امیر ترین پاکستانی کون ہے، ملک ریاض، میاں منشا یا کوئی اور؟

" دلاور حسین "

بہت کوششوں کے باوجود اب تک کوئی بھی شخص حتمی طور پر یہ معلوم نہیں کر پایا کہ پاکستان میں سب سے زیادہ امیر لوگ کون کون ہیں۔ کسی کو یہ یقینی    طور پر یہ معلوم نہیں کہ کون واحد شخص اس ملک کا امیر ترین شخص ہے کیونکہ اس بارے میں معلومات کی تصدیق نا ممکن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر امیر لو تقریبا ہر شعبہ کاروبار میں  حصہ دار ہوتے ہیں چاہے وہ رئیل سٹیٹ ہو، انڈسٹری ہو، شپنگ ہو، ٹریڈنگ ہو، اور کوئی اور بزنس ہو۔ چونکہ صرف لسٹڈ کمپنیوں کے اثاثے  ہی عوام کے سامنے لائے جاتے ہیں اور اسی سے کسی شخص، خاندان یا گروپ کی دولت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اس لیے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ ہر قسم کی کل دولت کا پتا لگا پانا ناممکن ہوتا ہے۔  اسی طرح کالے دھن کی بھی ان لوگوں کے پاس بہتات ہوتی ہے جس کی کوئی ٹریل کا پتہ نہیں چلایا جا سکتا۔ عوام کے سامنے لائی جانے والی لسٹڈ کمپنیوں  کا حال مختلف ہوتا ہے جن کا ریکارڈ سامنے رکھ کر ٹیکس دیا جاتا ہے  اور آڈٹ شدہ اکاونٹ اور شئیر ہولڈرز کی تفصیلات سامنے لائی جاتی ہیں۔ ٹاپ لائن سکیورٹیز نامی ایک بروکریج فرم نے پاکستان کی سب سے بڑی ہولڈنگ کمپنیوں کی فہرست حال ہی میں جاری  کی ہے۔ جو بڑی نو کمپنیاں تھیں ان میں سے سب سے بڑی دو کمپنیوں کی ملکیت 1 ارب ڈالر سے زیادہ تھی۔

بہت احتیاط سے تیار کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق اینگرو کارپوریشن  سب سے بڑی کمپنی ہے جو مارکیٹ میں  1 اعشاریہ 24 اارب ڈالر  کی کیپٹلائزیشن کی ملکیت کی حامل ہے اور دوسرے نمبر پر لکی سیمنٹ ہے جس کا شئر 1 اعشاریہ زیرو 6 بلین ڈالر ہے۔ باقی سات کمپنیوں کے شئیر کی حد 100 ملین ڈالر ہے  جس میں سب سے پہلے نمبر پر داود ہرکولیس ہے جس کا شئر 403 ملین ڈالر ہے، نشاط ملز کے 349 ملین، فوجی فرٹیلائزر بن قاسم کے 285 ملین، ڈی جی خان سیمنٹ کے 252 ملین، تھل لیمیٹڈ کے 247 ، پیکیجز گروپ کے 237 ملین، اور آئی جی آئی ہولڈنگز کی  مارکیٹ ویلیو 211 ملین ڈالر ہے۔

اینگرو ایک ہولڈنگ کمپنی ہے  جو بہت سی سبسڈری اور اشتراک میں شمولیت رکھتی ہے جس میں (اینگرو فرٹیلائزرز)، پی وی سی ریزن مینوفیکچرنگ اینڈ مارکیٹنگ (اینگرو پولیمر کیمکل) فوڈ (اینگرو فوڈز)، انرجی کے شعبہ میں اینگرو پاور جن قدیرپور، اینگرو پاور جن تھر) ایل این جی (اینگرو انرجی)، کیمیکل ٹرمینل اینڈ  سٹوریج (اینگرو ووپاک) اور کول مائننگ کے شعبہ میں (سندھ انگرو کول مائننگ ) شامل ہیں۔ دوسری بڑی ہولڈنگ کمپنی لکی سیمنٹ ہے  جو سیمنٹ  پروڈیوسر اور گارمنٹ ایکسپورٹر ہے ۔ اس کے مالک یونس برادرز ہیں  اور اس کے سٹیک ٹیکسٹائل کے شعبہ میں (لکی ٹیکسٹائل، یونس ٹیکسٹائل، گدون ٹیکسٹائل اور فضل ٹیکسٹائل  شامل ہیں جب کہ انرجی کے شعبہ میں لکی انرجی اس کا حصہ ہے۔  اس گروپ نے کوریا ی کے آئی اے  موٹرز کے ساتھ مل کر آٹو موبائل کمپنی بھی کھو رکھی ہے اور اس کا ایکوٹی انجیکشن 14 بلین روپے ہے

دوسری سات بڑی کمپنیوں  کا بھی ملک کی سٹاک مارکیٹ پر بہت اثر و رسوخ ہے۔ 558 کمپنیاں ان 7 بڑی کمپنیوں کی ملکیت میں ہیں۔ ان کے تحت تقریبا ہر شعبہ کی کارپوریشن موجود ہیں  جن میں بینکنگ، انشورنس، مہمان نوازی، رئیل اسٹیٹ، انرجی ، فوڈڈ، آٹو، مائننگ، سیمنٹ، ٹیکسٹائلز، اور فارماسیٹیکل کمپنیاں شامل ہیں۔ لیکن ٹاپ ہولڈنگ کمپنیوں کی کنفیگریشن حال ہی میں شروع ہوئی ہے  جب مارکیٹ کیپٹلائزیشن  8 ٹریلین ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ چونکہ اوپر دی گئی سب کمپنیاں  عوامی سطح پر رجسٹرڈ ہیں اس لیے یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ آیا یہی سب سے امیر ہیں یا نہیں ۔ جب یہ لسٹ پرانے ماہرین کودکھائی گئی تو انہوں نے اسے سچ ماننے سے انکار کر دیا۔ ایک پرانے سٹائل کے سیٹھ  نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا: یہ تو  صرف ظاہری سطح ہے۔ انہو ں نے بتایا کہ جاگیرداروں کے  اور پرائیوییٹ بڑی کمپنیوں کےمالکان کے اثاثے  عوام کے سامنے نہیں لائے جاتے ۔ فرٹیلائزرز، پیسٹی سائیڈ، فارماسوٹیکل، ٹیلی کمیونیکیشن، کیپٹل مارکیٹ اور ریئل اسٹیٹ کے بڑے مگرمچھوں کے اثاثے عوامی نظر سے ہمیشہ مخفی رہتے ہیں۔

پاکستان میں امیر خاندانوں  کی رقوم کا حساب لگانے کی پہلی کوشش ڈاکٹر محبوب الحق نے  کی جنہوں نے غربا میں سے چند امیر خاندانوں کا سراغ لگا کر ان کی فہرست مرتب کی۔ 21 اپریل 1968 کو  ڈاکٹر محبوب اور اس وقت کے پلاننگ کمیشن کے چیف اکانومسٹ  نے پاکستان کے 22 امیر ترین خاندانوں کا سر اغ لگایا جو ان کے حساب کتاب کے مطابق ملک کی 66 فیصد صنعتوں کے مالک تھے اور  ملک کی بینکنگ اور انشورنس انڈسٹری    میں 87 فیصد شئیر پر قابض تھے۔

ان بائیس امیر خاندانوں نے ایوب دور میں بہت اچھے دن دیکھے لیکن اس کے بعد ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں نیشنلائزیشن کا شکار ہو گئیں۔ایک بڑے انڈسٹریلسٹ کے مطابق بھٹو کے چھ سالہ دور میں  31 بڑی  صنعتوں ، 13 بینکوں، 12 انشورنس کمپنیوں ، 10 شپنگ کمپنیوں  اور 2 پیٹرولیم کمپنیوں کو نیشنلائز کیا گیا۔   ان میں سے کم سے کم 2 درجن صنعتوں  اور تقریبا تمام بینکوں  اور انشورنس کمپنیوں کا تعلق ان بائیس خاندانوں سے تھا۔

ان برے وقتوں میں کچھ خاندان ہی اپنی بقا یقینی بنا سکے  اور ان سیلابوں اور آندھیوں نے ملک کو معاشی منظر نامے سے ہی غائب کر دیا۔ جو لوگ تیر نہیں سکتے تھے وہ ڈوب کر سمندر کی تہہ میں چلے گئے۔ دی بیکو، اراگ، ملوالا، خیبر، فینسی، والیکا، اور ھائسن جیسے گروپ اب صرف تاریخ کا حصہ رہ گئے ہیں۔ اس موقع پر ایک مشہور کہاوت یاد آتی ہے: بڑی دولت کی تیسری نسل پیدا نہیں ہوتی۔ پرانے لوگ یاد کرتے ہیں کہ ان 22 امیر خاندانوں  کے لیے فطری تقسیم اور  توڑ پھوڑ کا مقابلہ کرنا مشکل ہو گیا اور ان کی بزنس ایمپائر بہت جلد اپنے انجام کہ پہنچ گئے۔

وقت نے اب ان امیرزادوں کے پوتوں پوتیوں اور نواسوں نواسیوں کو بھی کراچی  کے فائیو سٹار ہوٹلز جیسی پراپرٹی کا مالک بنا دیا ہے اور وہ امریکہ اور کینیڈا میں مہنگی گاڑیوں میں گھومتے دکھائی دیتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *