اورنج ٹرین اور ڈونکی راجا کی دولتی

ہندستان پر انگریزوں کی حکومت کو دو  ادوارمیں تقسیم کیا جاتا ہے۔ ایک ایسٹ انڈیا کمپنی کا اور دوسرا تاج برطانیہ کا دور۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور میں حکمران کو گورنر جنرل کہا جاتا تھا۔ان میں  Lord William Bentinck  پورے ہندوستان کا پہلا اور بڑا دلچسپ  گورنر جنرل تھا۔ وہ 1828سے  1835 تک حکمران رہا۔ موصوف کو ہمارے وزیراعظم عمران خان کی طرح سادگی اور بچت کا بڑا شوق تھا۔ وہ جوانی میں کرکٹ کے بھی مایہ ناز کھلاڑی رہ چکے تھے۔ ان کی ایک اور بھی مماثلت ہمارے ممدوح وزیراعظم سے ہے۔ اس کا ذکر آگے جا کر کرتے ہیں ۔
بینٹنک کے بچت "کارناموں" کی فہرست خاصی طویل ہے۔ چند " اہم " بچتوں کا ذکر کچھ یوں ہے کہ انھوں نے قلعہ آگرا کی توپ کو توڑ کر اس کی دھات کو بیچ کر کمپنی کے حوالے کر دیا۔ یہ توپ اس وقت دنیا کی سب سے بڑی توپ تھی اور اسے شاہنشاہ اکبر نے بنوایا تھا۔  بلا شبہ اس توپ کو دنیا میں ایک عجوبے کی حیثیت حاصل تھی۔ لیکن بینٹینک کو اس میں سینکڑوں ٹن دھاتیں نظر آئیں ۔ اسی طرح انھوں نے آگرہ قلعے میں پڑے قیمتی پتھروں کو بے کار قرار دیا اور ان کو بھی ہمارے وزیر اعظم  کی بھینسوں اور گاڑیوں کی طرح بیچ دیا۔ اس کے بعد بینٹینک  صاحب کی  للچائی نظریں تاج محل پر پڑیں۔ انھوں نے سوچا کہ اس پر لگے سنگ مر مر پر کیوں نہ ہاتھ صاف کیا جائے۔ بڑا حساب کتاب لگایا گیا کہ کتنا پتھر اترے گا اور اس کو انگلستان بھیجنے میں کتنا خرچہ آئے گا۔ تب ماہرین نے بتایا کہ یہ کوئی زیادہ منافع بخش کام  ثابت نہیں ہوگا۔ اور بدنامی علیحدہ ہو گی۔ تب انھوں نے اسی طرح اس حکم کو واپس لے لیا جس طرح ہمارے وزیراعظم نے گورنر ہاؤس کی دیواریں کو گرانے کا حکم واپس لیا تھا۔ ویسے آپ ہمارے قائد اعظم ثانی کی بصیرت کی داد دیجئے کہ موصوف نے فرمایا تھا کہ یہ دیواریں انگریزی دور کی غلامانہ تہذیب کی یادگار ہیں اس لیے اس نقش کہن کو مٹا دینا چاہیے۔ لیکن گزارش یہ ہے کہ آپ کو آپ کی  قمیض کی قیمتی دو موریوں کی قسم ، ذرا یہ بتائیے  ہے کہ آپ کی کل کمائی کرکٹ کھیل میں نیک نامی ہے  نا ! تو کیا کرکٹ خلافت راشدہ کی یادگار ہے؟
لارڈ بینٹینک کے متعدد بچت کارناموں میں یہ بھی ہے کہ انھوں لارڈ میکالے کا تعلیمی نظام نافذ کیا۔ فارسی کی جگہ انگریزی میڈیم کو  سرکاری زبان قرار دیا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ وہ چاہتے تھے کہ دیسی بابو تیار ہوں تاکہ کمپنی کو انگلینڈ سے افسر اور ملازم منگوانے پر جو بھاری تنخواہیں دینی پڑتی ہیں ، اس کی بچت ہو۔ موصوف کے اچھے کاموں میں سب سے نمایاں کام ستی کی ظالمانہ رسم پر پابندی اور ٹھگوں کا خاتمہ ہے۔اس نیک کام میں انھیں ہندوؤں کے " سر سید احمد خان" راجا رام موہن رائے کی حمایت حاصل رہی تھی۔۔ اس حوالے سے بھی وزیراعظم عمران خان کی بینٹینک کے ساتھ ایک گونہ مشابہت پیدا ہو گئی ہے۔ ستی کی رسم پر پابندی اسی طرح کا ایک قابل تعریف کام تھا جس طرح رویت ہلال کمیٹی ختم کرکے اسے فلکیات کے  محکمے کو سونپنا۔ ( اللہ کرے کہ یہ حکم یو ٹرن  کی نذر نہہو )  اب خدا معلوم ہمارے چ جسٹس اور صوبہ پنجاب کے سب سے سینیر وزیر اور انتہائی ایمان دار اور محب وطن سیاست دان علیم خان کو کس نے مشورہ دے دیا ہے کہ اورنج ٹرین کے منصوبے کو ختم کرنا تاج محل کو ڈھانے جیسا عبث کام ہو گا۔ اگرچہ وہ اب بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک بے کار کام ہے
 انھوں  نے بتایا ہے کہ اگر اورنج ٹرین بن گئی تو اتنے ارب روپے ماہانہ سبسڈی دینی پڑے گی۔ اگر موصوف کی اپروچ یہی رہی تو وہ دن دور نہیں جب تمام سرکاری اسپتال، سب سرکاری تعلیمی ادارے ، سب تحقیقی ادارے حتیٰ کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ کو بھی بند کرنا پڑے گا کیونکہ ان پر تو بے تحاشا سبسڈی دینا پڑتی ہے۔
علیم خان اور دیگر ڈونکی راجا وزیروں کو شاید انویسٹمنٹ اور ایکسپنڈیچر کا فرق ہی معلوم نہیں۔ سڑکوں، پلوں اور دیگر انفراسٹرکچر پر اٹھنے والے اخراجات اصل میں سرمایہ کاری ہے ، انویسٹمنٹ ہے
۔ ایک فلائی اور برج پر لگنے والی اربوں روپے کی رقم مہینوں میں وصول ہو جاتی ہے ۔ آپ ذرا ایک دن میں اشارے پر رکنے والی لاکھوں گاڑیوں کے فیول کا حساب لگائیں جو وہ انتظار یا لمبا فاصلہ طے کرنے میں ضایع کرتی ہیں , وقت کے ضیاع کی قیمت لگائیں ، گاڑیوں کی ٹوٹ پھوٹ اور ٹریفک کو کنٹرول کرنے والی مین پاور پر اٹھنے والے اخراجات کا تخمینہ لگائیں تو معلوم ہو گا کہ اصل میں فاصلے کم کرنا ،  ٹریفک کو رکے بغیر چلانا سفری لاگت کم کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ ڈونکی  برانڈ وزیر علیم خان بیچارے ٹی وی رپورٹر کو بتا رہے تھے کہ شہباز شریف نے محض خوبصورتی کی خاطر مغلوں کی طرح اربوں روپے اس عیاشی میں پھونک دیے۔ لیکن شکر ہے ہمارے چ جسٹس نے کہا ہے کہ یہ تو لاہوریوں کے لیے ایک تحفہ ہے۔ وہ علیحدہ بات ہے کہ بعض لعنتی کرداروں کے کہنے پر وہ اس منصوبے کی تاخیر کے ذمہ داروں میں آتے ہیں ۔ اس لیے وہ خاطر جمع رکھیں کہ ان کی یہ خواہش کہ وہ اس ٹرین کی سواری جلد کرنا چاہتے ہیں ، بوجوہ پوری نہیں ہو گی۔ دور جدید کے اس جسٹس منیر احمد کو ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے "سنہری کارناموں " کے سبب معلوم نہیں کہاں کہاں کی سواری کرنی پڑے گی۔
اور علیم خان وزیر " مخصوص" کو اگر ہماری بات کی سمجھ نہیں آئی تو عرض ہے کہ اگر پی ٹی وی  اور نیلم جہلم بند بجلی کے بلوں میں چند روپے بڑھانے سے بنایے اور چلائے جا سکتے ہیں تو وہ لاہوریوں کے بجلی یا سیوریج کے بلوں میں بھی پچاس روپے اس مد میں وصول کر لیں ۔ لاہور کی آبادی نے ن لیگ کو ووٹ دے کر ثابت کیا ہے کہ وہ اس پراجیکٹ کے حق میں ہیں ۔ اس لیے وہ اپنا فلسفہ بچت کسی اور جگہ لاگو کر لیں لیکن  لاہوریوں کو یہ مت سمجھائیں کہ اربوں روپے کے پراجیکٹ کو جبکہ وہ نوے فیصد مکمل ہو چکا ہو، ختم کرنا عقل مندی کا کام ہے یا اس کو تاخیر کا شکار کر کے ماہانہ کروڑوں کا جرمانہ بھرنا ، اصل میں بچت ہے۔
ڈونکی راجا اینڈ کمپنی کو اب اپنی دولتیوں پر تھوڑا کنٹرول کرنا چاہیے۔ اگر ہر نئی منتخب حکومت پچھلی حکومتوں کے پراجیکٹ کو درمیان  میں چھوڑ نا شروع کرے گی تو ریکوڈک والا معاملہ ہی ہو گا یعنی سو جوتے بھی کھانا پڑیں گے اور پیاز  بھی۔ اور جمہوری نظام کی بھی چھٹی ہو گی۔ دراصل یہ فیصلہ کرنا عوام کا حق ہے کہ وہ کس حکومت کے کس منصوبے کے حق میں ہے اور  کس کے حق میں نہیں ۔ جیسے لاہور اور پنجاب میں ن لیگ کی تمام تر رکاوٹوں اور ہتھ کنڈوں کے بعد جیت نے ثابت کردیا کہ انھیں ن لیگ کی پالیسیوں پر اعتماد ہے ۔ اب جمہوری روایات یہی کہتی ہیں اس منصوبے کو جاری رکھا جائے لیکن تحریک انصاف کا انصاف یہی ہے اپنے بغض اور کینہ کی آبیاری کرتے ہوئے اس منصوبے کی تکمیل میں تاخیر  سے لاہوریوں کو زیادہ سے زیادہ زچ کیا جاۓ ورنہ اگر منصوبہ مکمل ہو گیا تو لوگوں کو ن لیگ یاد رہے گی اور اس کا مقابلہ و موازنہ وزیر اعلیٰ  بزدار سے ہوتا رہے گا اور پھر جو نتیجہ نکلے گا ، وہ بھلا بتانے کی چیز ہے !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *