سانحۂ ساہیوال پر گفتگو ، محض ملامت و ماتم

اندھی نفرت وعقیدت پر مبنی تقسیم سے تھوڑی دیر کے لئے بالاتر ہوکر سوچیں تو یہ دریافت کرنا ممکن ہے کہ اصل سوال یہ نہیں کہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف ہیں یا عثمان بزدار۔ ساہی وال کے قریب ہفتے کے روز ہوئے اندوہناک واقعہ پر غور کرتے ہوئے سوال یہ اٹھانے کی ضرورت ہے کہ ہمارے ہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے کس مقام پر یہ طے کرتے ہیں کہ مختلف ذرائع سے جمع ہوئی اطلاعات کی بنیاد پر مستند ٹھہرائے ’’دہشت گرد‘‘ کو ہر صورت مارنا ضروری ہے۔

اس مقام تک پہنچنے کے پراسس کو خوب جاننے کے بعد یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ میرے اور آپ کے ووٹوں سے منتخب ہوئے وزیر اعلیٰ یا اس کی جانب سے نامزد کردہ کسی شخص سے اس فیصلے کا حتمی حکم حاصل کیا جاتا ہے یا نہیں۔اس سوال کا جواب اگر ہاں میں ہے تو یہ معلوم کرنا بھی ضروری ہے کہ کسی مستند ٹھہرائے ’’دہشت گرد‘‘ کو ’’پار‘‘ کرنے کا حکم زبانی کلامی دیا جاتا ہے یا اسے تحریری صورت میں ریکارڈ کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ اپنی بات سمجھانے کے لئے آپ کو یاد دلانا ضروری ہے کہ ڈرون طیاروں سے مہلک میزائل گراکر کسی ’’دہشت گرد‘‘ کو مارنے کا فیصلہ امریکی قوانین کے مطابق وہاں کے صدر کا اختیار ہوتا ہے۔ یہ حکم حاصل کرنے سے قبل امریکی سی آئی اے اور دیگر جاسوس ادارے نامزد ہوئے شخص کے بارے میں ایک تفصیلی رپورٹ تیارکرتے ہیں۔ اس رپورٹ کے ذریعے مرتب ہوئی اطلاعات کی درستگی کے بارے میں سوالات اٹھائے جاسکتے ہیں۔حتمی فیصلہ مگر امریکی صدر نے کرنا ہوتا ہے۔ڈرون طیاروں کے ذریعے ہلاکتوں کی ذمہ داری وہ اپنے سرلیتا ہے۔ کسی اہلکار کو اس حوالے سے قربانی کا بکرا بنانے کی کوئی راہ اس کے پاس موجود ہی نہیں۔ اسامہ بن لادن کے خلاف ہوئے آپریشن کے روز جاری ہوئی ایک تصویر بھی آپ کو یاد ہوگی۔ امریکی صدر اوبامہ اس آپریشن کی نگرانی کے لئے وائٹ ہائوس Situation Roomمیں سی آئی اے کے سربراہ ،وزیر دفاع،وزیر خارجہ اور قومی سلامتی کی مشیر کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ اس آپریشن کی تفصیلات سرکاری ریکارڈ کے ذریعے ہمارے سامنے نہیں آئی ہیں۔ کئی معتبر صحافیوں نے مگر تحقیقاتی صحافت کے تمام اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے چند مستند کتابیں لکھی ہیں۔ انہیں غور سے پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ امریکی حکام کی اکثریت اوبامہ کو یقین دلانے میں تامل سے کام لیتی رہی کہ مجوزہ آپریشن اپنے ہدف کے حصول میں سوفی صد کامیاب ہوگا۔ اوبامہ کو اگرچہ یقین دلادیا گیاتھاکہ اسامہ بن لادن واقعتا ایبٹ آباد کے اس گھر میں موجود ہے جس کی نشان دہی ہوئی۔ مجوزہ آپریشن کے ناکام ہونے کے امکانات بھی اسے سمجھادئیے گئے تھے۔اس نے مگر ڈٹ کر گرین سگنل دیا تو بات آگے بڑھی۔

1985ء سے اسلام آباد میں مقیم میں کئی حکومتوں کی کارکردگی کو کسی زمانے میں ایک متحرک رپورٹر کی حیثیت میں بہت قریب سے دیکھتا رہا ہوں۔ میری یادداشت اور تجربے کے مطابق بے نظیر بھٹوکی دوسری حکومت کے وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر مرحوم وہ واحد سیاست دان تھے جنہوں نے ایم کیو ایم کے خلاف کراچی میں ہوئے آپریشن کی ذمہ داری براہِ راست اپنے سر لی تھی۔ کسی دیگر ادارے یافرد کا اس آپریشن کے ضمن میں ذکر تک نہیں ہوتا تھا۔یہ بات بھی اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ بابر صاحب کو اپنی وزیر اعظم کی مکمل حمایت اور سرپرستی میسر تھی۔تلخ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ نومبر1996ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو کی دوسری حکومت کو ان دنوں آئین میں موجود آرٹیکل 58(2)Bکی وجہ سے ملے اختیار کے تحت برطرف کرتے ہوئے ’’فاروق بھائی‘‘ نے جو چارج شیٹ پڑھی اس کا نکتہ نمبر ون کراچی میں ہوئے ’’ماورائے عدالت قتل‘‘ تھے۔مجھے شبہ ہے کہ اس چارج شیٹ کے پڑھے جانے کے بعد جسے سجاد علی شاہ کی سپریم کورٹ نے برحق قرار دیا تھا سیاسی حکمران ’’دہشت گردی‘‘ کے خلاف اٹھائے ریاستی اقدامات کو Ownکرنے سے گھبراتے ہیں۔ منتخب حکومتوں کی جانب سے اپنائی اس ہچکچاہٹ کو تاریخی تناظر میں سمجھنا ہو تو 2008ء کے بعد قائم ہوئی پیپلز پارٹی کی حکومت کے ابتدائی ایام یاد کرلیں۔ سوات ان دنوں ’’ملاریڈیو‘‘ کے کامل تسلط میں تھا۔اسفند یار ولی کی عوامی نیشنل پارٹی مگر اپنے ’’سیکولرازم‘‘ کو بھلاکر ملاریڈیو کے سسرصوفی محمد سے ایک معاہدے پر دستخط کرنے کو مجبور ہوئی۔اپنی ’’نظریاتی شناخت‘‘ کھودینے سے بھی اسے لیکن کچھ حاصل نہیں ہوا۔ بالآخر تمام سیاسی جماعتوں کی ایک آل پارٹیز کانفرنس ہوئی۔ جس کے اختتامی اعلامیے میں اس وقت کے آرمی چیف جنرل کیانی سے باقاعدہ استدعا کی گئی کہ وہ سوات میں ریاستی رٹ کو فوجی آپریشن کے ذریعے بحال کروائیں۔ وہ آپریشن شروع ہوگیا تو اسکی نگرانی کے لئے سیاسی حکومت کی جانب سے کوئی Institutional بندوبست متعارف نہیں ہوا۔ ہمارے منتخب حکمرانوں نے گویا سوات میں امن کی بحالی کا فریضہ کلی طورپر پاک فوج کو Outsourceکردیا۔ نواز شریف کی تیسری حکومت کے ابتدائی ایام میں بھی منتخب حکومت دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن اقدامات اٹھانے میں متذبذب نظر آئی۔چودھری نثار علی خان بطور وزیر داخلہ اپنی طولانی تقاریر کے ذریعے قومی اسمبلی میں کھڑے ہوکر متواتر ہمیں Sleeper's Cellsاور Blow Backکا تذکرہ کرتے ہوئے ’’ایک ذرا صبر‘‘ کی تلقین کرتے نظر آئے۔ ’’دہشت گردوں‘‘ سے بات چیت کے لئے ایک کمیٹی کا قیام بھی عمل میں لایا گیا۔وہ اپنے اہداف کے حصول میں ناکام رہی۔ بالآخر پشاور میں APSوالا سانحہ ہوگیا۔ اس کے بعد دہشت گردی کے خلاف برپا جنگ سے منتخب حکومت اور پارلیمان قطعی لاتعلق نظر آئیں۔ مجھے ہرگز خبر نہیںکہ شہباز شریف صاحب نے ایک Hands Onوزیر اعلی کی شہرت کے ساتھ پنجاب میں CTDکے معاملات کو کیسے چلایا۔ عثمان بزدار صاحب اپنی تقاریر میں البتہ ’’دہشت گردی‘‘ کا ذکر نہیں کرتے۔ انہیں امن وامان کے قیام کے لئے مختص اداروں کی نگہبانی کرتے ہوئے بھی شاذہی دیکھا گیا ہے۔ ساہی وال سانحے کی تحقیقات کے لئے ایک JITقائم ہوچکی ہے۔میری خواہش ہے کہ اس کی رپورٹ ہمیں یہ بھی بتائے کہ آیا پنجاب کے وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو کسی نہ کسی صورت یہ آگہی حاصل تھی کہ CTDلاہور سے بوریوالہ جانے والی ایک گاڑی کا تعاقب کررہی ہے۔ اس گاڑی کو مبینہ طورپر ذیشان نام کا ایک مشتبہ دہشت گرد چلارہا ہے اور اسے زندہ یا مردہ گرفت میںلانے کا یہ بہترین موقعہ ہے۔ بطور وزیر اعلیٰ عثمان بزدار اگر ان تفصیلات سے بے خبر تھے تو ان کے اندازِ حکومت کے بارے میں اپنے تمامتر تحفظات کے باوجود میں ذاتی طورپر سانحہ ساہی وال کے ضمن میں ان کی مذمت کو مناسب نہیں سمجھتا۔ اصل سوال یہ ہے کہ دہشت گردی سے نبردآزما ہونے کا Institutionalبندوبست کیا ہے۔ اس کے SOPsکو پوری طرح سمجھے بغیر سانحہ ساہی وال پر گفتگو محض ملامت وماتم ہے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *