علیم خان کی گرفتاری۔ قانون کی حکمرانی یا سیاسی چال؟

بدھ کے روز پاکستان میں ایک بار پھر نئے پاکستان کی ایک جھلک دکھائی گئی جب نیب نے علیم خان کو گرفتار کر لیا۔ یہ ایک غیر متوقع واقعہ نہیں تھا لیکن ہمارے ملک میں جہاں حکومت عوام کا دل جیتنے کے لیے نت نئے طریقے ڈھونڈتی نظر آتی ہے اور کرپشن کے خلاف زیرو ٹالرینس پالیسی کا بیانیہ اپنائے ہوئے ہے  وہاں یہ ایک حیران کن واقعہ تھا۔ علیم خان کی گرفتاری سے پی ٹی آئی کے اس دعوے کو تقویت ملے گی کہ قانون سب کے لیے برابر ہے۔ لیکن صرف یہ وضاحت باقی تمام تھیوریز کو مسترد کرنے کے لیے کافی نہیں ہو گی۔

علیم خان کو نیب کے لاک اپ میں ایک نہ ایک دن جانا ہی تھا۔ صوبے میں کسی بھی بڑے عہدے پر جانے کے لیے علیم خان کے لیے یہی ایک رکاوٹ تھی جس سے انہیں خود کو پاک کرنا تھا۔ ایسا کہا جاتا تھا کہ پنجاب کے وزارت اعلی کے لیے وہ عمران خان کی پہلی چوائس ہوں گے۔ ان کے خیر خواہ اب سوچ رہے ہوں گے کہ اب ان کے پاس موقع ہے کہ وہ خود کو کلیر کروا کے  بڑے عہدوں تک رسائی یقینی بنا پائیں گے۔

اس کے بر عکس بھی بہت سے سیناریو ہیں۔ اس یہ وجہ یہ نہیں کہ عمران خان کی طرف سے ایک نیا لیڈر پیدا کرنے کا جو بیانیہ تھا وہ دم توڑ دے گا اور  متبادل چیف منسٹرکو بہتر قرار دینا ان کی لیڈر شپ پر سوالیہ نشان لگائے گا۔ ابھی تک عثمان بزدار ایک آل راونڈر کے طور پر اپنا لوہا منوا نہیں سکے اور عمران کا ایک شاندار لیڈر پیدا کرنے کا خواب ابھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دیا۔ یہ کہا جا رہا ہے کہ خاموش سردار نے پارٹی کے اندر اپنی اتنی سپورٹ بنا لی ہے کہ  کپتان انہیں  با سانی تبدیل کرنا نہیں چاہیں گے۔

عمران خان کے بارے میں یہ معلوم ہے کہ اپنے کچھ قریبی ساتھیوں کے ساتھ مل کر فیصلہ کرتے ہیں۔ جس طرح انہوں نے کابینہ میں زلفی بخاری کو شامل کرنے کے لیے ضد لگائے رکھی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ حکومتی معاملات پر فیصلہ سازی کے لیے  کس قدر اپنے ساتھیوں پر انحصار کرتے ہیں۔  یہ عمران خان کی ایک خاص خوبی ہے جس کی وجہ سے علیم خان کو وزارت اعلی کے لیے نامزد کرنے سے قبل عمران خان نے چاہا کہ وہ اپنا نام نیب سے کلیر کروا لیں

علیم خان کی وزارت اعلی کے لیے نامزدگی کی راہ بند ہونے کی واحد وجہ یہ ہے کہ عمران خان کےبارے میں یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی ٹیم سے بہترین آدمی کا انتخاب کر کے اس کے ساتھ کھڑے بھی رہتے ہیں۔ اس معاملے میں ہیرو نے میرٹ کے نام سے یہ فیصلہ کیا۔ لیکن ایک مسئلہ جو انہیں درپیش تھا وہ یہ تھا کہ وہ اپنے سب سے قریبی دو دوستوں میں سے ایک کو دوسرے پر کیسے ترجیح دے سکیں گے۔ اب علیم خان عمران خان کے لیفٹیننٹ  کی حیثیت اختیار کر چکے ہیں کیونکہ وہ ق لیگ کے ذریعے پی ٹی آئی میں داخل ہوئے ہیں۔ وہ پی ٹی آئی کی اہم اور خوفناک جنگوں میں حصہ لے چکے ہیں جس کی وجہ ان کی دولت اور مالی حالت بتائی جاتی ہے جو اس طرح کی انتخابی جنگوں میں بہت اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔

الیکشن سے قبل کے دنوں میں علیم خان کو پنجاب کا واحد وزارت اعلی کا امیدوار سمجھا جا رہا تھا  لیکن ان کے راستے میں رکاوٹ نیب کیسز تھے جن سے انہیں کلیرنس درکار تھی۔

وہ اس وقت مضبوط امیدوار نظر آنے لگے جا جہانگیر ترین اور شاہ محمود جیسے بڑے مقابل امیدوار نااہلی کی صورت میں  یا الیکشن ہار کر وزارت اعلی کی دوڑ سے باہر ہو گئے۔

عثمان بزدار کو یہ فوقیت حاصل ہے کہ انہیں اپنے لیڈر کا اعتماد حاصل ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انہیں حادثاتی طور پر چیف منسٹر چنا گیا ہو لیکن ان کے سی وی میں کچھ ایسے بیانات شامل ہیں جو ان کے لیڈر نے ان کے حق میں دے رکھے ہیں۔

مسٹر بزدار کو ان کی سادگی اور عام انسان کی حیثیت سے پروموٹ کیا گیا ہے اور ان کی سادگی کی وجہ سے انہیں تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔ اگرچہ وہ ایک ہشاش بشاش اور بااختیار چیف منسٹر نظر نہیں آتے لیکن اسی بات کو لوگ ایک ریلیف کے طور پر دیکھتے ہیں خاص طور پر وہ لوگ جو شہباز شریف جیسے متحرک وزیر اعلی کو پسند نہیں کرتے تھے۔

یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا بزدار میں ایسی کوئی خاصیت ہے جس کیوجہ سے اسے اپنے مقابل لوگوں پر ترجیح دی جائے اور انہیں وزارت اعلی کے عہدے پر برقرار رکھا جائے؟ موجودہ صورتحال اور ثبوت دیکھے جائیں تو ایسا لگتا ہے کہ واحد ایسی چیز جو بزدار کو تحفظ فراہم کرتی ہے وہ پہلے سے اس عہدہ پر موجود ہونا ہے۔ جیسا کہ ایک مشہور کہاوت ہے کہ قبضہ ملکیت کا نصف ہوتا ہے۔

ایک اور وجہ ایسی ہے جو وزارت اعلی کی دورڑ میں علیم خان اور بزدار کے بیچ مقابلے کی صورت میں بزدار کے حق میں شمار کی جا سکتی ہے۔ ایک صوبائی وزیر کی حیثیت سے علیم خان کی پرفارمنس اتنی بہترین نہیں ہے کہ عوام میں ان کو پذیرائی ملی ہو اور جس کی وجہ سے انہیں بزدار کی جگہ صوبے کی سب سے بڑی پوزیشن پر لا کھڑا کیا جائے۔ اگرچہ انہوں نے ایک دو اہم اقدامات اٹھائے ہیں لیکن  کوئی ایسا بڑا کام نہیں کیا جس کی بدولت انہیں پارٹی میں امتیازی خصوصیات کا حامل سمجھا جا رہا ہو۔

پی ٹی آئی کی الیکشن میں جیت کے بعد ان کی پارٹی کے لیے اہمیت سے متعلقہ جو بھی علامات سامنے آئی ہوں لیکن دیکھنے سے لگتا ہے کہ ان کی اہمیت پارٹی کے اندرونی خلفشار سے ہی متعلق ہونے سے جڑی ہوئی ہے۔ علیم خان پارٹی کے بہت با اثر لیڈر رہے ہیں اور ان کا اپنا ایک گروپ ہے  لیکن حکومتی کارکردگی کے حوالے سے دیکھا جائے تو انہوں نے کچھ ایسا نہیں کیا جس کی وجہ سے وہ وزارت اعلی کے لیے فیورٹ قرار دیے جائیں۔ جہاں تک  ان کی موجودہ پرفارمنس کا تعلق ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اپنے لیڈر کی مہربانی سے وہ بہتری کی امید رکھ سکتےہیں۔

عوامی توجہ کے لیے اگر وہ کوئی بہترین کام کر سکتے تھے تو وہ لاہور کی ضلعی حکومت کے اہلکاروں کو لاہور سے کوڑا ختم کر کے کئی ماہ کی گندگی کو صاف کرنے کا حکم دے سکتے تھے۔ زندگی میں بہت سے حیران کن واقعات پیش آتے ہیں لیکن  جس طرح ان سے رویہ اپنایا گیا ہے، اس سے یہ لگتا نہیں کہ انہیں نئے وزیر اعلی کے طور پر تیار کیا جا رہا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *