سچائی کی تلاش میں

ہزاروں سال سے انسان ایک سوال کے جواب کی تلاش میں ہے، یہ سوال آسمانوں میں دکھائی دیتا ہے، پہاڑوں میں اس کی گونج سنائی دیتی ہے، دریا کی لہریں یہی سوال پوچھتی ہیں، صحرا کی ریت پر یہ سوال لکھا ہے، سمندروں کی گہرائیوں میں یہ سوال چھپا ہے، برف پوش چوٹیاں اس سوال سے لدی ہوئی ہیں، گھنے جنگلوں میں یہ سوال سر اٹھائے کھڑا ہے، فلسفی اس سوال کے جواب میں سر کھپاتے ہیں، پروہت اس سوال کا جواب دینے کا دعویٰ کرتے ہیں، بچے اپنے ماں باپ سے یہ سوال پوچھتے ہیں، ماں باپ اپنے بزرگوں سے یہی سوال پوچھتے آئے ہیں اور بزرگ اپنے بڑوں سے اس سوال کا جواب مانگا کرتے تھے۔۔۔۔مگر آج تک کسی کو اِس سوال کا جواب نہیں ملا۔ سوال بے حد سادہ ہے۔۔۔سچائی کیا ہے؟ اِس ایک سوال میں ہی تمام آفاقی سوالوں کا جواب پوشیدہ ہے، اگر اِس سوال کی گتھی سلجھ جائے تو کائنات کے تمام سربستہ راز خود بخود آشکار ہو جائیں گے۔ ہم کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں، یہ کائنات کب اور کیسے وجود میں آئی، وقت کیا ہے، کائنات کے وجود سے پہلے کیا وقت تھا، کیا ہمارے علاوہ بھی اس کائنات میں کہیں زندگی ہے، موت کیا ہے، تقدیر کیا ہے، جبر کیا ہے، اختیار کیا ہے۔۔۔۔!صدیوں سے اس بنیادی سوال کا تشفی آمیز جواب نہیں مل سکا یا یوں کہئے کہ کوئی ایسا جواب نہیں مل سکا جس پر سب کا اتفاق ہو۔

فلسفیوں نے منطق کے ذریعے سچائی تک پہنچنے کی کوشش کی، قدیم یونان میں سو فسطائی ہوا کرتے تھے جو منطق کی بنیاد پر ایسے ایسے سوال گھڑتے کہ لوگ زچ ہو جایا کرتے تھے، ارسطو نے منطق کی ایک پوری تھیوری کی بنیاد رکھی، زینو بھی ایسا ہی فلسفی تھا جو منطقی استدلال میں اپنا جواب نہیں رکھتا تھا۔ مسئلہ مگر منطق کے ساتھ یہ ہوا کہ وہ عملی زندگی کے تمام مسائل کا احاطہ نہ کرسکی، ڈاکٹر گستاو ولی بون ایک فرانسیسی موجد، ماہر سماجیات اور نفسیات دان تھا، اپنی کتاب The Evolution of Matter میں وہ لکھتا ہے کہ ’’ایسی چیزوں کی تعداد بہت زیادہ ہے جنہیں شروع میں عقل نے ماننے سے انکار کیا مگر بعد میں تسلیم کرنا پڑا۔‘‘ دراصل منطق اور عملی زندگی میں بنیادی فرق یہ ہے کہ منطق جامد استدلال کا نام ہے جبکہ عملی زندگی میں روزانہ ہمیں نت نئے تجربات ہوتے ہیں، ہر انسان اپنی ذات میں انجمن ہے اور ہر انسان کے سوچنے سمجھنے کا انداز جدا ہے، اسی وجہ سے ہمیں زندگی میں حیران کُن تجربات سے دوچار ہونا پڑتا ہے جو بسا اوقات منطق سے بالاتر ہوتے ہیں۔ بعض فلسفیوں کا ماننا ہے کہ سچ وہی ہے جو ہمارے حواس محسوس کر سکیں، جیسا کہ ہم کیا دیکھتے ہیں، کیا سنتے ہیں، کس چیز کا کیا ذائقہ ہے، کیسی خوشبو ہے، کیسا لمس ہے، پس ہمارے حواس ہمیں بتاتے ہیں کہ ہم جس چیز کو دیکھ رہے ہیں وہ ایک میز ہے، ہم جو شے پی رہے ہیں وہ پانی ہے، جس کی مہک محسوس کر رہے ہیں وہ گلاب ہے۔ یوں سچائی ہمارے سامنے ہے۔۔۔مگر افلاطون نے کہا کہ اگر یہ سچائی ہے تو پھر دنیا میں کچھ بھی سچ نہیں کیونکہ ہر شخص کی دیکھنے، سننے، سونگھنے کی حس دوسرے سے مختلف ہے، ہمارے حوا س بتاتے ہیں کہ سورج دیکھنے میں ایک چمکدار سکے کی مانند ہے تو کیا ہم اپنے حواس پر یقین کر لیں؟ پائرو ایک تشکیک پسند فلسفی تھا، 360قبل مسیح میں پیدا ہوا، وہ اِس تمام بحث سے اس قدر تنگ آ گیا کہ اُس نے کہنا شروع کر دیا کہ کچھ بھی یقینی نہیں، حتمی طور پر کوئی بھی بات نہیں کی جا سکتی۔سچائی کا یہ سوال ایمانوئیل کانٹ نے بھی اٹھایا اور اس کا جواب یوں دیا کہ ریاضی حسیات سے مبرّا ہے، آپ کو کوئی بھی رنگ یا خوشبو پسند ہو، چھ ضرب چار ہمیشہ چوبیس ہی ہو گا، ریاضی ہمیشہ سچ ہی بولے گی۔ فلسفی مگر اتنی آسانی سے ماننے والے نہیں تھے۔ جان اسٹورٹ مل نے اس کا جواب دیا کہ تین جمع تین برابر ہے چھ پر ہمیں اس لئے یقین ہے کہ بارہا ذاتی یا نسل در نسل کے سماجی تجربات جو ہم تک منتقل ہوئے ہیں، ان کی روشنی میں تین جمع تین کا جواب ہم نے چھ ہی دیکھا یا محسوس کیا ہے۔ جان لاک نے اس پر لقمہ دیا کہ تمام علم حسیات سے ہی اخذ کیا جاتا ہے، حتّیٰ کہ ریاضی کی الجھی ہوئی مشقیں بھی اُس وقت تک نہیں سلجھ پاتیں جب تک ہمارے حواس کے تجربات اُن پر مہر تصدیق ثبت نہیں کردیتے۔ (نشاط فلسفہ)۔

یہ دنیا بے حد عجیب ہے اور اِس کی ’’سچائی‘‘ اُس سے بھی عجیب۔ یہاں ہر شخص کا اپنا سچ ہے اور اپنا جھوٹ، ہم جس مسلک میں پیدا ہوتے ہیں اس مسلک کو سچ مان لیتے ہیں اور تمام زندگی اُس کی خاطر مرنے مارنے پر آمادہ رہتے ہیں حالانکہ اپنی پیدائش میں ہمارا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا، ہم جس ملک میں پیدا ہوتے ہیں اُس کی خرابیوں سے آنکھیں چرا لیتے ہیں کیونکہ ہمیں بتایا جاتا ہے کہ ایسا کرنا حب الوطنی ہے، ہمیں جس محکمے میں نوکری مل جاتی ہے ہم سچائی کو پرے رکھ کر اُس محکمے کی وکالت شروع کر دیتے ہیں محض اس لئے کہ ہمارا کیریئر اس سے وابستہ ہو جاتا ہے۔ سو ہماری زندگی میں وہی سچ پنپتا ہے جو ہماری خواہشات کے مطابق ہوتا ہے، ہمیں وہی بات درست لگتی ہے جو ہمارے نظریے سے ہم آہنگ ہوتی ہے، کسی دوسرے کا مطمح نظر ہم جاننا ہی نہیں چاہتے۔ اس دنیا میں دوسرے لوگ اربوں کی تعداد میں ہیں، زندگی کے بارے میں اُن کا اپنا مطمح نظر ہے جو ہم سے مختلف ہو سکتا ہے۔ مگر ہم سمجھتے ہیں کہ جو کچھ ہم اپنی آنکھوں سے دیکھتے اور حواس سے محسوس کرتے ہیں بس وہی سچ ہے، ہم یہ نہیں سوچتے کہ دوسرے لوگ اپنی آنکھوں سے جو دیکھتے اور حواس سے جو محسوس کرتے ہیں وہ بھی سچ ہو سکتا ہے۔ ہم سب کی آنکھوں پر مختلف تعصبات کی پٹیاں بندھی ہیں، ذات، رنگ، نسل اور فرقے کا تعصب ،حتّیٰ کہ جس ادارے میں ہم کام کرتے ہیں اس کا تعصب، جب تک ہم آنکھوں سے ان تعصبات کی پٹیاں اتار کر نہیں پھینکیں گے ہم سچائی تک نہیں پہنچ پائیں گے۔ فلسفیوں نے سچائی تک پہنچنے کے جتنے راستے بتائے ہیں ہم نے اُن تمام راستوں کے آگے بڑی بڑی رکاوٹیں رکھ دی ہیں اور خوش فہمی ہمیں یہ ہے کہ ہم سچائی پا چکے ہیں۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *