شاید حکومت مالی خسارے کا ہدف حاصل نہ کرسکے، وزیر مملکت

لاہور: وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر کا کہنا ہے کہ حکومت گزشتہ 6 ماہ میں کئی اقدامات کرنے کے باوجود رواں مالی سال جی ڈی پی کے خسارے کا 5.1 فیصد کا ہدف حاصل کرنے کے حوالے سے ابھی کچھ کہہ نہیں سکتی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم صنعتوں سے گیس انفرا اسٹرکچر ڈیولپمنٹ ایریئرز کو بحال کرنے اور عوام پر اضافی بوجھ ڈالے بغیر محصولات کو بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں‘۔

آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن کے رہنماؤں سے ملاقات کے بعد ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ رواں ماہ عدالت میں پریپیڈ موبائل ریچارج پر ٹیکس کے خاتمے کے حوالے سے نظر ثانی پٹیشن میں ہم عدالت کو متبادل پیشکش پر بھی غور کر رہے ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ مالی سال کے دوسرے حصے میں ٹیکسز میں اضافہ کرسکیں گے تاکہ خلا کو پُر کیا جاسکے۔

خیال رہے کہ مالی سال کے پہلے حصے میں ٹیکس جمع کرنے کا ہدف پورا نہیں ہوسکا اور صرف 172 ارب روپے کے ٹیکس جمع ہوسکے، تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اب تک جمع کیے گئے ٹیکس اور نظر ثانی شدہ 43 کھرب 98 ارب روپے کا ٹیکس ہدف سال کے آخر میں مزید بڑھیں گے۔

واضح رہے کہ چند روز قبل عالمی مالیاتی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز انویسٹرز سروس کا کہنا تھا کہ حکومت کے پیش کردہ منی بجٹ میں اخراجات میں کمی اور آمدنی میں اضافہ کرنے میں ناکامی کے باعث ملک کا مالی خسارہ رواں سال کے دوران مجموعی ملکی پیداوار (جی ڈی پی) کے 6 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ منی بجٹ میں ملک کے پیداواری شعبے کی ترقی کے لیے برآمدات میں اضافہ کرنے کا اعلان تو کیا گیا لیکن خسارے کا 5.1 فیصد کا ہدف حاصل کرنے کے لیے آمدنی میں اضافے کے اقدامات کو نظر انداز کیا گیا۔

دوسری جانب اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سال کی پہلی ششماہی کا تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ ہے جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں کمی اور قیمتوں اور ڈیوٹیز میں استدلال سے استحکام حاصل کرنا ایک چیلنج بن گیا ہے۔

مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں خسارہ 1.4 فیصد تک بڑھ چکا ہے جس کی وجہ سے مالی پیداوار میں کمی کا سامنا ہے جبکہ مجموعی اخراجات میں وفاقی و صوبائی حکومتوں کے اخراج میں بڑی تبدیلیوں کے باوجود کوئی کمی نہیں آئی۔

وزیر مملکت نے ملک کو درپیش مالی بحران کا ذمہ دار گزشتہ حکومت کو ٹھہرایا اور کہا کہ ’ان کے پاس خلا کو پر کرنے کے لیے متبادل اقدامات پیش کیے بغیر چھٹا بجٹ پیش کرنے کا کوئی حق نہیں تھا، ان کی وجہ سے ہمیں گزشتہ سال 6.6 فیصد کے مالی خسارے کا سامنا ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے اقدامات نہیں کیے ہوتے تو ماہرین کے مطابق 19-2018 میں یہ مالی خسارہ 7.1 سے 7.5 فیصد تک پہنچ جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ موبائل ریچارج پر ٹیکس کی معطلی سے ریوینیو میں مزید 100 ارب روپے کا خلا پیدا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بیرونی شعبے بہتر ہورہے ہیں اور مالی سال کی پہلی ششماہی کا موجودہ خسارہ گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہوکر 4.4 فیصد تک ہوگیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ حکومت نے 25 سے 30 ارب ڈالر کی قرض کی رقم کو استعمال کرکے مصنوعی طور پر ایکسچینج ریٹ کم رکھا جس کی وجہ سے ملک کی برآمدات پر دباؤ پڑا اور ملک پر قرضوں کے بوجھ میں بھی اضافہ ہوا۔

انہوں نے جائیداد کی قیمتوں کی شرح میں اضافے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد ریئل اسٹیٹ مارکیٹ کو ریگولیٹ کرنا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *