قاضی صاحب کی تصویریں

قاضی حسین احمد صاحب کی چھٹی برسی، جماعت اسلامی یوتھ نے مختلف اور منفرد انداز میں منانے کا فیصلہ کیا، قاضی صاحب کی تصاویر کی نمائش‘ جس کا اہتمام قذافی سٹیڈیم کے پہلو میں، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف لینگویج اینڈ کلچر (PILAC) میں کیا گیا تھا۔
ڈیڑھ سو تصاویر میں سے ہر تصویر، قاضی صاحب کی سیاسی زندگی کے کسی اہم واقعہ کی کہانی تھی، ان میں کچھ کہانیاں خود قاضی صاحب نے تخلیق کی تھیں، بعض کہانیوں کے اہم کرداروں میں وہ شامل رہے تھے۔ افغانستان میں جب استاد برہان الدین ربانی اور انجینئرنگ کے طالب علم گلبدین حکمت یار اسلامی تحریک کی بنیاد رکھ رہے تھے (جو بعد میں افغان جہاد کا نقطہ آغاز بنی) تو قاضی صاحب، ان انقلابیوں (اور جہادیوں) سے رابطے میں تھے۔ تب آتش جوان تھا۔ افغان قیادت کی اہم میٹنگز میں، سرخ و سفید چہرے پر سیاہ داڑھی کے ساتھ قاضی صاحب مرکزی حیثیت میں نظر آتے ہیں۔ مختلف ممالک میں اسلامی تحریکوں کے عالمی اجتماعات میں بھی وہ سٹیج پر نمایاں ہوتے۔ میاں طفیل محمد نے اپنے دورِ امارت میں جماعت کے سیکرٹری جنرل کی ذمہ داریوں کے لیے قاضی صاحب کا انتخاب کیا، تو وہ پشاور سے منصورہ (لاہور) چلے آئے۔ ان میں دس، گیارہ سال جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے تھے۔ افغانستان میں جہاد کے ماہ و سال بھی یہی تھے۔ جب سوویت یونین کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا اور سوویت فوجوں کے انخلا کا (جنیوا) معاہدہ ہو چکا تھا جب اس جہاد کے معمار، جنرل ضیاء الحق بہاولپور میں عالمی استعمار کی سازش کا شکار ہو گئے۔ 1987ء میں قاضی صاحب امیر جماعت بنے۔ غیر جماعتی انتخابات کے بعد یہ ملک میں نئے سیاسی دور کا آغاز تھا۔ قاضی صاحب نے پشاور سے کراچی تک ''کاروانِ دعوت و محبت‘‘ کا اہتمام کیا۔ ایک ماہ سے زائد پر محیط یہ رابطہ عوام کی بھرپور مہم تھی۔
ادھر وزیر اعظم محمد خان جونیجو کی زیر قیادت مسلم لیگ، ایک تازہ دم سیاسی قوت کے طور پر ابھر رہی تھی۔ اُدھر قاضی صاحب رابطۂ عوام مہم کے ذریعے جماعت اسلامی کو ایک متبادل قوت بنانے کی کوشش کر رہے تھے۔ تب اندرونِ سندھ امن و امان کی صورتحال تشویشناک تھی اور وہاں رابطہ عوام مہم کوئی آسان کام نہیں تھا، ''دور ہٹو سرمایہ دارو! پاکستان ہمارا ہے‘‘ کے ساتھ قاضی صاحب ''دور ہٹو جاگیردارو! پاکستان ہمارا ہے‘‘ کا نعرہ بھی لگا رہے تھے۔ سندھ کے دورے میں، اخبار نویسوں کی ٹیم میں ہم بھی شامل تھے۔ رات کو لاڑکانہ میں جلسہ عام تھا، ہم عصر سے کچھ پہلے یہاں پہنچ گئے تھے اور اس دوران گڑھی خدا بخش میں بھٹو کا مزار بھی دیکھنا چاہتے تھے۔ لاڑکانہ میں ہمارے میزبانوں نے اس شرط کے ساتھ ''اجازت‘‘ دی کہ ہم وہاں زیادہ دیر نہیں لگائیں گے اور مغرب کی سیاہی سے پہلے لوٹ آئیں گے۔ بھٹو کے پہلو میں ان کے چھوٹے صاحبزادے شاہنواز بھٹو کی قبر بھی تھی۔ ہم نے فاتحہ پڑھی اور جلدی سے لوٹ آئے (اب وہاں تین قبروں کا اضافہ ہو چکا ہے، بیگم نصرت بھٹو، ان کے چہیتے مرتضیٰ بھٹو اور ماں باپ کی لاڈلی پنکی کی قبریں)۔
ان میں ایک تصویر، قاضی صاحب، نواز شریف اور عمران خان کی مشترکہ پریس کانفرنس کی ہے۔ مشرف کے آخری مہینوں میں، جب عدلیہ بحالی کی مہم کے دوران تینوں میں گاڑھی چھنتی تھی۔ جلا وطن نواز شریف کی دعوت پر لندن میں آل پارٹیز کانفرنس (جولائی 2007) میں بھی قاضی صاحب اور عمران خان صاحب بڑے جوش و خروش کے ساتھ شریک ہوئے تھے۔ یہیں عمران خان نے فرمایا تھا کہ کسی بھی سیاسی مہم میں، نواز شریف کے نائب کے طور پر شرکت، ان کے لیے فخر اور اعزاز کی بات ہو گی۔
اس نمائش میں جو تصویر سب سے زیادہ توجہ کا مرکز بنی‘ وہ 24 جون 1996ء کی تھی۔ بے نظیر بھٹو دوسری وزارتِ عظمیٰ کا پہلا نصف مکمل کر چکی تھیں۔ اڑھائی سو کی قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کو نواز شریف کی مسلم لیگ پر صرف سترہ، اٹھارہ ارکان کی برتری حاصل تھی (اس الیکشن میں نواز شریف کا راستہ روکنے کے لیے جو حربے اور ہتھکنڈے اختیار کیے گئے، وہ ایک الگ کہانی ہے) نواز شریف کی زیر قیادت اپوزیشن روز اوّل سے وزیر اعظم بے نظیر کو ٹف ٹائم دے رہی تھی۔ پہلے ہی سال، کراچی سے پشاور تک کاروانِ نجات، پھر پہیہ جام، آئے روز ہڑتالیں اور مظاہرے... اور نوازشریف اس کی قیمت بھی ادا کر رہے تھے۔ بچوں کے سوا، شریف خاندان کے سبھی خواتین و حضرات پر مقدمات، تب حمزہ طالب علم تھا، اسے بھی اڈیالہ میں ڈال دیا گیا۔ بڑے میاں صاحب (مرحوم) کی توہین آمیز گرفتاری، شہباز صاحب لندن سے واپس آئے، تو انہیں بھی لاہور ایئرپورٹ سے اڈیالہ پہنچا دیا گیا۔ نوازشریف کی رفاقت کے جرم میں چودھری برادران بھی اڈیالہ میں تھے۔ اسی دوران فاروق لغاری کے ایوانِ صدر اور بے نظیر بھٹو کے پرائم منسٹر ہائوس میں سرد جنگ بھی گرم ہوتی جارہی تھی۔ فاروق لغاری کے دل میں اپنی صدارت کے اوّلین ایام میں ہی گرہ پڑ گئی تھی‘ جب انہوں نے پرائم منسٹر سے قوم کے نام خطاب کی خواہش کا اظہار کیا، لیکن وہ یہ کہہ کر ٹال گئیں کہ صدر کو ''لوپروفائل‘‘میں رہنا چاہیے۔ وقت کے ساتھ رنجشیں بڑھتی گئیں۔ وزیر اعظم صاحبہ اس حقیقت کو نظر انداز کرگئیں کہ اب وہ ان کی فور ویلرکے پائیدان پر لٹکنے والے لغاری بھائی نہیں، 8ویں ترمیم کے بے پناہ اختیارات کے حامل صدر فاروق خان لغاری ہیں۔ یہ جون 1996ء کا آخری عشرہ تھا جب قاضی صاحب نے قومی سیاست میں بڑی گونجدار اینٹری کا فیصلہ کیا اور بجٹ اور مہنگائی کے خلاف 24 جون کو پرائم منسٹر سیکرٹریٹ کے سامنے دھرنے کا اعلان کر دیا (وہ 1993ء کے انتخابات میں اسلامک فرنٹ کی ناکامی کے بعد دھیمے سروں کی سیاست کررہے تھے)۔ بے نظیر صاحبہ مضبوط اعصاب کی حامل خاتون تھیں‘ لیکن ان کی حکومت نے اعصاب باختہ ہونے میں تاخیر نہ کی۔ ملک بھر میں گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ راولپنڈی میں دو دن قبل ہی استقبالیہ کیمپ اکھاڑ دیئے گئے۔ مردان میں مولانا گوہرالرحمن کا مدرسہ بھی محفوظ نہ رہا۔ کسی نے وزیر داخلہ جنرل(ر) نصیر اللہ بابر کے کان میں یہ بات ڈال دی تھی کہ قاضی صاحب کے اسلام آباد دھرنے میں شرکت کے لیے یہاں ہزاروں کی تعداد میں افغان باشندے موجود ہیں۔ قاضی صاحب کو میلوڈی چوک پر روک دیا گیا۔ اس تصادم میں لاٹھی چارج، گولیوں اورآنسو گیس سے متعدد خواتین بے ہوش ہو گئیں۔ پورا علاقہ میدان جنگ بن گیاتھا۔
اس ہنگامے کا المناک منظر، قاضی صاحب کے ساتھ روا رکھا گیا سلوک تھا... قاضی صاحب برہنہ سر تھے، ان کی ٹوپی کہیں گر گئی تھی اور وہ آنسو گیس کے بگولوں کے درمیان پولیس کی لاٹھیوں کی زد میں تھے... اگلے روز اخبارات کے صفحہ اوّل پر شائع ہونے والی یہ تصویر قیامت ڈھا گئی۔
وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کے خلاف تحریک نئے اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوگئی تھی۔ قاضی صاحب نے شہدا کی نماز جنازہ کے بعد چار نکاتی مطالبہ پیش کردیا۔ وزیر اعظم بے نظیر کی بلا تاخیر برطرفی، چیف جسٹسز پر مشتمل عبوری حکومت، بے لاگ احتساب اور احتساب کا عمل مکمل ہونے کے بعد آرٹیکل 62-63 کی پابندی کے ساتھ عام انتخابات کا انعقاد۔28 جون کو 6 دینی جماعتوں، جماعت اسلامی، جمعیت علمائے پاکستان، جمعیت علمائے اسلام (دونوں دھڑے) تحریک جعفریہ اور جمعیت اہل حدیث کا اتحاد۔ 29جون کو نوازشریف اور نورانی میاں کی ملاقات، 30جون کو قاضی صاحب کی طرف سے ناشتے کی دعوت پر نوازشریف کی منصورہ آمد۔ 7جولائی کو اسلام آباد میں نوازشریف، نورانی میاں، اجمل خٹک اور ساجد نقوی کی مشترکہ پریس کانفرنس۔ اسی روز مرتضیٰ بھٹوکی وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے ملاقات، جس کے بعد بہن بھائی میں خلیج مزید وسیع ہونے کی خبر دی گئی۔ 21 اگست کو نوازشریف کی طرف سے قومی اسمبلی میں بے نظیر کے سرے محل کا انکشاف۔ 6ستمبر کو مانسہرہ میں بابا تنکہ کے دربار میں وزیر اعظم صاحبہ کی حاضری۔ 20ستمبر کو مرتضیٰ بھٹو کا قتل، بے نظیر ''المرتضیٰ‘‘ لاڑکانہ میں داخل نہ ہوسکیں۔ ہر آنے والے دن کوئی نیا پولیٹیکل ایونٹ وزیر اعظم صاحبہ کی مشکلات میں اضافے کا باعث بن رہا تھا۔ تین نومبر کو وزیر اعظم صاحبہ آخری ملاقات میں بھی صدر کو رام نہ کرسکیں۔ 5نومبر کی شب 2 بجے اسمبلی توڑ دی گئی۔ محترمہ کے اس زوال میں قاضی صاحب کی اُس تصویر کا کردار بھی بہت اہم تھا،جو اس نمائش میں سب سے زیادہ ''دلچسپی‘‘ کا محور تھی۔

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *