ثاقب نثار: پاکستان کے سب سے متنازع چیف جسٹس؟

پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار شاید ملک کی عدالتی تاریخ کے واحد جج ہوں گے جنھیں ان کے عدالتی فیصلوں سے زیادہ ’غیر عدالتی‘ سرگرمیوں کی وجہ سے یاد رکھا جائے گا۔

مثلاً انھوں نے پاکستان میں پانی کی کمی کے مسئلے کو جس شدت اور تواتر کے ساتھ اجاگر کیا اس کے نتیجے میں وہ ڈیم بنانے کا اپنا ہدف تو ابھی تک پورا نہیں کر پائے لیکن اس دوران انھوں نے پانی کی کمی کے مسئلے کو پاکستانی میڈیا اور سیاست کے مرکز تک پہنچا دیا۔

بطور چیف جسٹس آف پاکستان وہ اپنی تعیناتی کے دوران انصاف کی ممکنہ فراہمی کے ساتھ ساتھ ایسے اقدامات بھی کر جاتے تھے جو کہ قانونی ماہرین کی نظر میں براہ راست حکومتی اور انتظامی امور میں مداخلت کے مترادف تھے۔

صاف پانی، ہسپتالوں کی صفائی، بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے فنڈز کی اپیل، ناجائز تجاوزات کے خلاف کارروائی، اہم سیاسی اور دیگر شخصیات سے سکیورٹی واپس لینے کے احکامات اور آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے کانفرنس کا انعقاد، یہ ایسے کام ہیں جو کہ براہ راست حکومت کے کرنے کے ہیں لیکن ان کاموں کا بوجھ بھی چیف جسٹس نے اپنے کندھوں پر اُٹھایا ہوا تھا۔

ان مسائل کے حل کے لیے زیادہ تر از خود نوٹسز کا سہارا لیا گیا۔ سپریم کورٹ کے پاس از خود نوٹس ایک ایسا ہتھیار ہے جسے کسی بھی وقت کسی کے خلاف بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اس قانون کے استعمال کے بارے میں وکلا کی رائے بھی منقسم ہے۔

جہاں انہوں نے بہت اہم مقدمات میں از خود سماعت کا اختیار استعمال کرتے ہوئے ان پر فیصلے کیے وہیں ان کے دور میں سپریم کورٹ میں زیر التوا مقدمات کی تعداد کم ہونے کی بجائے اس میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جب جسٹس ثاقب نثار نے یہ عہدہ سنبھالا تو سپریم کورٹ میں زیرِ التوا مقدمات کی تعداد 32 ہزار تھی اور آج جب وہ جا رہے ہیں تو یہ تعداد 40 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔

جسٹس ثاقب نثار ہفتہ وار تعطیل کے دن بھی سپریم کورٹ کی لاہور رجسٹری برانچ میں مقدمات کی سماعت کرتے تھے لیکن ان میں زیادہ تر مقدمات مفاد عامہ کے ہوتے تھے۔ تاہم انھوں نے خود بھی اس بات کا اعتراف کیا کہ لوگوں کو اس طرح انصاف نہیں مل رہا جس طرح ماضی میں ملا کرتا تھا۔

عدالت عظمیٰ کی طرف سے ازخود نوٹس کا معاملہ ان کی عدالت میں بھی زیر التوا رہا ہے جس کو اپنے منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا۔

سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بعد اگر کسی چیف جسٹس نے از خود نوٹس کا سب سے زیادہ استعمال کرتے ہوئے انتظامی معاملات میں مداخلت کی ہے تو وہ خود جسٹس ثاقب نثار ہیں۔ اُنھوں نے بطور چیف جسٹس 43 معاملات پر از خود نوٹس لیے جن میں سے زیادہ تر کو نمٹا دیا گیا ہے۔

یہ افتخار محمد چوہدری ہی تھے جو اس وقت پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کی مخالفت کے باوجود میاں ثاقب نثار کو لاہور ہائیکورٹ سے سپریم کورٹ میں لے کر آئے تھے جبکہ اس وقت کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف سنیارٹی کے اعتبار سے پہلے نمبر پر تھے۔

چیف جسٹس ثاقب نثار کی طرف سے کیے گئے عدالتی فیصلوں پر وکلا تو تنقید کرتے ہی رہے ہیں لیکن جس طریقے سے وہ عدالتی کارروائی چلاتے تھے اس پر وکلا کے ساتھ ساتھ ان کے ساتھی جج صاحبان بھی اُن سے اختلاف کیا کرتے تھے۔

سپریم کورٹ

ان ججوں میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اور جسٹس منصور علی شاہ پیش پیش ہیں۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول کے واقعے سے متعلق از خود نوٹس کے معاملے پر قاضی فائز عیسیٰ نے برملا اختلاف کیا جبکہ جسٹس منصور علی شاہ نے کچھ عرصے کے بعد اپنی غلطی کا اعتراف کیا اور کہا کہ اُنھیں اس بینچ کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا اور چیف جسٹس یعنی میاں ثاقب نثار کا عمل غیر قانونی تھا۔

ان اختلافات کی بنا پر جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بہت کم اس بینچ کا حصہ بنتے ہوئے دیکھا گیا جس کی سربراہی چیف جسٹس کرتے تھے۔

اعلیٰ عدلیہ کے علاوہ ماتحت عدلیہ کے ججوں سے بھی ان کا سلوک خبروں اور تبصروں کی زینت بنتا رہا۔ دورۂ سندھ کے دوران اُنھوں نے لاڑکانہ کی ایک بھری عدالت میں ایڈیشنل سیشن جج گل ضمیر سولنگی کے ساتھ جو رویہ اپنایا وہ کئی دن تک ٹی وی چینلز اور ٹاک شوز پر زیرِ بحث رہا اور پھر اس کے نتیجے میں مذکورہ جج کا استعفیٰ بھی سامنے آیا۔

جعلی اکاونٹس سے اربوں روپے بیرون ممالک منتقل کرنے کے مقدمے میں جسٹس ثاقب نثار بحریہ ٹاؤن کے مالک کو یہ پیشکش کرتے رہے کہ وہ بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے ایک ہزار ارب روپے دے دیں تو اُن کے تمام مقدمات نمٹا دیے جائیں گے جبکہ اس کے برعکس ان کے دور میں سپریم کورٹ نیب کی طرف سے پلی بارگین کے طریقۂ کار کے خلاف بھی رہی اور عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ یہ قانون بدعنوانی کو فروغ دینے کے مترادف ہے۔

جسٹس ثاقب نثار کے بارے میں صحافتی حلقوں میں یہ تاثر عام تھا کہ اُنھیں بھی سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی طرح میڈیا میں رہنے کا بہت شوق تھا۔ میاں ثاقب نثار نے پہلے پانچ ماہ خاموشی میں گزارے اور اس عرصے کے دوران صحافیوں کی زیادہ تعداد نے بھی سپریم کورٹ باقاعدگی کے ساتھ جانا چھوڑ دیا لیکن اس کے بعد صحافی عدالتی وقت شروع ہونے پر ایسے سپریم کورٹ میں پہنچتے تھے جیسے وہ سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دور میں جاتے تھے۔

یہی نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے شعبۂ تعلقات عامہ کی طرف سے میڈیا کے نمائندوں کو ایسے ٹکرز بھیجے جاتے ہیں جیسے کوئی سیاسی جماعت یا تنظیم ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے رابطے میں رہتی ہے۔

بعض اوقات ایسے بھی ہوتا تھا کہ میاں ثاقب نثار نے اگر کسی جگہ کا دورہ کرنا ہوتا تو میڈیا کو ٹکرز کے ذریعے پہلے سے ہی مطلع کر دیا جاتا اور پھر ٹی وی چینلز پر یہ خبریں چلائی جاتیں کہ'چیف جسٹس کا اچانک چھاپہ'۔

بات یہیں پر ہی ختم نہیں ہوتی بلکہ میاں ثاقب نثار کے ترکی کے دورے کے دوران نماز پڑھتے ہوئے ان کی تصویر جو کہ سپریم کورٹ کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کی گئی تھی، کو بھی نجی ٹی وی چینلز اور اخبارات کی زینت بنایا گیا۔ سپریم کورٹ کے وکلا کا موقف یہ ہے کہ اس تصویر کو جاری کرنے کا مقصد شاید یہ بھی ہوسکتا ہے کہ توہین مذہب کے مقدمے میں ایک مسیحی خاتون آسیہ بی بی کی رہائی کے فیصلے کے بعد ایک مذہبی جماعت کی طرف سے میاں ثاقب نثار کے مسلمان ہونے پر سوال اٹھائے گئے تھے۔

آسیہ بی بی کو رہا کرنے کا فیصلہ بھی چیف جسٹس ثاقب نثار نے ہی تحریر کیا تھا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ آسیہ بی بی کو توہین مذہب کے مقدمے میں رہائی کے بعد جس طرح ایک مذہبی جماعت کی طرف سے شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ آسیہ بی بی کی رہائی کے خلاف نظرثانی کی اپیل ثاقب نثار کی ریٹائرمنٹ تک نہیں لگائی گئی۔

ڈیم

کہا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ کی انتظامیہ میاں ثاقب نثار کی پروٹوکول کی ڈیوٹی ادا کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے بیٹے کو بھی پروٹوکول ڈیوٹی دینے پر مجبور تھی۔ سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز کے خلاف جتنے بھی فیصلے آئے وہ سب چیف جسٹس کے صاحبزادے نے اس گیلری میں بیٹھ کر سنے جو کسی بھی جج کی ریٹائرمنٹ کے بعد فل کورٹ ریفرنس کے لیے ان کے خاندان کے افراد کے لیے مختص کی جاتی ہے۔

آباد ی پر کنٹرول کے معاملے پر سابق چیف جسٹس نے جو کانفرنس بلائی تھی اس میں وزیر اعظم عمران خان جب اس کانفرنس میں شرکت کے لیے سپریم کورٹ میں آئے تو وزیر اعظم کے ساتھ چیف جسٹس کی ملاقات میں میاں ثاقب نثار کے بیٹے کی موجودگی پر قانونی، سیاسی اور صحافتی حلقوں میں خاصی لے دے ہوئی۔

میاں ثاقب نثار کی لاہور ہائی کورٹ میں بطور جج تعیناتی اس وقت کے وزیر اعظم میاں نواز شریف کی سفارش پر ہی ہوئی تھی۔

میاں ثاقب نثار کی طرف سے نواز شریف کو پاکستان مسلم لیگ نواز کی صدارت سے ہٹائے جانے کے فیصلے کے بعد جب صحافیوں نے احتساب عدالت میں میاں نواز شریف سے ثاقب نثار کے اس فیصلے کے بارے میں پوچھا تو اُنھوں نے جواب میں صرف حضرت علی کا قول دہرایا تھا کہ'جس پر احسان کرو اس کے شر سے بچو'۔

اسلام آباد

اسلام آباد کے رہائشیوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ گذشتہ14 سال سے بند شاہراہ سہروردی کا ایک حصہ، جہاں پر فوج کے خفیہ ادارے کا ہیڈ آفس ہے کو دوبارہ کھولا جائے

مبصرین کے مطابق میاں ثاقب نثار کے دل میں بھی پاک فوج کے لیے اتنا ہی مقام ہے جتنا عام پاکستانیوں کے دلوں میں ہے اس لیے وہ بھی فوج کے خلاف کوئی بات سننے کو تیار نہیں تھے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کو عدالتی معاملات میں مبینہ مداخلت کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا تو بحیثیت چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل جسٹس ثاقب نثار نے اس کا فوری نوٹس لیا اور ججز کے خلاف پاکستان کی عدالتی تاریخ کی مختصر ترین کارروائی کے بعد جسٹس شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے برخاست کرنے کی سفارش کر دی۔

جسٹس ثاقب نثار نے اعلیٰ عدلیہ کے چند دیگر ججز کی طرح سابق ملٹری ڈکٹیٹر پرویز مشرف کے پی سی او یعنی عبوری آئینی حکم کے تحت حلف اُٹھایا تھا۔

اگر میاں ثاقب نثار فوجی جنرل کے پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھاتے تو شاید وہ پاکستان کے چیف جسٹس کے عہدے پر بھی نہ پہنچ پاتے۔

میاں ثاقب نثار نے بطور چیف جسٹس آف پاکستان عدالتی فیصلوں پر من وعن عمل درآمد کروایا لیکن چند کام ایسے بھی ہیں جن پر وہ چاہتے ہوئے بھی عمل درآمد نہ کروا سکے۔

اسلام آباد کے رہائشیوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ گذشتہ14 سال سے بند شاہراہ سہروردی کا ایک حصہ، جہاں پر فوج کے خفیہ ادارے کا ہیڈ آفس ہے دوبارہ عوام کے لیے کھولا جائے لیکن عدالتی احکامات کے باوجود کیا لوگوں کی خواہش کا احترام کیا گیا ہے، یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب سب جانتے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اُردو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *