پی ٹی آئی حکومت کی ’’وکھری راہ‘‘

صبح اُٹھ کر اخبار کے لئے لکھے کالم پوسٹ کرنے کے لئے انٹرنیٹ کھولا تو وزیر اعظم عمران خان صاحب کی جانب سے آئے ایک ٹویٹ پر نظر پڑگئی۔ اس ٹویٹ کے ذریعے انہوں نے یاد دلایا کہ قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد کرنے کے لئے عوام کے دئیے ٹیکسوں سے بے تحاشہ رقوم خرچ کرنا پڑتی ہیں۔اپوزیشن مگر ان اجلاسوں میں حصہ نہیں لیتی۔ وہاں سے واک آئوٹ کرجاتی ہے۔وزیر اعظم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اپوزیشن کے واک آئوٹ کا اصل مقصد حکومت کو دبائو میں لانا ہے تاکہ وہ اس کے سرکردہ رہ نمائوں کے خلاف کرپشن کے تحت چلائے مقدمات کو تج کر اس سے کوئی NROوغیرہ کرلے۔ ایسا مگر ہوگا نہیں۔قوم کے دئیے ٹیکسوں سے چلائی قومی اسمبلی کا ذکر خان صاحب کی زبانی سنا تو ذہن میں بے ساختہ 2014کے وہ 126دن یاد آگئے جب پارلیمان میں بیٹھے افراد کو ’’چور اور لٹیرے‘‘ پکارتے ہوئے آج کے وزیر اعظم اس کی عمارت کے سامنے دھرنا دئیے’’ایمپائر‘‘ کی اُنگلی کھڑے ہونے کا انتظار کررہے تھے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس ان دنوں بھی قومی خزانے ہی سے مہیا شدہ رقوم سے خرچ سے چلائے جاتے تھے۔ حکمران خاندان کے ذاتی وسائل اس ضمن میں صرف نہیں ہوئے تھے۔ خان صاحب نے مگر ان اجلاسوں سے باہر رہنے کی روایت کو ہماری سیاسی تاریخ میں انتہاتک پہنچایا۔محض بحث میں آسانی کی خاطر یہ مان لیتے ہیں کہ 2013کے انتخابات کی بدولت قائم ہونے والی اسمبلی اُن انتخابات میں خان صاحب کے مشہورکئے ’’35پنکچروں‘‘ والی دھاندلی کی پیداوار تھی۔جولائی 2018میں ہوئے انتخابات کی شفافیت پر لیکن خان صاحب اور ان کی تحریک انصاف کا کامل اعتبار ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ ان انتخابات کے ذریعے قائم ہونے والی قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں اس کے قائد ایوان یعنی وزیراعظم عمران خان صاحب نے کتنی بار شرکت فرمائی ہے۔جان کی امان پاتے ہوئے یاد دلانا ہوگا کہ ان دنوں قومی اسمبلی کا ساتواں سیشن چل رہا ہے۔ وزیر اعظم فقط اس کے دوسرے سیشن کی چند نشستوں میں تھوڑی دیر کے لئے اس وقت تشریف لائے تھے جب ان کے وزیر خزانہ نے مفتاح اسماعیل کے بنائے بجٹ کو تبدیل کرکے ایک ’’نیا بجٹ‘‘ لانے کی کوشش کی۔ اس بجٹ کے دفاع میں بھی وزیر اعظم نے اپنی حکومت کی معاشی ترجیحات کی وضاحت کے لئے بھرپور خطاب سے گریز کیا۔ اس کے بعد جو تین سیشن ہوئے ہیں ان کے کسی ایک اجلاس میں بھی ان کی شرکت تقریباََ نہ ہونے کے برابر رہی ہے۔ قومی اسمبلی کے بارے میں اپنائی اس بے اعتنائی کے ہوتے ہوئے وزیر اعظم کا منگل کی صبح لکھا ٹویٹ مجھے اصولی اعتبار سے نامناسب لگا۔پیر کی شام ہوئے اجلاس کی کارروائی دیکھنے کے لئے میں ذاتی طورپر اس کے آغاز سے انجام تک پریس گیلری اور لائونج میں بیٹھا رہا۔ اس اجلاس کی کارروائی میں اپوزیشن نے بھرپور انداز میں حصہ لیا۔ بطور قائد حزب اختلاف شہبازشریف نے مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ وزیر اعظم کے مشیر رزاق دائود کی کمپنی کو دئیے جانے کے بارے میں بہت ہی مدلل انداز میں چند بنیادی سوالات اٹھائے۔ یہ سوالات اٹھاتے ہوئے وہ ’’سکینڈل‘‘ کے متلاشی صحافیوں کو ضرورت سے زیادہ Technicalنکات اٹھاتے نظر آئے۔ محض سیاسی زبان کے استعمال سے گند اچھالنے سے پرہیز کیا۔سابق صدر آصف علی زرداری نے شاذہی اس اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کے بعد اپنے لئے کبھی مائیک مانگا ہے۔ پیر کی شام مگر شہباز شریف کی تقریر کے بعد وہ بھی کھڑے ہوگئے اور ’’نیب کو قابو‘‘ میں لانے کی ترکیبیں بتاتے رہے۔اپوزیشن کے دو اہم ترین رہ نمائوں کی جانب سے اٹھائے سوالات کے جوابات اگر وزیر اعظم کی جانب سے آتے تو یقینارونق لگ جاتی۔ پارلیمان کا وقار بلند ہوا نظر آتا۔وزیر اعظم مگر وہاں موجود ہی نہیں تھے۔ان کی عدم موجودگی میں فیصل واوڈا صاحب نے پانی کے وزیر کی حیثیت میں جوابات فراہم کرنے کی کوشش کی۔ ان کے کھڑے ہونے سے پہلے مگر حکومتی بنچوں میں سے کسی نے قائد حزب اختلاف کی تضحیک کے لئے چند فقرے اپنی نشست پر بیٹھے ہوئے ہی ادا کئے۔ میں اس وقت گیلری میں نہیں بلکہ لائونج میں بیٹھا ہوا تھا۔ فقرہ کسنے والے کا نام نہ جان پایا۔ شہباز شریف مگر یہ کہتے ہوئے ایوان سے باہر نکل گئے کہ وہ ’’گالم گلوچ‘‘ والے ماحول میں بیٹھنا گوارہ نہیں کرسکتے۔ ان کی رخصت کے بعد خواجہ آصف نے مائیک لے کر اپنے رہ نماکی خفگی کی وجہ بیان کرنے کی کوشش کی۔ سپیکر نے انہیں مناسب وقت نہیں دیا۔ اپوزیشن نے اسے بنیاد بناکر اجلاس سے واک آئوٹ کردیا۔

پارلیمانی کارروائی میں ایسے واک آئوٹ دنیا بھر میں معمول کی بات سمجھے جاتے ہیں۔ عمران خان صاحب نے منگل کی صبح ایک ٹویٹ لکھ کر پیر کی شام ہوئے واک آئوٹ کی جو مذمت کی ہے اس کی وجوہات میری دانست میں وہ نہیں جو نظر آتی ہیں۔تحریک انصاف کے فواد چودھری جیسے بلند آہنگ وزراء کئی دنوں سے تواتر کے ساتھ یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ احتساب کے شکنجے میں جکڑی اپوزیشن اپنی جان خلاصی کے لئے کسی NROکی طلب گار ہے۔ حکومت کے لئے یہ NROفراہم کرنا ممکن نہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں ہنگامہ آرائی کے ذریعے مگر اسے کام نہیں کرنے دیا جارہا۔منگل کی صبح وزیر اعظم کی جانب سے لکھا ٹویٹ واضح طورپر حکومتی حلقوں میں ممکنہ NROکے بارے میں روزافزوں پھیلتے شبے اور تحفظات کی نشان دہی کررہا ہے۔وزیر اعظم اور ان کے وزیروں کو جانے کیوں یہ حقیقت سمجھ نہیں آرہی کہ ممکنہ NROکا ذکر کرتے ہوئے وہ درحقیقت ہمیں یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ان کی حکومت سے الگ اور شاید بالاتر چند قوتیں اور ادارے بھی ہیں۔جن سے احتساب کے شکنجے میں جکڑی اپوزیشن کا ’’مک مکا‘‘ ہوسکتا ہے۔ اپنے بیانات کے ذریعے وہ اس ممکنہ ’’مک مکائو‘‘ کی مزاحمت کرتے سنائی دیتے ہیں۔مزاحمت پر یہ اصرار مگر آئینی اعتبار سے اس ملک کے چیف ایگزیکٹو ٹھہرائے وزیر اعظم کی محدودات کی نشاندہی کرتا ہے۔ بات فقط اس نکتے تک محدود نہیں رہتی۔حکومتی حلقوں کی جانب سے NROکا مسلسل تذکرہ نیب کی ’’خودمختاری‘‘ کو بھی متنازعہ بناتا ہے اور مزید غور کریں تو عدالتی عمل کے بارے میں بھی چند خدشات نمودار ہوجاتے ہیں۔عوام کی طاقت سے منتخب ہوئی حکومتیں اپنے بارے میں ’’بے بسی‘‘کا تاثر پھیلانے سے ہر صورت اجتناب برتتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت خدا جانے کیوں ایک ’’وکھری‘‘ راہ اختیار کئے ہوئے ہے۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *