بحث میں کامیابی کیسے سمیٹی جائے؟

" جازمین ہیوز "

2016 میں ورلڈ یونیورسٹیز ڈیبیٹنگ چمپئن شپ جیتنے والی دو رکنی ٹیم کے سربراہ فینل مشواما کا کہنا ہے کہ  ان وجوہات پر توجہ دیں جن کی بنا پر کوئی آپ سے اختلاف رکھتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ  صرف اپنی مضبوط پوزیشن پر قائم رہنا کافی نہیں ہے۔  مثال کے طور پر آپ یہ سمجھ لینا چاہیے کہ کم سے کم تنخواہ بڑھانے کے معاملے پر دونوں  پارٹیوں کے پاس مضبوط دلائل موجود ہو سکتے ہیں۔ مشواما کہتے ہیں : میں اپنے نکتے کی حمایت میں بہت اچھے دلائل دے سکتا ہوں۔  لیکن یہ ممکن ہے کہ میرے دلائل ان اعتراضات کا جواب نہ ہوں جو میرا مخالف بیان کر سکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ چیز بہت عام ہے ۔ بہت مواقع پر ایسا ہوتا ہے کہ بحث کرنے والے  2 مخالف گروپ ایک دوسرے کی بات سن ہی نہیں رہے ہوتے۔ اس لیے  بہتر یہ ہے کہ صرف اپنے مضبوط دلائل پیش کرنے کی بجائے  اپنے مخالفین کے بیانات پر  توجہ دی جائے۔

سب سے پہلے آپ کو جلد از جلد  اپنے لیے  بنیادی اصول و ضوابط   طے کر لینے چاہیے۔ اگر آپ اور آپ کا مخالف  کچھ خاص نکات پر متفق نہیں ہوں گے ، مثال کے طور پر آپ کو اس بات  پر بھی اختلاف ہے کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے، تو پھر آپ کسی صورت باہمی اتفاق   کے مقصد کو حاصل نہیں کر سکتے۔ آپ کو اپنی   پوزیشن کی حدود کا تعین کر لینا چاہیے۔ یہ بہت ضروری قدم ہے کیونکہ  اپنے نکات کو تھونپنے کی کوشش کرنے سے آپ  کی کریڈیبلٹی سے سامعین کی توجہ ہٹ جاتی ہے۔ اس صورت میں اپنے مخالف کی توجہ حاصل کرنا بھی پیچیدہ ہو جاتا ہے۔

جب آپ کی طرف سے دلائل کی باری آ جائے تو سب سے اہم چیز آپ کے موقف کا کلیر اور واضح ہونا ہے۔ بولنا آسان ہے سننا مشکل  اس لیےاکثر کوئی غلط فہمی بھی پیدا ہو جاتی ہے ۔ اگر آپ کا مخالف آ پ کو سن نہیں رہا تو آپ اسے کسی صورت مطمئن نہیں کر سکتے۔ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ آپ دوسروں پر حقائق تھونپنے کا بے پناہ سلسلہ شروع کرنے سے بچے رہیں۔ ایسا کرنےسے سننے والے فیصلہ کرنے میں  مشکل کا شکار ہو سکتے ہیں۔یہ حقیقت ہے کہ  آپ لوگوں کو مطمئن نہیں کر پاتے بلکہ  لوگ خود اپنے آپ کو مطمئن کر لیتے ہیں۔  آپ کا کام صرف ان کو مطمئن کرنے کے راستے پیدا کرنا ہے۔

اس کے علاوہ مخالف کے نظریہ کا آئینہ پیش کرنا، نظریں اس پر جمائے رکھنا اور اپنی آواز آہستہ رکھنا بھی اہم خصوصیات ہیں  جو جیت میں معاون ثابت ہو سکتی ہیں۔ سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ آپ  جانتے ہوں کہ آپ جو دلیل دے رہے ہیں اس کا کوئی برا پہلو نہیں نکالا جا سکتا۔ کئی بار ایسا بھی ہوتا ہے کہ صرف دوسرے کو مطمئن کرنے کے لیے نہیں بلکہ  اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے دلائل دینے پڑتے ہیں۔ ایسے بہت سے دلائل ہوتے ہیں جو اچھے نہیں ہوتے اور نہ انہیں اچھا بنانا مقصد ہوتا ہے  لیکن ضروری نہیں کہ ایسے سب  دلائل پیش کر دیئے جائیں چاہے آپ کو یقین بھی ہو کہ ایسا کرنا درست  قدم ہو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *