'کبھی شراب کی بوتل پر بھی سوموٹو لیا اور کبھی اہم معاملہ نظرانداز ہوا'

پاکستان کے قانونی حلقوں میں ملک کے چیف جسٹس کی جانب سے ازخود نوٹس کے اختیارات پر بحث اب شدت اختیار کر رہی ہے۔

اس کی وجہ ہفتے کے روز سپریم کورٹ کے جج جسٹس منصور علی شاہ کی جانب سے سامنے آنے والا فیصلہ بھی ہے جس میں چیف جسٹس کے 9 مئی 2018 کو اٹھائے گئے اس اقدام کی مخالفت کی گئی جب سپریم کورٹ کی پشاور رجسٹری میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے تین رکنی بینچ کے ہی دوسرے رکن جسٹس قاضی عیسی فائز کو بینچ سے علیحدہ کر دیا تھا۔

سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پرجاری ہونے والے اس فیصلے میں جسٹس منصور علی شاہ نے لکھا ہے کہ ’نو مئی کو سپریم کورٹ برانچ رجسٹری پشاور میں انسانی حقوق کے مقدمات کی سماعت کے دوران ایک موقع پر تین رکنی خصوصی بنچ کے رکن جسٹس قاضی فائز عیسی ٰنے وکیل سے استفسار کیا کہ کیا آرٹیکل 184 کی شق (3) کے تحت سپریم کورٹ میں انسانی حقوق سیل کے ڈائریکٹرکو یہ کیس اس طرح لگانے کا اختیار تھا ؟ تاہم چیف جسٹس نے اس اختلاف پر وقفہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ بینچ ٹوٹ گیا ہے اور ہم ازسر نو بنچ تشکیل دیں گے'۔

جسٹس قاضی عیسی فائز نے اس معاملے پر ایک اختلافی نوٹ لکھا اور انہوں نے اس فیصلے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ چیف جسٹس نے اس اختلاف پر جواب سنے بغیر فیصلہ کیا۔

واضح رہے کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی شق 3 کے تحت کسی بھی واقعے یا عوامی اہمیت کے اہم معاملے پرسپریم کورٹ کو از خود نوٹس لینے کا اختیار حاصل ہے۔ تاہم اس شق کے تحت سپریم کورٹ کو ملنے والے اختیارات کی حدود پر نظرثانی کی بحث اکثر جاری رہتی ہے۔

پاکستان کے سابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے بھی سابق چیف جسٹس افتحار چودھری کی ریٹائرمنٹ کے موقع پر فل کورٹ ریفرنس میں کہا تھا کہ آئین کے آرٹیکل 184 کی ذیلی شق 3 اور 187 کے تحت عدالت عظمی کو دیئے گئے اختیارات کے قانون اور سماجی حرکیات میں موجود فرق کو کم کرنے کی استدعا کی جا سکتی ہے۔ لیکن ایسا کرتے ہوئے عدالت کو ریاست کے تینوں ستونوں کی آئینی حیثیت کا بھی خیال رکھنا ہو گا'۔

یاد رہے کہ جسٹس رٹائیرڈ افتخار چودھری کے دور میں سب سے زیادہ ازخود نوٹسز کی روایت قائم ہوئی تھی، تاہم انٹرنیشنل کمیشن فار جیورسٹس اور متعدد ماہرین قانون نے ان کی طرف سے آئین کی اس شق کے تحت مختلف معاملات میں ازخود نوٹس لینے پر تحفظات کا اظہار کیا تھا۔

جسٹس ثاقب نثار

موجودہ چیف جسٹس کو، جو 17 جنوری کو سبکدوش ہو رہے ہیں، کئی دفعہ ازخود نوٹس لینے پر تنقید کا سامنا رہا، لیکن جسٹس قاضی عیسی فائز کو بینچ سے علیحدہ کرنے کو قانونی ماہرین نے ایسا عمل قرار دیا جس کی ماضی میں مثال نہیں ملتی۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین کامران مرتضی کے مطابق جب کوئی چیف جسٹس پاکستان بینچ تشکیل دیتے ہیں تو اس وقت تک کسی بھی جج کو اس بینچ سے الگ نہیں کیا جا سکتا جب تک کہ وہ خود ہی اپنے آپ کو اس سے الگ نہ کر لے۔

'اس لیے جسٹس منصور علی شاہ نے جو فیصلہ لکھا، وہ درست ہے۔ یہ علمی اختلاف ہے، البتہ یہ فیصلہ اسی وقت آنا چاہییے تھا نہ کہ کئی ماہ بعد۔ کیونکہ اس وقت ان کی جانب سے ایسا فیصلہ آنے کے اثرات قدرے مختلف ہوتے '۔

خیال رہے کہ جسٹس منصور علی شاہ نے اپنے اس فیصلے میں لکھا ہے کہ وہ تبدیل شدہ بینچ میں بیٹھنے کی غلطی کو تسلیم کرتے ہیں ۔

انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اگرچہ سپریم کورٹ کے قواعد چیف جسٹس کو بینچ کی تشکیل کا انتظامی اختیار تو دیتے ہیں، لیکن اس کے بعد معاملہ چیف جسٹس کے انتظامی اختیارات سے باہر ججوں کے عدالتی دائرہ اختیار میں چلا جاتا ہے۔

بینچ کی تشکیل کے بعد کوئی بھی جج ذاتی وجوہات یا طبیعت کی خرابی کی بناء پر کیس سننے سے انکار کردے تو اس صورت میں نیا بینچ تشکیل دیا جا سکتا ہے لیکن بینچ کے کسی رکن جج سے اختلافات کی بناء پر بینچ کی ہیت کو تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ جج سے کسی بات پر اختلاف کی بنیاد پر بینچ تبدیل کرنا آئین اور عدلیہ کی آزادی کے خلاف ہے۔

کامران مرتضی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ امید بھی ظاہر کی کہ نامزد چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ازخود نوٹس میں اختیارات کے معاملے پر بھی کام کریں گے، 'یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کو اسٹرکچر نہیں کیا گیا، کبھی شراب کی ایک بوتل پر ازخود نوٹس لے لیا جاتا ہے، اور کبھی بڑے بڑے معاملات بھی نظرانداز کر دیئے گئے، ہم یہ چاہتے ہیں کہ اس کے پیچھے کچھ قواعد ہونے چاہئیں تاکہ ہمیں بھی اور عدالت کو بھی علم ہو کہ کونسا معاملہ 184 (3) کے تحت آتا ہے'۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *