پی کے ایل آئی سنٹرز پسماندہ علاقوں میں کسی نعمت سے کم نہیں

پاکستان جیسا ترقی پذیر ملک  جہاں کی عوام غربت اور بے روزگاری جنگ لڑرہی ہو وہیں صحت کے مسائل بھی عوام کو درپیش رہتے ہیں  ہمارے ہاں خوراک کی کمی سے جسمانی کمزوری اور اس کمزوری  سے ہی  بیماریوں کا حملہ ہوتا ہے جبکہ بیماریاں پھیلانے کی دوسری وجہ آگاہی نہ ہونا ہے اور ایسی بیماریاں جو ایک مریض سے دوسرے صحت مند انسان میں منتقل ہونے کی وجہ بنتی ہیں صرف آگاہی نہ ہونا ہے، ہماری ذرہ سی بے احتیاطی یا دوسرے افراد کی بے احتیاطی وجہ سے ہیپاٹائٹس بی ،  سی اور ایڈز جیسا موذی مرض بڑی تیزی سے ہمارے ملک میں پھیل رہا ہے۔ ایسے ہی یہی صورت حال پوری دنیا میں بھیانک شکل اختیار کرتی جارہی ہے عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 7کروڑ 10لاکھ افراد ہیپاٹائٹس کے موذی مرض میں مبتلاہیں جن میں سے 10فیصد یا 71لاکھ افراد پاکستان میں پائے جاتے ہیں، پاکستان میں اس قابل علاج مرض کی پیچیدگیوں کے نتیجے میں سالانہ 40ہزار افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں جس کا مطلب ہے کہ پاکستان میں روزانہ 111افراد اس مہلک مرض کے نتیجے میں انتقال کر جاتے ہیں
صوبہ پنجاب میں ہیاپائٹس کے مریضوں کی تعداد جنوبی پنجاب کے علاقوں میں زیادہ ہے اور ان میں سرفہرست راجن پور ہے ، راجن پور جیسے پسماندہ علاقے میں اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد کا زیادہ ہونا دراصل آگاہی نہ ہونا ہے جس کی وجہ سے یہ مرض ایک مریض سے دوسرے انسان میں منتقل ہوتا ہے یہاں اکثر لوگ اپنی سیکریننگ یعنی ٹیسٹ نہیں کرواتے ، ویسے مرض پھیلنے کے کی وجہ حجام کا ایک ہی بلیڈ بار بار کئی لوگوں پر استعمال کرنا ،استعمال شدہ سرنج ، داندان ساز یا ڈاکٹر سرجری کے آلات ، بچیوں کے ناک اور کان میں چھید کروانے کے لیے ایک ہی سوئی کا استعمال، شریک حیات میں سے کسی ایک کو ہے تو اس سے دوسرے کو اور بچوں تک بھی پھیل جاتا ہے۔ اور اسی طرح نشے کے عادی افراد کا سرنج کے ذریعے نشہ لینا۔
راجن پور جیسے پسماندہ علاقوں میں یہی دیکھا گیا ہے کہ ہیپاٹائٹس کی لوگ نہ تو اسکریننگ کرواتے ہیں اور نہ ہی ہیں قبل از مرض کسی قسم کی کوئی ویکسن لگواتے ہیں۔ اور اگر گھر میں کسی ایک فرد کو مرض لگ چکا ہے تو وہ آہستہ آہستہ پورے کے پورے خاندان میں منتقل ہو جاتا ہے۔ راجن پور میں آبادی کے مطابق وہ طبی سہولیات تو دستیاب نہیں البتہ راجن پور ہیپاٹائسس کی ویکسن اور سیکریننگ کے حوالے سے ایک بہترین اسٹنڈر کا سنٹر قائم کیا گیا ہے۔ جو پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کے تحت قائم ہے جو اس پسماندہ علاقے میں کسی نعمت سے کم نہیں
پاکستان کڈنی اینڈ لیورٹرانسپلانٹ انسٹی ٹیوٹ سنٹر راجن پور کا آغاز اگست 2017 میں کیا گیا تھا جہاں پر  سکریننگ، تمام ٹیسٹ کے علاوہ مفت ادویات و ویکسین فراہم کی جاتی ہے ، پی کے ایل آئی سنٹر راجن پور کے دورے پر آئے ایسوسیٹ پروگرام ڈائریکٹر پی کے ایل آئی پنجاب ڈاکٹر فیصل مسعود سے راقم کی آج ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے  بتایا کہ راجن پور سنٹر میں اب تک 11 ہزار افراد کو ویکسن لگائی جا چکی ہے جبکہ 5 ہزار مریضوں کا علاج مکمل کیا گیا۔ انہوں نے بتایا  سی ای او پی کے ایل آئی جناب ڈاکٹر جواد ساجد کی محنت اور خصوصی توجہ سے پنجاب بھر کے سنٹرز بڑی کامیابی سے چل رہے ہیں، ڈاکٹر فصیل نے بتایا کہ سی ای او پی کے ایل آئی ڈاکٹر جواد ساجد پنجاب پسماندہ  اضلاع پر خصوصی توجہ دیے ہوئے ہیں اور ان کی ہدایات کے مطابق خصوصاً جنوبی پنجاب کے علاقے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور جہاں اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد زیادہ وہیں علاج کے ساتھ عوامی آگاہی بھی زیادہ دی جائے اس بات پر عمل کرتے ہوئے ہماری ٹیم کے لوگ مختلف تعلیمی اداروں  میں جا کر آگاہی دے رہے ہیں۔ ہم آگاہی کے سلسلے میں میڈیا اور سول سوسائٹی کی بھی معاونت حاصل کرتے رہتے ہیں
ڈاکٹر فیصل نے راجن پور بارے میں بتایا کہ سنٹر میں فراہم کی جانے والی سہولیات مفت ہیں اگر باہر پرائیویٹ لیب سے  سیکریننگ یا ٹیسٹ کروائے جائیں تو سات سے پندرہ ہزار کے اخرجات آتے ہیں جو یہاں بغیر کسی فیس کے مفت کیے  جاتے  ہیں۔ ہیاپائٹس کے مریض کا علاج کئی ماہ تک جاری رہتا ہے جس پر بھاری اخرجات آتے ہیں جبکہ پی کے ایل آئی میں تمام تر ادویات کی مفت فراہمی کی جاتی ہے۔ پی کے ایل آئی سنٹر راجن پور میں سیکریننگ کروانے والے تمام افراد کا ڈیٹا محفوظ ہوتا ہے۔ کسی مریض کے جاری علاج میں باقاعدہ پی کے ایل آئی کے لوگ ان سے رابطے میں رہتے ہیں ۔جبکہ راجن پور پی کے ایل آئی سنٹر میں تعینات سینئر میڈیکل آفیسر ڈاکٹر قرة العین عاصمہ ، ایڈمن پی کے ایل آئی سنٹر راجن پور ندیم افضل سومرو و دیگر سٹاف ہر ممکن کوشش ہوتی ہے یہاں پر آنے والے تمام افراد کی مکمل رہنمائی کرتے ہیں، ٹیسٹ سے لے کر ادویات کی فراہمی تک مراحل کی نگرانی ڈاکٹر قرۃ العین عاصمہ اورایڈمن ندیم افضل سومرو کرتے ہیں۔ یہ لوگوں انہیں ویکسن کی تاریخ آنے پر بروقت  اطلاع بھی  دیتے ہیں۔
ڈاکٹر فیصل مسعود نے بتایا کہ ہمارے معاشرے میں  لوگ علاج میں غفلت اور کوتائی برتتے ہیں جس کی وجہ سے وہ مکمل صحت یاب نہیں ہو پاتے۔ لہذا ایسے مریض جن کا علاج جاری ہے وہ باقاعدگی سے اسے جاری رکھیں۔ڈاکٹر فیصل مسعود نے کہا کہ ہم سب مل کر اس  کوشش کو جاری رکھیں کہ یہ مرض دوسرے افراد میں منتقل نہ ہو تو اس کے لیے ہمیں عوام میں آگاہی دینے کی زیادہ سے زیادہ ضرورت ہے جس میں معاشرے کا ہر فرد اپنی اپنی جگہ اس میں اپنا کردار ادا کرے۔ اس بیماری سے متعلق تمام احتیاطی تدابیر ہی مرض لگنے سے بچا سکتی ہیں
بشکریہ عبدالجبار دریشک

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *