ثاقب نثار کا متنازعہ رول

''ہر نئے چیف جسٹس کو اس امید کے ساتھ خوش آمدید کہا جاتا ہے کہ وہ ملک کو درپیش سب سے ارجنٹ مسئلہ جو کہ ایک بکھرے ہوئے  عدالتی نظام کی تصحیح سے تعلق رکھتا ہے  کو نمٹائے گا۔

یہ میں نے تب لکھاتھا جب جسٹس ثاقب نثار کے 2016 میں چیف جسٹس کی تقرری کا نوٹیفیکیشن جاری ہوا تھا۔ ان سے پہلے سپریم کورٹ غیر تسلی بخش تھی اور عدالتی نظام ویسا ہی تھا جیسا اب ہے۔ نئے چیف جسٹس آف پاکستان کے لیے چیلنجز بڑھ چکے ہیں۔ اگلے ہفتے جسٹس آصف سعید کھوسہ چیف جسٹس آف پاکستان کا حلف اٹھانے والے ہیں۔ مرکزی سوال وہی ہے کہ آیا کہ وہ اپنے دفتری اختیارات کو انصاف کے نظام کو ٹھیک کرنے کے لیے استعمال کریں گے یا نہیں۔

ہمیں ایک مضبوط سپریم کورٹ کی ضرورت ہے۔ لیکن جب چیف جسٹس کھوسہ  جا رہے ہوں گے تو پاکستان کا  سپریم کورٹ  کس طرح کی طاقت اور مضبوطی کا حامل ہو گا؟ کیا یہ  طاقت صرف شخصی  سطح کی ہو گی  یا پھر یہ ادارے کی طاقت ہو گی جو کسی بھی نظام عدل کے ادارے کے لیے ناگزیر ہوتی ہے؟  جس میں  انصاف کے تقاضے پورے کیے جاتے ہیں جس سے عوام کا قانون میں اعتماد بحال ہوتا ہے  اور جس میں ادارے کو غیر جانبدار تصور کیا جاتا ہے  اور اس پر کسی قسم کی پارٹی بازی کے الزامات نہیں لگائے جا سکے  اور یہ اپنے اختیارات کے اندر محدود ہو کر کام کرتا ہے؟

چیف جسٹس پاکستان کھوسہ کو سپریم کورٹ کی اخلاقیات کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہو گی  تا کہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ آیا ججز کوڈ آف کنڈکٹ کی حدود پر عمل کر رہے ہیں یا نہیں۔ اس ضابطے کا آرٹیکل 2 کہتا ہے کہ ''انصاف مہیا کرتے ہوئے (ایک جج کو) درشت ہوئے بغیر مضبوط ہونا چاہیے، اور کمزور ہوئے بغیر نرم مزاج ہونا چاہیے۔'' سپریم کورٹ کو ایک ایسی جگہ نہیں ہونا چاہیے جہاں شہری قدم رکھنے سے گھبرائیں، عدالت میں کیے گئے تبصروں کی وجہ سے اپنی عظمت کھو دینے کے بارے میں پریشان ہوں  یا جہاں کاروائی کی جا رہی ہو وہاں صفائی پیش کرنے کا موقع نہ دیا جا رہا ہو۔ خیبر پختونخواہ، سندھ اور بلوچستان میں انصاف سے متعلق کوئی مایوسی نہیں ہے۔ پنجاب کا معاملہ مختلف ہے۔ اپیکس کورٹ کو اس جیسا نہیں ہونا چاہیے۔

ضابطے کا آرٹیکل  5 کہتا ہے کہ '' بلکل ایسا طریقہ اپنانا جو ایک جج عوام کے سامنے اپناتا ہے  یہی  جج کی اچھی شہرت کے لیے کافی ہے  اس سے زیادہ شہرت کے حصول کی کوشش نہین کرنی چاہیے۔ ۔ خاص طور پر کسی جج کو  کسی اسے تنازعہ کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو سیاسی نوعیت کا ہو  اور ااس کا قانون سے تعلق بھی نہ ہو۔ '' اس وقت ہمارے پاس ایسا نظام ہے جہاں عدالتی اور میڈیا ٹرائل ایک ساتھ چلتا ہے۔ یہ عجیب کلچر جس میں  سپریم کورٹ کی کاروائیوں ٹکر چلائے جاتے ہیں  اور ججز کے ریمارکس کو بریکنگ نیوز بنا کر پیش کیا جاتا ہے  اس کلچر کو فوری ختم ہونا چاہیے ۔

ہم ایک نئے معمول  کو اختیار کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ آج چیف جسٹس پاکستان کے الفاظ اور حرکات کو باقی تمام معاملات پر میڈیا میں فوقیت دی جاتی ہے۔ اپیکس کورٹ اپنے آپ کو خاص طور پر سو موٹو کیسز کے معاملے میں ایسے پیش کرتی ہے کہ  عدالتی کاروائی اور میڈیا رپورٹنگ  کے بھی اپنے اثرات ہوتے ہیں۔عدالت پر تنقید کرنے والوں کے خلاف توہین عدالت کا کیس بے دھڑک  استعمال کیا جاتا ہے ۔  چیف جسٹس کھوسہ اور سپریم کورٹ کو اس چیز کو جانچنے کی ضرورت ہو گی کہ آیا کہ اس ماڈل کی مزید ضرورت ہے یا نہیں۔

ضابطے کا آرٹیکل IXکہتا ہے کہ ''کسی جج کی رائے سے عدم اتفاق،چاہے وہ سینئر ہو یا جونیئر، اس طریقے سے ظاہر کیا جائے گا کہ اس میں کسی قسم کی تلخی یا بے ادبی نہ ہو اور احترام کا خیال رکھا جائے۔ ۔'' پچھلے کچھ عرصہ میں نہ صرف وکیلوں کو بلکہ  ججز کو بھی سر عام جہاڑ پلانے کا رواج رہا ہے۔  ایک موقع پر  ایک جج کو میڈیا کے سامنے ذلیل کیا گیا۔  ہم ہائی کورٹ میں زیر سماعت کیسز کو سو موٹو کے ذریعے نمٹانے کے واقعات کے لیے آرٹیکل 184(3) کا استعمال  بھی دیکھ چکے ہیں جس سے ہائی کورٹس کی اہمیت کو سخت دھچکا پہنچتا ہے۔

بطور جج ایک سادہ شخصیت ہونا جس کا متضاد طاقت کے نشہ میں ڈوبا ہونا ہے،  ایک اہم کہاوت ہے۔ لفظی طور پر اس سے  مراد یہ ہے کہ ججز کو اس دور میں خاموش طبیعت، متحمل مزاج اور عقلمند  سمجھا جاتا تھا اور ان کا موازنہ صرف شریفوں اور شہزادوں سے کیا جاتا تھا ، ایسے شہزادے جو طاقت ہونے کے باوجود بہت ہی سادہ طبیعت کے مالک ہوں ۔  شاعر چارلس بااڈلیر نے ہر کسی کو مشورہ دیا کہ وہ وہ وقت نشہ کی حالت میں رہے۔ جب پوچھا گیا کہ کس چیز کے نشہ  میں تو جواب دیا  کہ شاعری، نیک کام یا خواہشات کے نشہ میں گم رہناا چاہیے۔ لیکن اس شاعر نے بھی ججز کو  استثنی سے نوازا ۔ اگر کوئی جج نیک ہونے کے نشہ میں مبتلا ہے تو بھی  وہ اپنے آپ کو اتنا  درست سمجھ لیتا ہے کہ  وہ شرافت کا راستہ نہیں اپنا سکتا۔

 عدالتی کاروائیوں میں اکثر گرما گرمی  اس وقت سے دکھائی دینے لگی جب چیف جسٹس افتخار چوہدری نے آرٹیکل 184 (3)  کے ذریعے جوڈیشل ایکٹوازم کا راستہ اپنایا۔ در اصل یہ اآرٹیکل ایک ادارے کا اختیار ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ چیف جسٹس حضرات اسے ذاتی اختیار سمجھ کر استعمال کرتے آئے ہیں۔ یہ اختیار مکمل طور پر واضح بھی نہین ہے۔  اس کو استعمال کرنے کے بارے میں اور اس کی حدود کا کوئی معیار مقرر نہیں کیا گیا۔ موجودہ چیف جسٹس پاکستان کے نیچے آرٹیکل 184 (3) کی حدود پہلے سے بھی کہیں زیادہ آگے نکل چکی ہیں۔

نئے عدالتی سال کی اپنی افتتاحی تقریر میں چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے عوامی طور پر اعلان کیا تھا کہ  سپریم کورٹ جلد ہی آرٹیکل 184 (3) کے استعمال کے لیے ایک  مخصوص معیار طے کرے گی۔ اس پر زیادہ انحصار کیے جانے کے باوجود اس کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے لیے کوئی بینچ نہیں بنایا گیا۔ اس میں موجود مسائل صاف ظاہر ہیں۔جو چیف جسٹس بھی آرٹیکل 184 (3) کی حدود کا تعین کرے گا وہ در اصل اس طاقت اور اختیار سے محروم ہو جائے گا جس کا وہ اپنے عہدے کی وجہ سے مالک بنا بیٹھا ہے۔ لیکن یہ بھی لازم ہے کہ سپریم کورٹ کی کاروائیوں میں سنجیدگی لائی جائے اور عوام کے اندر قانون پر اعتماد بحال کرنے کی سعی کی جائے۔

نئے چیف جسٹس پاکستان کے لیے تین ماڈلز موجود ہیں:  معمول کا طریقہ کار، کیتھارٹک سیوئیر ماڈل اور عدالتی اصلاحات ۔ پہلی صورت میں کسی شخص  کو معاملات میں کوئی برائی دکھائی نہیں دیتی ، زیادہ کی تلاش کرنے کی بجائے  اپنے دن ہنسی خوشی گزارتا ہے اور اپنا وقت پورا کرتا ہے ۔ دوسری  صورت میں کرسی پر موجود شخص اپنا ترکہ بنانے کی خواہش کرتا ہے، قوم کو بچانا چاہتا ہے اور اچھے کام کرتا ہے لیکن قانون و ضوابط کی حدود  کا خیال نہیں رکھتا  اور اپنے مشن میں رکاوٹ بننے والی ہر شے کو روندتا چلا جاتا ہے ۔

کیتھارٹک سیوائر ماڈل کو نظریہ  ضرورت کے  نام  سے یا  ویکیوم تھیوری کی بنیاد پر استعمال کیا جاتا ہے ۔ یہ  استدلال دیا جاتا ہے کہ فطرت خلا کو نا پسند کرتی ہے اور اگر ایگزیکٹو اور مقننہ ٹھیک کام نہیں کرتے تو عدلیہ کو ضروری اقدام کرنے چاہییں۔ یہ سمجھا جاتا ہے کہ  اگر سپریم کورٹ اپنے ممبر کو اہم معاملات پر  قابو پانے اور انتظامیہ کے کاموں میں مداخلت کرتی ہے اور ایگزیکٹو کو اس کے بارے میں کچھ کرنے پر اکساتی ہے، تو  در اصل وہ انتظامیہ کی مدد کر رہی ہوتی ہے ۔  اس  بحث  کے پچھے یہ سوچ کار فرما ہے کہ ہمارے ڈی این اے یا وجود میں   ایک نایاب خاصیت ہے  جو اس طرح کی  غیر ضروری مداخلت کو بھی فائدہ مند سمجھنے پر مجبور کرتی ہے

اس گفتگو میں جو چیز نظر انداز ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کسی دوسری برانچ کے کردار کو ہتھیا لینے سے اداروں میں عدم توازن کا ماحول پیدا ہوتا ہے  اور عدلیہ کی طرف سے پیش کیے گئے عارضی حل سے طویل المدتی حل اور انتظامیہ کی کام کرنے کی صلاحیت بری طرح متاثر ہوتی ہے ۔  اس سے معلوم ہوتا ہے کہ عدلیہ نا اہل ہے  اور قانونی اور عملی طور پر  بھی اس قدر قابلیت نہیں رکھتی کہ  انتظامیہ کے کاموں میں مداخلت کرے اور کسی بھی طرح پالیسی سازی کے عمل پر اثر انداز ہو سکے۔ یہ  صرف اتنا اختیار رکھتی ہے کہ اس بات کو یقینی بنائے کہ  انتظامیہ قانون کا غلط استعمال نہ کرے ۔

جب سپریم کورٹ ہر ایک اور ہر کسی کو ٹھیک کرنے  کے کام میں لگ جائے ، تو اس سے جو چیز زیادہ متاثر ہوتی ہے وہ اس کی ذاتی احتساب اور ذاتی اصلاحات کی اہلیت ہے۔ اس اعتبار سے کیتھارٹک سیوئر ماڈل جوڈیشل ریفارم ماڈل  کا بر عکس ہے ۔ حاکم کی ناکامی کا سامنے لانا اور نتائج سے بے پرواہ ہو کر حاکم کے اختیارات میں براہ راست ٹانگ اڑانا کیتھارٹک سیوائر ماڈل  کی واحد پر کشش خاصیت ہے ۔ لیکن یہ جسٹس سیکٹر ریفارم سے توجہ ہٹاتا ہے  جو کہ عدلیہ کا اصل اختیار کا حصہ  ہے۔

کیا یہ مضحکہ خیز نہیں ہے کہ جو  لوگ سپریم کورٹ کی ایکٹواز، سو موٹو ایکشن اور  انتظامی معاملات میں مداخلت کا دفاع کرتے ہیں وہی  فوجی عدالتوں کے قیام  کی حمایت کرتے ہوئے اس کی وجہ  عدلیہ کی ناکامی کو گردانتے ہیں۔ جب چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار نے دو سال قبل سیٹ سنبھالی تو عوام کو بہت امیدیں تھیں۔  ان کا کیا ہوا؟ اس کا تجزیہ ہم  اگلے ہفتے کریں گے جب وہ اپنے کپڑے لٹکا چکے ہوں گے۔ کیا جسٹس کھوسہ اسی راہ کو اپنائیں گے جو ان کے پیش روؤں نے اختیار کیا تھا یا کیتھارٹک سیوائر ماڈل سے جان چھڑائیں گے؟ نئے سال میں دعا ہے کہ خدا کرے چیف جسٹس پاکستان کھوسہ جوڈیشل ریفارمز کے  چیلنج کو قبول کر کے ایک نئی مثال قائم کریں۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *