سپریم کورٹ کا سٹینڈرڈ فیصلہ

اس ہفتے ہم ہماری دھونس کی سیاست، سول ملٹری تعلقات میں عدم توازن، ڈی فیکٹو اور ڈی جورو کے بیچ کا خلا اور خود  کو ہمیشہ درست ماننے جیسے معاملات پر گفتگو نہیں کریں گے۔ یہ وقت تحریک لبیک کی طرف سے فیض آباد میں پچھلے سال کے دھرنے کے بارے میں سپریم کورٹ کا فیصلہ  پڑھنے  اور اس کی نظر میں ملکی معاملات کو سمجھنے کی کوشش کا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب آپ قانون کی حکمرانی  کا رونا  بھی نہیں رو سکتے، اس طرح کے فیصلے نے جو جسٹس قاضی فائز عیسی  نے تحریر کیا ہے، ایک ایسے پہلو کو اجاگر کیا ہے جو سب کو معلوم تو ہے لیکن کوئی اس بارے میں بات نہیں کر سکتا۔

یہ وہ عدالت نہیں ہے  جو اپنے اختیارات سے نا واقف ہو۔ یہ لکھتی ہے کہ  12 مئی 2007 کو جو لوگ حکومت میں تھے  یا پھر وہ لوگ جنہوں نے فیض آباد انٹر چینج پر  جمع ہوئے ہجوم کا ساتھ دیا  وہ اس وقت حکومت میں اعلی عہدوں پر فائز ہیں ۔ اگرچہ مذہبی اور سیاسی اقدار کی گراوٹ کے بارے میں بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن یہ عدالت  آرٹیکل 184(3) کے تحت حاصل اختیارات سے کسی صورت تجاوز نہیں کرے گی۔

کئی ماہ تک ہمیں بتایا جاتا رہا کہ ممبران اسمبلی کے حلف کے الفاظ میں تبدیلی  پاکستان کی شناخت کو چھین لینے کی ایک سازش ہے۔جس شخص نے بھی اس تنازعہ کو سمجھنے کی کوشش کی وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ الفاظ کی یہ تبدیلی تقریبا بے معنی تھی۔  لیکن مذہب کے نام سے اس تبدیلی کو ایشو بنا کر ملک  کو تقسیم کر دیا گیا اور ن لیگ کو قیمتی بریلوی ووٹ سے محروم ہونا پڑا۔ سپریم کورٹ نے لکھا ہے کہ   پارلیمنٹ نے االفاظ کی یہ تبدیلی 19اکتوبر کو واپس لے لی تھی اور حلف کی دستاویز کو پرانی شکل میں بحال کر دیا تھا  لیکن تحریک لبیک پاکستان نے  اپنا احتجاج جاری رکھا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں لکھا ہے کہ دھرنا دینے والی قیادت نے  دہشت پھیلائی، گالی گلوچ کیا، دھمکیاں دیں، عوام کو اکسایا اور نفرت پھیلائی۔ میڈیا نے بھی دھرنا کی کوریج بلا روک ٹوک جاری رکھی۔ جس کو بھی حکومت سے کوئی شکایت یا ناراضگی تھی اس دھرنا کا حصہ بنتا گیا۔ سیاستدانوں نے دہشت پھیلانے والی تقاریر کیں۔  کچھ ٹالک شوز میں بھی شہریوں کو بھڑکایا اور اکسایا گی۔ فیصلہ میں لکھا ہے کہ تبھی اس پاگل پن کے دوران آئی ایس پی آر نے یہ ٹویٹ کیا: چیف آف آرمی سٹاف نے وزیر اعظم کو فون کیا، دھرنا کو پر من طریقے سے ہینڈل کرنے کی ہدایت کی اور طاقت کے استعمال سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا یہ ایسا کرنا قومی مفاد اور یکجہتی کے خلاف ہو گا۔

سپریم کورٹ نے مزید لکھا ہے: 25 نومبر 2017 کو قانون نافذ کرنے والے اداروں نے واٹر کینن اور ٹئیر گیس کا استعمال کیا  تا کہ مظاہرین کو منتشر کیا جا سکے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور 173 اہلکار زخمی ہونے کے بعد ان ادارو کو واپس کا راستہ لینا پڑا۔ یہ بھی لکھا ہے کہ " تب حکومت نے آرٹیکل 245 کے مطابق آرمی سے مدد لینا چاہی۔ لیکن جس دن آرمی کو لایا جانا تھا اس سے پچھلی رات  آرمی کی مدد  سے دھرنا ختم کر دیا گیا  اور اس موقع پر باوردی افسران نے مظاہرین میں رقوم بھی تقسیم کیں۔

ٹی ایل پی کی ترقی کے سفر اور اس کے فنڈنگ کے ذرائع کے بارے میں  معلومات کے حصول کے لیے پیمرا، وزارت دفاع، آئی ایس آئی  تینوں کو 19 مارچ اور 24 اپریل 2018 کو  رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔ اس کے بعد 5 ماہ تک اس کیس پر کوئی کاروائی نہ ہوئی جس کی کوئی وضاحت نہیں دی جا سکتی۔ حیرت کی بات یہ ہے  کہ یہ وہ دورانیہ تھا جب الیکشن ہونے کو تھے اور جسٹس ثاقب نثار نے کیس کو مزید سننے سے گریز کیا اور الیکشن کے دوران ٹی ایل پی کو دیئے گئے ووٹ کی وجہ سے 25 سے 30 حلقوں کے نتائج پر بڑا اثر پڑا۔

سپریم کورٹ کے فیصلے میں تحریک لبیک کی سیاسی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے عوامل کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔ ججز لکھتے ہیں: انٹیلی جنس ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق سیاسی جماعتوں نے تحریک لبیک قیادت سے اظہار یکجہتی کے لیےدھرنے کے دوران   ملاقاتیں کی۔ ٹی ایل پی کو فری میڈیا کوریج پرائم ٹائم میں بھی دستیاب رہی ، پارٹی کو شہرت حاصل ہوئی  اور راتوں رات ایک بڑی جماعت بن کر سامنے آ گئی۔  اس کے 2 ممبران کراچی کی صوبائی اسمبلی کی سیٹیں جیتنے میں بھی کامیاب رہے  اور 25 جولائی کے الیکشن میں اس جماعت کو بڑی تعداد میں ووٹ پڑے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پانامہ کیس کے بعد ٹی ایل پی کے دھرنا نے ن لیگ کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ : الیکشن کمیشن کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ  تحریک لبیک نے  بار ہا یادہ دہانی کے باوجود اپنی فنڈنگ کے بارے میں مکمل معلومات فراہم نہیں کی ہیں ۔ فیصلے میں مزید لکھا ہے کہ  آئین کے آرٹیکل 17(3) یہ تقاضا کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں  اپنے فنڈنگ کے ذرائع ڈیکلئر کرین اور الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن اس بات کو لازمی قرار دیتی ہے کہ  الیکشن پر خرچ ہونے والے پیسے کی مکمل تفصیل الیکشن کمیشن کو مہیا کی جائے ۔  الیکشن کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی نے اپنے فنڈنگ کے ذرائع ااور الیکشن پر خرچ ہونے والی رقم  کی تفصیلات الیکشن کمیشن کو راہم نہیں کیں لیکن حیرت کی بات ہے  کہ الیکشن کمیشن نے اس پر کوئی ایکشن نہیں لیا اور  قرار دیا ہے کہ یہ قانون معمولی حیثیت کا ہے۔

ہمیشہ پاکستان میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کیوں کیا جاتا ہے؟ سپریم کورٹ وضاحت کرتے ہوئے لکھتا ہے: ٹی ایل پی  نے یہ دیکھا ہو گا کہ 2 مئی 2007 کو دن دیہاڑے کئی افراد کے قتل  کے بعد بھی ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ جب پی ٹی آئی اور پی اے ٹی نے ریڈ زون میں کئی ماہ تک  ڈیرے جما لیے تھے  تو انہوں نے بھی اپنے جوڈیشن کمیشن کے قیام کے مقاصد حاصل کر لیے تھے۔ اگرچہ انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں پی ٹی آئی کے دعوے غلط ثابت ہوئے تھے اور کوئی بھی حقیقت کے بر عکس چیز سامنے نہ آئی لیکن ذمہ داران کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ یہاں تک کہ پی ٹی آئی کی لیڈر شپ نے  معافی تک نہیں مانگی۔

فیصلہ پڑھ کر کوئی بھی 2 پاکستان کی کہانی کا مشاہدہ کر سکتا ہے: ایک ٹی ایل پی کے لیے اور دوسرا چند دوسری سیاسی جماعتوں کے لیے۔ سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ "شہری حق رکھتے ہیں کہ پر امن احتجاج اور مظاہرے کریں اور وہ حکومت یا اقتدار کے کسی فیصلے یا کاروائی کے خلاف ایسا کر سکتے ہیں۔"پھر بھی ہم اپنے  ہاں یہ اکثر دیکھتے ہں کہ نو آبادیاتی قوانین کے استعمال کے ذریعے پر امن مظاہرین کو بھی طاقت کے استعمال سے منتشر کر دیا جاتا ہے اور کئی لوگوں پر تو غداری کے بھی مقدمات درج کر دیے جاتے ہیں  ۔  سپریم کورٹ کے ججز مزید کہتے ہیں: "ایک جگہ جمع ہونے کے حق کو جمہوریت کی بحالی کا تسلسل قرار دیا جاتا ہے ،  لیکن اسے ایک قانونی حکومت کو ہٹانے کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔" اور پھر بھی ہم نے دیکھا کہ کیسے ٹی ایل پی کو ہر طرح سے تحفظ دیا گیا۔

عدالت واضح کرتی ہے کہ، ("اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری کے ضلعی مجسٹریٹ نے ٹی ایل پی قیادت کو ایک خط لکھا تھا کہ کریمینل پروسیجر کوڈ کے سیکشن 144 کے تحت ایک حکم جاری کیا گیا تھا جس میں عوامی اجتماع کو منع کیا گیا تھا۔ ٹی ایل پی قیادت نے مجسٹریٹ کے اس خط کی کوئی پرواہ نہ کی، پھر بھی اس معاملے میں ان کے خلاف کوئی پراسیکیوشن نہ کی گئی۔" لیکن صرف اس ہفتے سول سوسائٹی کے کارکنوں  کو اٹھا لیا گیا اور ارمان لونی کی موت پر احتجاج کرنے کی وجہ سے جیل میں بند کر دیا گیا۔ ایک نوجوان خاتون رکن گلالئی اسماعیل  کو 30 گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا۔

رہا کیے جانے کے بعد گلالئی نے وزیر اعظم عمران خان کی طرف سے  مداخلت کر کے رہائی ممکن بنانے پر شکریہ ادا کیا۔ وفاقی وزیر ڈاکٹر مزاری نے بھی مبینہ طور پر گلا لئی کی رہائی کے لیے اپنی پوری جان لگائی۔ یہ تھوڑا سا  پر تجسس معاملہ ہے ۔ اگر ضلعی مجسٹریٹ یا ڈی سی، جو پبلک آرڈر لا کے نفاذ کے لیے مکمل طور پر با  اختیار ہیں، نے گلالئی کی گرفتاری یا حراست کے احکامات نہیں دیے، اور نہ ہی عمران خان نے  بطور  وزیر داخلہ (جنہوں نے اس کے بجائے انہیں رہا کرنے کی ہدایات دیں) بھی ایسے احکامات نہیں دیے، تو کس کے احکامات پر ایک پر امن احتجاج میں مصروف خاتون کو 30 گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا؟ احکامات کون دے رہا تھا؟

اپنے فیصلے میں  سپریم کورٹ نے  کمرے میں موجود ہاتھی کی بھی پہچان کروا دی۔ عدالت کا کہنا ہے کہ نہ صرف پیمرا نے ٹی ایل پی کے نفرت  آمیز ایجنڈے کو فروغ دینے  والے چینلز کے خلاف کوئی کاروائی نہیں کی بلکہ "پیمرا اپنے لائسنس یافتہ براڈ کاسٹرز کے حقوق کا تحفظ کرنے میں بھی ناکام رہا۔ ڈان اور جیو ٹی وی  چینلز کی نشریات کو روک دیا گیا، اس کے بارے میں شکایات موصول ہونے کا پیمرا نے اعتراف کیا۔  ڈان اور جیو کو خاص طور پر ملک کے ڈی ایچ اے ایریا اور کینٹونمنٹ میں  ہدف بنایا گیا، جس کی تصدیق بھی پیمرا نے کی۔ لیکن، افسوس کے ساتھ، پیمرا نے ان تما م مسائل سے رخ پھیر لیا۔ ''

سپریم کورٹ کے مطابق، "کسی بھی قسم کی ظاہری یا پوشیدہ سینسرشپ غیر قانونی ہے۔'' اور '' مختلف چالوں کے ذریعے، سیلف سینسر شپ کے احکامات جاری کر کے، آزادانہ خیال  کو دبا کر  اور ایک خاص ایجنڈے کو پھیلا کر ، اپنی مرضی کے میڈیا  کارکنان کو لگوانا اور نوکری سے نکلوانا یہ سب کام غیر قانونی ہیں۔ جو لوگ اس  طرح کی چالیں چلتے ہیں  ان کو یہ غلط فہمی ہے کہ وہ کوئی بڑا کارنامہ سر انجام دے رہے ہیں ۔

فیصلہ کئی  سفارشات اور احکامات کے ساتھ اختتام پذیر ہوتا ہے  جن میں لکھا ہے کہ تمام انٹیلیجنس ایجنسیوں کو اپنے مینڈیٹ سے تجاوز نہیں کرنا چاہیے۔ آخری حد تک شفافیت اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنانا چاہیے،  ایسا کرنا  قوانین کو نافذ کرنے کے لئے درست اقدام ہو اگا اور یہی  انٹیلی جنس ایجنسیوں  کا اصل فریضہ ہے۔ '

لیکن ہمارے اقتدار کے حامل ارکان اور اشرافیہ کے لیے سپریم کورٹ کی بہترین نصیحت یہ ہے: "جب ادارے اپنے مقرر کردہ آئینی حدود میں رہتے ہیں اور چیک اینڈ بیلنس کا ایک مؤثر نظام موجود ہوتا ہے، تو شہری محفوظ رہتے ہیں اور ریاست پھلتی پھولتی ہے۔ مشکل خود  سے مسیحا بننے کے عمل سے شروع ہوتی ہے ۔"

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *