کینیڈا نے دنیا بھر کے ایم بی اے ڈگری ہولڈرز اور انٹرپرینرز کو اپنے ملک میں مدعو کر لیا

کولکتہ میں پلی بڑھی آئشہ چوکھنی کوسردیاں پسند نہیں۔اس کے باوجود ماسٹر ڈگری حاصل کرنے کےلیے اس 29سالہ طالبہ نے ٹورنٹو یونیورسٹی کا انتخاب کیاجہاں سردیوں میں درجہ حرارت فریزنگ پوائنٹ سے بھی نیچے گرجاتا ہے۔

چوکھنی نے ایلیٹ سکولوں میں سے اپنی مرضی کا سکول و منتخب کیا تھا۔انہوں نے امریکہ  کی ڈیوک اور کورنیل نامی اداروں کو مسترد کیا۔اسکی وجوہات واضح تھیں:ٹرمپ انتظامیہ کے  مہاجرین مخالف بیانات نے  انہیں پریشان کیا اور پھر ان کے پاس کینیڈا  جانے کی آپشن بھی موجود تھی۔ وہ گریجویشن کے بعد تین سال تک رہ سکتی ہیں اور انہیں ورک پرمٹ کےلیے نوکری کی پیشکش کی ضرورت نہیں ہے۔وہ کہتی ہیں "میں اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہون کہ میں جہاں بھی پڑھنے جاوں مجھےوہاں رہنے اورتھوڑا سا کام کرنےکا موقع میسرہو"۔

اگست میں، کینیڈا میں 570،000 بین الاقوامی طالب علم تھے، یہ پچھلے تین سال کے مقابلے میں ساٹھ فیصد زیادہ  ہیں۔  یہ اضافہ ایک صدی سے زائد عرصے میں بین الاقوامی امیگریشن میں سب سےزیادہ اضافہ کرنے میں مددگار ثابت ہوا. ملک میں 12 ماہ کے دوران 425،000 لوگ آئے ،اور آبادی میں  1.4فیصد  اضافہ ہوا۔

کینیڈا کے امیگریشن  نظام نے  اعلی درجہ کی مہارت رکھنے والوں کو  بلانے کا منصوبہ بنایا ہے۔ 65 فیصد سے زائد غیر ملکی افراد نے 2017 میں  پوسٹ سیکنڈری ڈگری حاصل کی، جو کہ آرگنائزیشن فار اکنامکس کوآپریشن اینڈ ڈیویلپمنٹ  کے مطابق تاریخی   لحاظ سے سب سے بڑی تعداد ہے۔ نیشنل بینک آف کینیڈا کے  ماہر اقتصادیات سٹیفن میرون کا کہنا ہے کہ "ہم او ای سی ڈی میں سب سے بڑی صنعت ہیں جو دنیا بھر سے ٹیلنٹ کو اپنے ساتھ بلاتے  ہیں."  اسی وجہ سے  ملک گلوبلائزیشن اور ٹیکنالوجیکل چینج  سے نمٹنے کے لیےمکمل طور پر   تیارہے-" یہ ایک بہت ہی بڑا فائدہ ہے. "

پچھلے چند سالوں میں Amazon.com Inc. نے کینیڈا میں 10،000 ملازمتیں مہیا کیں ۔ اب ان کا منصوبہ ہے کہ اس تعداد میں 6000 ملازمتوں کا اضافہ کیا جائے ۔  کینیڈا میں ایمیزون کے ایڈورٹائزنگ  شعبہ کے سربراہ تمیر بار ہیم  جنہوں نے اسرائیل سے ہجرت کی کا کہنا ہے کہ  "ہم ہمیشہ سے بہترین ٹیلنٹ سے متاثر ہوئے ہیں اور خاص طور پر بیرون ملک سے آ کر کینیڈا آباد ہونے والوں  نے ہمیں بہت متاثر کیا ہے۔

حسن بھٹی نے اقتصادی ترقی کو بڑھانے کے لئے وزیر اعظم جسٹن ٹراڈو کی  امیگریشن کے ذریعے معیشت مضبوط کرنے کی حکمت عملی  کی تعریف کی۔ 26 سالہ پاکستانی  نے سافٹ ویئر کا آغاز  کیا جسے کرپٹو نیومیرکس کا نام دیا. ان کی بڑھتی ہوئی ٹیم نے ٹورنٹو جیسے عظیم شہر میں مختلف نئی کمپنیوں کے ساتھ کام کا آغاز کیا۔

بھٹی نے برٹش کولمبیا یونیورسٹی سے طبیعیات اور معاشیات میں  انڈرگریجویٹ ڈگری حاصل کی . انہوں  نے اسٹینفورڈ یا ہارورڈ  سکول میں داخلے کی درخواست دینے کا منصوبہ بنایا، لیکن اس وقت اسکا ویزا مستردہوگیاکیونکہ  ٹرمپ انتظامیہ نے سات  مسلم ممالک سے امیگریشن پر پابندی عائد کر دی تھی. (ریسٹون میں قائم گریجویٹ مینجمنٹ ایڈمشن کونسل کے مطابق  2018 میں امریکی کاروباری اسکولوں میں داخلے کے لیے  بین الاقوامی طلبا کی طرف سے درخواستوں میں 11 فیصد کمی ہوئی۔)

بھٹی نے پاسپورٹ  آنے   تک کینیڈا میں رہنے کا فیصلہ کیا، اور اب وہ دوبارہ  امریکہ جانے کا سوچ رہے ہیں" پہلےکی طرح امریکہ سب سے بڑی معیشت ہے۔ ہر کوئی وہاں جانا چاہتا ہے ۔ اس کا کوئی مقابلہ نہیں ۔ اس لیے میرا نظریہ بھی اب بدل چکا ہے۔

تمام فوائد کے باوحود  امیگریشن میں اضافہ ایک سیاسی مسئلہ بن رہا ہے۔ مثال کے طور پر گزشتہ دو سالوں میں، کیوبک صوبے  میں پناہ گزینوں کی تعداد میں ایک بڑا اضافہ دیکھنے کو ملا۔ ان میں سے زیادہ تر لوگ  امریکہ سے غیر قانونی طور پر سرحد پار کر آئے تھے۔ کینیڈین حکومت 2019 میں پناہ کی درخواست دینے والے مہاجرین کی تعداد میں  20 فیصد کمی کا ہدف سامنے رکھے ہوئے ہے۔  ایک نئی وفاقی پارٹی، پیپلز پارٹی آف کینیڈا  بھی امیگریشن کو کم کرنے  پر زور دے رہی ہے.

وینکوور میں  قائم برٹش کولمبیا یونیورسٹی2014 میں15 فیصد کے مقابلے میں   2022   تک غیر ملکی طلبا کی تعداد کو 30 فیصد تک لے جانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن بہت سے لوگوں نے  اس  منصوبہ پر تنقید کی۔ پیٹر وائلی نے کہا: "عوامی اداروں کے طور پر ان یونیورسٹیوں کو چاہیے کہ مقامی افراد کوزیادہ  سہولیات مہیا کریں۔"

یونیورسٹی  لیڈرز اس کی نفی کرتے ہیں کیونکہ  بین الاقوامی طلباء  زیادہ ٹیوشن فیس ادا کرتے اور ادارے کو اپنے مشن کی کامیابی کے قابل بناتے ہیں۔مثال کے طور پرغیر ملکی انجینئرنگ کے طلباء  ایک سال کا 32،700 امریکی ڈالر ادا کرتے ہیں، جبکہ کینیڈین طلبا صرف 4،500 امریکی ڈالر ادا کرتے ہیں.

اگریہ طلباءملک میں رہیں اور  ان کی  مہارتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے سٹارٹ اپ کمپنیوں کا جال بچھایا جائے تو یہ کینیڈا کے لیے فائدہ مند ہو گا۔ 2017 میں صرف 9،410 سابق بین الاقوامی طلباء نے کینیڈا میں مستقل سکونت اختیار  کی۔ ان میں  اگر ایسے طلبا کو بھی شامل کیا جائے جنہوں نے دوسرے طریقے اختیار کیے ہوں جیسا کہ ورک پرمٹ کے ذریعے آئے، اپلائی کرنے سے قبل گھر چلے گئے، امیگریشن کا ڈیٹا بندوبست کرنے کے بعد آئے یا کینڈا کی شہریت کے حصول کے لیے مہاجرین کے طور پر آئے تو یہ تعداد 44،000 تک  جا پہنچتی ہے۔

چوکھنی کو   اس بات کا یقین نہیں کہ وہ کینیڈا میں رہ سکیں گی.   ان کے لیے ٹورونٹو کے زیادہ کرائے والے علاقے میں رہنا بہت مشکل ہے ۔ کرایہ پر جائیداد  کینیڈا کی معیشت کا ایک اہم حصہ ہے ۔ انہیں  ٹورنٹو کے روٹ مین سکول آف مینجمنٹ یونیورسٹی میں   ایم بی اے کے لیے  تقریبا 78،000 ڈالر  خرچ کرنا پڑ رہے ہیں ۔ وہ کہتی ہیں : "اب بھی ممکن ہے مجھے اس شہر سے مزید محبت ہو جائے لیکن میں نہیں جانتی کہ  تعلیم  کے بعد یہاں رہنا بہترین فیصلہ  ہوگا یا نہیں."

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *