آمرانہ روایات اور بدلتی صورتحال

ایک روایت یہ ھے۔ کہ ھر فوجی آمر کو اس کے پیٹی بند بھائ نے نکالا تھا۔ اسے یوں بھی کہہ سکتے ھیں ۔ پرانی مقتدرہ کی چھٹی نئ مقتدرہ نے کروائ تھی۔ جیسے میجر جنرل اسکندر مرزا کو فیلڈ مارشل ایوب خان نے نکالا تھا۔ ایوب خان سے استعفی جنرل یحیی خان نے لیا تھا۔ جنرل یحیی کو جنرل گل حسن نے فارغ کیا تھا۔ بقول اعجازالحق، جنرل ضیاء الحق کی ھلاکت میں جنرل اسلم بیگ کا ھاتھ تھا۔ جبکہ جنرل مشرف یہ بات خود کہہ چکے ھیں۔ کہ جنرل کیانی نے ان کے خلاف سازش کرکے انہیں اقتدار سے باھر کیا تھا ۔ اور کہنے والے کہتے ھیں ۔ اجکل بھی ملک پر ایک خاموش مارشل لاء جاری ھے۔ اللہ خیر کرے۔
ایک روایت یہ ھے۔ ھر فوجی آمر نے اپنے پیشرو آمر کے ساتھ دھوکہ کیا۔ وہ پیشرو جس کے اس پر احسانات تھے۔ جنرل ایوب کو کمانڈر انچیف بنوانے والا اسکندر مرزا تھا۔ ورنہ جنرل ایوب کا نام تو ان چار سینئیر جنرلوں میں شامل بھی نہیں تھا۔ جنہیں کمانڈر انچیف کے لیے نامزد کیا گیا تھا۔ اسکندر مرزا نے بطور صدر جنرل ایوب کو ایکسٹینشن دی تھی۔ لیکن جنرل ایوب نے اسکندر مرزا کو اقتدار سے نکالا اور جلا وطن کر دیا۔ اسی طرح جنرل یحیی، جنرل گل حسن، جنرل بیگ اور جنرل کیانی نے اپنے ممدوح کے ساتھ یہی سلوک کیا۔ کچھ ایسا ھی معاملہ وزرائے اعظم کے ساتھ ھوا۔ جن کی چھٹی ان کے لائے ھوئے فوجی آمروں نے کی۔
ایک امرانہ روایت یہ ھے۔ کہ جن جونیئر جنرلوں کو فوجی سربراہ بنایا گیا۔ ان ھی جنرلوں نے مارشل لاء لگائے۔
ایک روایت یہ ھے۔ اگر مارشل لاء نہیں لگایا گیا۔ تو ایکسٹینشن مانگی گئ۔ اور ایکسٹینشن لینے کے لیے دھرنے تک کروائے گئے۔ جنرل کیانی اور جنرل راحیل شریف کی مثالیں سامنے ھیں ۔ اب پھر ایک ایکسٹینشن کی کہانیاں آسمانوں میں ھیں۔
ایک روایت یہ ھے۔ اپنے مفادات کے لیے عدلیہ اور میڈیا اور مزھبی جماعتوں اورسیاستدانوں کو استعمال کیا گیا۔
ایک امرانہ روایت یہ ھے۔ کہ مخالف سیاستدانوں کو نااھل کیا گیا۔ اور جو پھر بھی نہ مانا اسے سختی اور رسوائ کا سامنا کرنا پڑا۔ ایوب خان کے ایبڈو سے لے کر بذریعہ کورٹ نوازشریف کی نااھلیت تک سیاستدانوں کے خلاف یہی ناپسندیدگی کام کرتی نظر آتی ھے۔
اس ناپسندیدگی کو عملی جامہ پہنانے کے لیے مخالف سیاستدانوں پر کرپشن اور ملک دشمنی کے الزامات بطور پروپیگنڈہ استمعال کیے گئے۔
ایک آمرانہ روایت یہ ھے۔ کہ فوجی آمروں نے اپنے اقتدار کی طوالت ، قانونی حیثیت منوانے اور مالی و فوجی امداد کے لیے امریکہ کی خدمت کی۔ اور پینٹاگون کے ساتھ براہ راست تعلقات قائم کیے اور امریکہ کو قائل کیا۔ کہ صرف ایک فوجی آمر ھی امریکہ کے کام آ سکتا ھے۔
ایک روایت یہ ھے۔ کہ معاشی ترقی صرف امرانہ دور میں ھی ممکن ھے۔ اس کے لیے ایوب دور کو آج بھی گلوری فائ کیا جاتا ھے۔ اور مشرف دور کی مثال دی جاتی ھے۔ جو کہ ھمارے خیال میں آدھی سچائ ھے۔ ورنہ ان ادوار کے نقصانات زیادہ ھیں۔
ایک روایت یہ رھی کہ ملک کو فوج یا ایک آمر ھی متحد رکھ سکتا ھے۔ اور یہ کہ اس اتحاد کے لیے قومی سیاسی پارٹیوں یا علاقائی پارٹیوں کی ضرورت نہیں ۔ اسی لیے قومی سیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ کی گئ۔
ایک متھ یا روایت یہ رھی۔ ملک دشمنوں میں گھرا ھے۔ جن سے تحفط ایک مضبوط فوج کے زریعے ھی ممکن ھے۔
ایک متھ یہ رھی کہ قومی مفاد طے کرنا اور قومی مفاد پر مبنی پالیسیاں بنانا صرف مقتدرہ کا حق اور فرض ھے۔
اگر ھم ان امرانہ روایات کا تجزیہ کریں۔ تو ان میں سے پیشتر آج بھی کارفرما نظر آتی ھیں۔ جبکہ کہیں کہیں تبدیلی بھی محسوس کی جا سکتی ھے۔ مثلا جنرل ایوب کو نکال کر جنرل یحیی نے خود اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا۔ لیکن جنرل بیگ یا جنرل کیانی یہ کام نہ کر سکے۔ اس کی بجائے دو باتوں پر توجہ دی گئ۔ ایک ایکسٹینشن لینے کی خواہش اور دوسرے سول حکومت کو کنٹرول کرنے کی کوشش اور پلاننگ۔ اور اس کے لیے شراکت اقتدار، کنٹرولڈ جمہوریت اور کبھی 58 ٹو بی ، تو کبھی زور و زبردستی ، دھرنوں اور اور مزھبی جماعتوں کے زریعے سول حکومت کو مفلوج کیا گیا۔ فیض آباد دھرنے پر سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے نے اس ساری صورتحال کو بڑی حد تک واضح کر دیا ھے۔ اور نظر آ رھا ھے۔ سول سپریمیسی کی جدوجہد کو اس فیصلے سے نئ طاقت اور مضبوطی حاصل ھو گی۔ اس فیصلے کو میڈیا سے غائب کرنے کی کوشش یہ ثابت کرتی ھے۔ یہ فیصلہ کسقدر تاریخی اور گیم چینجر بننے جا رھا ھے ۔
امرانہ دور میں معاشی ترقی کی متھ کو موجودہ دور کی کنٹرولڈ سول حکومت کی معاشی ناکامیوں نے توڑ دیا ھے اور لینے کے دینے پڑ گئے ھیں ۔ اور کوئ ایسی ترکیب سوچی جا رھی ھے۔ کہ جس سے ایوب ، ضیاءالحق اور مشرف دور کے ریالوں اور ڈالروں کی پھر سے ریل پیل ھو سکے۔
بھارت کو لے کر سیاستدانوں کے خلاف ھمیشہ یہ پروپیگنڈہ کیا گیا۔ یہ کشمیر کو بھول کر بھارت کے ساتھ دوستی اور تجارت کرنا چاھتے ھیں۔ نوازشریف پر یہ الزام خصوصی طور پر لگایا گیا۔ لیکن موجودہ کنٹرولڈ جمہوریت میں بھارت کے ساتھ دوستی کرنے کی بے تابی ، کرتار سنگھ بارڈر کھولنا اور ٹرین چلانے کی آفر اس پروپیگنڈے کو زیرو کر رھی ھے۔
جنرل ایوب ، جنرل یحیی، جنرل ضیاء الحق اور جنرل مشرف کو اس لیے اقتدار سے نکالا گیا۔ کیونکہ ان کے طویل ادوار کے آخر میں تین باتیں ھوئیں۔ ایک یہ کہ ادارے پر بہت زیادہ دباو آیا۔ اور دوسرے ان کی معاشی پالیسیاں ناکام ھو گئیں۔ اور تیسرا ملک سیاسی طور پر عدم استحکام کا شکار ھو گیا۔ اور اج ھمیں یہ صورتحال ایک بار پھر نظر آ رھی ھے۔
قصہ مختصر، جہاں کچھ امرانہ روایات اب بھی کارفرما ھیں ۔ کچھ میں تبدیلی ا چکی ھے۔ کچھ فیل ھو چکی ھیں ۔ اور یہ حقیقت ثابت کرتی ھے۔ کہ تاریخی قوتوں کے زیر اثر اور زمینی حقائق کو لے کر زمان و مکان میں جو تبدیلیاں نظر آ رھی ھیں ۔ انہین اگنور کرنا مشکل ھو گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *