ہندوستان دشمنی اور گاندھی کا کردار

ہمارا شمار ان عظیم پاکستانی اکثریت میں ہوتا ہے جنھوں نےہندوستان دشمنی کو وراثت میں پایا تھا۔ اسی لیے غیر مسلموں سے بالعموم اور ھندوؤں سے بالخصوص نفرت تعلیمی درجوں کے​ ساتھ ساتھ بڑھتی رہی۔ نفرت کی اس وراثت پر پہلی چوٹ اس وقت​ پڑی جب اسی(80) کی دھائی میں​ مولانا وحیدالدین خاں سے واسطہ پڑا۔
​ ان کے فکر سے بھی اس وقت گھن آتی جب وہ تقسیم ھند پر شدید تنقید کرتے۔ ہم​ ان کے اس جملے پر تلما کر رہ گئے جب انھوں نے لکھا کہ جناح بس ایک کامیاب وکیل تھے ،لیڈر ہر گز نہیں ۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ یہ بات کس دلیل کی بنیاد پر کہتے ہیں تو​ جواب ملا کہ جناح صاحب​ نے ایک کامیاب وکیل کی طرح تقسیم کا مقدمہ تو جیت لیا لیکن وہ پاکستان کا مقدمہ ہار گئے۔ ان کا خیال تھا کہ ہندستان سے علیحدہ ہو کر وہ پاکستان کو ایک کامیاب اسلامی ریاست​ بنانے میں کامیاب ہوسکیں گے لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔​ پاکستان مادی طور پر کوئی کامیابی حاصل کر سکا نہ مذہبی طور پر۔​ ان کے​ بالکل برعکس مولانا ابوالکلام آزاد اور گاندھی نے پاکستان بننے کے بعد​ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے جن خطرات کا خدشہ ظاہر کیا تھا وہ لفظ بلفظ پورے ہوئے۔ اس سے ثابت ہوا کی جناح مستقبل کے بارے میں درست اندازہ نہ کر سکے۔ البتہ وہ کانگریس کو شکست دینے میں ضرور کامیاب ہوئے۔​ ہمارے پاس اس تنقید کا کوئی جواب نہ تھا۔ مگر یہ کہہ کر ہم اپنی شرمندگی کو چھپاتے کہ بھارت نے کون سا تیر مار لیا ہے لیکن سچی بات یہی ہے اپنی دلیل کی کمزور ی کا احساس دل میں کانٹا بن کر چبھ گیا تھا۔​
​ ہماری نظریات کی اصل کایا کلپ اس وقت ہوئی جب ہمیں​ پاکستانی نژاد برطانوی ڈاکٹر سعید صاحب نے ایک اساءنمنٹ دی۔ مصعب پبلک سکول کے پرنسپل جناب محمد اسحاق صاحب کی وساطت سے ہمیں تاریخ ہند وپاک پر ایک کتاب لکھنے کے لیے منتخب کیا گیا۔ ڈاکٹر صاحب نے خود بھی ایک کتاب لکھ رکھی تھی جو ہندوؤں کے مسلمانوں پر مظالم پر مشتمل تھی۔ ان کا خیال تھا کہ طلبہ کے لیے ایسی کتاب تحریر کی جاۓ جس سے ہندو ذہنیت ان کے سامنے آئے۔ دراصل وہ ہماری کچھ تحریروں سے متاثر تھے​ ۔جب میں نے انھیں کہا کہ میرا مطالعہ یہ کتاب لکھنے کے لیے ناکافی ہے البتہ اگر مجھے کم ازکم تین ماہ فارغ ہو کر ایک مربوط مطالعہ کی سہولت مہیا کی جائے تو میں یہ کام کر سکتا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب نے از راہ عنایت یہ سہولت بہم پہنچا دی ۔ میں نے لائبریری میں ٹھکانا بنایا اور نمونے کے طور پر ایک باب لکھ کر باقی کتاب کا نقشہ ڈاکٹر صاحب کے حوالے کر دیا۔ اور ساتھ ہی کہہ دیا کہ مجھے افسوس ہے ، جن خیالات کو ساتھ لے کر میں نے مطالعہ شروع کیا تھا وہ اب بدل چکے ہیں ۔ اور اب انھی بدلے ہوئے نظریات کے ساتھ ہی میں یہ کتاب لکھ سکتا ہوں ۔ یہ غالباََ 2004​ کی​ ​
بات ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے جب میرے " بدلے ہوئے نظریات" پڑھے تو شدید غصے میں آ گئے کیونکہ میں نے ھندوؤں کو مظلوم اور برصغیر کے مسلمانوں کو غاصب اور مجرم قرار دیا تھا۔ انھوں نےشدید رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں نے آپ کو ستر ہزار روپے اس مقصد کے لیے ہر گز نہیں دیے تھا کہ آپ " خبیث ہندوؤں " کی طرف داری کریں۔ میں نے مصعب سکول سوسائٹی کے سربراہ جناب پرویز ہاشمی اور پرنسپل جناب محمد اسحاق پر واضح کردیا کہ میرے استاد نے میری یہی تربیت کی ہے جو حقائق بندےپرواضح ہوں اسی کو قبول کرنا ہی درست رویہ ہے چاہے اس میں آدمی کا سایا بھی اس کا ساتھ چھوڑ دے۔ میں​ نے عرض کی کہ سلاطین دہلی​ میں سے کسی نے اپنی ہندو رعایا کو اسلام کی طرف راغب نہیں کیا ۔ کوئی ادنیٰ درجے کی کوشش نہیں کی بلکہ ان کی خواہش یہی رہی یہ وہ ہندو ہی رہیں اور ان کو جزیہ ( وہ ٹیکس جو مسلمان حکومت غیرمسلموں سے سزا کے طور پر وصول کرتی ہے ) ملتا رہے۔ اس میں صرف عمر بن عبد العزیز کے زمانے کی امارت سندھ اور اورنگزیب عالمگیر کا استثناء ہے۔ اورنگزیب عالمگیر نے بھی تبلیغ کے بجائے مذہب کورعایا پر ٹھونسنے کی کوشش کی ۔ اس لیے جن ہندوؤں نے اسلام قبول کیا انھوں نے صرف سر جھکایا ، دل سے اسے قبول نہ کیا۔ اسی طرح میں نے یہ بھی گزارش کہ گاندھی کے معاملے میں بھی ڈاکٹر موصوف کی رائے درست نہیں ۔ گاندھی بے شک تقسیم کے سخت خلاف تھے لیکن پاکستان بننے کے بعد گاندھی مرحوم کا کردار قابل رشک ہے ۔ وہ ہم پاکستانیوں کا محسن ہے ، انھیں پاکستان اور مسلمانوں کی حمایت کرنے پر گولی ماری گئی۔ کاش ڈاکٹر صاحب سے میں اب رابطہ کر سکتا تو انھیں نتھورام گوڈسے کی وہ تقریر سناتا جو اس نے پھانسی لگنے سے قبل ریکارڈ کرائی تھی۔​ میں انھیں آج کے ھندستان میں مودی حکومت اور اس کے بنیاد پرست ہندتوا عناصر کے مظاہرے دکھاتا کہ وہ گاندھی کے مجسمے کو جوتے اور گولیاں مار رہے ہیں اور گوڈسے کے مجسمے کو ہار پہنا رہے ہیں اور گاندھی کو مسلمانوں کا ایجنٹ ثابت کر ر ہے ہیں۔​ یہ کوئی رائے نہیں ، وہ واقعات ہیں جو سب کی آنکھوں کے سامنے ہو رہے ہیں ۔​
خیر میری بات کو دونوں حضرات نے تسلیم کیا اور یوں ہم جناب ہاشمی صاحب اور اسحاق صاحب کے ساتھ ڈاکٹر موصوف کے گھر پہنچے ۔ وہ ڈیفنس میں اپنا عالیشان بنگلہ بنوا رہے تھے۔​ ہاشمی صاحب نے میری طرف سے بات کا آغاز کیا کہ نعیم صاحب اپنی رائے پر قائم ہیں اور یہ رائے آپ کی رائے سے سو فیصد مختلف ہے​ ۔ اب چونکہ آپ اپنی رقم کسی ایسے مقصد​ پر خرچ کرنا پسند نہیں کر یں گے جسے آپ درست​ نہیں سمجھتے۔ یہ کہہ کر انھوں نے اسحاق صاحب کی طرف دیکھا اور انھوں نے ستر ہزار روپے کا پیکٹ ان کی طرف بڑھایا۔​
مجھے ڈاکٹر صاحب کا سرخی مائل سفید رنگ ٹماٹر کی طرح سرخ ہو نا ابھی تک یاد ہے۔ انھوں نے اپنے ہاتھ سکیڑے​ اور قدرے​ شرم سار سے لہجے میں جو جملہ کہا اس کا مفہوم یہ تھا کہ میں تحقیق کی قدر کرتا ہوں لیکن یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ان کے گلے پڑ جائے گی۔ مگر دی ہوئی رقم واپس لینا میں مناسب نہیں سمجھتا۔ کیونکہ نعیم صاحب نے کام تو بہرکیف کیا ہے اور میرے کہنے ہی پر کیا ہے۔ ہم سب نے اصرار کیا مگر انھوں نے رقم واپس نہ لی۔
​ مجھے نہیں معلوم کہ بعد میں سکول کی سوسائٹی نے ڈاکٹر صاحب سے کیا معاملہ​ کیا البتہ میں نے اپنا کام جاری رکھا ، کتاب مکمل کی اور اس کا مسودہ سکول کے حوالے کر دیا۔
​ میری یہ کتاب اپنے اندر​ کئ انکشافات رکھتی ہے لیکن اس وقت ہم اپنی معروضات گاندھی ہی تک محدود رکھیں گے جس کا خلاصہ یہ ہے :​
گاندھی ہندو دھرم کی ذات پات کی فلاسفی کے خلاف تھے۔ اس لیے برہمن قسم کے ہندو یعنی بنیاد پرست ان کے شدید خلاف ہیں ۔​
گاندھی وحدت الوجود ، ہمہ اوست ،وحدت ادیان ، اہنسا کے ماننے والےاور نباتی ( vegetarian) تھے۔ ان کی یہ فلاسفی ہمارے ہاں کے کئی صوفیاء کے مطابق ہے۔ بلاشبہ اس میں ہم کسی نظریے کی حمایت نہیں کرتے بلکہ اسے سراسر گمراہی سمجھتے ہیں لیکن گاندھی اس میں سے کسی نظریے کو دوسرے پر تھوپنے کے قائل نہیں تھے ۔ اس حوالے سے وہ سیکولر تھے۔ یہ بلاشبہ قابل تعریف بات ہے۔​
انھوں نے بالاتفاق پاکستان کو 50 کروڑ روپے دلانے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ اس وقت دوسری جنگ عظیم کی وجہ سے کوئی ملک پاکستان کو قرض دینے پر تیار نہ تھا۔ اگر یہ رقم پاکستان کو نہ ملتی تو نوزائیدہ پاکستانی حکومت انتہائی بحران کا شکار ہو جاتی۔ بلکہ دیوالیہ ہو جاتی۔
گاندھی نے تقسیم کے وقت ہندو مسلم سکھ فسادات رکوانے میں انتہائی کلیدی کردار ادا کیا۔ خاص طور پر دہلی اور کلکتہ میں ان کی مداخلت سے ہزاروں مسلمانوں کی جانیں محفوظ ہوئیں۔ کلکتہ میں وہ اپنے ایک مسلمان دوست کے ہاں قیام پزیر ہوئے اور اس وقت تک مرن بھرت رکھا جب تک شہر میں امن و امان قائم نہ ہوگیا۔( جاری ہے)​ ​

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *