عاصمہ ہونے کی اہمیت

" محمد حنیف / حسن زیدی "

پشین میں ڈسٹرکٹ ہاؤس کے لان میں 100 سے زیادہ مرد ایک دائرے میں بیٹھے ہیں۔ وہ سب اہم شخصیات ہیں جن میں ، پختون، ملک، سپریم کورٹ کے وکیل، مقامی وکیل، علماء، اور دوسرے پارٹی رہنما ، والدین جن کے بچوں کو انٹیلیجنس ایجنسیوں نے اغواء کیا تھا، مقامی ٹاؤن کمیٹی کے چیئر مین، اور مقامی مارکیٹ کمیٹی کے چیئرمین شامل ہیں ۔

بڑے شہروں کے باہر سے پاکستان ایسا دکھائی دیتا ہے۔ اہم اشخاص اپنے برابر کے یا کم اہم لوگوں سے بات کر رہے ہیں۔ اس میٹنگ کی چیئر مین عاصمہ جہانگیر ہیں۔

وہ یہاں کے دورے پر یہ پتہ لگانے آئی ہیں کہ پشین اور اس کے گردو نواح میں کیا ہو رہا ہے۔ وہ دائرے میں بیٹھی تین یا چار عورتوں میں سے ایک ہیں۔ وہ ایک بیڑی کا کش لگاتے ہوئے لوگوں کی شکایات سن رہی ہیں۔ حکومت کے بارے میں ، گورننس کی کمی ، طالبان کے قریبی جنگل میں کیمپ، مدارس ، اور مدارس کی کمی کے بارے میں شکایات سن رہی ہیں۔

وہ ان میں سے کچھ لوگوں کو اپنے پچھلے دورے سے ہی جانتی ہیں۔ کچھ بڑے لوگ انہیں تب سے جانتے ہیں جب وہ لاہور مین ان کے والد کے گھر جاتے تھے۔ انہوں نے بار الیکشن میں کچھ وکلا کی حمایت کی ہوئی ہے، وہ غائب ہونے والوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی رہی ہیں۔ غائب ہونے والے بیٹوں کے والدین بات کرنے میں دوسروں سے زیادہ وقت لے رہے ہیں۔ قریبی مسجد میں اذان شروع ہوتی ہے، عاصمہ دوپٹہ اپنے سر پر رکھتی ہیں اور بیڑی کے کش لگاتی رہتی ہیں۔

وہ ایک پیر کی طرح ہیں جو ایک ایسے گاؤں میں آئی ہیں جہاں لوگوں کی خواہشات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ نوجوان اور بوڑھے بلوچ وکلا کے لیے وہ ایک قریبی دوست ہیں اور وہ اپنا ہر لمحہ ان کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں۔

وہ کیریئر سے متعلق مشورہ لینا چاہتے ہیں، آنے والے بار الیکشن کے بارے میں حکمت عملی طے کرتے ہیں، اور وہ اپنے پرانے ساتھیوں کے بارے میں گپ شپ بھی کرتے ہیں۔ دائرے میں بیٹھے لوگوں نے ان سے بہت سی توقعات وابستہ کی ہوئی ہیں۔ ٹاؤن کمیٹی کے سربراہ عاصمہ سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ ''آئی ایس آئی  کو کنٹرول میں کریں اور پشین کے بازاروں میں عورتوں کے لیے مزید ٹائلٹ بنوائیں۔''

عاصمہ لوگوں کی گفتگو میں اک نکتے کی وضاحت کے لیے حائل ہوتی ہیں ،ایک شخص کو ایک وکیل کی طرف  ریفر کرتی ہیں، ایک دوسرے شخص کو ایچ آر سی پی آفس ریفر کرتی ہیں، اور لوگوں کو ابھارتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کے مسائل سنیں ۔

ٹاؤن کمیٹی کے چیئرمین کہتے ہیں کہ پشین کی بیواؤں کو ان کے بڑوں کی مداخلت کے بغیر شادی کرنے کی اجازت ہونی چاہیے۔ وہ کہتی ہیں کہ اس کے خلاف کوئی قانون نہیں ہے۔ اصل میں اسلام بیواؤں  سے  شادی کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ وہ مختلف مولانا کی طرف  اشارہ کر کے پوچھتی ہیں کہ انہوں نے تو اس معاملے میں کوئی مسائل پیدا نہین کیے؟

بعد میں لنچ پر لوگ ان کی پلیٹ میں کھانا ڈالنے کے لیے ایک دوسرے پر گر رہے ہوتے ہیں، باقی لوگ انہیں روکنے کی کوشش کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے کہ انہیں سکون کے ساتھ کھانا کھانے دیا جائے۔ ہر کوئی ان کے ساتھ سیلفی بنانا چاہتا ہے۔ وہ پوز دینے اور مسکراہٹ دینے میں خوشی محسوس کرتی ہیں۔ وہ گلے لگتے ہوئے، سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے، دعائیں لیتے ہوئے اور لاہور، اسلام آباد اور اگلے سال یہیں دوبارہ ملنے کے وعدے کرتے ہوئے گزرتی جاتی ہیں۔ کوئی بھی انہیں صوبوں کی زنجیر نہیں کہتا لیکن  یہاں موجود بہت سے مردوں کے لیے  ان کا لاہور اور اسلام آباد سے رابطہ کا واحد ذریعہ ہیں۔

کہانیاں بتانا، زندگیاں بچانا

ان کا ہوٹل کا کمرہ نوجوان اور بوڑھے وکیلوں سے بھرا پڑا ہے۔ وہ بیڈ پر بیٹھ کر بینظیر بھٹو اور زرداری اور ایک بدمعاش صحافی کے بارے میں ایک کہانی سنا رہی ہوتی ہیں۔ وہ اچھی کہانی بیان کرنا پسند کرتی ہیں۔ وہ ایک پیشہ ور نقل باز ہیں اور ایک ہی جملے میں اردو سے پنجابی اور پھر انگلش  بھی بول لیتی ہیں ۔ کہانی کے دوران ان کے فون کی گھنٹی بجتی ہے۔

وہ اس کو دیکھتی ہیں اور ایک کھیلنے والے بچے کی طرح  جسے اچانک اپنا گھر کا کام یا د آ گیا ہو، بیڈ پر اچھلتی ہیں ۔ وہ ساتھیوں سے معافی چاہتے ہوئے کہ ایک اہم کال ہے، باتھ روم میں جاتی ہیں۔ وہ 15 منٹ بعد واپس آتی ہیں۔کوئی پوچھتا ہے کہ کس کا فون تھا۔

زرداری کے دور میں پاکستان میں موت کی سزا کو معطل کر دیا گیا تھا۔ وہ اس قانون کے نفاذ کو یقینی بنانے میں اپنی خدمات پر فخر کرتی ہیں۔ لیکن  سزائے موت کو فریز کروانے پر بہت کاغذی کام درکار ہوتا ہے ، اس میں صدر آفس کو درخواست بھیجنا، پھر ان کے عملے کو یاد دہانی کرنا کہ ایک موت کو معطل کرنا ہے، شامل ہیں۔ وہ باتھ روم میں ایک قیدی کی سزائے موت کے غائب ہو جانے والے دستاویزاتی کام کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔

وہ اس بگڑے ہوئے صحافی کی کہانی بھول جاتی ہیں اور پاکستان میں مختلف جیلوں کے بارے میں بات کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ وہ ہری پور جیل کے بارے میں بڑی پر جوشی سے بات کر رہی ہیں۔ وہ ایسے بات کر رہی ہیں جیسے وہ کسی ہالی ڈے ریزورٹ پر ہوں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ پاکستان کی واحد جیل ہے جس میں پھانسی کا تخت نہیں ہے۔

بظاہر جس شخص نے جیل کے لیے زمین عطیہ کی تھی اس نے برطانوی حکومت سے وعدہ کیا تھا کہ وہاں کوئی پھانسی نہیں ہو گی۔ پاکستان حکومت نے اس وعدے کی عزت رکھی ہوئی تھی۔ ''اگلی بار جب مجھے گرفتار کیا گیا تو اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ مجھے ہری پور جیل بھیجا جائے،'' ایک بوڑھا کارکن درخواست کرتا ہے۔

یہ ایک اچھی کہانی معلوم ہوتی ہے۔ کمرے میں موجود نصف سے زیادہ  لوگ ہری پور جیل کا دورہ کرنے کے خواہاں ہیں۔

2015 میں سزائے موت پر پابندی ختم ہو جائے گی اور پہلی پھانسی ہری پور جیل میں ہو سکتی ہے۔

عاصمہ کی کہانی ان لوگوں کو بھی اچھی محسوس ہوتی ہے جو کہانیوں کو اچھا محسوس نہیں کرتے۔

میڈیا میں نفرت پھیلانے والوں  سے نمٹنا

''یہ اس سے بہت پہلے کی بات ہے جب جیو اور دوسرے چینل متعارف ہوئے،'' وہ ایک مجمعے کے درمیان یاداشت بیان کرتی ہیں۔ ''جنگ لاہور اخبار نے میرے خلاف ایک نفرت آمیز مہم شروع کی ہوئی تھی، ایک عوامی مہم کہ عاصمہ ایک احمدی ہے۔ میں جاگی اور اخبار پڑھی اور یہ خبر فرنٹ پیج کی دائیں سائیڈ پر چھپی ہوئی تھی۔ بیوقوف لوگ، اب میں کیا کروں گی؟ میرے جوان بچے تھے۔ میرا دن بھر کا مصروف شیڈول تھا، دفتر، عدالت، سنوائی۔ میں جانتی تھی کہ جنگ کے مالک میر شکیل الرحمان لاہور میں کہاں رہتے ہیں۔ میں نے اپنے بچوں کو کار میں بٹھایا، ان کے گھر گئی اور ان پر برس پڑی۔ میں نے کہا، دیکھیں مجھے بہت کام کرنا ہے، مجھے عدالت جانا ہے۔ میں ان بچوں کو آپ کے پاس چھوڑ کر  جا رہی ہوں۔ آپ نے میری زندگی کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ اگر میرے ساتھ کچھ ہوتا ہے، تو اس کے ذمہ دار آپ ہیں۔ اور اگر میرے ساتھ کچھ ہوا تو یہ بچے آپ کی ذمہ داری میں ہوں گے۔''

ووٹ بینک رکھنے والے گندے کردار کے لوگ

وہ اپنی جد و جہد، اپنی حالیہ اور ماضی کی لڑائیوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کبھی نہ شرمائیں۔ بلکہ وہ خاص طور پر الیکشن کے لیے بطور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن اپنی مہمات پر فخر محسوس کرتی ہیں۔ وہ اپنی مہم کے بارے میں بڑے جذبے کے ساتھ بات کرتی ہیں۔ وہ اس سیاست دان کی طرح  بولتی ہیں جو اپنی شاندار الیکشن مہمات کے کارناے فخر سے بیان کرتا ہے ۔

'' ایک مشہور سپریم کورٹ کے وکیل ہیں جن کے پاس اہم ووٹ حاصل کرنے والے گروہ کی چابی ہے۔ یہ میرا پہلا الیکشن ہے اور میں ہارنا گوارا نہیں کر سکتی، عزت کا مسئلہ ہے۔ اور یہ وکیل مجھ سے نفرت کرتا ہے، میرے خاندان سے نفرت کرتا ہے، بنیادی طور پر وہ میرے سامنے کھڑا نہیں ہو سکتا۔ وہ بار میں سب سے زیادہ عاشق مزاج بھی سمجھے جاتے ہیں ۔ تو وہ بار کے ایک کمرے میں بیٹھے ہیں اور میں سیدھا ان کے پاس جاتی ہوں۔ میں اس کے رخساروں کو تھپتھپاتی ہوں اور اس کے سامنے صوفے پر بیٹھ جاتی ہوں۔ میں انہیں بتاتی ہوں کہ ان کی بہن اس الیکشن میں ان کی مدد مانگنے آئی ہے، تمہاری لاہوری بہن، تمہاری ککاے  زئی بہن۔ مجھے امید ہے کہ تم اپنی بہن کو نہ نہیں کہو گے۔ اور اس نے نہ نہیں کی۔''

بلوچ اہلکاروں کے ساتھ میٹنگ میں عاصمہ ایک مخالف  نہیں ہیں ۔ ان کی طرف سے ان کے مشن کے ہر رکن کو بہت سے سوال پوچھنے کی اجازت ہے۔ جب وہ مداخلت کرتی ہیں اور کسی مخصوص تفصیل کے بارے میں پوچھتی ہیں، جیسے کہ کسی اغوا کے ویڈیو شواہد، انٹیلیجنس کی قسم جو عدالت سمن پر پیش ہونے سے انکاری ہیں ،  تو کرسی پر موجود اہلکار بے چین ہو جاتے ہیں۔

وہ خواتین کے حقوق کے موضوع پر گفتگو شروع کرتے ہوئے پوچھتی ہیں کہ اب آپ کو معلوم ہو گیا ہے  کہ میں ایک خاتون ہوں  تو کیا میں آپ سے قومی مفاد کے بارے میں کچھ سوالات پوچھ سکتی ہوں؟  کیونکہ آپ لوگ اس معاملے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر رہے۔

آگرہ کے سربراہی اجلاس میں ناکامی سے واپسی کے بعد جنرل مشرف کی ایک پریس کانفرنس کی ویڈیو ہے۔ عاصمہ جہانگیر وہاں موجود تھیں اور انہوں نے ایک ایسی بات کہہ دی جس نے جنرل مشرف کو زچ پہنچائی۔ جیسے ہی صحافی نے ان کا نام لیا تو  مشرف اپنی کرسی پر بے سکونی محسوس کرنے لگے۔ ان کے جبڑے ہلتے رہے لیکن  وہ کچھ نہ کہہ پائے۔ ایک لمحے کے لیے ایسا لگتا تھا کہ انہیں مرگی کا دورہ پڑ گیا ہو۔

بعد میں آئی اے رحمان نے کہا کہ جنرل مشرف نے آگرہ دورے کے دوران کہا تھا کہ وہ عاصمہ جہانگیر کو تھپڑ مارنا چاہتے تھے۔ تصور کیجیے۔ آپ  ایک با اختیار فوجی آمر ہیں، آپ کے بد ترین دشمن آپ کو زچ کر رہے ہوتے ہیں، مثال کے طور پر انڈین، اور آپ تاج محل کے سامنے اپنی تصویریں بنا رہے ہوتے ہیں۔ لیکن ایک کام جو آپ کرنا چاہتے ہیں، اور کر نہیں پاتے، اور وہ ہے عاصمہ کو تھپڑ مارنا۔

یہ عاصمہ کی پاور ہے کہ وہ ہر ایک کے اندر خواتین  کے  لیے ہمدردی نکال لاتی ہیں چاہے وہ سینیر صحافی ہوں، سینئر وکیل ہو، جج ہوں یا کوئی بھی ہو۔ وہ انہیں یہ احساس دلاتی ہیں کہ وہ سب بے اختیار ہیں۔

بہت سے نوجوان مرد اور عورتیں ہیں جو اپنے فون پر ٹائپ کر رہے ہوتے ہیں جو غالبا انہیں والدین نے لا کر دیے ہوتے ہیں: انہوں نے پاکستان کے لیے کیا کیا؟ مغرب کی کٹھ پتلی، انڈین ایجنٹ، بے غیرت عورت، وکیل عورت، کافر عورت، آپ اس عورت کے ساتھ اپنی مرضی کا سابقہ ڈال سکتے ہیں۔ انہوں نے مردوں کو تذبذب میں ڈال کر ان  کو دھول چٹائی۔ ایسے لوگ جو طاقت کے حامل ہوں اور ان کے پیچھے مضبوط فوج کھڑی ہو اور قانون ان کے احترام میں کمرے کے ایک کونے میں دبکا کھڑا ہو، تو انہیں یہ چیز ہضم نہیں ہو گی کہ وہ عاصمہ بھی کمرے میں موجود ہیں اور وہ سن رہی ہیں اور باتیں کر رہی ہیں اور بیڑی پی رہی ہیں۔

لنچ کے وقت کا ایک ''پھڈا''

کوئٹہ میں ہزارہ کے ایک ایم پی اے کے گھر پر ایک مزیدار دعوت کا اہتمام ہوتا ہے۔ ہزارہ کے متاثرہ خاندان کے افراد، ہیومن رائٹس کمیشن کے ارکان اور مقامی سیاست دان سب ایک ساتھ فرش پر بیٹھے ہیں ۔

یہ تاریخ کا بہترین لنچ ہے جس کا انتظام تشدد سے بچنے والوں نے کیا ہے۔ ہر کوئی کھانے کی تعریف کرتا ہے۔ کچھ مقامی علما بھی موجود ہیں۔ جیسے ہی لنچ شروع ہوتا ہے، ایک عالم تمام سامعین کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ''ایران کتنا ہی عظیم ملک ہے۔ آئیں سب دعا کریں کہ پاکستان بھی ایران جیسا بن جائے۔''

عاصمہ اپنا نان نیچے رکھتے ہوئے ان کو ٹوکتی ہیں۔ ''نہیں، ایران ہمارا رول ماڈل نہیں ہو سکتا۔ ایران میں پاکستان کی نسبت زیادہ سیاست دان جیلوں میں ہیں۔ ہم نے بڑی مشکل سے ایک آمر سے نجات پائی ہے، ہم اب اسے ملاؤں کی بادشاہت کے ساتھ تبادلہ نہیں کر سکتے۔''

وہ عالم اسلامی قوانین کے بارے میں بات جاری رکھتے ہیں۔ عاصمہ انہیں ٹوکتی رہتی ہیں۔ لنچ چھوڑ کر باہر جا کر کچھ باتیں ہوتی ہیں۔ عاصمہ محو گفتگو رہتی ہیں اور کھانا جاری رکھتی ہیں۔ بعد میں وہ لمبا سانس لیتے ہوئے پنجابی میں کہتی ہیں: ''یہ مولوی، آپ کو سکون سے کھانا بھی نہ کھانے دیں گے۔''

گورنر ذولفقار مگسی دوبارہ اقتدار میں ہیں اور انہوں نے عاصمہ اور ان کی ہم نواؤں کو چائے پر مدعو کیا ہے۔وہ  تھکاوٹ محسوس  کر رہے ہیں اور غائب ہونے والے لوگوں کے بارے میں یا بلوچ علاقوں میں فرقہ پرستی کے ابھرنے کے بارے میں کسی سوال  کا جواب دینے میں دلچسپی  نہیں رکھتے۔

وہ ساتھی صحافیوں پر سوالات پھینکتے جاتے ہیں۔ تنگ آ جانے کے بعد وہ کہتے ہیں، ''آپ مجھ سے یہ سب کیوں پوچھ رہے ہیں؟ آپ بار بار یہ کہہ رہے ہیں کہ میں ایک قبائلی ہوں۔ لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ بلوچستان میں سب سے بڑا قبیلہ کون سا ہے؟ آرمی۔''

عاصمہ زور سے ہنستی ہیں۔ بعد میں کوئی تجویز دیتا ہے کہ وہ مگسی کے ساتھ نرمی سے پیش آ رہی تھیں۔ وہ کہتی ہیں، ''آپ کو پتہ ہے میں نے ہمیشہ کیا سوچا؟''

''وہ ہمارے سیاست دانوں کا شاہ رخ خان ہیں،'' وہ کہتی ہیں۔ کون سی فلم کا شاہ رخ خان؟ ''میں نہیں جانتی''،  وہ کہتی ہیں۔ ''میں نے کافی عرصے سے کوئی فلم نہیں دیکھی۔''

افواہ پھیلائی گئی کہ انہیں نگران وزیر اعظم بننے کی پیشکش کی گئی ہے۔ سینیئر صحافی جو ان سے نفرت کرتے تھے نے  آخر کار انہیں آڑے ہاتھوں لیا: عاصمہ وزیر اعظم بننا چاہتی ہیں۔

ایک شخص، خواہ کوئی بھی ہو، مثلا ایک صحافی، ایک وکیل، ایک جج، ایک ریٹائرڈ جنرل، ایک بیوروکریٹ، وہ فخر محسوس کرتا ہے جب اسے پبلک آفس کی پیشکش کی جاتی ہے۔ لیکن عاصمہ جہانگیر نگران وزیر اعظم بنتی ہیں؟ دیکھو، آپ کو ایسا کس نے بتایا۔ وہ اقتدار کی بھوکی ہیں۔ اس کے علاوہ وہ وزیر اعظم بننا ہی نہیں چاہتیں۔

جب پوچھا جاتا ہے، وہ دھیمی آواز میں اور واضح الفاظ میں بولتی ہیں تا کہ ایجنسیوں کے لوگوں کو بھی ان کی بات کی سمجھ آ جائے۔ ''میں نے ملک چھوڑنے کے بارے میں کبھی نہیں سوچا، حتی کہ بد ترین وقتوں میں بھی۔ لیکن اگر مجھے کسی حکومتی پوسٹ میں پھنسانے کی کوشش کی گئی، اگرچہ وہ عبوری سطح کی ہو، تو میں پاکستان چھوڑ دوں گی۔''

عاصمہ کو طاقت کی ضرورت نہیں کیوں کہ ان کے پاس پہلے ہی اختیارات ہیں۔ ان کے پاس جو پاور ہے وہ ہمیشہ سے ہے۔ ایسی پاور جس نے تین  فوجی حکومت کے ادوار دیکھے، ایسی پاور جو نہ کپکپانے والے ہاتھوں اور ذہنوں سے نکلتی ہے۔

شاپنگ

فیکٹ فائنڈنگ مشن نتائج تک پہنچ چکا  ہے۔ ہر کوئی جانے کے لیے تیار ہو جاتا ہے۔ ''کیا آپ نے اپنے گفٹ خریدے ہیں؟'' وہ ہر ایک سے پوچھتی جاتی ہیں۔

''دیکھو میں نے تین خوبصورت شالیں خریدی ہیں۔ جاؤ فیملی کے لیے کچھ خرید لاؤ۔ ابھی ہمارے پاس کچھ گھنٹے باقی ہیں۔''

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *