پی ٹی ایم کی خواتین: ’ہم جینے کا حق مانگتے ہیں‘

پشتون تحفظ موومنٹ سے منسلک خواتین: مزاحمتی سیاست نہ عورت کے لیے آسان ہے نہ مرد کے لیے

پشتون معاشرے میں خواتین کا باہر نکلنا اور جلسے جلوسوں احتجاجوں میں شرکت کرنا نہ اتنا سہل ہے یہ ہی عام لیکن گذشتہ برس بننے والی تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ کے جلسوں میں اور سوشل میڈیا پر تنظیم کی مہمات میں سماجی کارکن اور پشتون خواتین کی ایک بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے۔ اس کلچر اور روایات میں اس کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی پھر یہ ممکن کیسے ہوا اور یہ خواتین تنظیم میں کس قدر فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔ اور کیا رکاوٹیں عبور کرنے کے لیے کوشاں ہیں یہی سوالات ہماری ساتھی حمیرا کنول نے تنظیم سے منسلک پانچ خواتین کے سامنے رکھے۔

’بھائیوں نے بھی کبھی میرا راستہ نہیں روکا‘

میں ورانگہ لونی ضلع زیارت کی تحصیل سنجاوی کے ایک مزدور گھرانے سے تعلق رکھتی ہوں۔

پرائمری تک لڑکوں کے سکول میں گئی لیکن قبیلے، شمیزئی کے مشران نے مخالفت کی کہ لڑکی کیوں لڑکوں کے سکول میں پڑھ رہی ہے؟ مگر وہیں استاد میرے بھائی ارمان لونی نے بات نہیں مانی۔ پھر میٹرک لڑکیوں کے سکول اور ایف ایس سی کوئٹہ سے کی۔

ماں بتاتی ہیں کہ ارمان اور مجھ میں 17 برس کا فرق تھا لیکن باقی تین بھائیوں اور پانچ بہنوں کی نسبت میں ان کے بہت قریب تھی۔ وہ گھر میں سیاست، ادب شاعری تاریخ اور پشتون ہیروز پر گفتگو کرتے تھے۔

سنہ 2015 میں باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کی ادبی تنظیم میں شامل ہوئی۔

میں نے وقت کے ساتھ اپنے علاقے کے حالات میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں دیکھی۔ بے روزگاری اور غربت ہے بہت اور نوجوان غلط راستہ اختیار کرتے ہیں جوبہت تکلیف دہ ہے۔

جب پشتون تحفظ موومنٹ کا اسلام آباد میں احتجاج ہونا تھا تو کوئٹہ میں کارکنوں نے پیغام لکھا کہ سارے جوانوں کو آنا چاہیے تو میں نے کہا کہ کیوں صرف جوانوں کو ہی کیوں؟ یوں خواتین کو بھی پیغام دیا گیا۔

مجھے آگے بڑھنے میں، بولنے میں مشکل نہیں ہوئی بھائیوں نے بھی کبھی میرا راستہ نہیں روکا۔

ورانگہ

ورانگہ اپنے بھائی ارمان لونی کی ہلاکت کے بعد قلعہ سیف اللہ میں احتجاج سے خطاب کرتے ہوئے

لوگ امی سے کہتے تھے کہ یہ غلط بات ہے عورت کا یوں نکلنا۔ امی بھائی سے تو ڈرتی تھیں لیکن مجھے کہتی تھیں کہ اگر تم مر گئی تو کوئی مسئلہ نہیں بس ارمان کو کچھ نہیں ہونا چاہیے۔ اور بابا کہتے تو تھے کہ یہ غلط ہے لیکن روکتے نہیں تھے۔

اسٹیبلشمنٹ کو تو ہم سے مسئلہ تھا جسے انھوں نے قبائلی طریقے سے حل کرنا چاہا۔

مئی میں ہمارے سردار ارمان سے ملنے آئے اور کہا کہ بیٹھ جاؤ، یہ کس طرح کا کام ہے تم فوج کے خلاف بول رہے ہو۔ یہ چھوڑو وطن کی باتیں بہن کو بٹھاؤ، تمھاری عزت ہے، غیرت ہے اسے تم کیسے نکال سکتے ہو؟

ایسا دو تین بار ہوا۔ ہمارے انکار پر ہمارے دور کے رشتہ داروں کو پیسے دیے گئے جو کوئٹہ میں اسلحہ لے کر گھوم رہے تھے ہمیں مارنے کے لیے۔ ہم نے مشران سے مشورہ کیا اور یوں ہم کوئٹہ سے قلعہ سیف اللہ آ گئے۔

پشاور میں خواتین نے پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے آگاہی مہم چلائی تو کچھ لوگوں نے دکانیں بند کیں، ہم پر پمفلٹ واپس پھینکا لیکن زیادہ لوگوں کا ردعمل اچھا تھا۔

سفر میں مشکلات ہوتی ہیں ایجنسیوں والے فون کرتے ہیں۔ کہاں جا رہے ہو اور کیوں؟ لیکن جو گندا عمل کیا جاتا ہے وہ سوشل میڈیا پر ہماری تصاویر کو ایڈٹ کر کے ڈالا جاتا ہے۔

تاہم اب سخت سے سخت ترین قبائلی لوگ بھی کہتے ہیں کہ ہم جلسوں میں اپنی بیوی، بیٹی اور بہن کو بھی لے کر آئیں گے۔

ارمان کے جانے سے جتنا بڑا نقصان ہوا یہ رائیگاں نہیں جائے گا۔ اس کے بعد ریاست اور خفیہ کال کرنے والوں کسی نے بھی رابطہ نہیں کیا۔

ریاست مانتی ہے کہ نہیں اس سے ہمیں فرق نہیں پڑتا یہ ہمیں پتہ ہے ہماری پشتون قوم کو پتہ ہے کہ ارمان پر تشدد ہوا۔ ہمیں اپنا دشمن معلوم ہے۔

’چاہتی ہوں اب کوئی اور قتل نہ ہو‘

ALI WAZIR MOTHER

میں خوازہ مینا ہوں۔ ساری عمر وزیرستان کے علاقے وانا سے 13 کلومیٹر دور خواخہ نامی گاؤں میں گزری۔ شوہر مشر تھے ملک میر ظالم خان علاقے کے سب لوگ ان کی بات مانتے تھے۔

خدا نے سات بیٹے اور تین بیٹیاں دیں۔ علی وزیر کا چوتھا نمبر ہے۔

میں 80 سال سے زیادہ کی ہوں لیکن 13 سال پہلے مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑا۔ جب میرے دو بچے، دو دیور اور دو بھتیجوں سمیت ہمارے خاندان میں 13 قتل ہوئے۔

پہلا قتل میرے بیٹے کا جولائی 2003 میں ہوا۔ پھر 2005 میں پانچ اکھٹے قتل ہوئے۔

وہاں ازبک لوگ آگئے تھے پھر کچھ مقامی لوگ بھی ان کے ساتھ مل گئے۔ اور میں سمجھتی ہوں حکومت نے ہی انھیں وہاں بلوایا تھا۔ وانا میں جو مشر لوگ تھے۔ آٹھ سو لوگوں کو قتل کیا گیا۔

ہم وانا چھوڑ کر ڈیرہ اسماعیل خان میں کرائے کے گھر میں آ گئے۔ بڑے بیٹے کی تنخواہ پر پورا کنبہ گزارا کرتا تھا۔

گھر میں رہنے والی عورت تھی، نہ کبھی بازار دیکھا تھا نہ شہر۔ میں سوچتی تھی یہ وقت کیسے کٹے گا، ہم کیا کریں گے، اب اور کیا ہوگا؟

علی وزیر

سب لوگ ختم ہو گئے ہیں میں علی وزیر کے ساتھ کھڑی ہوں مجھے معلوم ہے یہ رکنے والا نہیں ہے: والدہ

آپریشن کے بعد گھر گئی تو گھر ٹوٹا ہوا تھا اور سامان غائب تھا۔

عورتیں جلسوں میں آتی ہیں، تحفظ مانگتی ہیں۔ پہلے تو قتل ہوتے تھے گھروں سے نکالا جاتا تھا لیکن اب تو عزتوں کی بات ہے وہ گھروں کے اندر آتے ہیں۔

میں جلسوں میں جاتی ہوں میں اپنے بیٹے وزیر کے ساتھ ہوں۔

میرے بیٹے جو چلے گئے مارے گئے قتل ہوئے میرا ان کے لیے دل جلتا ہے اور چاہتی ہوں اب اور بچے نہ مارے جائیں، کچھ نہ کچھ امن ہو۔

جہاں وہ گئے وہیں ہم سب نے بھی جانا ہے۔ یہ علی وزیر بھی ادھر جائے گا۔ یہ رکے گا نہیں۔ یہ اس کا مشن ہے۔ میں تو اس کی ماں ہوں میں لازمی طور پر اس کا ساتھ دوں گی۔

’تھوڑی لچک پیدا کرو اپنے اندر‘

ثنا اعجاز

کئی بار ملازمت سے نکالا جا چکا ہے باہر نکلتی ہوں تو لوگ ڈراتے ہیں کہ احتیاط کرو: ثنا اعجاز

میں ثنا اعجاز ہوں۔ پشاور میں پیدا ہوئی۔ میری ماں شاہدہ بیگم سماجی کارکن تھیں۔ والد پی ٹی وی میں ملازم تھے اور بھٹو کے جیالے تھے۔

کالج جانے کے بعد میں نے باچا خان ٹرسٹ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کو جوائن کیا۔ جو وہاں پڑھا پشتون ہیروز کے بارے میں وہ ہمارے نصاب میں نہیں تھا۔ یہ نکتہ اور پشتونوں سے امتیازی سلوک یہ سب دیکھ کر میرے اندر کچھ کرنے کی تحریک پیدا کرتا تھا۔

ساتھ ہی میں نے جرنلزم میں ماسٹرز بھی کیا۔ باچا خان میں نوکری کی، لکھنا بھی شروع کیا اور پھر 2013 میں عوامی نیشنل پارٹی میں شامل ہو گئی۔

میں نے آرمی پبلک سکول پر حملے کے بعد کمیشن کے مطالبے اور پاک چین راہداری منصوبے میں پشتونوں کے حق کے لیے بات کی۔ گرفتار بھی ہوئی۔ محسود تحفظ موومنٹ کی حامی تھی۔

گذشتہ سال جنوری میں پی ٹی ایم کے اسلام آباد دھرنے میں شامل ہوئی تو اے این پی نے جس کی میں یوتھ ونگ کی میں صوبائی نائب صدر تھی مجھے شوکاز نوٹس جاری کیا۔

میں نے کہا جو جمہوریت اور عدم تشدد کی بات کرتے ہیں میں ان کے ساتھ کھڑی ہوں گی۔ اپریل میں پارٹی نے نکال دیا اور پی ٹی وی نے بھی یہ کہہ کر نوکری سے نکال دیا کہ ہمیں اوپر سے حکم آیا ہے۔

شرکت گاہ نامی تنظیم نے اپریل میں پشاور کے جلسے کے بعد کہا کہ یا تو آپ پی ٹی ایم کا فیس ہو سکتی ہیں یا شرکت گاہ کا۔ پھر سوات میں خواتین سے متعلق پراجیکٹ کے لیے کام کرتے ہوئے مجھے ایجنسی نے روکا اور وہ نوکری بھی گئی۔ اب میں صرف پی ٹی ایم کی کور کمیٹی کی ممبر ہوں۔

پی ٹی ایم

اے این پی جیسی بڑی جماعت کو چھوڑ کر میں پی ٹی ایم میں اس لیے آئی کیونکہ ہم اسے مزاحمتی سیاسی تنظیم بنانا چاہتے ہیں، پارلیمانی تنظیم نہیں۔ اس حوالے سے ہماری جماعت میں ہر کسی کی اپنی رائے ہے۔

عورت کو لوگ یوں تو برداشت کر لیتے ہیں لیکن آگے آنے میں فیصلہ سازی میں اسے آگے دیکھنا آسان نہیں ہوتا۔ لیکن بہت سے دوست ایسے ہیں جو چاہتے ہیں کہ اس جدوجہد میں عورتیں شامل ہوں۔ میری اصول پسندی کو دیکھ کر منظور پشتین بھی کہتے ہیں کہ تھوڑی لچک پیدا کرو اپنے اندر۔

ہم نے مسجدوں، بازاروں اور حجروں میں جا کر مہم چلائی۔

لیکن آن لائن ہراساں کیا جانا۔ تصویریں ایڈٹ کرنا، گالیاں اس سب کا مسلسل سامنا کرنا پڑتا ہے۔ سوات میں کانجو کے مقام پر میرے بینرز لگائے گئے اور لکھا گیا کہ یہ را کی ایجنٹ ہے۔

sanna ejaz

میں بازار جاؤں سفر کروں کسی سے بات چیت کروں لوگ ڈراتے بھی ہیں احتیاط کرنے کو بھی کہتے ہیں۔

ایڈٹ کی گئی ویڈیوز سے ہم ڈپریس ہوتے ہیں۔ ہر جلسے جلسوں میں بھی پوچھ گچھ ہوتی ہے۔ چھ ماہ سے کہا جا رہا ہے کہ آپ کی زندگی خطرے میں ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس راستے میں زندگی بھی جا سکتی ہے۔

لیکن ہم قانون کے اندر رہتے ہوئے حق مانگ رہے ہیں، ملک توڑنے کی بات نہیں کرتے، علیحدگی کی بات بھی نہیں کرتے۔ ہاں جو آزادی مانگتے ہیں وہ حقوق کی آزادی ہے۔

حکومت نے پی ٹی ایم سے رابطہ کیا لیکن وہ زبانی کلامی بات کرتے ہیں۔ ہمیں پہلی بات تو یہی کہی جاتی ہے کہ یہ نعرہ ہٹاؤ کہ ’یہ جو دہشت گردی ہے، اس کے پیچھے وردی ہے‘ تو ہم انھیں کہتے ہیں کہ اس کے ثبوت سوات اور وزیرستان میں موجود ہیں۔

بڑی ہوئی تو ذہن میں سوال اٹھتا تھا کہ کیا پشتون وحشی ہیں؟

ویدہ

میرے گھر والے کہتے ہیں کہ ہم منظور کو غلط نہیں کہتے لیکن ہم ریاست کو فیس نہیں کر سکتے اور نہ ہی قبائلی روایات چھوڑ سکتے ہیں

میں ایک طالبہ ہوں اور پشتون تحفظ موومنٹ کا حصہ بھی۔ ویدہ میرا ٹوئٹر ہینڈل ہے مگر میں اپنی شناخت ظاہر نہیں کر سکتی جس کی وجہ خاندان کی جانب سے پابندی ہے۔

تعلق تو بلوچستان سے ہے لیکن بچپن وزیرستان کے ایک خوبصورت علاقے میں گزرا۔ 2006 میں جنگ کی صورتحال پیدا ہوئی تو ہمیں پیدل بنوں جانا پڑا۔

میں نے وہاں بندوق والوں کو، طالبان کو دیکھا، جن کی لاشیں جب افغانستان سے آتی تھیں تو بڑا اجتماع ہوتا تھا اور کہا جاتا تھا کہ یہ جہاد کرنے گئے تھے۔

جب میں بڑی ہوئی تو ذہن میں سوال اٹھتا تھا کہ کیا پشتون وحشی ہیں؟

میں سوشل میڈیا پر ایم ٹی ایم سے بھی منسلک تھی۔ جنوری 2018 میں نقیب کا قتل ہوا اور ڈی آئی خان سے پشتین لوگ نکلے تو ہم نے ساتھ دیا۔

گھر والوں کے بقول ہم منظور کو غلط نہیں کہتے لیکن ہم ریاست کا سامنا نہیں کر سکتے اور نہ ہی قبائلی روایات چھوڑ سکتے ہیں۔

پی ٹی ایم

بہت سے لوگ سوشل میڈیا پر شناخت ظاہر کیے بغیر بھی پی ٹی ایم کی حمایت یا مخالفت کرتے ہیں

امی کہتی ہیں کہ کیا دنیا کے ٹھیکے اٹھا رکھے ہیں خود بھی سکون سے رہو، میرے بیٹوں کو بھی رہنے دو۔

کبھی میرے اکاؤنٹس کو کہیں سے بلاک بھی کیا جاتا ہے پھر میں نیا اکاؤنٹ بنا لیتی ہوں۔

ایسا بھی ہوا کہ میرے بھائی کو نامعلوم کالز آئیں۔ ایسا بھی ہوا کہ بھائی نے میرا موبائل توڑا اور میں نے تشدد بھی برداشت کیا۔

ابو کہتے ہیں کہ جس ملک میں رہ رہی ہو وہاں یہ نہیں ہو سکتا۔

پی ٹی ایم

ایجنسی والوں نے میرا ایک پرچہ بھی کینسل کروایا تھا۔ پرائیویٹ نمبر سے فون کالز آتی ہیں کہ تم صحیح نہیں جا رہی ہو ملک کے خلاف بولتی ہو۔ تمھارے لیے گھر والوں کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔

پہلے سوشلسٹ اور کمیونسٹ ہمارے ساتھ تھے لیکن جو لوگ پہلے ہمارے ساتھ نہیں تھے وہ بھی ہمارے ساتھ آرہے ہیں۔

اب لوگ اپنے مسائل اور علاقے کے حالات کے بارے میں بتاتے ہیں۔

’ہم جینے کا حق مانگتے ہیں‘

عصمت شاجہاں

مجھے لگتا ہے چار دہائیوں سے ایک جیسے ہی حالات ہیں

میں عصمت شاہجہاں ہوں۔ خیبرپختونخوا کے ضلع کرک سے تعلق رکھتی ہوں۔ میری پرورش ترقی پسند اور مزاحمتی سیاست کے ماحول میں ہوئی۔

کرک، وانا اور کوہاٹ میں تعلیم حاصل کی اور پشاور یونیورسٹی میں پڑھا اور پھر ہالینڈ پڑھنے گئی۔ میری عمر 56 برس ہے۔

جب میں نے شعور میں قدم رکھا تو ضیا الحق کا دور چل رہا تھا۔ ہر طرف مارا ماری تھی، جنازے آ رہے تھے، یہاں جہاد کا ماحول تھا۔

1983 میں نے طلبا سیاست میں قدم رکھا۔ پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن، ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن سے منسلک ہوئی۔ اب عوامی ورکرز پارٹی کی ڈپٹی سیکریٹری ہوں۔

باشعور عورتیں سمجھتی ہیں کہ بنیادی طور پر پشتون قوم کو نسل کشی کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں 60 سے 70 ہزار مدرسے ہیں جہاں ان عورتوں کے بچوں کو جنگ کا ایندھن بنایا گیا۔ ایسے حالات میں ہمارا بولنا ضروری ہے۔

میری نظر میں یہ خود رو تحریک ہے۔ جب 67 بچے بارودی سرنگوں کی وجہ سے مارے گئے تو پھر محسود تحفظ موومنٹ چلی۔

جن کے بچے گمشدہ ہیں، پیارے مارے گئے وہ بھی اس تحریک میں شامل ہوئے۔ یہ جماعت رنگوں کی قوس قزح ہے۔ سیاسی جماعتوں کے لوگ، سماجی کارکن اور متاثرین سب اس میں شامل ہیں جو جینے کا حق مانگتے ہیں۔

پی ٹی ایم

پی ٹی ایم کی حامی اور ممبر ارکین نے خیسور واقعے کے بعد شمالی وزیرستان کا دورہ کیا لیکن بکا خیل کیمپ میں داخل ہونے کی اجازت نہ مل سکی

میرے دو بیٹے ہیں۔ نہ انھوں نے، نہ شوہر نے اور نہ کبھی والدین نے منع کیا۔ اور میرے تو سسر ضیا دور میں جب میرا پروگرام نن صبا لگتا تھا تو اپنی دکان پر سب کو بلا لیتے تھے۔

ہاں سماجی طور پر عورت شاپنگ تو کر سکتی ہے لیکن مزاحمتی سیاست نہ عورت کے لیے آسان ہے نہ مرد کے لیے۔

چار دہائیوں سے افراتفری اور مارا ماری کا دور رہا ہے۔ کمیونسٹ تحریک میں مشکل دور تھا اور اے این پی کا 1100 بندہ مارا گیا۔ مہر ستار ہوں یا گلگت بلتستان کی جیل میں قید بابا جان اس بات کا ثبوت ہیں کہ حالات ویسے ہی ہیں۔

یہ غیر آئینی غیر قانونی بات ہے کہ بکا خیل کیمپ میں آپ نے لوگوں کو قید کر کے رکھا ہوا ہے۔ ہم نے جانے کی کوشش کی تو ہمیں روکا گیا۔

یہ ہمیں غدار کہتے ہیں لیکن ہم کہتے ہیں کہ ہم نہیں آپ غدار ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *