چند مغالطے

مندرجہ ذیل واقعات مجھے وٹس ایپ اور فیس بک پر پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ بل گیٹس کبھی پاکستان نہیں آئے مگر یہ واقعہ ان سے منسوب کیا جاتا ہے اسی طرح خلیل جبران نے جب pity the nation نظم لکھی ہوگی اسے بالکل بھی یقین نہیں ہوگا کسی دن اس کی تخلیق کے ساتھ یہ برتاؤ کیا جائے گا۔ٹھیک اسی طرح جیسے روسی صدر پیوٹن کے نام سے جانے کون اپنے ''افکار'' عام کر رہا ہے۔
یہ سوشل میڈیا کی دنیا ہے ہر گزرتے دن کے ساتھ کوئی واقعہ کسی معروف شخصیت کے ساتھ جوڑ کر پھیلایا جاتا ہے۔ چند مغالطے حاضر خدمت ہیں۔
روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے بہترین بات کہی ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ پاکستان پاکستانیوں کے لئے قبرستان ہے۔پیوٹن کا کہنا ہے کہ جب کوئی پاکستانی امیر ہو جاتا ہے تو وہ اپنا بینک اکاؤنٹ سوئٹزر لینڈ میں رکھتا ہے۔وہ علاج معالجہ کے لئے امریکہ اور برطانیہ جاتا ہے۔وہ شاپنگ دوبئی اور یورپ سے کرتا ہے۔ وہ چائنہ کی چیزیں خریدتا ہے۔وہ عبادت مکہ اور مدینہ میں کرتا ہے۔ اس کے او لاد یورپ میں تعلیم حاصل کرتی ہے۔وہ سیر کرنے کے لئے امریکہ برطانیہ اور کنیڈا کا سفر کرتا ہے۔ اور جب وہ مر جاتا ہے تو وہ اپنے آبائی وطن پاکستان میں دفن ہوتا ہے۔پاکستان پاکستانیوں کے لئے صرف ایک قبرستان ہے اور قبرستان کیسے ترقی کر سکتا ہے۔۔

بل گیٹس پاکستان آئے تو انہوں نے ایک عجیب منظر دیکھا ایک جگہ پھاٹک بند تھا ۔پھاٹک کھلا تو دور تک گاڑیوں کی لمبی قطار تھی اتنی دیر میں ایک شخص سائیکل کو کندھے پر اٹھائے بل گیٹس کی گاڑی کے پاس سے گزرا سائیکل اٹھائے شخص کو دیکھ کروہ بہت حیران ہوا کہ اس قوم کے لوگوں کو اپنے وقت کی اتنی قدر ہے اس موقع پر بل گیٹس نے اپنے ڈرائیور سے مخاطب ہو کر تاریخی فقرہ کہا’’اس قوم کو ترقی کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا‘‘۔ گاڑی نے کچھ فاصلہ طے کیا تو لوگوں کا مجمع سڑک کنارے جمع تھا اسی مجمع میں اسے وہ سائیکل والا شخص نظر آیا بل گیٹس کو تجسس ہوا وہ گاڑی سے اترا اور مجمع میں گھس گیا ۔وہاں جاکر پتا چلا مداری بندر کا تماشا دکھا رہا ہے۔ اس موقع پر اس نے کہا ’’یہ قوم کبھی ترقی نہیں کرسکتی‘‘

معروف دانشور خلیل جبران نے کہا تھاقابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے پاس کوئی عقیدہ نہیں ہے۔ قابلِ رحم ہے وہ قو م جو ایسے کپڑے پہنتی ہے جس کا تصور ان کے آباؤ اجداد نے کبھی نہیں کیا تھا۔قابلِ رحم ہے وہ قوم جو سیاست دانوں کو اپنا سب کچھ سمجھ لیتی ہے اوربڑے بڑے دعوے کرنے والوں کومسیحاسمجھ لیتی ہے اور قابلِ رحم ہے وہ قوم جو حوس سے نفرت بھی کرتی ہے اور پیسے سے محبت بھی کرتی ہے۔ لالچ سے نفرت بھی کرتی ہے مگرپھر بھی اس کا ہر فرد امیر ہونا چاہتا ہے۔
قابلِ رحم ہے وہ قوم جو کبھی اپنے حکمرانوں کے خلاف آواز بلند نہیں کرتی۔ قابل رحم ہے وہ قوم جس کا ماضی اور مستقبل دونوں اچھے نہ ہوں۔
وہ اس وقت تک صورتِ حال کے خلاف احتجاج نہیں کرتی جب تک صورت حال خراب نہ ہوجائے۔ قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے نام نہاد سیاستدان عوام کے پیسے چٹ کر جائیں اور ڈکار تک نہ لیں اور جس کے دانشور محض اخباروں میں کالم لکھتے اور ٹی وی پروگراموں میں تبصرے کرتے ہوں اور قابلِ رحم ہے وہ قوم جواپنے ووٹ کے ذریعے اپنے اصل حکمران منتخب کرنا نہ جانتی ہو اور جب وہ اقتدار سے محروم ہوجائیں تو انہیں سزائیں دینے لگے۔ قابلِ رحم ہے وہ قوم جس کے اہلِ علم و دانش صرف اور صرف باتیں کرنا جانتے ہوں مگر کوئی عملی کام نہ کرتے ہوں۔ قابلِ رحم ہے وہ قوم جواغیار کے ٹکڑوں پہ پلتی ہو پھر بھی اپنے آپ کو قوم سمجھتی ہو۔قابل رحم ہے وہ قوم جس کے سیاست دان امیر ہوجائیں۔ قابل رحم ہے وہ قوم جو شادیوں کے فنکشن پر پیسہ پانی کی طرح بہاتی ہو۔بدقسمت ہے وہ قوم جو کتابوں کو سڑک پر رکھتی ہے جبکہ جوتوں کو شیشوں کی الماریوں میں سجاکر رکھتی ہے۔
عمران خان کے وزیراعظم منتخب ہونے کی خوشی میں جدہ اور دبئی میں موجود ٹاورز پر عمران خان کی بڑی تصاویر آویزاں کی گئیں ۔ ان تصاویر سے پتا چلتا ہے اسلامی دنیا کے عوام اور حکمران عمران خان کے اقتدار میں آنے سے کتنا خوش ہیں۔

ترک صدرطیب اردوان نے کہا کہ بلاشبہ نواز شریف کا شمار عالم اسلام کے عظیم رہنماؤں میں ہوتا ہے انہیں جیل میں رکھنا امت مسلمہ کے ساتھ زیادتی کے مترادف ہے۔ حکومت وقت کو چاہیے انہیں جلد از جلد رہا کردے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *