اقبال کا خواب

 

پچھلی قسط میں پاکستانی ٹرک ڈرائیور کی ویڈیو بھی شامل تھی۔ اُس کے حوالے سے  ایک تبصرے میں کہا گیا، ’’میں نے سوچا اِس میں ساتھ ہیرا اور پتھر کا وحید مراد کا بھی اِس طرح کے ڈائیلاگ کا کوئی کلپ ہو گا۔ موازنے کے لیے!‘‘

میں نے ’’ہیرا اور پتھر‘‘ کا حوالہ ہی دیا تھا لیکن فی الحال ’’مستانہ ماہی‘‘ کا ایک منظر دیکھ لیجیے جہاں دیہاتی راجُو ویسی ہی بات کہہ رہا ہے جیسی اُس ویڈیو میں ٹرک ڈرائیور نے کہی ہے۔

مزید پڑھئیے "جناح کی آواز ! قسط 1"

کسی نے پچھلی قسط پر بڑی ایمانداری کے ساتھ یہ تبصرہ بھی کیا ہے:

’’آپ نے اسٹینلے والپورٹ کا جو حوالہ دیا قائداعظم کی سوانح کے بارے میں، وہ کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ اُس نے اپنے گمان سے بات لکھ دی جبکہ قائداعظم تو اجلاس میں شریک ہی نہیں ہوئے تھے۔ مگر گورے تو جب تک پوری ریسرچ نہ کر لیں کچھ بھی نہیں لکھتے؟‘‘

جی نہیں، اُس قسم کے گورے پہلی جنگِ عظیم سے پہلے ہوتے ہوں گے لیکن اپنے موضوعات کی حد تک میں یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ پچھلے سو سال میں مشکل سے چند ہی مغربی مصنفین اقبالیات، تحریکِ پاکستان یا مسلم تہذیب کے بارے میں کچھ لکھتے ہوئے تحقیق کے تقاضے پورے کر سکے ہوں گے، اور وہ بھی صرف ایک آدھ مقالے کی حد تک۔ باقیوں کا حال والپورٹ جیسا ہے۔ لیکن قصور سراسر ہمارا ہے کہ ہم اُن کی رہنمائی کرنے کی بجائے اُن کی بیعت کر لیتے ہیں۔ بقول اقبال:

یورپ کی غلامی پہ رضامند ہوا تُو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے!

اقبال، ایک سیاستدان

علامہ اقبال کا تعلق شروع ہی سے آل انڈیا مسلم لیگ سے تھا لیکن چونکہ مسلم لیگ نے 1926 کے انتخاب میں بحیثیت جماعت حصہ نہیں لیا اس لیے اکثر مسلم لیگی رہنماؤں نے آزاد اُمیدوار کے طور پر انتخاب لڑا۔ اقبال بھی پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے رُکن منتخب ہوئے اور 1927 سے 1930 تک رہے۔ انہوں نے اسمبلی میں جو تقاریر کیں وہ اُن کے انگریزی تحریروں کے ایک مجموعے میں شامل ہیں۔ ’’اقبال کی منزل‘‘ میں ان کی فہرست، اقتباسات اور بعض دوسری تفصیلات بھی پیش کی جا رہی ہیں۔

اس کے بعد وہ آخر دم تک عملی سیاست سے وابستہ رہے، سوائے ایک آدھ برس کے۔

الٰہ آباد کا اجلاس

اُس زمانے میں مسلم لیگ کا ایک مستقل صدر تین برس کے لیے منتخب کیا جاتا تھا۔ یہ عہدہ جناح کے پاس تھا۔ سالانہ اجلاس کے لیے ایک اور صدرچُنا جاتا تھا۔ 1930 میں اکیسویں سالانہ اجلاس کے لیے علامہ اقبال کو منتخب کیا گیا۔

یہ اجلاس اگست میں لکھنؤ میں ہونا تھا لیکن ملتوی ہو گیا۔ دسمبر میں بنارس میں کرنے کا فیصلہ ہوا لیکن اخراجات فراہم نہ ہو سکے۔ الٰہ آباد کے ایک بیرسٹر کی پیشکش پر 20دسمبر کے قریب اعلان ہوا  کہ اجلاس 29 اور 30 دسمبر کو الٰہ آباد میں ہو گا۔

اجلاس الٰہ آباد کی ایک حویلی دوازدہ منزل میں 29 اور 30  دسمبر کو ہوا۔ پہلی صبح اقبال نے خطبۂ صدارت پڑھا۔وہ اسے انگریزی میں چھپوا کر لاہور سے ساتھ لائے تھے۔ لاہور میں غلام رسول مہر نے پہلے ہی اس کا ترجمہ اُردو میں کر لیا تھا۔ وہ اُن کے اخبار انقلاب میں دو قسطوں میں 28 اور 29 دسمبر کی شاموں کو شائع ہوا (اخبار پر دو دن آگے کی تاریخ ہوا کرتی تھی)۔ اُس زمانے  کے لحاظ سے یہ سوشل میڈیا کا نعم البدل تھا کہ  جب اقبال الٰہ آباد میں خطبہ دے رہے تھے تو لاہور میں قارئین اُس کا ترجمہ پڑھ رہے تھے۔

اگلے روز کے اجلاس میں قراردادیں منظور کی گئیں جن میں سے بعض پر خطبۂ صدارت کا اثر دیکھا جا سکتا تھا۔

خطبۂ صدارت میں بہت سے موضوعات ایسے ہیں جن پر مستقل کتابیں لکھی جا سکتی ہیں لیکن  فی الحال صرف پانچ موضوعات کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں۔

ہندو قیادت اور برطانوی استعمار

ہم نے دیکھا ہے کہ دسمبر 1927 میں کانگرس نے ایک قرارداد یہ کہہ کر منظور کی کہ یہ ہندوستان کی آزادی کی بنیاد ہے لیکن اگست 1928 میں نہرو رپورٹ میں اس کی نفی کر دی اور جب مسلمانوں نے یاد دلانے کی کوشش کی تو مسلمانوں کو طعنے دئیے اور اُن کا مذاق اڑایا۔

یہاں صرف ہندومسلم مسئلہ نہیں رہ جاتا بلکہ یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ اِس قسم کے رویے کی وجہ کیا تھی۔ ایک جواب ہمیں خطبۂ الٰہ آباد میں ملتا ہے۔

علامہ اقبال کہتے ہیں کہ انگریزوں نے متحدہ ہندوستان کے حوالے سے ایک نئی اسکیم پیش کی ہے اور:

"یہ اسکیم ہندو ہندوستان اور برطانوی استعمار کے درمیان ایک قسم کا سمجھوتہ دکھائی دیتی ہے – تم مجھے ہندوستان میں فروغ دو، اور میں اس کے بدلے تمہیں ایک ہندو حکومتِ معدودی (oligarchy) فراہم کروں گا تاکہ ہندوستان کی دوسری تمام ملّتیں ہمیشہ اس کے ماتحت رہیں۔”

یعنی انگریزوں نے متحدہ ہندوستان کا جو تصوّر پیش کیا، وہ اونچی ذات کے ہندوؤں کے لیے اس بات کا اشارہ  تھا کہ وہ ہندوستان میں انگریزوں  کا اقدار قائم رہنے دیں تاکہ انگریزوں کی مدد سے وہ بھی ہندوستان کے اچھوتوں اور اقلیتوں پر حکومت کر سکیں۔

اس سے ملتی جلتی بات بالکل انہی دنوں مولانا محمد علی جوہر بھی لندن میں گول میز کانفرنس میں کہہ رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ  ایک طبقہ  صدیوں سے ہندوؤں کی تقدیر کا مالک ہے۔ کل وہ برہمن تھا۔ آج بنیا ہے۔ وہ طبقہ چاہتا ہے کہ وہاں جمہوریت ایسی شکل میں نافذ ہو کہ اکثریت اسی کے قابو میں رہے۔ گاندھی کی سول نافرمانی کی تحریک زیادہ تر بمبئ اور گجرات کے بنیوں کے سرمائے سے ہی چل رہی ہے۔

آگے چل کر جب پنڈت جواہر لال نہرو نے سوشلزم کا نعرہ لگایا تو علامہ اقبال نے جناح کو خط میں لکھا کہ کانگرس اور سوشلزم کا معاملہ وہی ہے جو پرانے زمانے میں ہندومت اور بدھ مت کے درمیان پیش آیا تھا۔ بدھ مت نے نچلے طبقے کی حمایت میں آواز اٹھائی تو ہندومت نے بدھ مت کو اپنے اندر جذب کر کے آہستہ آہستہ ختم ہی کر دیا۔ اب ہندومت سوشلزم کے ساتھ یہی سلوک کرنے والا ہے۔

قائداعظم نے بھی 1940 کے بعد بار بار کہا کہ اونچی ذات کی ہندو قیادت انگریزوں کو برصغیر میں رکھنا چاہتی ہے  تاکہ برطانوی سنگینوں کی مدد سے یہاں کے مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں پر حکومت کر سکے۔

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ محمد علی جوہر، علامہ اقبال اور قائداعظم  جیسے رہنما یکزبان تھے کہ اونچی ذات کے ہندو رہنما ہندوستان کی آزادی نہیں چاہتے اور محض ایک ڈھونگ رچا رہے ہیں۔ اس لیے مسلمانوں کی جدوجہد صرف اپنے حقوق کے لیے نہیں  بلکہ ہندوستان کی آزادی کے لیے بھی ہے کیونکہ صرف وہی ہندوستان کی آزادی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

کیا یہ بات عجیب و غریب نہیں ہے کہ اتنے بڑے رہنماؤں کے اتنے اہم اور واضح دعوے ہماری تاریخ سے بالکل ہی خارج کر دئیے گئے ہیں؟ سوال یہ نہیں کہ انہوں نے ہندو قیادت پر جو الزام لگایا وہ درست تھا یا نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ  ہمارے مؤٔرخوں نے یہ بات ہی کیوں گول کر دی ہے کہ ان رہنماؤں نے یہ الزام لگایا تھا؟

مسلم کانفرنس کی قرارداد  کی حمایت

ہم دیکھ چکے ہیں کہ مسلم کانفرنس کی جنوری 1929 کی قرارداد کے بارے میں (جس کی دوسری صورت جناح کے 14 نکات تھی)، علامہ اقبال نے کہا تھا کہ ’’ اس کی صحت کے لیے میرے پاس ایک مذہبی دلیل ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے آقائے نامدار حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میری امت کا اجتماع کبھی گمراہی پر نہ ہوگا۔ ‘‘

ظاہر ہے کہ جس قرارداد کے بارے میں وہ اتنی بڑی بات کہہ رہے تھے، اُس کی تائید و حمایت  پر خطبۂ صدارت میں بھی زور دینا تھا۔

انہوں نے کہا:

’’مسلمانوں کا یہ مطالبہ کہ ہندوستان کے اندر ایک مسلم ہندوستان قائم کیا جائے بالکل حق بجانب ہے۔ میری رائے میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس منعقدہ دہلی کی قرار داد  کا محرک یہی بلند نصب العین ہے کہ ایک ہم آہنگ کل کے قیام کے لئے ضروری ہے کہ اس کے اجزا کی انفرادیت کا گلہ گھونٹنے کی بجائے انھیں مواقع دیے جائیں کہ وہ ان ممکنہ قوتوں کو بروئے کار لا سکیں جو ان میں پوشیدہ ہیں اور مجھے یقین ہے کہ یہ ایوان مسلم مطالبات کی، جو اس قرار داد میں موجود ہیں، پورے شد و مد سے تائید کرے گا۔‘‘

یعنی انہوں نے مسلم کانفرنس کی قرارداد کی (اور گویا جناح کے 14 نکات کی بھی) حمایت کرتے ہوئے اس کی اس طرح تشریح کی کہ اس  قرارداد کا مقصد ’’ہندوستان کے اندر ایک مسلم ہندوستان‘‘ قائم کرنا ہے۔

نئی مسلم ریاست

اِس تشریح کی روشنی میں اُن کے بالکل اگلے جملے یہ تھے:

’’میں ذاتی طور پر اِن مطالبات سے بھی ایک قدم آگے جانا چاہتا ہوں جو اِس قرار داد میں پیش کئے گئے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ پنجاب، شمال مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک ریاست بنا دیا جائے۔ مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ کم از کم ہندوستان کے شمال مغرب میں ایک مربوط مسلم ریاست، خواہ یہ ریاست سلطنت برطانیہ کے اندر حکومت خود اختیاری حاصل کرے یا سلطنت برطانیہ کے باہر، ہندوستان کے شمالی مغربی مسلمانوں کی اٹل تقدیر ہے۔ یہ تجویز نہرو کمیٹی  کے سامنے پیش کی گئی تھی۔ انہوں نے اسے اس بنا پر مسترد کر دیا کہ اگر اس پر عمل درآمد کیا گیا تو بڑی وسیع ریاست وجود میں آ جائے گی جس کا انتظام مشکل ہوگا۔‘‘

ہم دیکھ سکتے ہیں کہ علامہ اقبال یہ نہیں کہہ رہے کہ یہ خیال اُن سے پہلے کسی نے پیش نہیں کیا تھا۔ بعض دانشوروں نے جو بحث چھیڑ رکھی ہے کہ آیا اقبال سے پہلے  کسی نے پاکستان کا تصوّر پیش کیا تھا یا نہیں، وہ اِس غلط فہمی پر مبنی ہے کہ خیال ہمیشہ کسی فردِ واحد کے ذہن میں جنم  لیتا ہے۔ جیسا کہ پچھلی قسط میں عرض کیا تھا، خیالات معاشرے میں اجتماعی طور پر بھی پیدا ہوتے ہیں، جنہیں ایک مفکر یا لیڈر جمع کر کے ان کے درمیان ایک وحدت ظاہر کر دیتا ہے۔

’’اقبال کی منزل‘‘ میں دیکھا جا سکے گا کہ 1930 تک ایک ایسی فضا پیدا ہو چکی تھی کہ جب اقبال نے مسلم ریاست کا تصوّر پیش کیا تو محسوس کیا گیا جیسے وہی بات جو اکثر دِلوں میں تھی، ایک شخص نے کمال خوبصورتی کے ساتھ ظاہر کر دی ہے:

نکلی تو لبِ اقبال سے ہے، کیا جانیے کس کی ہے یہ صدا
پیغامِ سکوں پہنچا بھی گئی، دل محفل کا تڑپا بھی گئی

چنانچہ جب تحریکِ پاکستان کے زمانے میں ایک تقریب میں قائداعظم سے پوچھا گیا کہ تصوّر پاکستان کا خالق کون ہے، تو اُن کا جواب تھا، ’’ہر مسلمان!‘‘

روزنامہ ’’انقلاب‘‘ نے بھی خطبۂ الٰہ آباد کے اگلے ہی مہینے اپنے ادارئیے میں لکھا:

’’حضرتِ ممدوح [علامہ اقبال]  کے خطبے میں بہت سی چیزیں نئی ہیں اور اُن کے پیش کرنے کا انداز و اسلوب تو بالکل اچھوتا ہے لیکن شمال و مغربی ہند میں اسلامی حکومت کے قیام کی تجویز نہ نئی ہے اور نہ اس میں کوئی ایسی صورت موجود ہے جو ہندوستان کے دوسرے حصوں میں پہلے سے موجود نہ ہو یا اسلامی مطالبات کی تکمیل کے بعد موجود نہ ہو گی۔

مزید پڑھئیے "جناح کی آواز ! قسط 1"

’’مسلمانوں کی طرف سے [۱۹۲۷ء سے] اب تک جو مطالبات پیش ہوئے، ان سب میں شمال و مغربی ہند میں مسلمانوں کے غلبے کا معاملہ بالکل واضح تھا اور غلبے کا مطلب یہی ہو سکتا ہے کہ عنانِ اقتدار زیادہ تر مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے۔ فرق ہے تو یہ ہے کہ پہلے مطالبات میں چار حکومتیں قائم کرنے کی تجویز تھی، حضرت علامہ نے چاروں کو ملا کر ایک کر  دینے کی تجویز پیش فرما دی ۔

’’اس  کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ شمالی و مغربی ہند کی اس نئی حکومت میں مسلمانوں کی پوزیشن تقریباً وہی ہو جائے گی جو یوپی میں ہندوؤں کو حاصل ہے اور مسلمان بھی اپنے غیرمسلم بھائیوں کے لیے ویسی ہی مراعات و تحفظات کا بندوبست کرنے کے قابل ہو جائیں گے [جیسی] مراعات کا مطالبہ اب ہندو اکثریت والے صوبوں میں کیا جا رہا ہے [’’بحالتِ موجودہ دقت پیش آ رہی ہے کہ پنجاب کے مسلمان بوجہ قلتِ اقلیت دوسری اقوام کو مراعات نہیں دے سکتے ہیں‘‘]۔ نیز اِس طرح جداگانہ اور مخلوط انتخابات کا جھگڑا رفع ہو جائے گا۔

’’غرض  شمالی و مغربی ہند میں اسلامی حکومت کا قیام پہلے سے طے شدہ ہے، اس لیے کہ اس حصے میں غلبہ بہ ہر حال مسلمانوں کو حاصل ہو گا یا ازروئے انصاف حاصل ہونا چاہیے۔ حضرت علامہ کی تجویز کا منشا بھی یہی ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ البتہ اس میں خوبی یہ ہے کہ سندھ، سرحد، بلوچستان اور پنجاب کے مل جانے سے بعض ان مسائل کے اطمینان بخش تصفیہ کی صورت بھی نکل آتی ہے جو اِس وقت مفاہمت میں سب سے بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ مثلاً اقلیتوں کے لیے مراعات اور طریقِ انتخاب۔‘‘

اِس وضاحت سے یہ بات بھی صاف ہو جاتی ہے کہ علامہ  اقبال نے اس ریاست  کی حدود متعین کرتے ہوئے بنگال کو کیوں شامل نہیں کیا۔ اِس سے ملتے جلتے سوال کا جواب خطبۂ الٰہ آباد سے چند ہفتے پہلے ہی دیا جا چکا تھا جب اقبال نے  سندھ، بلوچستان، سرحد اور پنجاب کے مسلمانوں  کی کانفرنس بلائی اور کسی نے پوچھا کہ بنگال کے مسلمانوں کو کیوں دعوت نہیں دی گئی۔   اقبال کی طرف سے روزنامہ ’’انقلاب ‘‘ نے جواب دیا کہ بنگال کو محض اس لیے مدعو نہیں کیا گیا کہ فاصلے طویل ہیں۔ بہرحال اگر وہاں کے مسلمان ایسی ہی کانفرنس منعقد کریں تو شمالی خطے کے مسلمان ان کی ہر ممکن مدد کریں گے۔

بعض لوگ یہ غلط فہمی پھیلاتے ہیں کہ خطبۂ الٰہ آباد میں بنگال کا ذکر ہی نہیں ہے۔ بنگال  میں مسلم اکثریتی حکومت کے قیام کا مطالبہ مسلم کانفرنس کی قرارداد (اور جناح کے 14 نکات) میں پہلے سے موجود تھا جس کی خطبۂ صدارت میں بھرپور تائید کی گئی۔ اس کے علاوہ بھی اِس قسم کے جملے اس خطبے میں ہیں کہ ’’ہندوستان کے مسلمان کبھی ایسی دستوری تبدیلی پر رضامند نہیں ہوں گے جس سے پنجاب اور بنگال میں ان کے اکثریتی حقوق پر اثر پڑے‘‘ اور ’’سائمن رپورٹ نے مسلمانوں کے لئے پنجاب اور بنگال میں آئینی اکثریت کی سفارش نہ کر کے بہت بڑی ناانصافی کی ہے۔‘‘

لہٰذا  خطبۂ الٰہ آباد  کی حمایت میں ایک عوامی تحریک چلانے کی تجویز سب سے پہلے بنگال کے مسلم نوجوانوں کی طرف سے  ہی پیش ہوئی۔ اُس زمانے میں اخبارات میں اِس قسم کے اعلان بھی شائع ہوئے کہ ’’بنگال آج حضرت علامہ اقبال کے سوا کسی دوسرے مسلم قائدِ ذہنی اور مفکرِ ملّی کو اپنی روحانی ہدایت کے  لیے نہیں پاتا۔‘‘ ایک پبلشر نے خطبۂ الٰہ آباد کا اُردو ترجمہ شائع  کیا تو اشتہار میں لکھا، ’’اُمید ہے کہ سندھ، سرحد، بلوچستان اور بنگال کے مسلمان خاص طور پر کاپیاں منگائیں گے۔‘‘ آج سے کچھ سال پہلے بنگلہ دیش کے ایک اسکالر نے اقبال اکادمی پاکستان کے جریدے میں لکھا تھا، ’’الٰہ آباد کے اجلاس سے ایک مسلم وطن کے لیے اقبال کی آواز بلند ہوئی  اور راتوں رات بنگال کے مسلمانوں  کی سوچ  کے دھارے میں زبردست تبدیلی کر دی‘‘ (مزید تفصیلات ’’اقبال کی منزل‘‘ میں ملاحظہ فرمائیے گا)۔

خودمختاری

ہماری ذہنی انرجی برباد کرنے کے لیے ایک سوال یہ بھی  پیدا  کیا گیا ہے کہ آیا علامہ اقبال نے مسلم ریاست کا تصوّر متحدہ ہندوستان کے ایک صوبے کے طور پر پیش کیا تھا یا ایک خودمختار ریاست کی بات کی تھی۔

حقیقت یہ ہے کہ علامہ اقبال نے خطبۂ صدارت میں دونوں امکانات کا ذکر کیا، ’’سلطنت برطانیہ کے اندر یا سلطنت برطانیہ کے باہر‘‘۔ اس کے بعد 1935 تک پہلی صورت پر اصرار کرتے رہے یعنی مسلم ریاست متحدہ ہندوستان کا ایک صوبہ ہو۔ 1935 کے بعد خودمختاری کا تقاضا کرنے لگے یعنی ہندوستان سے علیحدہ ایک خودمختار وفاق جیسا کہ پاکستان کی صورت میں اب موجود ہے۔

وجہ یہ تھی کہ مسلم کانفرنس کی قرارداد (اور جناح کے 14 نکات) میں ایک ہندوستانی وفاق کی بات کی گئی تھی۔ اقبال اُس قرارداد پر حدیثِ پاک سے حجت لائے تھے۔ اس لیے یہ نہیں ہو سکتا تھا کہ اس کی موجودگی میں ایک متبادل تحریک شروع کر دیتے۔

وہ قرارداد 1935 تک زندہ رہی کیونکہ اس کا تعلق اُس آئین کی تشکیل سے تھا جو 1935 میں نافذ ہوا۔ آئین کے نفاذ کے ساتھ گویا قرارداد کی میعاد بھی ختم ہو گئی۔ اُس کے بعد اقبال نے کہنا شروع کیا کہ اُن کی مجوزہ ریاست  ایک ہندوستانی وفاق کا حصہ نہیں بلکہ اس سے باہر قائم ہونی چاہیے۔ خاص طور پر 1937 میں جناح کے نام ایک خط میں بڑے واضح طور پر یہ بات لکھی۔

لیکن اقبال کے لحاظ سے ان کی اپنی رائے سے بھی زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ قوم کا اتفاقِ رائے کس چیز پر ہے۔ پاکستان (بشمول بنگال) کو ہندوستان سے علیحدہ ایک خودمختار ریاست کے طور پر قائم کرنے کا حتمی فیصلہ مسلمانوں کے منتخب نمایندوں نے اپریل 1946 میں متفقہ قرارداد کے ذریعے کیا (اقبال ہی اس  اجلاس کو منعقد کرنے کی تجویز پیش  کر گئے تھے اِس لیے کتاب کے عنوان ’’اقبال کی منزل‘‘ سے یہی اجلاس مراد ہے)۔ یقینی بات ہے کہ اقبال اگر اُس وقت دنیا میں ہوتے تو اِس قرارداد کے بارے میں بھی اُن کی وہی رائے ہوتی جو اُنہوں نے جنوری 1929 میں مسلم کانفرنس  کی قرارداد کے بارے  میں دی تھی کہ ’’اس کی صحت کے لیے میرے پاس ایک مذہبی دلیل ہے، اور وہ یہ کہ ہمارے آقائے نامدار حضور سرور عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ میری امت کا اجتماع کبھی گمراہی پر نہ ہوگا۔‘‘

پاکستان کو اقبال کا خواب کہنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ خطبۂ الٰہ آباد کے پندرہ بیس دن بعد ہی ’’انقلاب‘‘ کے 17 جنوری 1931 کے شمارے میں الٰہ آباد کے وکیل عبدالرب   کی ایک تحریر شائع ہوئی جس میں تھا، ’’سر اقبال ایک شاعر ہیں۔ یہ ان کا ایک خواب ہے۔ خدا کرے کہ سچا ہو۔‘‘

معذرت کے ساتھ

علامہ اقبال کے فرزند ڈاکٹر جاوید اقبال نے اپنے آخری دنوں میں ایک انٹرویو دیا جس کی ویڈیو بہت عام ہو چکی ہے۔ اِس کا ایک اقتباس خطبۂ الٰہ آباد سے تعلق رکھتا ہے۔ ملاحظہ کیجیے۔

 

ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں، ’’جہاں تک الٰہ آباد کے خطبے کا تعلق ہے، آپ اِس بات پر بھی غور کریں، یہ پاکستان کس نے بنایا ہے؟ میں تو کہت

ا ہوں ہندوؤں نے بنایا ہے۔ یہ ہم نے بنایا ہی نہیں۔‘‘ اِس جملے کی معنویت کم ہو جاتی ہے اگر ہم علامہ اقبال اور قائداعظم کا مؤقف قبول کریں کہ ہندو قیادت تو ہندوستان کو بھی آزاد نہیں دیکھنا چاہتی تھی جبکہ ڈاکٹڑ جاوید اقبال تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان آزاد ریاست کے طور پر وجود میں آیا۔ پھر یہ ہندوؤں کا بنایا ہوا تو نہیں ہو سکتا۔

انٹرویو میں اگلا جملہ ہے، ’’ہم اِس قابل ہی نہیں ہیں کہ کوئی چیز کر سکیں۔‘‘ ہم سے مراد ہے مسلمان۔ ہم جانتے ہیں کہ قائداعظم کے مطابق پورے برصغیر کو مسلمانوں ہی نے انگریزوں سے آزادی دلوائی۔ علامہ اقبال اگرچہ اس سے پہلے فوت ہو چکے تھے لیکن اُن کے استدلال سے بھی یہی نتیجہ برآمد کیا جا سکتا ہے۔ اُن کی اور قائداعظم کی بات مانی جائے تو پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ’’ہم اِس قابل ہی نہیں ہیں کہ کوئی چیز کر سکیں۔‘‘

اس کے بعد ڈاکٹر جاوید اقبال کہتے ہیں، ’’میرا استدلال یہ ہے کہ اِس طرح ہندوؤں نے بنایا ہے کہ جہاں تک الٰہ آباد کا خطبہ ہے، اُس میں تو کوئی علیحدگی کا تصوّر ہی نہیں ہے۔‘‘ ڈاکٹر جاوید اقبال کا یہ بیان درست نہیں ہے۔ خطبۂ الٰہ آباد میں علیحدگی کا تصوّر بہرحال موجود ہے کیونکہ وہاں ’’سلطنت برطانیہ کے اندر یا سلطنت برطانیہ کے باہر ‘‘ کے الفاظ ہیں۔ ’’سلطنت برطانیہ کے باہر‘‘ کا مطلب صرف علیحدگی ہی ہے۔ البتہ وہاں اِس آپشن پر اِصرار نہیں کیا گیا، جس کی وجہ میں نے تفصیل سے بیان کر دی ہے۔

ڈاکٹر جاوید اقبال اپنے استدلال کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:

’’وہ الٰہ آباد کا خطبہ آپ ایک طرف رکھیں اور کیبنٹ مشن پلان جو جناح نے ایکسپٹ کر لیا تھا، اُس کو رکھیں۔ وہ بالکل وہی ہے۔ یعنی It was full autonomy within the Indian Union۔ یہ تصوّر تھا جو جناح نے قبول کیا اور نہرو نے ریجکٹ کیا۔‘‘

اِن جملوں میں دی گئی معلومات بھی درست نہیں۔ کیبنٹ مشن پلان میں، جو 1946 کے موسمِ گرما میں قبول کیا گیا، ہندوستان کے ساتھ رہنے کا اختیار بھی تھا اور علیحدہ ہو جانے کا بھی۔ قائداعظم نے ان میں سے دوسری صورت قبول کی نہ کہ پہلی۔ مسلم لیگ نے جس قرارداد کے ذریعے یہ پلان قبول کیا اُس کا متعلقہ حصہ ملاحظہ کیجیے:

’’تاکہ کسی  بھی گوشے میں کسی بھی قسم کا کوئی شبہ پیدا نہ ہو سکے، آل انڈیا مسلم لیگ کی کونسل یہ بات پھر دہرا رہی ہے کہ ایک مکمل طور پر خودمختار پاکستان کا حصول اب بھی برصغیر کے مسلمانوں کا ناقابلِ تبدیل مقصد ہے جس کے حصول کے لیے اگر ضروری ہو تو وہ ایسا ہر طریقہ استعمال کر گزریں گے جو اُن کے بس میں ہوا اور بڑی سے بڑی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے۔‘‘

اِسی قرارداد میں آگے یہ بھی کہا گیا کہ پلان میں ہندوستان سے علیحدہ ہو جانے کا جو طریقہ موجود ہے، مسلم لیگ اُسے اختیار کرتے ہوئے پاکستانی علاقوں کو ہندوستان سے علیحدہ کرے گی۔

لہٰذا ڈاکٹر جاوید اقبال (یا کسی اور شخص) کا یہ کہنا کسی لحاظ سے بھی درست نہیں ہے کہ جناح نے “full autonomy within the Indian Union” یعنی متحدہ ہندوستان کے اندر رہتے ہوئے خوداختیاری کا تصوّر قبول کیا تھا۔

اِس انٹرویو  میں ڈاکٹر جاوید اقبال نے جس اہم ترین بات کو بالکل ہی نظرانداز کر دیا، اُس کی تفصیل  پہلے آ چکی ہے یعنی علامہ اقبال کے لحاظ سے تو قوم کی متفقہ رائے اقبال کی رائے سے بھی زیادہ اہم ہے اور پاکستان برصغیر کے مسلمانوں کے ایک ایسے فیصلے کے مطابق وجود میں آیا جو کم سے کم اقبال کے لحاظ سے متفقہ فیصلہ ہی کہلائے گا۔

سیمرغ

ایک دفعہ پہلے بھی اس کہانی کا حوالہ دے چکا ہوں کہ پرندے اپنے بادشاہ کی تلاش میں نکلے جس کا نام سیمرغ تھا لیکن جسے کسی نے دیکھانہیں تھا۔ سات دشوارگزار وادیوں سے گزر کر صرف تیس پرندے بادشاہ کے دربار تک پہنچے۔ وہاں اُنہوں نے دیکھا کہ وہ سب مل کر ایک وجود بن گئے ہیں۔ یہی سیمرغ ہے کیونکہ فارسی میں سی کا مطلب ہے، تیس اور مرغ کا مطلب ہے پرندہ۔ سیمرغ جو کچھ کہہ رہا تھا وہ آواز کے بغیر ہر پرندے کے دل تک پہنچ رہا تھا۔ لیکن ہر پرندے کی انفرادیت بھی برقرار تھی۔

یہ کہانی بارہویں صدی میں صوفی شاعر شیخ فریدالدین عطار نے ’’منطق الطیر‘‘ کے عنوان سے لکھی۔ بعد میں بہت سے لوگوں نے اِس میں کچھ اور معانی تلاش کیے لیکن بالکل سیدھے سادے الفاظ میں یہ ایک ’’بادشاہ‘‘ کی تلاش کی کہانی ہے یعنی اس کا موضوع ایک آئیڈیل نظامِ حکومت ہے۔

علامہ اقبال نے بھی خطبۂ الٰہ آباد کے آخری پیراگراف میں کہا:

’’قرآن مجید کی ایک نہایت معنی خیز آیت یہ ہے کہ پوری انسانیت کی موت و حیات بھی فردِ واحد کی موت و حیات کی طرح ہے۔ آپ جو بجا طور پر دعویٰ کر سکتے ہیں کہ آپ ایک قوم کے طور پر انسانیت کے اِس بہترین تصوّر کی پہلی عملی مثال ہیں، کیوں نہیں آپ سب کا جینا اور حرکت کرنا، اور آپ کا پورا وجود ایک فردِ واحدکی طرح ہو سکتا؟‘‘

یہ سیمرغ کا تصوّر ہی ہے کہ ’’سب کا جینا اور حرکت کرنا‘‘ اور سب کا ’’پورا وجود ایک فردِ واحدکی طرح‘‘ ہو جائے۔ یہ خطبۂ الٰہ آباد کے مطابق اُس ریاست کی تشریح ہے جس کا تصوّر اِس خطبے میں پیش کیا جا رہا تھا۔

اس لیے ہمیں تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان  کے دو مقبول ترین قومی نغموں، ’’سوہنی دھرتی‘‘  اور  ’’جیوے پاکستان‘‘، میں سے ایک نغمے کا ایک ایک مصرعہ جہاں پاکستان کے بارے میں ہے، وہاں سیمرغ کے تصوّر پر بھی بالکل اُسی طرح پورا بیٹھتا ہے جیسے اسے جمیل الدین عالی کی بجائے فریدالدین عطار نے لکھا ہو:

من پنچھی جب پنکھ ہلائے، کیا کیا سُر بکھرائے
سننے والے سنیں تو اُن میں ایک ہی دُھن لہرائے

مزید پڑھئیے "جناح کی آواز ! قسط 1"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *