اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہوکر

حیف یہ وقت بھی آنا تھا ۔۔۔
شنید ہے کہ اپنے ' رمضانی تماشے' کے لیئے چینل پکڑنے کے لیئے اس برس مہابلی عامر لیاقت بہت پریشان ہیں ۔۔۔ 
اس بات کی کھوج پہ ہم بعد میں آئینگے لیکن پہلے یہ سچی بات بھی سن لیجیئے کہ  ارسطوئے زماں و بقراط دوراں عامر لیاقت حسین مدظلہ العالی کی زبان تالو سے لگ گئی ہے ۔۔ یعنی وہ پارہء گوشت جسے پل بھر کو قرار نہ آتا تھا اور ہر عزت دار کی پگڑی یوں تار تار کرتا تھا کہ جیسے کوئی ململ کے روپٹے کو خاردار جھاڑیوں میں ڈال کے کھینچے ۔۔۔ اب وہی زبان ہر وقت وقف معذرت ہے ۔۔۔ نجانے کتنے ہی لوگوں سے گڑگڑا کے معافیاں مانگی جاچکی ہیں اور اب بھی کتنے ایسے لوگ باقی ہیں کہ جن کی توقیر یوں انکی شعلہ بیانی کے الاؤ میں جھونکی گئی کہ سوکھی گھاس کی طرح جل اٹھی اور خاکستر کر ڈالی گئی ۔۔۔  لیکن مکافات عمل کا قانون اٹل ہے، جب خون آشام تنظیم کا وہ راج سنگھاسن ڈولا کہ جسکی بنیاد پہ ہر اہل تکریم ان سے بچتا تھا اور  اور موصوف معاشرے میں ہر در پہ ٹھکرائے جانے لگے گئے تو کل تک وہی میر صاحبان یعنی میر شکیل الرحمان اور میر ابراہیم رحمان جنہیں  عامر لیاقت صاحب بول کی کرسی پہ بیٹھ کے جی بھر کے  آئے دن غداری اور ملک دشمنی کے گھناؤنے القابت سے نواز رہے تھے  اور جنہیں بھارت کا ایجنٹ تک ٹہرادیا گیا تھا بعد میں انہی کے روبرو سرعام دونوں ہاتھ جوڑ کے توبہ تلا کرنے اور ہکلاتی و گھگھیاتی معافیاں مانگنے کی نوبت بھی آگئی اور اس منظر کی تصویریں سوشل میڈیا پہ جب عام ہوئیں تو سخن فہموں نے دانتوں میں انگلیاں داب لیں ۔۔۔  
ویسے اوپر بیان کردہ معافی مانگنے کے منظر نامے سے ذرا پیشتر ہی انجام کا آغاز شروع ہوچکا تھا اور میرصاحبان سے مانگی گئی، ابن الوقتی پہ مبنی عامر لیاقت کی یہ معافی اس ذلت بھرے رستے کا محض ایک موڑ ہی تھیں - اس سے قبل وہ شعیب شیخ اور انکی بیگم عائشہ سے بھی اسی طرح آہ و زاری سے معافیاں مانگ چکے تھے اور یو ٹیوب پہ اسکی ویڈیو بھی از خود ہی جاری کردی تھی کہ دل پسیجے اور سبھی بند دروازوں میں سے کوئی تو کھلے ۔۔۔ باقی رہی بات عزت و غیرت کی تو اس سے ان حضرت کا بھلا کیا لینا دینا ۔۔۔  اور نہ ہی شعیب شیخ کا مسئلہ ہے ۔۔۔ سو جس کو انہوں نے اپنی ویڈیو کلپ میں جوبلی کا کریمنل تک ٹہرا دیا تھا اسی نے کمال بیشرمی سے عامر لیاقت کو پھر بول ٹیم میں شامل کرلیا تھا ۔۔۔ تاہم اب ایک بار پھر عامر لیاقت بول سے باہر کردیئے گئے ہیں اور جب سے ابتک  نجانے کتنے ہی چینلوں کے دروازے کھٹکھٹا ڈالے ہیں کہ ہمیں اپنی اسکرین پہ رمضان تماشا کرنے دو لیکن یہ چینل والے دو وجوہات سے  ان حضرات کو لفٹ نہیں کرارہے ہیں پہلی تو یہ کہ وہ عامر لیاقت سے بری طرح سے ڈسے ہوئے ہیں کیونکہ عامر لیاقت کی ذات میں وفا ہرگز نہیں اور وہ چھلانگیں مارکے ہر چینل کا اسٹوڈیو پھلانگ چکے ہیں- دوسری وجہ یہ ہے کے ان چینلوں کو اب موصوف کی حقیقی اوقات بھی اچھی طرح سے معلوم ہوگئی ہے کہ یہ حضرت اپنے منہ سے چاہے اپنی شان جتنی بھی بڑھائیں لیکن عوام میں انکی کوئی عزت نہیں کیونکہ انکے پروگرام اب خاطر خواہ ریٹنگ نہیں لے پاتے ۔۔ ایسے میں انکے بے پناہ نخرے اور بدتمیزیاں جھیلنے کی بھی اب کسی چینل میں سکت  باقی نہیں رہ گئی ہے ۔۔ اسی سے جڑی تلخ حقیقت یہ بھی ہے کے  نئے آنے والے اینکر کبھی کے انہیں روند کے آگے بڑھ چکے ہیں مزید برآں ایک وجہ یہ بھی ہے کہ عوام ان سے بری طرح چڑنے لگے ہیں کیونکہ موصوف آئے دن اپنے مؤقف کو بدلنے اور نئی نئی پوزیشنیں لینے کے لیئے بدنام ہوچکے ہیں   -
اس صورتحال میں مجبور ہوکر اب نوبت یہ آگئی ہے کے ماضیء قریب کا یہ سپر میڈیا مین مجبور ہوکے دبئی میں موجود ایک میڈیا لابنگ فرم ؛ایکشن کنسلٹینسی' کا سہارا لینے پہ مجبور ہوگیا ہے کہ وہ ان حضرت کے لیئے کسی چینل سے نوید مسرت لے آئے اور رمضان تماشے کے لیئے وہ کسی چینل پہ جلوہ گر ہوسکیں مگر احوال واقعی یہ ہے کہ اس میڈیا فرم کے افسران چینل درچینل گھوم رہے ہیں اور بہت سی ترغیبات بھی آفر کررہے لیکن تاحال کہیں سے بھی کوئی خوشخبری نہیں مل سکی ہے ۔۔۔ ایسے میں انکی لمبی چوڑی ٹیم بھی کبھی کی منتشر ہوچکی ہے اور حالت یہ ہے کہ انکے مدح خوانوں اور جانے مانے درباریوں کی اکثریت بھی رفو چکر ہوچکی ہے ۔۔۔ کوئی مایوسی سی مایوسی ہے ۔۔۔!  اس بیزار کن صورتحال میں انکی خدمت میں یہی شعر پیش کیا جاسکتا ہے کہ
  اسی باعث تو قتل عاشقاں سے منع کرتے تھے
 اکیلے پھر رہے ہو یوسف بے کارواں ہو کر 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *