ٹرمپ کا تضحیک بھرا ٹوئٹ اور میری پریشانی

امریکی صدر ٹرمپ واقعتا ایک لطیفہ میں بیان ہوا ’’جنگل کا بادشاہ‘‘ ہے۔ بڑا جانور ہے۔اس کی مرضی۔انڈہ دے یا بچہ۔ پل میں تولہ،پل میں ماشہ والے مزاج کے ساتھ مگر وہ جب کوئی ٹویٹ لکھتا ہے تو حقیقی دُنیا میں بھونچال آجاتا ہے۔ بہت ہی رُعب داب والے ’’اداروں‘‘ کے سربراہ حواس باختہ ہو کر اپنے سر پکڑ لیتے ہیں۔

امریکی سینٹ کی ایک کمیٹی ہے جسے انٹیلی جنس کمیٹی کہا جاتا ہے۔ اس ملک کے تمام جاسوسی ادارے باہم مل کر اس کمیٹی کے لئے ایک رپورٹ تیار کرتے ہیں۔اس رپورٹ کے ذریعے بہت تحقیق اور کئی روز کی محنت کے بعد امریکہ کے منتخب نمائندوں کو دُنیا بھر میں سکیورٹی کے معاملات کے بارے میں آگاہ رکھنے کی کوشش ہوتی ہے۔اس رپورٹ کے بیشتر حصے On The Recordہوتے ہیں۔ صرف چند ’’حساس‘‘ معاملات کے ضمن میں اٹھائے چند سوالات کا زبانی مگر آف دی ریکارڈ جواب دیا جاتا ہے۔

دوروز قبل امریکہ کے ڈائریکٹر نیشنل انٹیلی جنس -Dan Coats-اور سی آئی اے کی سربراہ Gina Haspelنے مذکورہ کمیٹی کے روبرو پیش ہوکر اپنی رپورٹ پیش کی۔ نظر بظاہر یہ رپورٹ امریکی صدر کی چند اہم معاملات پر شدت سے اپنائی سوچ کی نفی کرتی نظر آئی۔

امریکی انٹیلی جنس ادارے،مثال کے طورپر،اپنے صدر کے اس گماں سے اتفاق نہیں کرتے کہ شمالی کوریا کو مذاکرات میں الجھاکر ایٹمی پروگرام کی بڑھوتی سے روکا جاسکتا ہے۔یہ ادارے بضد ہیں کہ ’’داعش‘‘ کے نام پر کام کرنے والے انتہاء پسند ’’دہشت گردی‘‘ کے تناظر میں اہم ترین خطرہ ہیں۔

امریکی صدر شاید ان دو معاملات کے ضمن میں اپنے انٹیلی جنس اداروں کی رائے کو نظرانداز کرتے ہوئے برداشت کرلیتا۔ ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں اپنے انٹیلی جنس اداروں کے جائزے کو لیکن وہ ہضم نہیں کرپایا۔ تلملا کر ایک ٹویٹ لکھ دیا۔اس ٹویٹ کے ذریعے اس نے اصرار کیا کہ ایران بدستور ایسے میزائل تیار کرنے میں مصروف ہے جنہیں بالآخر ایٹمی ہتھیار پھینکنے کے لئے استعمال کیا جائے گا۔

اپنے ٹویٹ میںاس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کے ایٹمی پروگرام میں ’’اصل رکاوٹ‘‘ ٹرمپ کی جانب سے اس ملک کے ساتھ ہوئے اس معاہدے کی منسوخی ہے جو اوبامہ نے کیا تھا۔ اس کی بدولت ایران اب دوبارہ اقتصادی پابندیوں سے دو چار ہے۔ ان پابندیوں نے ایرانی معیشت میں بحران پیدا کردیا ہے۔ اس کے پاس اپنے ایٹمی پرگرام پر کماحقہ رقم صرف کرنے کی گنجائش موجود نہیںرہی۔

ٹرمپ کا ٹویٹ فقط ان ’’دلائل‘‘ تک محدود رہتا تو شاید کسی علمی بحث کا آغاز ہوسکتا تھا۔ ٹرمپ چونکہ ٹرمپ ہے۔ دلائل پر مبنی بحث تک خود کو محدود نہیں رکھ پاتا۔ بہت رعونت سے یہ دعویٰ بھی کردیا کہ اس کے انٹیلی جنس والے ڈھیلے (Passive)اور سادہ لوح(Naive)ہیں۔شاید انہیں دوبارہ ’’سکول‘‘ میں داخل ہوکر کچھ علم حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

کسی امریکی صدر نے برسرِ عام اس زبان میں اپنے انٹیلی جنس اداروں کی ایسی تذلیل نہیں کی ہے۔ اس سے قبل افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے وہ اپنے جرنیلوں کوبھی کافی تضحیک آمیز انداز میں لتاڑچکا ہے۔یہ سب کرنے کے باوجود بھی ٹرمپ ’’غداری‘‘ کی تہمت سے بچا ہوا ہے۔ اس کے چاہنے والے خلوص دل سے امریکی فوج اورانٹیلی جنس اداروں کے بارے میں وہی رائے رکھتے ہیں جو ٹرمپ منہ پھٹ انداز میں بیان کردیتا ہے۔

اسے ووٹ دینے والوں کو اس بات کی فکر نہیں کہ دنیا میں کیا ہورہا ہے۔ وہ فقط امریکی معیشت کو توانا دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ محسوس کرتے ہیں کہ عراق یا افغانستان جیسے ممالک میں ان کی فوج اور انٹیلی جنس ادارے ’’مامے‘‘ بن کر اربوں ڈالر ضائع کررہے ہیں۔ یہ خطیر رقم ان کے اپنے ملک میں روزگار فراہم کرنے پر صرف ہونا چاہیے۔ دُنیا گئی بھاڑ میں۔

عالمی سیاست اور تاریخ کا ایک ناقص طالب علم ہوتے ہوئے اگرچہ میں ذاتی طورپر Deep Stateکی اہمیت کوخوب سمجھنا شروع ہوگیا ہوں۔ کئی معنوں میں اس سے خوف بھی محسوس ہوتا ہے۔Conspiracy Theoriesکا میں نے ہمیشہ مذاق اڑایا۔ ٹرمپ نے لیکن اپنے انٹیلی جنس اداروں کی تضحیک کے لئے جو ٹویٹ لکھا اسے پڑھنے کے بعد زندگی میں پہلی بار یہ خوف محسوس ہوا کہ امریکی Deep Stateاپنے خدشات کو درست ثابت کرنے کے لئے کسی ایسے واقعہ کی بہت ہی سازشی انداز میں پشت پناہی کرسکتی ہے جو ہوجائے تو امریکہ میںشاید ویسی ہی تھرتھلی مچی نظر آئے جو نائن الیون کے بعد دیکھنے کو ملی تھی۔ ربّ کریم ہمیں ایسے واقعہ سے محفوظ رکھے۔

ایک عام پاکستانی ہوتے ہوئے میں شایدامریکی صدر کے ٹویٹ سے پریشان نہ ہوتا۔ سینٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے جو رپورٹ رکھی گئی ہے اس میں لیکن پاکستان اور بھارت کاذکر بھی ہے۔امریکی انٹیلی جنس اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ نریندر مودی کی BJPاس سال مئی میں ہونے والے انتخابات میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لئے ہندو انتہا پسندی والا کارڈزیادہ شدت کے ساتھ استعمال کرے گی۔اس کے نتیجے میں بھارت کے کئی علاقوں میں ہندومسلم فسادات کی آگ بھڑک سکتی ہے اور یہ آگ بھارتی مسلمانوں کو ’’دہشت گردی‘‘ کی جانب دھکیل سکتی ہے۔

چندہفتے قبل بھارت کی نام نہاد ’’کائوبیلٹ‘‘ کی تین صوبائی اسمبلیوں کے نتائج آنے کے بعد میں نے اس کالم میں اسی خدشے کا اظہار کیا تھا۔ مودی بنیادی طورپر معاشی محاذ پر رونق لگانے کی بڑھک لگاکر برسرِ اقتدا ر آیا تھا۔ ’’نوٹ بندی‘‘ جیسے فیصلے نے مگر وہاں کے سیٹھوں کوخوفزدہ کردیا۔ نچلے اور درمیانی طبقے والے کاروباری حضرات بھی بلبلااُٹھے۔ کسانوں کو اپنی فصل کی مناسب اور بروقت قیمت نہ مل پائی۔ بنیادی طورپر یہ اقتصادی عوامل کی وجہ سے BJPہندی بیلٹ میں انتخاب ہار گئی۔

اقتصادی میدان میں ناکامی کے بعد مودی کے پاس واحد راستہ اب خود کو مزید شدت پسند ہندو بناکردکھانے کا رہ گیا ہے۔امریکہ کے تمام انٹیلی جنس اداروں نے بھی باہم مل کر بھارتی سیاست کے جائزے کے بعد ایسی ہی رائے دی ہے۔ ہم پاکستانیوں کو اس کے بارے میں فکر مند ہونا چاہیے۔

عجب اتفاق یہ بھی ہواہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کی رپورٹ آنے کے دو ہی دن بعد بھارتی وزارتِ خارجہ نے بدھ کی رات دہلی میں مقیم پاکستان کے سفیر کو ہمارے ہاں کے رات دس بجے کے قریب طلب کیا۔دفتری اوقات کے بعد ایسی ’’طلبی‘‘ انتہائی ناگہانی صورت حال میں ہوا کرتی ہے۔بدھ کی رات مگر ہمارے سفیر کو محض اس امر پر احتجاج کرنے کے لئے بلایاگیا کہ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے میرواعظ عمرفاروق کو ٹیلی فون کیوں کیا۔

کشمیری حریت پسند رہ نمائوں سے پاکستان سرکاری طورپر کئی برسوں سے رابطے میں رہتا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا میرواعظ کو فون لہذا ’’ناگہانی‘‘ واقعہ ہرگز نہیں تھا۔اس فون کے ذریعے انہیں لندن میں ایک کانفرنس کی دعوت دی گئی تھی۔ میرواعظ کشمیر پر ہوئی ایسی کانفرنسوں میں اکثر مدعو کئے جاتے ہیں۔

میرواعظ کو بھارتی ریاست نے آج تک ’’دہشت گردی‘‘ کے کسی مقدمے میں ملوث نہیں کیا۔ انہیں ہرحوالے سے ایک ’’معتدل‘‘ رہ نما شمار کیا جاتا ہے۔ محض ایک کانفرنس میں شمولیت کی دعوت کو بھارت کی جانب سے پاکستان پر ’’دہشت گردوں کی سرپرستی‘‘ کا الزام لگانے کے لئے استعمال کرنا میری دانست میں اپنی نوعیت کا ایک ’’ناگہانی‘‘ واقعہ ہے۔ اس واقعہ نے مجھے امریکی انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے مرتب ہوئی رپورٹ کو مزید سنجیدگی سے لینے پر مجبور کیا ہے۔ ٹرمپ کا تضحیک بھرا ٹویٹ میری پریشانی کا مداوا نہیں۔

بشکریہ نوائے وقت

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *