’’مکافاتِ عمل‘‘

پاکستان کو بدعنوانی اور اس کے عادی سیاستدانوں سے بچانے کو بے چین تحریک انصاف کے بے شمار انقلابیوں کو جانے کیوں سمجھ نہیں آرہی کہ اگست 2018سے ان کی جماعت اقتدار میں ہے۔ کئی برسوں کی جدوجہد کے نتیجے میں عمران خان اب اس ملک کے وزیر اعظم ہیں۔ ان کے اس منصب پر فائز ہونے کی بنیادی وجہ یہ حقیقت ہے کہ موجودہ قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کو اکثریت حاصل ہے۔ وزیراعظم ہونے کی وجہ سے عمران خان قومی اسمبلی کے ’’قائد ایوان‘‘ ہیں۔ اس ایوان کا سپیکر بھی تحریک انصاف سے تعلق رکھتا ہے۔ آصف علی زرداری کی بطور رکنِ قومی اسمبلی نااہلی کو یقینی بنانے کے لئے اگر تحریک انصاف کے پاس ٹھوس شواہد موجود ہیں تو اس جماعت سے تعلق رکھنے والے چند اراکینِ اسمبلی کو یکسو ہو کر انہیں سپیکر اسد قیصر کے دفتربھیجنا چاہیے۔ ان شواہد کا جائزہ لینے کے بعد سپیکرکے پاس یہ اختیار موجود ہے کہ وہ انہیں الیکشن کمیشن کو مناسب کارروائی کے لئے بھجوا دے۔ شواہد تگڑے ہوئے تو الیکشن کمیشن کے پاس آصف علی زرداری کو نااہل قرار دینے کے سوا کوئی راستہ ہی نہیں بچے گا۔ اگرچہ یہ خدشہ بھی اپنی جگہ مبنی برحقیقت ہے کہ الیکشن کمیشن سے نااہل قرار پائے آصف علی زرداری ہائی کورٹ سے Stayوغیرہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ان کی نااہلی کو حتمی قرار دینے میں دیر لگ سکتی ہے۔ کسی رکن اسمبلی کو قواعد وضوابط کے عین مطابق نااہل قرار دینے والا Processمگر شروع ہوجائے گا۔ اس Processپر اعتراض اٹھانے کی گنجائش موجود نہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ اس پراسس کو مضبوط تر اور قابل اعتماد بنانے کی کوشش کیوں نہیں ہورہی۔ کیوں اس امر کو بے چین ہوا جارہا ہے کہ پارلیمان اور دیگر فورمز کے ہوتے ہوئے سپریم کورٹ یا اسلام آباد ہائی کورٹ ازخود اختیارات استعمال کرتے ہوئے تحریک انصا ف کی استدعا پر آصف علی زرداری کو نااہل قرار دے کر قومی اسمبلی سے باہر نکال دے۔مسلمہ ضوابط و قواعد کے ذریعے بنائے ’’سسٹم‘‘ کو شاید تحریک انصاف کے انقلابی مضبوط تر اور قابل اعتماد بنانے میں یقین نہیں رکھتے۔ کرپشن سے نجات کے لئے Fast Trackراستے ڈھونڈنے میں مصروف ہیں۔ اس حقیقت کا احساس کئے بغیر کہ Fast Trackپارلیمان یا قواعد وضوابط کے تحت بنائے ’’سسٹم‘‘ کومضبوط نہیں بناتا۔ ’’دیگر اداروں‘‘ کو اس ملک کا نجات دہندہ بناتا ہے۔ ’’دوسروں‘‘ کو نجات دہندہ بناتے ہوئے یہ فراموش کردیا جاتا ہے کہ تحریک انصاف بذاتِ خود سیاسی نظام ہی کا حصہ ہے۔ وہ اسے مضبوط تر نہیں بنائے گی تو خود بھی کمزور ہوگی۔ مجھے آج بھی وہ دن اچھی طرح یاد ہیں جب میرے بہت ہی عزیز دوست خواجہ آصف، افتخار چودھری کی عدالت میں رینٹل پاور پراجیکٹس (RPPs)کے خلاف دہائی مچانے چلے گئے تھے۔ میں اپنے کالموں کے ذریعے فریاد کرتا رہا کہ قومی اسمبلی کے مؤثر ترین اور بہت ہی تجربہ کار رکن ہوتے ہوئے انہیں RPPsکے خلاف شوروغوغا ایوان تک محدود رکھنا چاہیے۔ انہوں نے میری فریاد نہ سنی۔ بالآخر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ہاتھوں خود بھی نااہل ہوگئے۔ سپریم کورٹ سے ریلیف ملا اور آج بھی قومی اسمبلی میں بیٹھے ہوئے ہیں۔شاید بہت کم لوگوں کو یاد رہا ہو کہ اعظم سواتی ایک زمانے میں اس کابینہ کے بھی رکن تھے جس کے سربراہ یوسف رضا گیلانی تھے۔ موصوف نے JUI-Fکے کوٹے سے وزارت حاصل کی تھی۔ اس کابینہ میں علامہ حامد سعید کاظمی وزارتِ مذہبی امور تھے۔ ان کی وزارت کے دوران ایک حج سکینڈل ہوا۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وفاقی وزیر کی حیثیت میں اعظم سواتی اس سکینڈل کے بارے میں کابینہ میں دہائی مچاتے۔ یوسف رضا گیلانی ان کی داد فریاد کو نظراندز کرتے تو کابینہ سے استعفیٰ دے کر سکینڈل کے ذمہ داروں کو سزا دلوانے کے دوسرے راستے ڈھونڈتے۔ہماری سیاسی تاریخ کا بدترین لطیفہ مگر یہ ہوا کہ گیلانی کابینہ کا ایک رکن اپنے ہی کولیگ کے خلاف رپٹ لکھوانے سپریم کورٹ پہنچ گیا۔ افتخار چودھری صاحب اس رپٹ کی وجہ سے اس ملک کے حتمی سماج سدھار کی صورت ابھرنا شروع ہوگئے۔ حامد سعید کاظمی کی بہت ذلت ورسوائی ہوئی۔ بالآخر جیل بھی بھیج دئیے گئے۔کاظمی صاحب کو جیل بھجوا دینے کے بعد اعظم سواتی نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرلی۔ چند ماہ قبل مگر ان کے ساتھ سپریم کورٹ میں جو کچھ ہوا اسے ’’مکافاتِ عمل‘‘ کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ ’’مکافاتِ عمل‘‘ کی حقیقت تحریک انصاف کے انقلابیوں کو ہمیشہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ Breaking Newsکی خواہش میں لیکن اسے فراموش کردیا جاتا ہے۔ میڈیا پر کچھ دیر کیلئے رونق تو لگ جاتی ہے۔ ایسی رونق سے مگر حتمی پیغام خلقِ خدا کو یہ ملتا ہے کہ ’’ہم ہو ئے تم ہوئے یامیر ہوئے‘‘ والے مصرعے کی طرح تمام سیاست دان بلااستثناء کسی نہ کسی نوعیت کی ’’دونمبری‘‘ کے چکر میں رہتے ہیں۔ناک کو سیدھا پکڑیں یا گردن کے پیچھے ہاتھ گھما کر ۔ٹھوس حقیقت یہی رہے گی کہ تحریک انصاف کے انقلابی اپنے کپتان سمیت بنیادی طورپر سیاست دان ہیں۔ اپنے دھندے کو ’’گندہ‘‘ ثابت کرتے ہوئے بالآخر روزافزوں مچائے شور سے وہ خود بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔مجھے ہرگز خبر نہیں کہ آصف علی زرداری کو قومی اسمبلی کی رکنیت کے لئے نااہل قرار دینے والے جن شواہد کا ذکر تحریک انصاف والے کررہے ہیں ان کی صداقت اور قابل عمل ہونے کا معیار کیا ہے۔ نیویارک میں اگر ان کی ملکیت میں واقعتا ایک قیمتی فلیٹ موجود ہے اور کاغذاتِ نامزدگی داخل کرواتے ہوئے انہوں نے اس کا ذکر نہیں کیا تو نااہل ہونا ضروری ہے۔ میری پھکڑپن طبیعت تو بلکہ اس خواہش کا اظہار بھی کرے گی کہ ٹھوس شواہد ہونے کی صورت میں نااہلی کے علاوہ انہیں ’’بے وقوفی‘‘ جسے ضرورت سے زیادہ اعتماد بھی کہا جاتا ہے کی سزا بھی ملنی چاہیے۔اس سزا کو یقینی بنانے کے لئے مگر ایک واضح راستہ موجود ہے۔اسے اختیار کرنا ضروری ہے۔ عدالتوں کو اپنے سیاسی مخالفین سے نجات پانے کے لئے استعمال کرنے کی خواہش سیاست دانوں کو اجتماعی خودکشی کی جانب لے جاتی ہے۔

یوسف رضا گیلانی کو عدالت سے نااہل کروانے کے لئے پاکستان مسلم لیگ نون نے بہت جانفشانی دکھائی تھی۔ گیلانی والی نظیر Setہوگئی تو پانامہ دستاویزات کے منکشف ہونے کے بعد نواز شریف کے ساتھ مکافاتِ عمل ہی تو ہوا تھا۔ تحریک انصاف کے انقلابی اس عمل کو خود پر لاگو ہونے کے امکانات کو یقینی کیوں بنارہے ہیں؟آصف علی زرداری کو نااہل کروانے کے ٹھوس ثبوت ان کے پاس ہیں تو خدارا سپیکر اسد قیصر کے دفتر سے رجوع کریں۔ اس کے سوا جو بھی راستہ اختیار کریں گے وہ اجتماعی خودکشی کی طرف لے جائے گا۔ اس ایوان کو بے توقیر کرے گاجس کے ’’قائد‘‘ کوئی اور نہیں عمران خان صاحب ہیں۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *