پھر طالبان جانیں اور ان کے مخالفین

کئی دوستوں نے ای میلز اور ٹویٹس کے ذریعے شکوہ کیاہے کہ میں نے طالبان اورامریکہ کے درمیان جاری مذاکرات کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ نظر بظاہر قطر میں حال ہی میں ہوئے ایک رائونڈ کے دوران جو چھ دنوں تک جاری رہا’’بریک تھرو‘‘ ہوگیا ہے۔امریکہ نے وعدہ کیاہے کہ وہ 2020ء کے وسط تک اپنی افواج افغانستان سے واپس بلالے گا۔ طالبان نے یقین دلایا ہے کہ وہ افغان سرزمین کو القاعدہ جیسی تنظیموں کے لئے استعمال نہیں ہونے دیں گے۔ اس وعدے کی وجہ سے امریکہ یا اس کے اتحادی ممالک میں نائن الیون جیسے واقعات دہرائے جانے کے امکانات معدوم ہوجائیں گے۔ ان دو نکات پر سمجھوتے کے بعدبھی چند اہم سوالات پر غور اور رضا مندی کی یقینا ضرورت ہے۔’’بریک تھرو‘‘ مگر ہوگیاہے۔مذکورہ ’’بریک تھرو‘‘ کے بارے میں اپنائی میری خاموشی کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ جن امور پر سمجھوتے کی نوید سنائی جارہی ہے ان کا انکشاف طالبان سے تعلق رکھنے والے ان ’’ذرائع نے کیا ہے جو اپنا نام میڈیا میں دینے کو تیار نہیں۔امریکہ کی جانب سے غیررسمی انداز میں بھی ان کے دعویٰ کی تصدیق نہیں ہوئی۔البتہ یہ امید ضرور دلائی جارہی ہے کہ حالیہ چھ روزہ رائونڈ میں ’’ٹھوس پیش رفت‘‘ یقینا ہوئی ہے۔یہ بات طے ہے کہ امریکی صدر افغانستان سے اپنے ملک کی جان چھڑانے کو اتاولہ ہورہا ہے۔ اقتدار سنبھالتے ہی اسے زعم تھا کہ پاکستان پر بیہودہ زبان میں لکھے ٹویٹس کے ذریعے دبائو بڑھاتے ہوئے وہ ہم سے Do Moreکا تقاضہ کرتے ہوئے اپنی خواہش پوری کرلے گا۔ ہماری عسکری اور سیاسی قیادت نے یکسو ہوکر اس کے دبائو کو صبر اور بردباری سے برداشت کیا۔بالآخر ٹرمپ کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ تڑیوں سے کام نہیں چلے گا۔افغانستان کے تناظر میں ہماری اہمیت ماننے کو مجبور ہوا۔ عمران خان صاحب کی قیادت میں قائم ہوئی نئی حکومتِ پاکستان کی دلجوئی کرتا نظر آیا۔اس دلجوئی کی بدولت طالبان کو زلمے خلیل زاد سے ملاقاتوں میں تسلسل اور طوالت برقرار رکھنے کی گنجائش میسر ہوئی۔ٹرمپ پیچیدہ ترین معاملات کو بھی بہت سادہ انداز میں دیکھتا ہے۔ اس کا یہ رویہ ٹرمپ کے حامیوں کو بہت بھاتا ہے۔ افغانستان کے بارے میں اپنی پریشانی کووہ فقط یہ سوال اٹھانے اور مسلسل دہرانے تک محدود رکھے ہوئے ہے کہ اس کا ملک افغانستان پر اپنا تسلط جمانے کے لئے ہر سال اوسطاََ 45ارب ڈالر کی خطیر رقم خرچ کرنے کے باجود ٹھوس حوالوں سے کیا حاصل کرپایا ہے۔ امریکی جرنیلوں کے پاس اس کے سوال کا جواب موجود نہیں۔تسلی بخش جواب کی عدم موجودگی اسے یہ تاثر پھیلانے میں آسانی فراہم کرتی ہے کہ اگر افغانستان سے امریکی افواج کو نکال لیا جائے تو افغانستان کی جنگ سے بچائے 45ارب ڈالر کو ہر سال امریکہ میں نائن الیون جیسے واقعات کو روکنے کے لئے میکسیکو کی سرحد پر دیوار بنانے اور دیگر سکیورٹی اداروں کو مضبوط تر بنانے پر خرچ کیا جاسکتا ہے۔امریکی افواج کو افغانستان سے نکالنے کے بعد اس بدنصیب ملک اور اس خطے میں کیا ہوگا اس کے بارے میں سوچنے کی اسے فرصت نہیں۔اس کی سوئی "America First"پر اٹکی ہوئی ہے۔امریکہ میں لیکن ایک Deep Stateبھی ہے۔ امریکہ کو دورِ حاضر کی واحد سپرطاقت

بنائے رکھنے کو وہ بضد ہے۔ اس کا اصرار ہے کہ امریکہ کو 90کی دہائی کی طرح افغانستان کو اس کے حال پر نہیں چھوڑ دینا چاہیے۔ افغان حکومت کو درپیش روزمرہّ معاملات سے کنارہ کشی کرتے ہوئے بھی اسے وہاں بنائے دو فوجی اڈوں سے دست بردار نہیں ہونا چاہیے۔ ان اڈوں کی بدولت امریکہ ،روس اور چین کا تقریباََ ہمسایہ ملک بن چکا ہے۔ ایران اور پاکستان پر کڑی نگاہ رکھنے میں بھی مدد ملتی ہے۔ امریکی Deep Stateکی خواہش ہے کہ وہ طالبان کو ایسے معاہدے پر راضی کریں جس کی بدولت وہ اپنی حکومت کو ’’مستحکم‘‘ بنانے کے بہانے ان اڈوں کو ’’امریکہ کے ساتھ دوستی‘‘ قائم رکھنے کی خاطر برقرار رہنے دیں۔طالبان بالآخر ’’بردبار لچک‘‘ دکھاتے ہوئے شاید اس امر کو تیار ہوسکتے ہیں۔ یہ سوال مگر اپنی جگہ موجود ہے کہ طالبان کو افغانستان کی ’’حقیقی‘‘ اور حتمی فیصلہ سازی کی حامل حکومت بنانے تک کیسے پہنچا جائے۔ اس سوال کا جواب ابھی تک کسی کے پاس موجود نہیں ہے۔امریکہ کی خواہش ہے کہ اس کی جانب سے اپنی افواج کے انخلاء کی قطعی تاریخ دینے کے بعد طالبان ’’جنگ بندی‘‘ کا اعلان کریں۔’’جنگ بندی‘‘ کی وجہ سے میسر ہوئے وقفے میں ’’لویہ جرگہ‘‘ کا اہتمام ہو۔ اس جرگہ میں افغانستان کی تمام متحارب جماعتیں اور فریق مل بیٹھ کر ’’سب کے لئے قابلِ قبول‘‘ آئینی بندوبست پر رضا مندی کا اظہار کریں۔لویہ جرگہ کی بدولت نئے ’’آئینی بندوبست‘‘ کی توقع رکھنے والے مگر یہ حقیقت نظرانداز کئے ہوئے ہیں کہ طالبان خود کو ’’امارت اسلامی افغانستان‘‘ کہتے ہیں۔ ملاعمر اور منصور اختر کی وفات اور ڈرون حملے کے ذریعے ہلاکت کے باوجود بھی ان کا ایک ’’امیر‘‘ اپنی جگہ قائم ہے۔ اس ’’امیر‘‘ کی’’ بیعت‘‘ کے ذریعے اطاعت سب افغانوں کے لئے لازم تصور کی جاتی ہے۔ ’’نئے آئینی بندوبست ‘‘ پر آمادگی درحقیقت ’’امارتِ اسلامی‘‘کے بنیادی اصولوں کی نفی ہوگی۔ اسے ترک کرتے ہوئے ’’ووٹوں‘‘ کی بنیاد پر کسی ’’جمہوری‘‘ نظام کو قائم کرنا ہوگا اور جمہوری نظام طالبان کی نگاہ میں ’’کفر‘‘ کی نمائندگی کرتا ہے۔اس اہم اور میری دانست میں بنیادی پہلو کو نظرانداز کرتے ہوئے فی الوقت کوشش یہ ہورہی ہے کہ فوری جنگ بندی ہوجائے۔ اس کے بعد کچھ عرصے کے لئے ’’سب کی نمائندگی‘‘ کرتی کسی ’’قومی حکومت‘‘ کا اعلان ہو۔ وہ حکومت طویل مذاکرات کے ذیعے لویہ جرگہ بلاکر ’’نیا آئینی بندوبست‘‘ متعارف ہونے کا انتظار کرے۔ طالبان مگر فی الوقت ’’جنگ بندی‘‘ کے لئے بھی آمادہ نظر نہیں آرہے۔منطقی انداز میں سوچنے والوں کے لئے ’’جنگ بندی‘‘ کے اعلان میں طالبان کا لیت ولعل ’’احمقانہ ضد‘‘ تصور ہوگی۔ طالبان کے رویے کو ’’ضد‘‘ ٹھہرانے والوں کو مگر یہ بھی سوچنا ہوگا کہ وہ Position of Strengthکے ساتھ امریکہ سے مکالمہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔امریکہ 17برس کی جنگ کے بعد بھی انہیں فوجی اعتبارسے شکست نہیں دے پایا۔ویت نام کی طرح شکست تسلیم کئے بغیر وہ افغانستان سے ’’باعزت واپسی‘‘ کے راستے ڈھونڈ رہا ہے۔ ’’باعزت واپسی‘‘ کی شرائط طے کرنے میں فی الوقت طالبان کو Upper Handملانظر آرہا ہے۔ وہ اس Handکو شدت کے ساتھ استعمال کریں گے تو ٹرمپ عجلت میں افغانستان کو اس کے حال پر چھوڑتے ہوئے اپنی افواج کے انخلاء کو تیار ہوسکتا ہے۔اس کے بعد طالبان جانیں اور ان کے مخالفین ۔ طالبان کو یہ اعتماد ہے کہ افغانستان کے بارے میں اپنائی امریکی عجلت ان کے مخالفین کو مکمل طوپر بے دست وپا بنادے گی ۔انہیں اپنی ’’امارت‘‘ کی بحالی کا بھرپور موقعہ مل جائے گا۔ اس حقیقت کو ذہن میں رکھتے ہوئے میں ’’بریک تھرو‘‘ کو زیر بحث لانے میں گریز سے کام لے رہا ہوں۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *