جاپانیوں کی دیانت داری

کل لاطینی امریکہ کے ایک دور افتاہ ساحل کنارے ریستوران میں جاپانی سماج گفتگوگاموضوع تھا۔جنوبی امریکہ میں پلے بڑھے میرے ان دوستوں کے لئے جاپان ایک حیرت کدہ تھا۔کان کنی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ایک مقامی دوست نے مجھ سے استفسار کیاکہ سنا ہے جاپان میں کھیتوں اور باغات کے کنارے پھل اور سبزیاں رکھ دی جاتی ہیں،ان پر قیمت کاپرچہ آویزاں کیاجاتا ہے ،اور پیسوں کے لیے ایک ڈبہ رکھ دیا جاتا ہے ۔لوگ آتے ہیں،پھل،سبزیاں خریدتے ہیں اور قیمت کے پیسے ڈبے میں ڈال کر چلے جاتے ہیں۔حالانکہ دوکان دار کوئی بھی نہیں ہوتامگرلوگ چوری نہیں کرتے اور بددیانتی کامظاہرہ بھی نظرنہیں آتا،کیا یہ بات سچ ہے؟
میں نے اثبات میں جواب دیا کہ یہ بالکل صحیح منظرکشی ہے اورماجرابھی سارا سچ ہے ۔میراجواب سن کریہ دوست کہنے لگاکہ یقین کرواگریہی پھل ،سبزی کااسٹال یہاں چلی میں کسی کھیت کنارے ہوتوچندمنٹوں کے اندرپھل اور پیسوں کاڈبہ،دونوں غائب ہوجائیں گے۔بات صرف چلی کی نہیں ایسامنظرجاپان کے علاوہ شایدآپ کو دنیاکے کسی بھی کونے میں نظرنہ آئے ۔یہ وجہ نہیں کہ باقی دنیاچوروں پرمشتمل ہے،بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ من حیث القوم شاید جاپانی باقیوں سے زیادہ دیانتدارہیں۔گرچہ جزوی وجہ یہ بھی ہے کہ جاپان میں مزدور کی یومیہ اجرت 15ہزارروپے ہے،اس لئے تھوڑے سے پھل ،سبزیاں بیچنے کے لئے کوئی آدمی پوری دیہاڑی نہیں بیٹھنا چاہتا،اس کے باوجود کوئی کسان اپنااسٹال لگا کر،اس پر پھل،سبزیاں سجاکرقیمت کا اشتہار لگاتاہے،توپیسوں کاڈبہ وہاں رکھ کرجاتے ہوئے اسے یہ یقین کامل ہوتاہے کہ جب وہ شام ڈھلے واپس آئے گاتوپیسوں کاڈبہ اور بچے ہوئے پھل وہاں پر ضرورموجود ہوں گے۔یہ یقین بھی ہوگاکہ کوئی مفت برپھل سبزیاں اٹھاکرنہیں لے گیاہوگا۔جاپانی سماج میں چوری کا وجود نہ ہونے کے برابرہے۔روایتی مکانات میں توگھرکی کنڈی ہی دروازے پر نہیں لگی ہوتی،تالے کے لئے توجگہ ہی نہیں ہوتی اس لئے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
دلچسپ معاملہ ہے کہ یہاں دنیاکی قدیم ترین تہذیب ’’ان کا‘‘کی زبان اب بھی بولی جاتی ہے جسے’’ کیچوا‘‘کہتے ہیں۔پیرواس آٹھ ہزار سال پرانی تہذیب کامرکز تھااوربولیویاکے بھی زیادہ تر حصوں میں یہ زبان ابھی تک رائج ہے۔’’کیچوا‘‘زبان میں سلام کچھ یوں کیاجاتاہے’’آمایویا،آماکھویا،آماوویا‘‘۔جس کا اردوزبان میں ترجمہ یوں ہوگاکہ ہم بزدل نہیں،ہم سست الوجود نہیں،اور ہم چورنہیں ہیں۔مخالفین کا مگراصرارہے کہ اس مقامی ’’چھولونسل ‘‘جسے عرف عام میں ریڈ انڈین کہاجاتاہے،اس نسل میں تینوں خرابیاں پائی جاتی ہیں،یہ بزدل بھی ہیں،سست الوجود بھی ہیں اور سب کے سب چور بھی ہیں۔یہ ایساہی ہے جیسے ہماراسلام ’’تم پر سلامتی ہو‘‘کے معنی و مطالب رکھتا ہے مگر مخالفین کہتے ہیں کہ ہم دنیا بھر میں لوگوں کے گلے کاٹتے پھرتے ہیں۔اقوام کے باہمی تعلقات کی تاریخ ان کے ایک دوسرے کے بارے میں تاثرات اور تعصبات طے کرتی ہے۔پس جب ایک پاکستانی کی نظر سے لاطینی سماج کو دیکھتاہوں تومجھے اس کے تمام رنگ ہی خوبصورت لگتے ہیں،قوس قزح کی طرح دلکش ،خوبصورت روایات اور انسانیت پرست ،محبت کرنے والے لوگ ۔یہ الگ بات کہ دیانتداری کا معیار یہاں زیادہ بلند نہیں ہے۔
جاپانی سماج میں ایمانداری اور دیانت کی وجوہات پر غور کریں تواس کی وجہ صرف تاریخ،قانون اور ثقافت نہیں بلکہ تربیت بھی ہے۔بچوں کوشروع سے سکول میں پڑھایاجاتاہے کہ اگرآپ کو سڑک پر یا پھر کہیں بھی سرِراہ کوئی قیمتی چیز لاوارث پڑی ملتی ہے تواسے اٹھا کرجیب میں نہیں ڈال لینا،بلکہ قریب ترین پولیس اسٹیشن میں جمع کروانا ہے۔جاپان میں مقیم ایک پاکستانی دوست کا بیٹا،جو تیسری جماعت میں پڑھتا ہے،ایک دن مسجد میں مجھے اس بابت اپنے تجربات بتا رہا تھا،ایک دفعہ اس نے پولیس اسٹیشن جا کر 100روپے کا سکہ جمع کروایاجواسے سڑک پر پڑاملاتھا۔پھرایک دن اس کے ہم جماعت اوروہ سکول سے گھر جارہے تھے کہ انہیں پانچ سو روپے سڑک پر پڑے ملے ،تمام ننھے طلباء نے وہ پیسے اٹھاکر قریب ترین پولیس اسٹیشن کا رخ کیاڈیوٹی پر معمورپولیس اہلکار نے بڑی توجہ سے ان طلباء کی بات سنی ،اس واقعے کی مکمل رپورٹ درج کی اور پانچ سو روپے طلباء سے لے کے سرکاری خزانے میں جمع کرنے کے بعدتمام طلباء کا شکریہ ادا کیا،پولیس اسٹیشن کے دروازے پر ان طلباء کوفرشی سلام کرکے تھانیدارنے رخصت کیا۔یہاں یہ وضاحت کرتا چلوں کہ 100یاپھرپانچ سو جاپان میں انتہائی معمولی رقم ہے،اس کے کرنسی نوٹ بھی نہیں ہوتے ،فقط سکے ہوتے ہیں،پولیس اہلکاراپنے انہماک اور سنجیدگی سے بچوں کویہ درس دے رہا تھاکہ وہ ایک بہت اہم کام سرانجام دے رہے ہیں،جو بے حد پسندیدہ بھی ہے۔یہی بچے ملک وقوم کا مستقبل ہیں۔شایدیہی بچپن کی تربیت کا اثرہے کہ دنیا میں گمشدہ سامان اورمتاع کے واپس ملنے کی سب سے زیادہ شرح جاپان میں ہے۔
روزمرہ کی ایک بات بتا دوں کہ آپ کا بٹوہ یاپھر پرس کہیں گم ہو گیا ہے توغالباًامکان یہی ہے کہ وہ آپ کو صحیح سلامت واپس مل جائے گا۔
میرے ایک جاننے والے نئے نئے پاکستان سے ہجرت کرکے جاپان آئے تواکثر اپنے دوستوں کے ساتھ جاپانی معاشرے کی خامیوں کی نشاندہی کرتے رہتے تھے۔پھرایک دن ان کا پرس گم ہوگیا۔بہت ساری قیمتی اوراہم دستاویزات کے علاوہ قابل ذکر مقدار میں نقدی بھی اس بٹوہ میں موجود تھی۔اب سبر کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا،سو وہ اسی کوشش میں تھے کہ غم غلط کیا جائے۔شام 7بجے کے قریب گھر کی گھنٹی بجی دروازہ کھولا تودو پولیس اہلکارکھڑے تھے۔پہلے تو مذکورہ ہم وطن پاکستانی گھبراگیا،مگرجلدہی ہ گھبراہٹ خوشی میں بدل گئی،جب پولیس اہلکاروں نے بٹوہ نکال کردکھایااورپوچھا کہ کیا یہ آپ کاہے؟کسی شہری نے تھانے آکرہمیں جمع کروایا ہے۔اپنا گمشدہ بٹوہ جسے دوبارہ پانے کی کوئی امید نہ تھی،پولیس سے وصول کرکے خوشی سے نہال ،اپنے ہم مشرب پاکستانی دوستوں سے پوچھنے لگا،کہ یار!کیا یہ لوگ دوزخ میں جائیں گے؟ایمان اور کفر کی بحث میں اترے بغیرعرض کرتا چلوں کہ بددیانت شخص کو اہل پنجاب بے ایمان کہتے ہیں،اور دیانت دار شخص پنجاب میں ایماندار کہلاتا ہے۔
ذاتی تجربہ اس ضمن میں یہ رہا کہ ایک شام ریستوران سے کھانا کھاکرنکلتے ہی زمین پر ایک بٹوہ پڑا ملا۔ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی،بٹوہ کھولا توکسی لڑکی کا ڈرائیونگ لائسنس اور کچھ پیسے اس کے اندر نظرآئے۔ہم پنجاب پولیس کے دہشت زدگان تھانے کے نام سے ذرا گھبراتے ہیں،لہٰذا اردگردنظردوڑائی کہ شاید کوئی اور یہ نیکی کماناچاہے اورتھانے جاکر بٹوہ جمع کروائے۔مگروہاں کوئی نہ تھا۔پولیس سے ایک باعزت فاصلہ رکھتے ہوئے میں واپس ریستوران کے استقبالیے پرپہنچااور انہیں بٹوہ تھما دیاکہ تمہارے دروازے پر پڑاملا ہے۔بیرے نے مجھ سے لیکربٹوہ کاؤنٹرکے اندر رکھ دیا،کہنے لگا کسی گاہک کا ہوگا،امید ہے کہ ڈھونڈتاہوا ادھرآنکلے گا۔بصورت دیگر میں خود جاکرپولیس اسٹیشن جاکرجمع کروادوں گا۔بات کرنے کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ روز مرہ کا کس درجہ معمولی واقعہ ہے۔
جاپان کے ایک دوردراز ساحلی شہرمیں بندرگاہ کے قریب ایک بڈھے کو پریشان دیکھا۔جھنجھلایاہوا،ادھیڑ بن میں اپنی کشتی کے اردگرد چکر لگارہا تھا۔کچھ بڑبڑابھی رہا تھا،میں نے پوچھا باباجی کیا ماجرا ہے؟کہنے لگا کچھ سمجھ نہیں آرہی!!میں نے زوردے کر پوچھا،بزرگوارکیا سمجھ نہیںآرہی؟
بڈھاکہنے لگاکہ صبح جب میں اپنی بوٹ چھوڑکرگیا تھاتو یہ بالکل درست تھی ۔ابھی ابھی واپس آیا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ اس کا انجن غائب ہے۔میں نے ادھرادھربھی دیکھاہے کہ کہیں گرنہ گیا ہو،مجھے قریب قریب بھی کہیں نظرنہیںآیا۔صبح تو بالکل اسٹارٹ تھا،پھرکدھر چلا گیا؟غالباًکوئی روسی بحری جہاز کااہلکاراس کا انجن اتار کرلے گیاتھا،چونکہ قریب ہی روسی بحری جہاز لنگراندازہوتے ہیں۔میں نے جاپانی بڈھے کی مشکل آسان کرتے ہوئے اسے سمجھایاکہ باباجی!آپ کی بوٹ کا انجن چوری ہوچکا ہے۔میری بات سن کر بڈھے نے حیرت کا اظہار کیا۔کہنے لگاہیں!!!وہ کیسے؟وجہ اس حیرت کی یہ تھی کہ شاید پوری زندگی میں اس بزرگ کا پہلی بار کسی چور سے واسطہ پڑاتھا۔اسی لئے اس کوچوری کی واردات کی تفہیم اوررموزسمجھنے میں دشواری کا سامناتھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *