طاقت ور عہدوں سے علیحدگی کا احساس

مجھے اکثر خیال آتا ہے کہ  اگر میں دو طاقتور ترین اشخاص میں سے ایک ہوتا  اور پھر مجھ پر یہ حقیقت کھلتی کہ آدھی رات کے وقت مجھ سے ساری طاقت چھین لی گئی ہے تو میں کیسے محسوس کرتا؟

یہ ریٹائرمنٹ کے وقت آرمی چیف اور چیف جسٹس کے ساتھ ہوتا ہے۔ دونوں  بے پناہ اختیارات رکھتے ہیں اور کسی کو جواب دہ نہیں ہوتے۔ لیکن جب وہ وردی اور ستارے اتارتے ہیں، تو وہ  میڈیا کی توجہ کا مرکز نہیں رہ جاتے اوراپنے گھروں کی دیواروں تک  محدود ہو کر رہ جاتے ہیں۔

یقینا انہیں بڑی مراعات اور  فوائد کے ساتھ رخصت کیا جاتا ہے لیکن ان کی کامیابیوں کو جلد ہی بھلا دیا جاتا ہے۔ ان میں سے کچھ نے لوگوں کی نظروں  میں اور عوام کی توجہ میں رہنے کے لیے سیاسی جماعتیں بنا لی ہیں۔ جنرل اسلم بیگ کے تھنک ٹینک کے  دوستوں کو کوئی یاد نہیں کرتا۔ اور ان کی عوامی قیادت پارٹی  کسی کو یاد ہے؟  یہی سچائی افتخار چوہدری کی پاکستان جسٹس اینڈ ڈیموکریٹک پارٹی کی ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہ رکنیت ایک ٹانگے میں فٹ ہو سکتی ہے۔

اب  جب کہ ثاقب نثار اپنے تین سالاہ دور میں انتظامیہ کے ہر کام میں ٹانگ اڑانے کے بعد ریٹائر ہو چکے ہیں تو یہ دیکھنا باقی ہے کہ وہ اپنی زندگی کی ریٹائرمنٹ کی زندگی کیسے گزارتے ہیں اور توجہ کا مرکز نہ رہنا انہیں کیسا محسوس ہوتا ہے۔ ان  کو اس آفر کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے کہ انہوں نے کہا تھا کہ ریٹائڑمنٹ کے بعد وہ مہمند ڈیم کے لے آنے والی مشینری کی نگرانی  ٹینٹ میں رہ کر کریں گے ۔ لیکن وہ پراجیکٹ ہلکے سے مسئلے سے دو چار ہے کیوں کہ ملنے والے  عطیات صرف  9 ارب ہیں جب کہ درکار رقم ایک ہزار ارب روپے ہے۔ اس شرح پر مطلوبہ رقم اکٹھی کرنے میں 100 سال لگ جائیں گے وہ بھی تب جب پراجیکٹ کی قیمت میں اس دوران مزید اضافہ نہ ہو۔  تو انہیں اس وقت اپنا کیمپنگ کا سامان باندھنے کی ضرورت نہیں ہے۔

احتساب کی باتیں کرتے ہوئے اب کافی عرصہ کزر چکا ہے ۔ سیاستدانوں اور بیوروکریٹس پر الزامات لگائے گئے، پیسہ بنانے کے لیے اپنے اختیارات اور عہدوں کے غلط استعمال کی وجہ سے انہیں گرفتار کیا گیا اور جیل بھیجا گیا۔ لیکن ان جرنیلوں کا کیا جنہوں نے ہمیں بے معنی جنگوں میں  گھسیٹا  جو ہمیں مالی اور جانی لحاظ سے بہت مہنگی پڑیں ؟ اور ا ن جج کا جنہوں نے  خسارے میں چلنے والے اداروں کی نجکاری میں رکاوٹیں پیدا کیں  جس کا خمیازہ ٹیکس ادا کرنے والے عام شہریوں کو سبسڈی سے محرومی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

مجھے امید ہے  کہ ساببقہ چیف جسٹس نے کوئی مشغلہ ڈھونڈ لیا ہو گا کیونکہ کسی بھی طاقتور عہدے سے ریٹائرمنٹ  حقیقی زندگی میں ایک بڑی تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ یقینا وہ ان سرخیوں کو دوبارہ سے پڑھ سکتے ہیں جو انہوں نےا پنے دور میں سو موٹو   کے ذریعے مداخلت کے ذریعے بنائیں۔ ان کے ڈیم اقدامات کے علاوہ انہوں نے بوتلوں والے پانی کی قیمتیں بڑھائیں، ایک سابق وزیر اعظم کو جیل بھجوایا، اور پاکستان کی سپریم کورٹ کو سیاسی اکھاڑے میں داخل کیا۔ تو جب وہ ریٹائر ہوئے، تو اپوزیشن سیاست دانوں کی طرح بیوروکریٹس کی تسکین کی سانس  مجھے سری لنکا میں محسوس ہوئی۔

یقینا مسٹر نثار کا دل اپنی صحیح جگہ پر ہے: کون نہیں سوچتا کہ بچوں کو پینے کے لیے صاف پانی مہیا ہونا چاہیے، یا پولیس کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روک دینی چاہییں؟ در اصل زیادہ تر پاکستانیوں کے لیے زندگی  ایک طویل  المدتی حقوق کی خلاف ورزی ہی ہے۔

لیکن ان حالات کو بہتر بنانے کا راستہ ریاستی اداروں کو مضبوط کرنے میں ہے نہ کہ انہیں کمزور کرنے میں۔  پی آئی اے لوگو سے لے کر دودھ کی کوالٹی تک ہر چیز کے بارے میں غیر ضروری احکامات جاری کرتے ہوئے  انتظامیہ کو ایک کونے میں دھکیل دیا گیا۔ چھوٹی سی بات پر انہوں نے نیب کو بھیج دیا کہ وہ ان معلمین اور دوسرے سول ملازمین کو گرفتار کر لائیں  جن پر ٹی وی پروگرام میں مختلف الزامات لگائے گئے تھے۔

یہ کوئی ڈھکی چھپی بات  نہیں کہ ہماری بیوروکریسی نااہل اور زیادہ تر کرپٹ ہے۔ لیکن حکومت چلانے کے بارے میں کم علمی کے حامل مائیکرو مینیجنگ حکومتی ڈیپارٹمنٹس تباہی کی علامت ہیں۔ انتظامیہ کی اس شاٹ گن  پالیسی کی وجہ سے کوئی مستقل حل سامنے نہیں آ رہا بلکہ اس نے کیریئر  تباہ ہوتے ہیں اور سیاسی منظر نامہ بری طرح متاثر ہوتا ہے۔

تاہم ان کی ہائپر ایکٹو ایکٹوزم پر میرا واحد اعتراض یہ ہے اس نے انہیں ان کی عدالتی نظام کے کاموں کی نگرانی کی بنیادی ذمہ داریوں سے دور کیا ہے۔ ان کے اپنے اعتراف کے مطابق وہ ذیلی عدالتوں کے کاموں میں کوئی بہتری نہ لا پائے جہاں 2 ملین کے قریب کیس زیر التوا ہیں۔

جج دن میں درجنوں کاروائیاں فکس کرتے ہیں اور ان کی عدالتیں وکلا، گواہان اور مدعیوں سے بھری پڑی ہوتی ہیں جن کو ملتوی کر دیا جاتا ہے۔ اس طرح فیصلے آنے والی نسلوں تک لٹکے رہتے ہیں۔

تقریبا 12 سال پہلے جب پاکستانی طالبان نے سوات کو قبضے میں لیا انہیں بنیادی طور پر خوش آمدید کہا گیا کیوں کہ انہوں نے انصاف کی بر وقت فراہمی کو یقینی بنایا، ایک ایسا کام جس کا ہماری عدالتوں کو کبھی الزام نہیں دیا گیا۔ در اصل لوگ اکثر جرم کی گواہی دینے سے اس لیے انکار کر دیتے ہیں کہ وہ ہماری عدالتی نظام کے چکر میں پھنس جائیں گے، اور پھر توہین عدالت کے الزام میں دھر لیے جائیں گے اگر وہ سنوائی میں حاضر نہیں ہوتے۔

یہ ہماری لوئر  عدلیہ کی حقیقت ہے اور اعلی عدالتیں بھی زیادہ بہتر نہیں ہیں۔ اگر ثاقب نثار نے ہمیشہ کے لیے اپنی مثال قائم رکھنے کی خواہش کی ہوتی تو انہوں نے اس فرسودہ نظام کو ٹھیک کرنے کی کوشش کرنا تھی۔  لیکن ایسا کرنے کی بجائے وہ کھیل کھیلتے رہے اور ہمارے حالات بد تر ہوتے چلے گئے ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *