منی بجٹ اور ریفارم پیکیج

میں یہ کالم لکھ کر اپنے دفتر بھیج چکا ہوں گا تو اس کے کئی گھنٹے بعد ہمارے وزیر خزانہ بدھ کی سہ پہر قومی اسمبلی میں ’’منی بجٹ‘‘ پیش کریں گے۔ ’’منی بجٹ‘‘ کی اصطلاح وزیر خزانہ صاحب نے ازخود استعمال کی تھی۔ میں اس کو دہرانے سے مگر گھبرارہا ہوں۔

پارلیمانی زبان میں باقاعدہ یا ضمنی بجٹ کو Money Billکہا جاتا ہے۔ ایسے قانون کی ایک ایک شق کی منظوری قومی اسمبلی سے حاصل کرنا ضروری ہے۔ اس منظوری کے پیچھے صدیوں قبل متعارف ہوا ایک نعرہ ہے۔ یہ نعرہ تھا No Taxation Without Representation ۔

یہ نعرہ برطانیہ میں لگا تھا جس کے ذریعے بادشاہ کو یہ تسلیم کرنے پر مجبور کردیا گیا کہ وہ عوام پر من مانے ٹیکس عائد نہیں کرسکتا۔ عوام کو اپنے نمائندے منتخب کرنے کا اختیار دیا جائے۔ یہ نمائندے پارلیمان میں بیٹھ کر بہت غوروغوض کے بعد یہ طے کریں کہ ریاستی نظام چلانے کے لئے ہر سال کتنی رقم درکار ہے۔ اس رقم کا تعین کرنے کے بعد فیصلہ کیا جائے کہ کونسے کاروبار ،اشیائے صرف یا پیداوار کے ذرائع پر کتنا ٹیکس لگایا جائے۔

سالانہ بجٹ منظورہوجائے تو اس کے بعد طے شدہ ٹیکسوں کی شرح میں ردوبدل نہیں کیا جاسکتا۔ ’’ناگہانی‘‘ صورتِ حال میں حکومتوں کو اگرچہ منی بجٹ کے نام پر ردوبدل کی سہولت میسر ہوتی ہے۔

2018-19کے مالیاتی سال کے لئے گزشتہ اسمبلی نے ایک بجٹ طولانی بحث کے بعد منظور کیا تھا۔اس کے لاگو ہوجانے کے بعد جولائی 2018میں عام انتخابات منعقد ہوئے۔ ان کے نتائج کی بدولت تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو اس کے وزیر خزانہ کو احساس ہوا کہ قومی خزانہ خالی ہوچکا ہے۔ سابق وزیر خزانہ-مفتاح اسماعیل- ریاستی کاروبار چلانے کے لئے جو منصوبے بناکر گئے ہیں وہ ہماری معاشی مشکلات کو حل نہیں کر پائیں گے۔

گزشتہ برس ستمبر میں لہذا منظور شدہ بجٹ میں ترامیم کے لئے اسد عمر نے ’’منی بجٹ‘‘ پیش کیا۔ اس کی منظوری کے تین ماہ گزرجانے کے بعد اسد عمر صاحب لیکن ایک بار پھر یہ محسوس کررہے ہیں کہ بات نہیں بنی۔ کچھ نئی ترامیم کی ضرورت ہے۔ان ترامیم کو 23جنوری کی سہ پہر متعارف کروایا جائے گا۔

بنیادی سوال تو یہ اُٹھتا ہے کہ اسد عمر جیسے ذہین وفطین شخص جو کاروباری امور کے مہاگرو بھی سمجھے جاتے ہیں،مفتاح اسماعیل کے بنائے بجٹ کی نظرثانی کرتے ہوئے ان ترامیم کو کیوں سوچ نہیں پائے تھے جنہیں اب نیا سال شروع ہوتے ہی متعارف کروانا پڑ رہا ہے۔

اس سوال کا جواب اسد عمر اور ان کے معاونین ہم دو ٹکے کے صحافیوں کو فراہم کرنے کے لئے تیار نہیں۔مالیاتی امور پر بہت لگن سے رپورٹنگ کرنے والوں کی وساطت سے مجھے اور آپ کو تاثر یہ ملا ہے کہ سعودی عرب،متحدہ عرب امارات اور چین سے فراہم شدہ معاشی سہاروں کے باوجود ہماری ریاست کو اس برس اپنا گزارہ کرنے کے لئے کم از کم 200ارب روپے مزید درکار ہیں۔ یہ رقم نئے ٹیکس لگاکر اکٹھاکی جاسکتی ہے۔ لہذا ’’منی بجٹ‘‘ کی بات چلی۔

’’منی بجٹ‘‘ کی بات چلی تو حکومت کو احساس ہوا کہ ہمارے لوگ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ برداشت نہیں کر پائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ بجٹ کا خسارہ پورا کرنے کے لئے کوئی نئی ’’جگاڑ‘‘ لگائی جائے۔عموماََ ہماری حکومتیں ایسی جگاڑ کے لئے IMFسے رجوع کرتی ہیں۔ تحریک انصاف کی حکومت کا بھی اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ ہی ارادہ تھا۔

IMFسے مگر جب Bailout Packageکے لئے رجوع کیا گیا تو اس کے نمائندوں نے سو طرح کی شرائط عائد کردیں۔ اسد عمر صاحب ان شرائط سے گھبراگئے۔ چند روز قبل انہوں نے اپنی جماعت کے متحرک اراکین اسمبلی کو ایک تفصیلی بریفنگ دی۔ ہمارے ہمہ وقت مستعد ہونے کے دعوے دار میڈیا کی اکثریت نے اس بریفنگ کی تفصیلات جاننے کی کوشش نہیںکی۔

آصف علی زرداری کے خلاف آئی JITکی رپورٹ نے میڈیا کو جعلی اکائونٹس کی تحقیق پر مامور کردیا۔ اس تحقیق کی روشنی میں یہ طے کرنا بھی ضروری تھا کہ آصف علی زرداری کی ممکنہ گرفتاری کے بعد پیپلز پارٹی سندھ میں اپنی حکومت برقرار رکھ پائے گے یا نہیں۔اس جماعت میں ’’فارورڈبلاک‘‘ کا ذکر شروع ہوگیا۔ گھوٹکی کے سردار مہر مستقبل کے وزیر اعلیٰ کی صورت پروموٹ ہونا شروع ہوگئے۔ اگرچہ اس دوران خبر یہ بھی پھیلائی گئی کہ محترمہ فاطمہ بھٹو کو پیغامبروں کے ذریعے اس امر پر آمادہ کیا جارہا ہے کہ وہ وطن لوٹیں اور اپنے دادا کی بنائی جماعت کی باگ ڈور سنبھالتے ہوئے سندھ میں تحریک انصاف کی سرپرستی میں ’’گڈگورننس‘‘ متعارف کروائیں۔

اس کالم میں فاطمہ بھٹو کے بارے میں پھیلائی ’’خبروں‘‘ پر میں نے چند سوالات اٹھائے تھے۔ منگل کے دن ایک ٹویٹ کے ذریعے فاطمہ بھٹو نے اپنے بارے میں پھیلائی باتوں کی سختی سے تردید کردی۔

بہرحال اسد عمر صاحب نے دو ٹوک الفاظ میں تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی کوبتادیا کہ IMFہمیں کوئی بیل آئوٹ پیکیج دینے سے قبل جن اقدامات کا تقاضہ کررہا ہے ان پر عمل درآمد کی صورت میں پاکستان میں مہنگائی کا جو طوفان اُٹھے گا اس کی وجہ سے اُبھرے عوامی غضب کا یہ حکومت سامنا نہیں کر پائے گی۔ نئے ٹیکس لگانے سے لہذا گریز کا عندیہ دیا گیا۔

گریز کے اس عندیے کی بنیاد پر تاثر اب یہ پھیلایا گیا ہے کہ بجائے نئے ٹیکس متعارف کروانے کے تحریک انصاف کی حکومت 23جنوری کی سہ پہر چند ’’اصلاحات‘‘ کا وعدہ کرے گی۔ کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ان اصلاحات کا حقیقی ہدف ہوگا۔

’’اصلاحات‘‘ کا ذکر کرتے ہوئے گویا اعتراف کرلیا ہے کہ پاکستان معاشی جمود کا شکار ہے۔ کاروباری حضرات کوئی سرگرمی نہیں دکھارہے۔ اپنا کاروبار بڑھانے یا دیگر نئے شعبوں میں سرمایہ کاری کے بجائے موجودہ کاروبار چلانے میں بھی دِقت محسوس کررہے ہیں۔ بڑے کاروبار تو الگ رہے کئی مشہور ریستوران بھی اب ’’گاہک نہ ہونے‘‘ کی شکایت کرتے ہوئے اپنے سٹاف میں کمی لارہے ہیں۔ پراپرٹی کا دھندا ہمارے ہاں کافی جاندار شمار ہوتا تھا۔ وہ بھی شدید مندی کا شکار ہوچکا ہے۔ گاڑیوں کے شورومزمیں بکنگ بھی گزشتہ کئی برسوں سے جاری معمول کے مقابلے میں اوسطاََ آدھی رہ گئی ہے۔

ہمیں بتایا اب یہ جارہا ہے کہ 23جنوری کی سہ پہر نئے ٹیکس لگانے کے بجائے کچھ ایسے اقدامات متعارف کروائے جائیں گے جو مذکورہ بالا شعبوں میں رونق لوٹانے کو یقینی بناسکیں۔ ’’منی بجٹ‘‘ نہیں ’’ریفارم پیکیج‘‘ لانے کا وعدہ ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ بالآخر کیا برآمدہوتاہے۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *