یہ سول مارشل لاء نہیں تو اور کیا ہے؟

” بلی تھیلے سے باہر آگئی “۔۔۔ کسی کا باطن بےنقاب ہونے کو بیان کرنے کے لیئے گو کہ یہ ضرب المثل بھی بہت گھسی پٹی ہوگئی ۔۔۔ لیکن کیا کیجیئے کہ یہ اصطلاح ایسی جامع و مؤثر تاثر لیئے ہوئے ہے کے جب تک کوئی بھی بلی کہیں بھی تھیلے سے باہرآتی رہے گی یہی مثال پوری شدت سے یاد آتی رہے گی ۔۔۔ یہاں مجھے اسکی یاد میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے اعلان کے حوالے سے آئی ہے اور میں یہ کہنے پہ خود کو مجبور پاتا ہوں کہ انصافی بلی تھیلے سے باہر آگئی ہے ۔۔۔ اور اس بے نقابی پہ میرا دوسرا تبصرہ یہ ہے کہ

‘ نرم سے نرم لفظوں‌ میں بھی افسوسناک بلکہ شرمناک ‘۔۔۔

بڑی شدت سے یوں محسوس ہورہا ہے کہ جیسے مملکت خداداد شاید دوسری بار سول مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر کے زیر نگیں آچکی ہے ۔ الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا کو کبھی اشتہارات کی بندش سے تو کبھی اشتہارات کے نرخوں میں غیر معمولی کمی کےحربوں سے گھائل کیا جارہا ہے اور کبھی ظالمانہ قوانین کی بحالی کی تیاریاں کی جارہی ہیں لیکن تاریخ میں ایسے تمام استبدادی ادوار پہلے کہاں چل سکے ہیں جو اب چل پائینگے ۔۔۔

اور کسے یاد نہیں کہ سول مارشل لا ء تو دور ملک کے پہلے مکمل مارشل لائی حکمران یعنی جنرل ایوب خان کے سر میں میڈیا کو کچل ڈالنے کا جو خناس سمایا تھا اور پھر جس نے 1963 میں پریس اینڈ پبلیکیشنز آرڈی نینس جیسا سیاہ قانون بناکے میڈیا پہ چڑھائی کا شوق فرمایا تھا تو اسے بالآخر کس طرح بدترین ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا ۔۔۔ اس ضمن میں اہل صحافت نے جس عظیم جدوجہد کی راہ اپنائی تھی اور مارشل لائی ظلم کے مقابل جو تاریخی جدوجہد کی تھی وہ اب آزادیء صحافت کی منزل کے ایک سنگ میل کا درجہ رکھتی ہے

لیکن کیا کیجیئے کہ تاریخ کا مسئلہ یہی ہے کہ یہ ایک ایسی کتاب ہے کہ اس سے کوئی سبق نہیں سیکھتا ۔۔۔ ورنہ تحریک انصاف کے دور میں یوں انصاف اور جمہوری حقوق کا گلہ گھونٹنے کی جسارت ہرگز نہ کی جاتی اور وفاقی کابینہ میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام کی منظوری قطعی نہ دیتی ۔۔۔ ستم ظریفی یہ کہ میڈیا کی مشکیں کسنے کے اس نئے ظالمانہ بندوبست کو بھی ابلاغ و اطلاع کی بہتری کے آدرش سے جوڑ کر دکھایا جارہاہے اور ستم بالائے ستم یہ کہ یہ گھناؤنا جھوٹ بھی بولا جارہا ہے کہ اس نئی اتھارٹی کے قیام کے سلسلے میں تمام صحافتی تنظیموں کو اعتماد میں لے لیا گیا ہے جبکہ عالم یہ ہے کہ اس حکومتی اقدام پہ کونسل آف پاکستان نیوزپیپر ایڈیٹرز چاک گریباں کیئے ماتم کناں ہے اور اس نے (سی پی این ای) اپنے کھلے اور دوٹوک بیان میں الیکٹران اور پرنٹ میڈیا سے متعلق اداروں کو تحلیل کر کے ’’میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی‘‘ کے نام سے ایک نئے ادارے کے قیام کے حکومتی اعلان کو میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کے مترادف قرار دیا ہے۔

حکومت کے اس حد درجہ مکروہ اعلان سے صاف صاف لگتا ہے کہ ایک نیا معاہدہ عمرانی منظور کرنے کا حربہ اختیار کیا جارہا ہے ۔۔۔ لیکن یہاں کسی ایسے معاہدے کی بات نہیں کہ جو سوشیالوجی کی اصطلاح میں عوام اور ریاست کے مابین کسی بہتر سماجی بندوبست کا ذریعہ بن سکے اور نہ ہی اسکے دوسرے فریق عوام ہیں بلکہ یہاں تو بات ہےانصافی و عمرانی حکومت کی جانب سے میڈیا کو لاچار و مجبور کرکے اپنی شرائط ماننے پہ مجبور کرنے کے عمرانی معاہدے یا اقدام کی ۔۔۔ اس اتھارٹی کے قیام سے اب حکومت ایک ہی جھٹکے میں میڈیا کی گردن مروڑ سکے گی کیونکہ وہ اب ایک ہی پلیٹ فارم سے ملک کے تمام میڈیا کو کنٹرول کرنے کے قابل ہوجائے گی ۔۔ اس حوالے سے سی پی این ای کا واضح مؤقف ہے کہ گو پرنٹ میڈیا سے متعلق قوانین کو اسے مزید بہتر کرنا بیحد ضروری ہے تاہم کسی بھی قسم کے فارمولے کو وضع کرنے اور قوانین بنانے سے قبل متعلقہ تمام فریقوں سے مشاورت ناگزیر ہے۔ اور فی الوقت پرنٹ میڈیا کے لیے خصوصی قوانین کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور مناسب یہی ہے کہ پرنٹ میڈیا کو عام قوانین کے تحت ہی اپنا کام کرنے دیا جائے۔

کونسل آف نیوزپیپرز ایڈیٹرز کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ میڈیا کی ریگولیشن کے نام پر پرنٹ میڈیا کو کنٹرول کرنے کے عزائم پر مبنی کسی بھی قانون اور اقدام کے لیئے ملک میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ سی پی این ای کا مؤقف ہے کہ پاکستان میں پرنٹ میڈیا سے متعلق قوانین کو آئینی تقاضوں اور عوامی امنگوں کے مطابق اسے مزید بہتر کرنا اگرچہ وقت کا تقاضا ہے لیکن کسی بھی قسم کے فارمولے، فیصلے یا قوانین بنانے سے قبل متعلقہ فریقوں کی مشاورت انتہائی ضروری اور ناگزیر ہے۔ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کی قانون سازی اور بنیادی فیصلہ سازی کے لیے ایڈیٹروں، صحافیوں اور ناشرین سمیت متعلقہ فریقوں سے مشاورت انتہائی ضروری ہے۔ سی پی این ای کا واضح مؤقف ہے کہ پرنٹ میڈیا کے لیے خصوصی قوانین کی کوئی ضرورت نہیں ہے اور پرنٹ میڈیا کو عام قوانین کے تحت ہی اپنا کام کرنے دیا جائے۔ اس ضمن میں پچھلے ادوار میں تمام صحافتی تنظیموں نے ڈٹ کر ایسے امتیازیو جابرانہ قوانین کی مزاحمت کی ہے حکومت کو میڈیا کے ہر شعبے کوایک ہی قانون کی لاٹھی سے نہیں ہانکنا چاہیئے کیونکہ میڈیا کی ہر کیٹیگری کے اپنے مخصوص مسائل، اور طریقہ کار ہوتے ہیں، حقائق جاننا آئینی طور پہ عوام کا بنیادی حق ہے اور انہیں پیش کرنا میڈیا کا اساسی فریضہ ہے اور اس رستے میں کسی بھی رکاوٹ کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ پرنٹ میڈیا ایک طویل عرصے سے اپنے اس ضابطہء اخلاق پہ کاربند ہے کہ جس کو معاشرے کے سبھی طبقوں کا اعتماد میسر ہے جسکے ہوتے مزید کسی قانون کی تشکیل اور نفاز میڈیا کا بازو مروڑنے کے مترادف ہے

دیکھا جائے تو سی پی این ای کا یہ مؤقف برحق ہے جسے تسلیم کرنے میں انصافی حکوت جتنی دیر لگائے گی حکومت پہ میڈیا کی بداعتمادی اتنی ہی بڑھے گی اور مسائل اتنے ہی اور گھمبیر ہوتے چلے جائینگے ، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ سول مارشل لائی پنجے نکالے دانت نکوستی پی ٹی آئی حکومت نے شاید میڈیا کو اپنا حریف ہی باور کررکھا ہے اور بد قسمتی سے وہ اس مائنڈ سیٹ سے نکلنے کے بجائے مسلسل آمرانہ ہتھکنڈوں کی راہ پہ بگٹٹ دوڑتی چلی جارہی ہے اور اگر اسکے سرکش مگر نادان دوستوں کو نہ روکا گیا توایسی بڑی تباہی مقدر بن سکتی ہے کہ جس سے اس ملک میں جمہوریت کا مستقبل ہی خطرے میں پڑجائے گا ۔۔۔

کوئی ہے جو اسے روکے کیونکہ ۔۔۔ ابھی نہیں تو کبھی نہیں۔۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *