پاکستانی والدین کے مغالطے

ہمارے ایک جاننے والے ہیں، ان کی ایک بیٹی ہے، بے حد قابل، شروع سے ہر جماعت میں اول آنے والی، میٹرک کیا تو اعلیٰ نمبروں سے پاس ہوئی، ایف ایس سی میں اپنے کالج میں پوزیشن لی، آج کل بی ایس سی کررہی ہے، خوب دل لگا کر پڑھتی ہے۔ چھٹیوں میں اس بچی نے کراچی جانے کا پروگرام بنایا تو اس کے والد، جو ناقابل قبول حد تک شریف آدمی ہیں، نے مجھے کہا کہ میں ’’کسی سے کہہ کہلوا کر‘‘ ان کی بچی کی ٹکٹ بک کروا دوں، میں نے جواب دیا کہ اس کام کے لئے کسی سفارش کی ضرورت نہیں، آپ بیٹی کو کہیں کہ وہ ائیر لائن کی ویب سائٹ پر جائے اور وہاں سے خود ٹکٹ بک کروا لے، یہ پانچ منٹ کا کام ہے۔ وہ شریف آدمی میرا یہ جواب سن کر خاموش ہوگیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس نے کسی ٹریول ایجنٹ سے زائد دام پر ٹکٹ خریدی اور بیٹی کے ہاتھ میں رکھی تاکہ اسے کوئی پریشانی نہ ہو، یہ بھی پتہ چلا کہ اس پڑھی لکھی بچی کو ویب سائٹ کے ذریعے ٹکٹ خریدنے کے طریقے کا علم نہیں تھا اور وہ اس قسم کی باتوں میں بالکل کوری تھی۔

ہم پاکستانی والدین اپنے بچوں سے بےحد پیار کرتے ہیں، بلکہ اندھا دھند عشق کرتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہ بہترین زندگی گزاریں، ان پر کبھی کوئی آنچ نہ آئے، انہیں کڑی دھوپ میں چلنا نہ پڑے اور اس بےرحم معاشرے کے سفاک اور گھٹیا لوگوں سے ہمارے بچوں کا واسطہ ہی نہ پڑے۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے بہترین اسکولوں میں تعلیم حاصل کریں، سو ہم اپنا پیٹ کاٹ کر مہنگے اسکولوں کی فیسیں بھرتے ہیں اور اس کے عوض اپنے بچوں سے اے پلس گریڈ کی توقع کرتے ہیں، گویا بچوں سے ہمارے عشق کی شدت کا تعین مہنگے اسکولوں کی فیسوں سے ہوتا ہے جو ہم بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، ہم سمجھتے ہیں کہ اپنی آمدن کا جتنا حصہ ہم بچوں پر خرچ کرتے ہیں اتنا ہی ہم ان سے پیار کرتے ہیں، جتنا ہم اپنے بچے کو دنیا سے محفوظ رکھتے ہیں اتنا ہی ہم اس سے عشق کرتے ہیں اور جس قدر چاہت سے ہم بچے کی خواہشات پوری کرتے ہیں وہی چاہت ہماری دیوانگی کا ثبوت ہے۔ یہ سب ہمارے مغالطے ہیں، حقیقت اس سے مختلف ہے۔

بچوں پر ایک ظلم تو ہم یہ کرتے ہیں کہ انہیں اپنی مرضی کی زندگی ہی نہیں جینے دیتے، حتّیٰ کہ ان کی شادی کے بعد بھی! یہ روایت اپنے ہاں ہی ہے کہ نوبیاہتا جوڑے کے ساتھ ہنی مون پر والدین مع دیگر رشتہ دار بھی چل پڑتے ہیں۔ پچھلے دنوں ایک صاحب نے نہایت فخریہ انداز میں مجھے بتایا کہ ان کے بیٹے کو یہ اجازت نہیں کہ وہ شام نو بجے کے بعد بغیر بیوی کے اکیلا گھر سے باہر جائے، واضح رہے کہ شام سات بجے تک وہ والد کے ہمراہ دفتر میں ہوتا ہے اور سات سے نو بجے تک ورزش کے لئے جم میں۔ جس معاشرے میں شادی شدہ اولاد کے ساتھ اس رویےّ کو محبت کی معراج تصور کیا جاتا ہو وہاں جوان ہوتی ہوئی اولاد کو کتنا بچا کر رکھا جاتا ہوگا۔ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔ بچوں کے ساتھ دوسرا ظلم ہم یہ کرتے ہیں کہ ان کی’’مہا حفاظت‘‘ کرتے ہیں۔ یہ بیماری اپر مڈل کلاس میں زیادہ ہے۔ بچی اٹھارہ سال کی ہوگئی ہے، اس کا ڈرائیونگ لائسنس بننا ہے، اس کے لیے فلاں بندے کو فون کرو تاکہ وہ بغیر جھنجھٹ کے لائسنس بنوا لے۔ لڑکے کا بینک میں کھاتہ کھلوانہ ہے تو بینک منیجر کو فون کرو کہ ہم آرہے ہیں، تمام فارم پر کرکے رکھے، بچہ بس آنکھیں بند کرکے دستخط کرے گا۔ بچوں کے داخلہ فارم تک ہم خودپر کرتے ہیں، انہوں نے لاہور سے اسلام آباد جانا ہو تو بس کی ٹکٹ ان کے ہاتھ پر رکھتے ہیں، کسی سرکاری دفتر میں ان کا جانا ضروری ہے تو پہلے کوئی سفارش ڈھونڈتے ہیں تاکہ ہمارا بچہ ایک سے دوسرے دفتر میں چکر ہی نہ کاٹتا رہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بچے بس دل لگا کر پڑھیں اوراعلیٰ ٰنمبر لیں۔ آن لائن ٹکٹ کیسے خریدنی ہے، شناختی کارڈ کیسے بنوانا ہے، بینک میں کھاتہ کیسے کھلوانا ہے، بیمہ کیسے کروانا ہے، پاسپورٹ کیسے بنوانا ہے۔ یہ باتیں سیکھنا ضروری نہیں، امتحان میں نمبر لینے زیادہ ضروری ہیں۔ بچوں کی اس مہا حفاظت کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جب وہ اپنی تعلیم مکمل کرکے کالج سے نکلتے ہیں تو انہیں عملی دنیا کا کچھ پتہ نہیں ہوتا، یکدم جب انہیں نصابی تعلیم سے باہر نکل کر اس بےرحم دنیا کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اس کے لیے تیار نہیں ہوتے کیونکہ ہم نے انہیں سوائے پڑھائی کے کوئی کام سکھایا ہی نہیں ہوتا اور یہ تیسرا ظلم ہے جو ہم اپنی اولاد کے ساتھ کرتے ہیں۔

میں نصابی پڑھائی کے خلاف نہیں، اسکول کی پڑھائی بنیاد بنانے کے لیے ازحد ضروری ہے، جو باتیں ایک دفعہ اسکولوں میں بتادی جاتی ہیں وہ زندگی میں دوبارہ کوئی نہیں بتاتا، مگر اسکول کی پڑھائی کے ساتھ یہ بھی اتنا ہی ضروری ہے کہ آپ کا بچہ لائف اسکلز(زندگی گزارنے کی مہارت ) سیکھے، جونہی آپ کا بیٹا یا بیٹی اٹھارہ سال کا ہو اسے کہیں کہ نادرا کے دفتر جائے، ٹوکن لے اور قطار میں کھڑا ہو کر اپنا شناختی کارڈ بنوائے، نادرا والے ا س سے کچھ کاغذات مکمل کروائیں گے وہ کاغذات اکٹھے کرے گا/گی، اس کے دو ہفتوں بعد شناختی کارڈ ملے گا، اسی طرح ایک عام آدمی کی طرح وہ اپنا ڈرائیونگ لائسنس بنوائے، بینک میں کھاتہ کھلوائے، تمام فارم خود پر کرے، اپنا اے ٹی ایم کارڈ بنوائے، پاسپورٹ بنوائے، جس دن آپ کا لڑکا/ لڑکی یہ تمام کام خود کر لے اس دن آپ دھوم دھام سے اس کی اٹھارہویں سالگرہ منائیں، اس دوران وہ اتنا کچھ سیکھ چکا ہوگا جو بارہ برس کی اسکولنگ میں نہیں سیکھ پایا ہوگا۔ ایک کام اور کریں، جتنے پیسے آپ اس کی تین ماہ کی اسکول فیس کے بھرتے ہیں، اتنی رقم اس کے بینک میں جمع کروا دیں اور اسے کہیں کہ وہ ان پیسوں سے اپنی مرضی کا کوئی بھی’’کاروبار‘‘ کرکے منافع کمانے کی کوشش کرے، یہ کام کچھ بھی ہوسکتا ہے، مثلاً کپڑے ڈیزائن کرکے کسی بوتیک پر رکھوا دے، کسی اسٹاک بروکر کے پاس کھاتہ کھول کر حصص کی خرید و فروخت کرلے یا کہیں سے کوئی شے سستے داموں خرید کر بازار میں بیچ دے۔ آپ اسے کہیں کہ اس بات کی پروا نہیں کرنی کہ پیسے ضائع ہوجائیں گے یا گھاٹا پڑ جائے گا کیونکہ ان پیسوں سے اس نے گھر کا خرچہ نہیں چلانا، یہ پیسے اس سوچ کے ساتھ خرچ کریں کہ جیسے میں بچے کے اسکول کی فیس بھرتا ہوں اسی طرح یہ اپنے بچے کو زندگی کی مہارت سکھانے کی فیس ہے جو میں نے لازماً بھرنی ہے۔ جب آپ کا بچہ پاسپورٹ بنوانے جائے گا تو ممکن ہے کوئی ایجنٹ اسے ٹھگ لے، جب وہ بینک میں جائے گا تو ایک کاؤنٹر سے دوسرے کاؤنٹر پر خوار ہوگا، ڈرائیونگ لائسنس بنوانے کےلئے طویل قطار میں کھڑا ہونا پڑے گا، پیسے کمانا چاہے گا تو اسے سمجھ ہی نہیں آئے گی کہ کیا کرنا ہے، پھر اسے پیسے کی قدر محسوس ہوگی، ان سب مراحل سے گزرنے کے بعد چھ ماہ میں آپ کا بچہ کندن بن جائے گا، دنیا کے وہ اصول سیکھ جائے گا جو کسی اسکول کالج میں نہیں پڑھائے جاتے، اگر آپ اسے یہ اصول سکھانے میں کامیاب ہوگئے تو سمجھئے کہ آپ نے اولاد سے محبت کا حق ادا کر دیا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *