گاندھی اور قائداعظم

چند دن پہلے میں نے اپنی فیس بک وال پر یہ سطور پوسٹ کی تھیں :
یہ کس نے کہا ؟
کیا اسلام صرف مسلمانوں کے ساتھ بھلائی کا حکم دیتا ہے؟ کیا اسلام کا امن صرف مسلمانوں کے لیے ہے اور غیر مسلموں کے لیے صرف نفرت اور دشمنی؟ جو لوگ اس بات کو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات قرار دے رہے ہیں وہ اسلام کو بدنام کر رہے ہیں ۔۔۔۔یہ وہ اسلام نہیں جسے میں جانتا ہوں ۔۔۔
یہ باتیں کس نے کہیں اور کب کہیں ؟؟؟؟
اس پر صرف ایک دوست جناب تیمور لاشاری نے قرآن مجید کی سورہ النساء کی یہ آیت پوسٹ کی :
" اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ سلوک و احسان کرو اور رشتہ داروں سے اور یتیموں سے اور مسکینوں سے اور قرابت دار ہمسایہ سے اور اجنبی ہمسایہ سے اور پہلو کے ساتھی سے اور راه کے مسافر سے اور ان سے جن کے مالک تمہارے ہاتھ ہیں، (غلام کنیز) یقیناً اللہ تعالیٰ تکبر کرنے والوں اور شیخی خوروں کو پسند نہیں فرماتا"
میرے فاضل دوست نے گویا اس اقتباس کو درست قرار دے کر اس کو اس قرآنی ھدایت کے پس منظر میں دیکھا ۔
اب دوستوں کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ اقتباس گاندھی کے اس بیان سے لیا گیا ہے جو انھوں نے23 مارچ 1940 کی قرارداد پاکستان پیش کرنے کے بعد مطالبہ پاکستان پر سخت تنقید کرتے ہوئے دیا تھا۔ عام طور پر قرارداد پاکستان کا پس منظر بھی درست طور پر بیان نہیں کیا جاتا۔ یہ بتایا ہی نہیں جاتا کہ یہ دوسری جنگ عظیم (1945-1939) کے دوران کا واقع ہے۔ جب کانگریس نےجنگ کا فایدہ اٹھاتے ہوئے ہندوستان چھوڑ دو کی تحریک چلائی تو مسلم لیگ کی طرف سے تقسیم کرو اور چھوڑ دو کا موقف پیش کیا گیا۔
اصل میں ہم تقسیم ھند کے مطالبے کو درست یا غلط قرار دیے بغیر گاندھی اور ان کے ہم خیال سیاستدانوں کے موقف کو بلاتبصرہ اس لیے سامنے رکھنا چاہتے ہیں کہ ایک غیر متعصبانہ مطالعہ کے بعد ہم اپنی رائے قائم کریں اور نفرت کے جذبات سے نکل آئیں۔
گاندھی اور دوسرے اصولی سیاستدانوں کا کہنا تھا مطالبہ پاکستان کی دو بنیادی وجوہات بیان کی جاتی ہیں ؛ ایک مذہبی اور دوسری معاشی و سیاسی ۔ان کی نزدیک مذہبی دلیل اس لیے غلط ہے کہ اسلام ایک دعوتی مذہب ہے۔ وہ اپنے آپ کو لسانی جغرافیائی اور نسلی حد بندیوں میں محدود نہیں کرتا۔ بلکہ اس کا حکم دیتا ہے اگر اسلام خیر کا پیغام ہے تو اسے عام کیا جائے۔ شریعت کے مطابق لوگوں سے تعلقات ، رابطے اور تبادلہ خیال کے دروازے آخری حد تک کھلے رکھے جائیں۔ جڑنے کی ہر سبیل اختیار کی جائے اور کٹنےاور علیحدگی کے ہر خدشے کو محدود کیا جائے۔ جبکہ تقسیم ہند کا مطالبہ اسلام کی اس دعوتی روح کے سراسر خلاف ہے
مزید یہ کہ مطالبہ پاکستان کے حمایتی اس بات کا بھی برملا اظہار کرتے تھے کہ ہم پاکستان قائم کرنے کے بعد اسے اسلام کا قلعہ بناییں گے۔یہ مسلمانوں کی عسکری طاقت کا مرکز ہوگا اور پھر پہلے مرحلے میں دہلی کے لال قلعے پر اسلام کا جھنڈا لہرایا جائے گا اور اگلے مرحلے میں دنیا کو سرنگوں کرنے کے مقدس جہاد کا آغازکیا جائے گا۔ گاندھی جیسے باشعور ہندو اسے اپنے لیے شدید خطرہ سمجھتے تھے اور اپنے پڑوس میں ایسی ریاست کو خطے کے امن کے لیے بھی خطرناک قرار دیتے تھے۔ وہ اسلام کی اس تشریح سے بھی اختلاف رکھتے تھے۔ اور ان مسلمان علماء سے متفق تھے جو مذہب کو طاقت کے استعمال کے بجائے امن کے ذریعے لوگوں تک پہنچانے کے قائل تھے۔ جبکہ قاءد اعظم بھی ان معنوں میں اسلام سے قطعہ طور پر واقف نہیں تھی۔ وہ پاکستان کو مذہبی نہیں قومی ریاست کے طور پر دیکھتے تھے۔ وہ مذہب کو ریاست کا نہیں فرد کا معاملہ قرار دیتے تھے۔ وہ اسلام کا تعلق پاکستان سے اس لیے جوڑتے تھے کہ یہ یہاں کی اکثریت کا مذہب ہے ۔ اور ایک مسلمان کی حیثیت سے پاکستانیوں کو اپنا نظم سیاسی تشکیل دینے کے حق میں تھے۔ لیکن ناقدین کا ماننا تھا کہ یہ جناح صاحب کا نظریہ تو ہوسکتا ہے لیکن جن لوگوں کو ساتھ ملا کر وہ مطالبہ پاکستان کر رہے ہیں وہ بہت جلد انھیں اقتدار اور فیصلہ سازی کے مقام سے بے دخل کرکے اپنے نظریات کے مطابق پاکستان کی تشکیل کریں گے۔ چنانچہ کانگریس کے مسلمان رہنما ہوں یا ہندو ، وہ سب ان خدشات کا غیر مبہم الفاظ میں اظہار کر تے رہتے تھے۔ بلکہ مولانا ابوالکلام آزاد جیسے ابقری اور فیوچر ویژن کے حامل رہنما نے تو اس کے مرحلے بھی بیان کر دیے تھے اور یہ بھی کہہ دیا تھا جیسے ہی پاکستان ایک عسکری ریاست کی شکل اختیار کرے گا وہ عالمی طاقتوں کی پراکسی وار کا مرکز بن کر ان کے ہاتھوں بے دردی سے استعمال ہو گا۔اور جس مذہب کی بنیاد پر وہ دوقومی نظریےکو اتحاد کے لیے استعمال کر رہے ہیں کل یہی مذہب پاکستانی قوم کو پارہ پارہ کر دے گا۔
گاندھی اور ان کے ہم خیال پاکستان کے قیام کی دوسری دلیل یعنی معاشی اور سیاسی وجوہات کے بھی قائل نہ تھے۔ وہ اسے مستقبل کےپاکستان کی نسبت بھارت میں پیچھے رہ جانے والے تعداد میں زیادہ مسلمانوں کے لیے بہت خطرناک سمجھتے تھے۔اسی لیے وہ مطالبہ پاکستان کو مسلم لیگ کی خود غرضانہ اور عاقبت نا اندیش سیاست کا شاہکار سمجھتے تھے۔وہ سیاسی لحاظ سے پاکستان کو ایک وحدت کی صورت میں نہیں دیکھتے تھے۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ بے شک پاکستان کا قیام قاءد اعظم اور مسلم لیگ کی کامیابی تھی لیکن پاکستان جمہوریت اور اسلامی فلاحی ریاست کی منزل حاصل کرنےمیں ناکام رہا ہے۔یوں گاندھی اور مسلمان کانگریسی لیڈروں نے جن خطرات کی نشان دہی کی تھی پاکستان بمیں ان خطرات میں گھرا نظر آتا ہے ۔ دوقومی نظریے کے حمایتی مذہب کو تربیت قوم کے لیے تو استعمال نہ کر سکے البتہ اہل مذہب نے ضرور اپنی اپنی جہادی دکانیں قائم کیں۔ اور نتیجہ اب سب کے سامنے ہے۔ ذرا انصاف سے بتائیں کہ جناح آج حیات ہوتے تو وہ لشکر جھنگوی کے ساتھ ہوتے یا سپاہ محمد کے؟ مسلم لیگ ہی میں رہتے یا کرپشن سے اکتا کر تحریک انصاف کا حصہ بن جاتے یا سراج الحق کی ایمانداری سے متاثر ہو کر جماعت اسلامی کی تانگا پارٹی میں سوار ہو جاتے؟ البتہ ہمیں یقین ہے اگر گاندھی نتھورام گوڈسے کے ہاتھوں پاکستان کی حمایت کے جرم میں ہلاک نہ کر دیے جاتے تو وہ اپنے پروگرام کے تحت پاکستان کا دورہ ضرور کرتے۔ وہ کہتے کہ جناح بھائی چلیں آپ نے تقسیم کی منزل تو حاصل کر لی، آپ ہم سے جیت گئے ، آئیے اب جس مقصد یعنی امن کی بحالی کے لیے آپ نے پاکستان بنایا اسے حاصل کرتے ہیں ۔ جو گاندھی جناح کو متحدہ ہندوستان کا وزیراعظم بنا کر امن حاصل کرنے کی بات کر سکتے تھے وہ لازماً کشمیر پر ضرور کوئی نہ کوئی پیشکش کرتے۔ اس لیے میری گزارش ہے کہ گاندھی کو ایک ہندو کی حیثیت سے نہ دیکھا جائے ۔ان کے اندر کا ہندو تو قتل کر دیا گیا تھا ، باقی تو صرف ایک اہنسا کا پجاری امن پسند لیڈر بچا تھا جو خالص سیاستدان تھا ۔ اس لیے اسے سیاست دان ہی کی حیثیت سے دیکھیں ۔ ہاں ہم یہ مانتے ہیں کہ وہ ایک ناکام سیاست دان تھا ، اپنے لوگوں کے ہاں بھی اور ہمارے ہاں بھی۔
مگر ایک بات ضرور ہے کہ اگر آین سٹائن یہودی ہو کر عظیم سائینسدان ہو سکتا ہے ، مسیحی ہو کر نیلسن منڈیلا کامیاب سیاست دان ہو سکتا ہے تو گاندھی عظیم سیاست دان کیوں نہیں ہوسکتا؟ کیونکہ کامیاب سیاست دان وہ ہے جو مستقبل کی نظر سے حال کو دیکھتا ہے۔ کیا مستقبل بینی جناح صاحب کی درست نکلی یا گاندھی جیسے راندہ درگاہ کی !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *