم تھا اور وہ ان اداروں سے دستاویزات حاصل کرسکتی تھی اور ان تصدیق بھی کرسکتی تھی۔ یہ بات الارمنگ ہے کہ اپنی معلومات کے باوجود جے آئی ٹی نے ان دستاویزات کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اب دی نیوز کی جانب سے حاصل کردہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ التوفیق سے قرض حاصل کرنے کے لیے جو وثیقہ استعمال ہوا (اس وقت پاکستانی کرنسی میں 260ملین کے برابر ) وہ تمام کمپنی کی موجودہ اور مستقبل کی منقولہ جائیداد تھی اس میں پلانٹ، مشینری، اسٹاک اور اسپیئر پارٹس اور قابل وصول وغیرہ شامل تھے۔

بینک آف امریکہ اور سٹی بینک سے بھی لون کی سہولت حاصل کی گئی تھی۔ البرکہ اسلامک انوسٹمنٹ بینک (التوفیق انوسٹمنٹ کا پیرنٹ بینک) کے متعلق مبالغہ آمیز اعداد و شمار میڈیا میں کورٹ کیے گئے تھے۔ اس سے جے آئی ٹی کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے اور جے آئی ٹی کی جانب سے پیش کردہ شہادت کہ فلیٹس1990ء میں شریف خاندان کی ملکیت تھے ختم ہوجاتی ہے۔ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ شریف خاندان فلیٹوں کی ملکیت کے حوالے سے ایک بھی شہادت سامنے لانے میں ناکام رہا ہے۔ چونکہ فلیٹس درحقیقت آف شور کمپنیوں کی ملکیت تھے لہٰذا بنیادی طور آف شور کمپنیوں کی ملکیت ٹائم لائن کے ساتھ ثابت کرنا ہوگی۔ کون سی دستاویزات پیش کی جاسکتی تھیں، کون سی دستاویزات پیش کی گئیں اور کون سی نہیں، ان سب پر آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے مسئلے سے متعلق اس اسٹوری میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔سوال نمبر6۔ کم عمری میں بچے کس طرح فلیٹس خرید سکتے ہیں۔ معزز عدالت کا سوال نمبر 6یہ تھا کہ آیا مدعا علیہان نمبر7 اور8 کے پاس ان کی کم عمری کو مدنظر رکھتے ہوئے1990ء کی دہائی کے اوائل میں ایسے وسائل تھے کہ وہ فلیٹس خریدتے اور ان کو مالک ہوتے جے آئی ٹی نے منی ٹریل کو مسترد کرتے ہوئے جیسا کہ اوپر کلف اسٹیل کی تصوراتی کہانی میں وضاحت کی گئی ہے قرار دیا کہ1990ء میں شریف خاندان نے یہ فلیٹس خریدے تھے اور اس سلسلے میں ایک بھی شہادت پیش نہیں کی، تاہم جے آئی ٹی نے ایک شہادت دی کہ نوازشریف ہمیشہ ان فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ استعمال کیا کرتے تھے لہٰذا وہ ان کی ملکیت تھا۔

منی ٹریل اور وثیقہ کے مسئلے پر مسترد کرنے کے حوالے سے بحث کو مدنظر رکھتے ہوئے اور کوئی بھی شہادت پیش کرنے میں ناکام رہنے پر یہ شہادت اور اس کی فلاسفی مضحکہ خیز اس پر پہلے ہی بحث کی جاچکی ہے کہ یہ ایک معمول ہے دادا سے پوتوں کو وراثت منتقل کرنا معمول کا معاملہ ہے لہٰذا اگر یہ خاندان کے وسائل معلوم ہیں اور منی ٹریل کو غلط ثابت نہیں کیا جاتا تو کم عمری میں فلیٹوں کا مالک ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان آف شور کمپنیوں کا اصل مالک کون تھا جو لندن کے فلیٹوں کی مالک تھیں۔ تاہم شریف خاندان نے سپریم کورٹ میں یہ موقف اختیار کیا کہ لندن کے فلیٹس التوفیق سے مالی سہولت حاصل کرنے کے لیے بطور وثیقہ استعمال کیے گئے تھے۔ شریف خاندان کے بیان کے مطابق لندن ہائی کورٹ نے شیزی نقوی کی درخواست پر فلیٹس کو منسلک کرنے کا حکم دیا تھا۔

مخالف فریق کے وکلا نے دلائل دیے کہ چونکہ شریف خاندان تحویل عرصہ سے ان فلیٹوں میں رہ رہا ہے لہٰذا اس بات یقین کرنے کی قابل قبول وجہ موجود ہے کہ یہ ان فلیٹوں کے مالک ہیں لہٰذا ان فلیٹوں کو منسلک کیا جائے۔ شریف خاندان نے شیزی نقوی سے حاصل کردہ تازہ حلف نامہ منسلک کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ان کے علم میں نہیں تھا کہ شریف خاندان1990ء میں ان فلیٹوں کا مالک تھا۔ ان ان فلیٹوں کو التوفیق سے قرض حاصل کرنے کے لیے بطور وثیقہ استعمال نہیں کیا گیا تھا اس کے باوجود کیے یہ سوالات کرتے ہیں کہ اس سے شریف خاندان کا نقطہ نظر مکمل طور پر ثابت نہیں ہوتا اور یہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ دستاویزی شہادت لے کر آئیں اور کسی شک و شبہ کے تحت یہ ثابت کریں کہ لندن کے فلیٹس اس وقت بطور وثیقہ استعمال نہیں کیے گئے تھے۔ شریف خاندان 2نکات جواب دیتا ہے۔ پہلا نکتہ یہ تھا کہ قرض کا بنیادی معاہدہ ریکارڈ کا حصہ تھا اور1999ء کہ فوجی انقلاب میں فوج نے لے لیا تھا اور پھر کبھی واپس نہیں کیا تھا۔ تمام اینکرز صرف اس نکتہ کو اٹھاتے ہیں اور شریف خاندان پر شہادت فراہم نہ کرنے پر طوفان اٹھاتے ہیں۔ دوسرا نکتہ یہ تھا کہ کیونکہ قرض غیر ملکی کرنسی میں ملا تھا اور لاکھوں ڈالرز پاکستان آئے تھے۔

یہ شریف خاندان (حدیبیہ پیپرز ملز) کے لیے لازمی تھا کہ وہ دستاویزی شہادتوں کے ساتھ فنڈز کے ذرائع کے بارے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان کو آگاہ کرتے (اس وقت کی کارپوریٹ لاء اتھارٹی)۔ قرض کا معاہدہ اور تفصیلات دونوں اداروں میں جمع کرائیں گی تھیں۔ جے آئی ٹی کو اس حقیقت کا معلوم تھا اور وہ ان اداروں سے دستاویزات حاصل کرسکتی تھی اور ان تصدیق بھی کرسکتی تھی۔

یہ بات الارمنگ ہے کہ اپنی معلومات کے باوجود جے آئی ٹی نے ان دستاویزات کو حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی اب دی نیوز کی جانب سے حاصل کردہ دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ التوفیق سے قرض حاصل کرنے کے لیے جو وثیقہ استعمال ہوا (اس وقت پاکستانی کرنسی میں 260ملین کے برابر ) وہ تمام کمپنی کی موجودہ اور مستقبل کی منقولہ جائیداد تھی اس میں پلانٹ، مشینری، اسٹاک اور اسپیئر پارٹس اور قابل وصول وغیرہ شامل تھے۔ بینک آف امریکہ اور سٹی بینک سے بھی لون کی سہولت حاصل کی گئی تھی۔ البرکہ اسلامک انوسٹمنٹ بینک (التوفیق انوسٹمنٹ کا پیرنٹ بینک) کے متعلق مبالغہ آمیز اعداد و شمار میڈیا میں کورٹ کیے گئے تھے۔ اس سے جے آئی ٹی کی بدنیتی ثابت ہوتی ہے اور جے آئی ٹی کی جانب سے پیش کردہ شہادت کہ فلیٹس1990ء میں شریف خاندان کی ملکیت تھے ختم ہوجاتی ہے۔ یہ دلیل دی جارہی ہے کہ شریف خاندان فلیٹوں کی ملکیت کے حوالے سے ایک بھی شہادت سامنے لانے میں ناکام رہا ہے۔ چونکہ فلیٹس درحقیقت آف شور کمپنیوں کی ملکیت تھے لہٰذا بنیادی طور آف شور کمپنیوں کی ملکیت ٹائم لائن کے ساتھ ثابت کرنا ہوگی۔ کون سی دستاویزات پیش کی جاسکتی تھیں، کون سی دستاویزات پیش کی گئیں اور کون سی نہیں، ان سب پر آف شور کمپنیوں کی ملکیت کے مسئلے سے متعلق اس اسٹوری میں تفصیل سے بحث کی گئی ہے۔ سوال نمبر6۔ کم عمری میں بچے کس طرح فلیٹس خرید سکتے ہیں۔

معزز عدالت کا سوال نمبر 6یہ تھا کہ آیا مدعا علیہان نمبر7 اور8 کے پاس ان کی کم عمری کو مدنظر رکھتے ہوئے1990ء کی دہائی کے اوائل میں ایسے وسائل تھے کہ وہ فلیٹس خریدتے اور ان کو مالک ہوتے جے آئی ٹی نے منی ٹریل کو مسترد کرتے ہوئے جیسا کہ اوپر کلف اسٹیل کی تصوراتی کہانی میں وضاحت کی گئی ہے قرار دیا کہ1990ء میں شریف خاندان نے یہ فلیٹس خریدے تھے اور اس سلسلے میں ایک بھی شہادت پیش نہیں کی، تاہم جے آئی ٹی نے ایک شہادت دی کہ نوازشریف ہمیشہ ان فلیٹوں میں سے ایک فلیٹ استعمال کیا کرتے تھے لہٰذا وہ ان کی ملکیت تھا۔

منی ٹریل اور وثیقہ کے مسئلے پر مسترد کرنے کے حوالے سے بحث کو مدنظر رکھتے ہوئے اور کوئی بھی شہادت پیش کرنے میں ناکام رہنے پر یہ شہادت اور اس کی فلاسفی مضحکہ خیز اس پر پہلے ہی بحث کی جاچکی ہے کہ یہ ایک معمول ہے دادا سے پوتوں کو وراثت منتقل کرنا معمول کا معاملہ ہے لہٰذا اگر یہ خاندان کے وسائل معلوم ہیں اور منی ٹریل کو غلط ثابت نہیں کیا جاتا تو کم عمری میں فلیٹوں کا مالک ہونا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ ان آف شور کمپنیوں کا اصل مالک کون تھا جو لندن کے فلیٹوں کی مالک تھیں۔عدالت عظمی نے 20اپریل کے فیصلے میں یہ سوال بھی اٹھایا تھا :9- نیلسن انٹرپرائیزز لمیٹڈ اورنیسکول لمیٹڈ کا حقیقی مالک کون ہے۔پاکستان میں آف شورز کمپنیوں کا معاملہ نیا تھااوراس معاملے سے متعلق کئی اصلاحات بھی سمجھ سے بالاترتھیں۔ایسا لگتا تھاکہ آف شور کمپنیاں رکھنا غیرقانونی ہےاوراس کا تعلق ہمیشہ غیر قانونی دولت سے ہوتاہے۔ تاہم تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی آف شورکمپنی سامنے آنے پر صورتحال تبدیل ہوگئی اور اس کے بعد کچھ لوگ اس بات کے قائل ہوگئے کہ آف شور کمپنیاں قانونی مقاصدکیلئے بھی استعمال ہوسکتی ہیں ۔

آف شورکمپنیوں سے متعلقہ اصلاحات پربات کرنے سے پہلے یہ ذکرکرناضروری ہےکہ نیلسن اینڈ نیسکول کےکوئی بینک اکاونٹس نہیں ہیںانھوں نے صرف2007میں قرضہ لیاتھااوریہ کمپنیاں صرف لندن کے چار فلیٹس کے انتظامات سنبھالنے کے لیےاستعمال ہورہی تھیں جبکہ ابھی تک تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے کوئی ایسابیان نہیں دیاکہ ان کی آف شورکمپنی کے ساتھ کوئی بینک اکاونٹ منسلک نہیں ہے لندن میں ایک فلیٹ بھی اس کمپنی کی ملکیت ہے۔ آف شور کمپنیوں کا نظام ، خاص طور پربرٹش ورجن آئی لینڈ میں رجسٹرڈ ہونے والی کمپنیوں کومیڈیامیں شاید ہی کبھی بیان کیاگیاہے۔ برٹش ورجن آئی لینڈ میں حکومتی کمپنی ہاوس ’’فنانشل سروسزکمیشن ‘‘ صرف اپنے ڈائریکٹرز کی کمپنیوں اور ان کی تفصیلات کوہی رجسٹرڈ کرتاہے۔یہ حقیقی مالکان کاریکارڈ کبھی نہیں رکھتا۔ موساک فونیسکا جیسی لاء فرمز برٹش ورجن آئی لینڈ کی حکومت کے ساتھ رجسٹرڈ ہیں اورآف شورکمپنیوں کی مکمل تفصیلات اپنے پاس رکھنے کی ذمہ دار ہیںاورضرورت کے وقت یہ تفصیلات حکومت اور اس کی تحقیقاتی ایجنسیز کوفراہم کرنے کی پابندہیں۔ یہ سہولت فراہم کرنے والے جوآف شورکمپنیوں کو ٹیکسیشن اورحکومتی فیس کی ادائیگی جیسے معاملات میں مدد کرتے ہیں وہ کمپنیوں کاتمام ریکارڈ بشمول کمپنی کے حقیقی مالک کی معلومات کاریکارڈ بھی رکھتے ہیں ۔ جب برٹش ورجن آئی لینڈ کی حکومت یا کوئی تحقیقاتی ایجنسی لاءفرم سےآف شور کمپنی کی تفصیلات اوران کے مالک سے متعلق پوچھ گچھ کرتی ہےتولاءفرم متعلقہ سہولت فراہم کرنے والے سے مکمل معلومات پیش کرنے کاکہتی ہے۔ حتمی معلومات انھیں کے پاس ہوتی ہیں اور تمام نظام انھیں کی فراہم کردہ معلومات پر منحصر ہوتاہے۔ درحقیقت آف شورکمپنیوں کے ڈائریکٹرزبھی بیرونی کمپنیاں ہی ہوتی ہیں ، یہ سروس فراہم کرنے والے خود ایسے افراد یا وکلاء کاانتظام کرتے ہیں ۔ مثال کے طور پرتحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی’’نیازی سروسز لمیٹڈ‘‘ کےکیس میں ڈائریکٹرز بھی تین بیرونی کمپنیاں ہی تھیں۔ (i) لا نگٹرے ٹرسٹیزلمیٹڈ (ii) لانگٹرےسیکریٹریز لمیٹڈ (iii) لانگٹرےکنسلٹنٹ لمیٹڈ ۔ ان کمپنیوں کاپتہ جرسی چینل آئی لینڈ کاتھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ’’نیازی سروسز لمیٹڈ‘‘ سےمتعلق دی نیوز نے جرسی سے جو دستاویزات حاصل کیں اس میں سے کسی میں بھی عمران خان کو اس آف شور کمپنی کا مالک ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔یہ معلومات اس سروس فراہم کرنے والے کے پاس تھیںجس کا نام پی ٹی آئی سربراہ نے کبھی ظاہر نہیں کیا تاہم وہ اس بات کا اقرار کرچکے تھے کہ وہ اس کمپنی کے اصل مالک تھے کیوں کہ لندن فلیٹ اسی آف شور کمپنی کے نام پر رجسٹرڈ تھے۔یہ بات بھی دلچسپ ہے کہ پی ٹی آئی سربرا ہ نے سروس فراہم کرنے والے کو بھی تبدیل کردیااور بعد ازاں کمپنیوں کے ڈائریکٹر کو بھی شیل کمپنیوں میں تبدیل کردیا تھا۔اس میں بارسلیز پرائیویٹ بینک اینڈ ٹرسٹ لمیٹد، بارسلیز ٹرسٹ چینل لمیٹڈ، بارسلیز ٹرسٹ جرسی لمیٹڈ۔ان سب میں ایک ہی پتہ یعنی 39/41،براڈ اسٹریٹ، ایس ٹی ہیلیئر، جرسیJE4 8PU ، چینل آئی لینڈ درج ہے۔تاحال ان شیل کمپنیوں کی نگرانی کرنے والے نئے سروس فراہم کرنے والے کا نام سامنے نہیں آیا ۔ایک دستاویز میں علیمہ خان جو کہ پی ٹی آئی سربراہ کی بہن ہیں، انہیںکمپنی کی ایک ڈائریکٹر کے طور پر ظاہر کیا گیا ہے۔بی وی آئی کارپوریٹ لاءکے نظا م کی تفصیلات پر واپس آتے ہیں، اس کی ملکیت کا ریکارڈسروس فراہم کرنے والے نے بنایا ہے۔شریف خاندان کی آف شور کمپنیوں کے کیس میں تمام دستاویزات عدالت اور جے آئی ٹی کے سامنے پیش کردیے گئے تھے کیوں کہ آف شور کمپنیوں کی ملکیت میں لندن فلیٹس بھی ہیںلہٰذا آف شور کمپنیوں کے ملکیت کے دستاویزات ہی لندن فلیٹس کی ملکیت کے دستاویزات ہیں اور یہ نہیں کہا جاسکتا کہ لندن فلیٹس کےدستاویزات جمع نہیں کروائے گئے۔پاناما پیپرز میں کچھ خطوط بھی شامل ہیں جو کہ بی وی آئی کی فنانشل انویسٹیگیشن ایجنسی (ایف آئی اے)نے جون 2012میںلا فرم موساک فونیسکاکو لکھے تھےتاکہ اس سے متعلق تفصیلات بشمول نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں کی ملکیت کا پتہ لگایا جاسکے۔ان خطوط کے جواب میں موساک نے تفصیلات فراہم کیں اور یہ بھی لکھا کہ مریم نواز ان دو کمپنیوں کی حقیقی مالک ہیں ۔ان دستاویزات کو شریف خاندان نے مکمل طور پر عدالت عظمیٰ میں چیلنج نہیں کیا ، تاہم یہ جرح کی کہ موساک نے بی وی آئی کی ایف آئی اے کو غلط معلومات فراہم کی ہیںجو کہ ملکیت سے متعلق تھیںاور ایسا پرائیویٹ لاءفرمز کے کچھ ملازمین یا سروس فراہم کرنے والوںکی غلط فہمی کے سبب ہوا۔3جج جنہوں نے جے آئی ٹی تشکیل کیے جانے کا حکم دیا تھا وہ ان ثبوتوں سے مطمئن نہیں تھے جو انہیں پیش کیے گئے، جس میں بی وی آئی کی ایف آئی اے کے یہ خطوط بھی شامل تھے۔انہوںنے جے آئی ٹی کو یہ ذمہ داری تفویض کی کہ وہ نیلسن اور نیسکول کے حقیقی مالک کا پتہ لگائیں۔بجائے اس کہ کے بی وی آئی حکومت سے پوچھا جاتا کہ وہ آف شور کمپنیوں کی حقیقی ملکیت سے متعلق معلومات فراہم کریں، جے آئی ٹی نے وہ خطوط بی وی آئی حکومت کو بی وی آئی اٹارنی جنرل کے ذریعے بھجوائے اور ان سے صرف ان خطوط کی تصدیق کے لیے کہا گیا۔ایف آئی اے کی بی وی آئی نے اسکے جواب میں جے آئی ٹی کی باہمی قانونی معاونت کی درخواست پر ان خطوط کی تصدیق کردی، جس کی وجہ سے جے آئی ٹی نے مریم نواز کو حقیقی مالک قرار دے دیا۔جے آئی ٹی نے جان بوجھ کر آف شور کمپنیوں کی ملکیت سے متعلق اصل سوال پوچھنے سے اجتناب کیا اور اپنی باہمی قانونی معاونت کی درخواست میں ہوشیاری سے سوال کیا، جیسا کہ متحدہ عرب امارات کے معاملے میں سوالات بھیجنے میں کیا گیا تھا۔اگر جے آئی ٹی اصل سوال پوچھتی ، تو اسے درست جواب مل جاتا۔یہ واضح طور پر مریم نواز کی سیاسی پروفائل کو دیکھ کر انہیں نشانہ بنانے کی غرض سے کیا گیا تھا۔عدالت عظمیٰ اب بھی باہمی قانونی معاونت کی باقاعدہ درخواست کا حکم دے سکتی ہے، جس میں اصل اور درست سوال بھیجا جائے ، ایک مرتبہ پھر اس عمل کی نگرانی کرے اور درست جواب حاصل کرلے۔یہ استفسا ر کیا گیا کہ شریف خاندان اپنے دستاویزات کیوں نہیں لے آتا ۔جیسا کہ بیان کیا گیا ہے۔بی وی آئی قوانین کے تحت ، بی وی آئی حکومت آف شور کمپنیوں کے اصل مالکان کا رجسٹر مرتب نہیں کرتی۔ایک صارف، جو کہ آف شور کمپنیوں کا اصل مالک ہو سروس فراہم کرنے والے سے دستاویزات لے سکتا ہے، جس میں حتمی معلومات ہوتی ہیں۔شریف خاندان نے عدالت عظمیٰ کو پچھلے سروس فراہم کرونے والے منروا کا سرٹیفکیٹ فراہم کیا، جس میں یہ ظاہر کیا گیا تھا کہ وہ حسین نواز تھے جو نیلسن اور نیسکول آف شور کمپنیوں کے انتظامی دیکھ رہے تھے۔پی ٹی آئی چیف عمران خان کی طرح شریف خاندان کی آف شور کمپنیوںکا سروس فراہم کنندہ بھی 2014میںمنروا سے جے پی سی اے میں تبدیل ہوا تھا ۔بی وی آئی قوانین کے تحت جے پی سی اے شریف خاندان کے لیے رسائی کا متعلقہ فورم ہے، اس نے دو سرٹیفکیٹ فراہم کرکے اس بات کی توثیق کردی کہ وہ حسین نواز تھے جو ان سے تمام معاملات کی دیکھا بھالی کررہے تھے اور وہ مریم نواز سے کبھی نہیں ملے۔ان کے ریکارڈ کے مطابق، حسین نواز آف شور کمپنیوں کے اصل مالک ہیں جب کہ مریم نواز ٹرسٹی ہیں۔صارفین کے مطابق، یہ ہی حتمی شواہد ہیں۔اس معاملے میں شریف خاندان بی وی آئی اصول و قوانین کے مطابق کام کررہا ہے۔عدالت عظمیٰ آف شور کمپنیوں کے انتظامات کی جانچ پڑتال اور بی وی آئی قوانین کے تحت ریکارڈ مرتب کرسکتی ہے اور پھر اسے صحیح یا غلط قرار دے سکتی ہے۔پٹیشنرز میں سے اگر کوئی ان انتظامات کو پسند نہیں کرتا، تو یہی آف شور کمپنیوںکاطریقہ کار ہے۔

اگر عدالت عظمیٰ بی وی آئی کے اس قانونی فریم ور ک سے متفق نہیں تو معزز عدالت کو مدعا علیہہ کو ان دستاویزات سے متلق رہنمائی کرنا ہوگی جو دراصل اسے چاہیئے اور وہ کس حیثیت سے حاصل کیے جاسکتے ہیں۔عدالت عظمیٰ کو نئی اور درست باہمی قانونی معاونت کی درخواست بی وی آئی کو بھی بھیجنی چاہیئے تاکہ حقیقی مالک کا پتہ لگایا جاسکے۔بی وی آئی قوانین کے تحت آف شور کمپنی میں شیئر رکھنے والے اصل مالک کو رجسٹر کرنا ضروری نہیں۔یہاں تک کہ سروس فراہم کرنے والا بھی آف شور کمپنیوںکے اصل مالکان جو شیئر کے حامل ہوں ان کا ریکارڈ مرتب کرنے کی ضرورت نہیں۔جیسا کہ لفظ’’شیئر مالکان‘‘سے لگتا ہے کہ جس کے پاس ہوں وہی اس کا ملک ہے۔تاہم، 9/11کے بعد سے تبدیلیاں آنا شروع ہوئی تھیںجو کہ 2004کمپنی قوانین کے تحت ہوئیں اور لاء فرمز اور سروس فراہم کرنے والوں کو اصل مالکان کا ریکارڈمرتب کرنے کا پابند کیا گیا۔2007 میں اس قانون کا اطلاق مکمل طور پر کردیا گیا۔یہی وجہ ہے کہ نیلسن او ر نیسکول کے شیئر مالکان تبدیل ہوکر عام شیئر بن گئےجو کہ منروا ڈائریکٹرز نے مرتب کیے ۔صرف عدالت عظمیٰ ہی اس حوالے سے رہنمائی کرسکتی ہے کہ کونسا دستاویز، کس اتھارٹی سے لیا جاسکتا ہےتاکہ یہ ثابت ہوسکے کہ نیلسن اور نیسکول کا اصل مالک کون تھا۔

پاکستان میں بی وی آئی قوانین کے اس مخصوص حصے کی تشریح کی ضرورت ہے۔یہ ایک حقیقت ہے کہ برطانیہ میں آف شور کمپنیاںجائداد کی مینجمنٹ کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔واضح طور پر کسی کو بھی دیوار سے نہیں لگایا جاسکتا۔پٹیشنرز کی کونسلز کو یہ بات واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ انہیں دراصل کس دستاویز کی ضرورت ہے، جس سے یہ بات ثابت ہوجائے کہ آف شور کمپنیاں کس کی ملکیت میں ہیں، اگر وہ یہ سمجھتے ہیں کہ رجسٹرڈ سروس فراہم کرنے والے منروا اور جے پی سی اے کے خطوط ناکافی ہیں۔ ہل میٹل سعودی عریبہ، وزیراعظم کو فنڈز کی منتقلی۔ سپریم کورٹ نے20اپریل کے فیصلے میں یہ4سوالات اٹھائے تھے۔ (10) ہل میٹل اسٹیبلشمنٹ کس طرح وجود میں آئی۔ (11) فلیگ شپ انوسٹمنٹ لیمیٹڈ اور دیگر کمپنیاں جو مدعا علیہ نمبر8 نے قائم کی ان کے لیے رقم کہاں سے آئی۔ (12) اور ایسی کمپنیوں کے لیے ورکنگ کیپٹل کہاں سے آیا۔ (13) اور مدعا علیہ نمبر 7 کی جانب سے مدعا علیہ نمبر 1 کے لیے بھاری رقم جو ملین میں ہے پر مبنی کہاں سے آئے۔ (14) ان کمپنیوں کے قائم ہونے کے حوالے سے شریف خاندان نے تمام تفصیلات جمع کرائیں ہیں جنہیں جے آئی ٹی کسی شہادت کے بغیر غلط ثابت نہیں کرسکی اور صرف قیاس آرائیاں کی گئیں ہیں۔ یہ الزام جے آئی ٹی کی جانب سے سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کی کوشش تھی کہ ہل میٹل کا88فیصد نفع2010-15ء کے درمیان وزیراعظم کو بھیجا گیا لہٰذا بڑے بینی فشری ہونے کی حیثیت سے میاں نوازشریف ہل میٹل کے اصل مالک ہیں۔ یہ بنیادی الزام ہے جس کا مناسب طریقے سے جائزہ لے کر سپریم کورٹ آف پاکستان نتیجے پر پہنچ سکتی ہے اور جے آئی ٹی کی ایمانداری، فہم و فراست، اہلیت اور غیر جانبداری پر فیصلہ دے سکتی ہے کوئی بھی اچھا اکائونٹنٹ اس کو کچرا قرار دے گا کیونکہ جے آئی ٹی کے پاس دستیاب معلومات اور دستاویزات بھی وہ ثابت نہیں کرتی جو نتیجے جے آئی ٹی نے وزیراعظم کو ہدف بنانے کے لیے نکالا ہے۔ کسی بھی تنظیم کا خالص منافع، نفع اور نقصان اکائونٹ کو چارج کرنے کے بعد نکالا جاتا ہے بہت سارے اخراجات جس میں کیش فلو شامل نہیں ہوتا لہٰذا ان میں اصل کیش پرافٹ نیٹ پرافٹ سے کہیں زیادہ ہوتا ہے ان نان کیش آئٹمز کچھ مثالیں اثاثوں کی ڈیپری سی ایشن، ایمورٹائزیشن، مشکوک قرضوں کے لیے پرویژن اور انکم ٹیکس کے لیے پرویژن وغیرہ۔ سعودی عربیہ کی چارٹرڈ اکائونٹ فرم گارنٹ تھارنٹن انٹر نیشنل کی ممبر فرم کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹ تصدیق کرتی ہے کہ ہل میٹل کا نیٹ پرافٹ2010-15ء سعودی ریال میں37 اعشاریہ 427ملین تھا جو پاکستانی روپے میں 1 اعشاریہ 029 ارب روپے ہے۔

نہ صرف یہ بلکہ2010ء میں کلوزنگ کیش بیلنس پاکستانی روپے میں 83.215 ملین روپے سے لے کر 879اعشاریہ395ملین روپے تھا۔ 2013ء کے اختتام پر مثال کے طور پہ کلوزنگ کیش اور بینک بیلنس 677اعشاریہ38ملین روپے تھا۔ کوئی کاروبار جس کے پاس کلوزنگ کیش اور بینک بیلنس ہو ظاہر ہے کہ وہ تمام کیش آئوٹ فلو کے بعد ہوتا ہے۔ اس سے نکتہ پتہ چلتا ہے کہ جہاں تک ہل میٹل کی مالی حالت کا آڈیٹر کے سرٹیفکیٹ کے مطابق تعلق ہے تو آرگنائزیشن حقیقت میں مالی لحاظ سے اتنی مضبوط پوزیشن میں ہے کہ اس طرح ریمٹینٹس بھیج سکتی تھی۔ جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ بھیجی گئی رقم نیٹ پرافٹ کا88فیصد تھی تو اس کا درست موازنہ اس وقت ہوگا جب آپریشن سے حاصل ہونے والے مجموعی کیش میں نان کیش اخراجات اور نیٹ پرافٹ کو شامل کیا جائے اور پھر پرسنٹیج نکالی گئیں۔ حاصل شدہ اعداد و شمار سے انکشاف ہوتا ہے کہ ہل میٹلز نے2010-15ء وزیراعظم نوازشریف کو938 ملین روپے بھیجے تھے۔ مذکورہ سال کے دوران دستاویزات کے مطابق ہل میٹل نے جو اصل کیش جنریٹ کیا جو جے آئی ٹی کے پاس بھی دستاب تھا وہ4اعشاریہ381ارب روپے تھا جو صرف19 اعشاریہ40فیصد بنتا ہے ناکہ 88فیصد، جیساکہ جے آئی ٹی کی جانب سپریم کورٹ کو گمراہ کرنے کے لیے الزام لگایا گیا جے آئی ٹی کیا ثابت کرنا چاہتی تھی وہ پاکستان کی تاریخ میں ایک سوال رہے گا اور اکائونٹنگ کے طالب علموں کے لیے ایک مضحکہ خیز اور کلاسیکل مثال رہے گی۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *