اردو ادب کی تشکیلِ جدید

پاکستان کے فکری مسائل، کیا اس تاریخ کا حاصل ہیں جو ورق ورق الجھنوں سے عبارت ہے؟ یا یہ تاریخی عمل کی اُن تعبیرات کے نتائج ہیں جو اہلِ دانش کی فکری پراگندگی کے مظاہر اور اردو ادب کا مستقل حصہ ہیں؟
ناصر عباس نیر کی کتاب ''اردو ادب کی تشکیلِ جدید‘‘ ان سوالات کو کئی پہلوئوں سے زیرِ بحث لاتی ہے۔ یہ کتاب ایک عرصے سے میرے سرہانے دھری ہے۔ اخبار ایک نوآبادیاتی قوت کے طور پر کتاب کے وقت پر قابض ہے۔ اس پہ مستزاد کتابوں کی کثرت اور موضوعات کا تنوع۔ چار دن کی زندگی میں کوئی کیا کیا پڑھے اور کتنا پڑھے؟ دیکھیے فراز نے یہ مضمون کس سلیقے سے باندھا ہے:
ڈوبنے والا تھا اور ساحل پہ چہرں کا ہجوم
پل کی مہلت تھی، میں کس کو آنکھ بھر کر دیکھتا
یہ کتاب بھی اسی قلتِ وقت اور بے ترتیبی کی نذر ہوتی گئی۔ میں نے البتہ یہ اہتمام ضرور کیا کہ یہ طاقِ نسیاں کے حوالے نہ ہو۔ کتاب کی ورق گردانی کرتے وقت اس کی قدر و قیمت کا اندازہ کر لیا تھا کہ کتاب سے قدیم تعلق نے کتاب شناسی کی صلاحیت، کسی حد تک، پیدا کر دی ہے۔ ایک سرسری نظر نے بتا دیا تھا کہ یہ سنجیدہ مطالعے کی متقاضی ہے۔ سیاستِ دوراں کو جمود نے آ لیا‘ اور اخبار میں لفظوں کی بے معنی تکرار کے سوا کچھ دکھائی نہ دیا تو میں اس 'نوآبادیاتی قوت‘ کی قید سے، شاید عارضی طور پر، نکل آیا اور پس نوآبادیاتی عہد میں داخل ہو گیا۔ اس کتاب کا ذیلی عنوان بھی اس سے ملتا جلتا ہے: 'نوآبادیاتی اور پس نو آبادیاتی عہد کے اردو ادب کے مطالعات‘۔ میں نے ان دنوں میں اسے تفصیل سے پڑھ لیا۔
نوآبادیاتی عہد کا اردو ادب، میر کی کوئی غزل نہیں، آشوب شہر ہے۔ یہ ہجر و وصال کی کوئی انفرادی واردات نہیں، ایک ایسے خطے اور گروہ کی داستان ہے‘ جسے تاریخ نے تجربات کے لیے منتخب کر لیا تھا۔ ایک تجربہ گاہ میں کسی وجود پر جو کچھ بیت سکتا ہے، اس خطے اور یہاں کے مکینوں پر بیت گیا۔ جیسے اسلام یہاں کا مقامی مذہب نہیں تھا۔ عرب تاجر لائے یا محمد بن قاسم۔ پھر باہر سے آنے والے حملہ آور جو مسلمان تھے، یہاں کے حاکم بنے۔ ان کے اقتدار کو ایک اور بدیسی قوت، انگریز نے ختم کیا اور اپنا تسلط قائم کر دیا۔
ان واقعات نے تاریخ کے باب میں ایک سوال اٹھا دیا: کیا مسلمان اور انگریز دونوں استعماری قوتیں تھیں؟ کیا خطے سے نسبت کا یہ تقاضا ہے کہ دونوںکو ایک نظر سے دیکھا جائے؟ یہ اسی سوال کے مختلف جواب ہیں‘ جو برصغیر کی تاریخ کے مختلف ابواب بن گئے۔ ایک اور اہم سوال یہ ہے کہ انگریز کی آمد، مسلم اقتدار کا زوال تھا یا مقامی اقتدار کا خاتمہ؟ لوگ اس سوال کا جواب تلاش کرنے نکلے تو تاریخ نگاری میں ایک سے زیادہ نقطہ ہائے نظر وجود میں آ گئے۔
نوآبادیاتی عہد کا اردو ادب ان سوالات کو زیرِ بحث لاتا ہے۔ ناصر عباس نے بھی اس ادب کو اپنے مطالعے کا موضوع بنایا ہے اور کمال مہارت اور دقتِ نظر کے ساتھ۔ وہ برصغیر کے تاریخی تناظر میں، ایمپائر اور استعمار میں فرق کرتے ہیں۔ ایڈورڈ سعید کے حوالے سے، وہ بتاتے ہیں کہ نوآبادیات امپیریل ازم کا نتیجہ ہے، اس کا مترادف نہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مسلم اقتدار کو ایمپائر تو قرار دیا جا سکتا ہے، استعمار نہیں۔
اس مقدمے کو، وہ دو دلائل سے ثابت کرتے ہیں۔ ایک یہ کہ استعمار محکوموں سے ایک فاصلہ رکھتا ہے۔ مسلمان حکمرانوں نے ہندوستان کو اپنا وطن بنایا اور مٹی کی ملکیت (ownership) کو قبول کیا۔ انگریزوں کا معاملہ یہ نہیں تھا۔ انہوں نے حاکم اور محکوم کے فرق کو ایک لمحے کے لیے فراموش نہیں کیا۔ یہاں کی دولت کو لوٹا اور اپنے اصل وطن لے گئے۔
دوسری دلیل تاریخی ہے۔ امپیریل عہدِ وسطیٰ کی یادگار ہے جس کا پس منظر جاگیردارانہ تھا۔ نوآبادیات کا پس منظر سرمایہ دارانہ ہے۔ یہ فرق نظامِ اقدار کے فرق میں ڈھل جاتا ہے۔ دونوں میں اگرچہ ارتکازِ زر اعلیٰ طبقات ہی میں ہوتا ہے لیکن بادشاہ دولت کو شاہانہ انداز میں خرچ کرتا ہے۔ نوآبادکار اس کا متحمل نہیں ہوتا۔ جیسے محمود غزنوی سے بہادر شاہ ظفر تک، مسلمان حکمران شعرا کی فراخ دلی کے ساتھ سرپرستی کرتے تھے۔ دوسری طرف انگریزوں کے دور میں غالب جیسے شاعر کو پینشن کے معاملے میں جس ذلت سے گزرنا پڑا، وہ ایک سرمایہ دارانہ ذہنیت کا اظہار تھا۔
ناصر عباس کا کہنا ہے کہ مذہب مسلمان حکمرانوں کے سیاسی بیانیے کا حصہ نہیں تھا۔ ہندو اور مسلم ثقافت کا فرق موجود تھا مگر یہ کسی تصادم میں نہیں بدلتا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ریاست کا بیانیہ رواداری پر مبنی تھا۔ نوآبادیاتی دور میں رواداری کا بیانیہ تقسیم کے بیانیہ میں بدل گیا۔ ان کے الفاظ میں ''یورپی اثرات نے علیحدگی پسندی کو جبکہ مسلم اثرات نے مخلوطیت کو فروغ دیا‘‘۔ ان کا خیال ہے کہ بابا فرید، عبداللطیف بھٹائی اور بلھے شاہ جیسے بزرگ مخلوط کلچر کی پیداوار اور اس کے مظاہر ہیں۔
ناصر عباس کا نتیجہ فکر یہ ہے کہ ہندو مسلم تصادم کے بیانیے نوآبادیاتی دور میں گھڑے گئے۔ اگر یہ مقدمہ درست ہے تو پھر اردو ادب کی اس روایت کو کیسے سمجھا جائے گا جس کے سرخیل سر سید، حالی اور اکبر جیسے لوگ ہیں؟ وہ سر سید کی جدیدیت اور اکبر کے ردِ استعماریت کو دہرے شعور کی کشمکش کہتے ہیں۔ حالی پر بھی ایک مفصل مقالہ اس کتاب میں شامل ہے جس میں وہ قوم اور قومی شاعری کے تصورات کو زیر بحث لاتے ہیں۔ وہ یہ نکتہ بھی بیان کرتے ہیں کہ یہ ادب اور ابلاغ کے ذرائع ہیں جو ذہنوں میں اجتماعی قومی شناخت کے تصورات کی آبیاری کرتے ہیں اور یوں 'قومی شاعر‘ کا تصور وجود میں آتا ہے۔
حالی کے ہاں قوم کا تصور گنجلک ہے۔ ناصر عباس نے اس کو کھولنے کی کوشش کی ہے۔ وہ حالی کے تصورِ قوم کو قدیم عرب اور جدید مغرب کا امتزاج قرار دیتے ہیں۔ قوم کا تصور کسی 'غیر‘ کے بغیر ادھورا ہے۔ حالی کے ہاں مغرب غیر نہیں ہے۔ انہوں نے حالی کے ایک مصرعے کو اپنے اس مقالے کا عنوان بنایا ہے: 'کچھ کذب و افترا ہے، کچھ کذبِ حق نما ہے‘۔ یہ عنوان معنی خیز ہے۔ اسی طرح سر سید کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ دانش ور تو تھے لیکن ان کا ذہن تخلیقی نہیں تھا۔ یوں یہ مطالعہ اردو ادب کی تشکیلِ نو ہی نہیں، تفہیمِ نو بھی ہے۔
ناصر عباس مشرق کے مطالعے کے لیے یورپی تعقل کو ایڈورڈ سعید کی طرح، شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ مشرق کے حوالے سے یورپ میں جو کچھ لکھا گیا، وہ لسانی مطالعات کا ایک معجزہ ہونے کے باوجود، اس لیے قابلِ بھروسہ نہیں ہے کہ یہ مشرقی زبانوں کے وسیلے سے مشرق کی یورپی تشکیل کا منصوبہ تھا۔ ان مطالعات میں سماجی پس منظر کو نظر انداز کیا گیا جو زبان کی صورت گری میں سب سے اہم ہوتی ہے۔
ناصر عباس تاریخ کے مارکسی نقطہ نظر کے حامل ہیں۔ ان کا مطالعہ ایک خاص زاویہ نظر لیے ہوئے ہے۔ اس سے اختلاف تو کیا جا سکتا ہے، صرفِ نظر نہیں۔ ہم آج تک بطور قوم، اپنی وجہ تخلیق کے باب میں انتشارِ فکر میں مبتلا ہیں۔ یہ کتاب مطالعۂ ادب کو اساس بناتے ہوئے ان سوالات پر غور و فکر کی دعوت دیتی ہے‘ جن کا اطمینان بخش حل تلاش کیے بغیر، اس انتشارِ فکر سے نجات محال ہے۔ پاکستان بننے کے بعد ہم نے تاریخ سازی تو کیٍ‘ لیکن تاریخ فہمی کا کوئی اچھا مظہر پیش نہ کر سکے۔ اگر یہ کام پہلے کر لیتے تو شاید تاریخ بناتے وقت وہ غلطیاں نہ کرتے جو اب بہت سے انڈے بچے دے چکی ہیں۔
ناصر عباس نے اس کتاب میں نوآبادیاتی ہی نہیں، پسِ نو آبادیاتی عہد کے ادب کو بھی مو ضوع بنایا ہے۔ میری خواہش تھی کہ میں اس کا تعارف بھی آپ کے سامنے رکھوں مگر قصہ نوآبادیادتی دور تک ہی پہنچا تھا کہ کالم تمام ہو گیا۔
پل کی مہلت تھی، میں کس کو آنکھ بھر کر دیکھتا

بشکریہ روزنامہ دنیا

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *