لارڈ نذیر احمد پر ’مجبور خواتین کا فائدہ اٹھانے‘ کا الزام

برطانیہ کے دارالامراء یا ہاؤس آف لارڈز کے رکن لارڈ نذیر احمد پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ انھوں نے ایسی خواتین سے جنسی تعلقات قائم کیے جو ان کے پاس مدد کے لیے آئی تھیں۔

بی بی سی کے حالاتِ حاضرہ کے معروف پروگرام ’نیوز نائٹ‘ نے انکشاف کیا ہے کہ مزکورہ خواتین میں سے ایک نے کہا ہے کہ انھوں نے ’ایک دوست کے ذریعے لارڈ نذیر احمد سے ایک معاملے میں مدد کے لیے رابطہ کیا، لیکن لارڈ نذیر نے اس کا 'فائدہ اٹھایا' اور ان کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کیے۔

ان الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد دارالامراء کے ضابطہ اخلاق کے مؤثر ہونے کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

61 سالہ لارڈ احمد نامناسب طرز عمل اختیار کرنے کے الزامات سے انکار کرتے ہیں۔

43 سالہ طاہرہ زمان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ایک مشترکہ دوست کے ذریعے فروری 2017 میں لارڈ نذیر سے اس امید پر رابطہ کیا تھا کہ وہ پولیس کو کہہ کر ایک ایسے مسلمان پیر کے خلاف تفتیش میں مدد کریں گے جو ان کے بقول خواتین کے لیے خطرناک ہو سکتے تھے۔

طاہرہ زمان نے نیوز نائٹ کو تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ لارڈ نذیر احمد نے انھیں بتایا کہ انھوں (لارڈ نذیر) نے لندن کی میٹروپولیٹن پولیس کی سربراہ کریسڈا ڈِک کو مدد کے لیے خط لکھا ہے۔ خاتون کے بقول اس کے بعد لارڈ نذیر احمد انھیں ’بار بار ڈِنر کے لیے ملنے‘ کا کہتے رہے۔

طاہرہ زمان کے مطابق وہ آخر کار کھانے کے لیے ملنے پر رضامند ہو گئیں اور دعوت سے چند ہفتے پہلے انھوں نے ’لارڈ نذیر سے پیر والے معاملے کے حوالے سے رابطہ کیا تو لارڈ نذیر نے انھیں مشرقی لندن میں واقع اپنی رہائش گاہ پر بلایا‘۔

طاہرہ زمان کے مطابق لارڈ نذیر نے ان سے کہا کہ وہ ایک خوبصورت خاتون ہیں۔

اس کے بعد دونوں نے کئی مرتبہ ہم بستری کی۔

طاہرہ زمان تسلیم کرتی ہیں کہ دونوں کے تعلقات میں رضامندی شامل تھی لیکن ان کا کہنا تھا کہ ’میں مدد کی طلبگار تھی اور انھوں نے میرا فائدہ اٹھایا۔ انھوں نے اپنی طاقت کا غلط استعمال کیا۔‘

خاتون کے بقول یہ تعلقات دو ماہ بعد اس وقت ختم ہو گئے جب لارڈ نذیر نے انھیں بتایا کہ وہ اپنی اہلیہ سے علیحدہ نہیں ہوں گے۔

’میں واقعی سمجھ بیٹھی تھی کہ انھیں مجھ سے محبت ہو گئی ہے۔ میں اتنی بے وقوف نکلی ۔۔۔ اور میں نے یقین کر لیا کہ وہ میری مدد کریں گے۔‘

طاہرہ زمان کا مزید کہنا تھا کہ انھیں لگتا ہے کہ لارڈ نذیر نے ان کا فائدہ اٹھایا کیونکہ اُس وقت وہ ڈپریشن اور ذہنی دباؤ میں مبتلا تھیں۔

ایک دوسری خاتون، جو اپنی شناخت ظاہر نہیں کرنا چاہتیں، ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے بھی لارڈ نذیر سے مدد کے لیے رابطہ کیا تھا۔ خاتون کا دعویٰ ہے کہ انھیں بھی ’لارڈ نذیر نے اپنی لندن والی رہائشگاہ پر رات گزارنے کی تجویز دی‘۔ خاتون کا کہنا تھا کہ انھوں نے اس پیشکش کا مطلب یہی سمجھا کہ لارڈ نذیر ان کے ساتھ ہم بستری چاہتے ہیں، اس لیے انھوں نے ملنے سے انکار کر دیا۔

’شرمناک‘

طاہرہ زمان نے گذشتہ سال جنوری میں لارڈ نذیر احمد کے رویے کی شکایت دارالامراء کی کمشنر فور سٹینڈرڈز لُوسی سکاٹ مونکریف سے کی تھی۔

انھوں نے کمشنر کو بتایا کہ 'لارڈ نذیر نے میرے اعتبار کو استعمال کرتے ہوئے مجھ سے متعدد مرتبہ ہم بستری کی۔ میں محسوس کرتی ہوں کہ لارڈ نذیر نے مجھے میری کمزوری کی وجہ سے شکار بنایا۔'

طاہرہ زمان کی شکایت کا دو بار جائزہ لینے کے بعد کشمنر نے کہا کہ وہ اس معاملے کی تفتیش نہیں کر سکتیں۔

اپنے جواب کے آخر میں لُوسی سکاٹ مونکریف نے لکھا کہ ’اس معاملے میں ہاؤس آف لارڈز کے ارکان کے قوائد و ضوابط سے رو گردانی نہیں ہوئی کیونکہ جس وقت لارڈ نذیر احمد نے خاتون کی مدد کرنے اور پولیس کو خط لکھنے پر رضامندی ظاہر کی تھی، اس وقت یہ کام لارڈ نذیر کی پارلیمانی ذمہ داریوں کا حصہ نہیں تھا۔‘

کمشنر نے لکھا کہ ’آپ نے اپنی ای میل میں جس رویے کے بارے میں بات کی ہے وہ (کسی لارڈ کے) ذاتی مرتبے سے روگردانی تو ہو سکتی ہے، تاہم اخلاقی قوائد و ضوابط کا اطلاق صرف ارکان کے پارلیمانی کام پر ہوتا ہے، اور آپ کی ای میل سے لگتا ہے (لارڈ نذیر) سے آپ کے ابتدائی رابطے کا تعلق ان کے پارلیمانی کام سے نہیں تھا۔'

نیوز نائٹ نے طاہرہ زمان اور لارڈز کمشنر فور سٹینڈرڈز، لُوسی سکاٹ مونکریف کے درمیان تمام خط وکتابت بیرسٹر اور ہائی کورٹ کے سابق ڈپٹی جج لارڈ کارلائل کو بھی دکھائی۔

طاہرہ زمان

طاہرہ زمان نے الزام لگایا کہ لارڈ احمد نے بار بار ان سے ڈنر پر ملاقات کے لیے کہا

ان کا یہ کہنا ہے کہ قوانین کو واضح کیا جانا چاہیے۔

'اگر کوئی آپ کے پاس مدد کے لیے آتا ہے، خاص طور پر اگر وہ کمزور ہے اور آپ اس کے ساتھ جنسی تعلق قائم کرتے ہیں تو یہ بہت شرمناک ہے'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'کمشنر، جو کہ ایک تجربہ کار وکیل ہیں، ان کو یہ بات واضح نہیں ہے تو پھر میرے خیال میں قوانین کو مزید واضح بنانے کی ضرورت ہے۔ خاص طور پر ضابطۂ اخلاق کے بارے میں گائیڈ کو زیادہ واضح کرنے کی ضرورت ہے'۔

انہوں نے مزید کہا 'وہ لارڈ احمد کے پاس اس لیے گئیں کیونکہ وہ یہ یقین رکھتی تھیں کہ وہ ایک ایسے مقام پر ہیں جس کی وجہ سے وہ ان کے کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتے ہیں۔ مجھے یہ بالکل واضح نظر آ رہا ہے کہ وہ جو بھی کر رہے تھے وہ سب دارالامراء کے رکن کے طور پر کر رہے تھے۔‘

لارڈ کارلائل نے کہا کہ ’لارڈ احمد اور طاہرہ زمان کے درمیان جنسی تعلق ضابطہ اخلاق کی دو شقوں کی خلاف ورزی ہو سکتی ہے۔‘

ایک جو 'مفادات کے تصادم' کے حوالے سے ہے اور دوسرا جو یہ کہتا ہے کہ دارالامراء کے اراکین کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنے ’ذاتی وقار‘ کا خیال رکھیں۔

لیکن نیوز نائٹ کو بھجوائے گئے ایک بیان میں لوسی مونکریف نے کہا 'اگرچہ شکایت قابل اعتماد اور ٹھوس ہے مگر شکایت میں اس بارے میں نا مکمل شواہد فراہم کیے گئے کہ ان کے ساتھ رابطہ ان کی پارلیمانی ذمہ داریوں کے حوالے سے کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ کوئی اور نتیجہ نکالنا، جیسا کہ لارڈ کارلائل نے نکالا ہے، وہ ضابطۂ اخلاق کی غلط تشریح کے مترداف ہو گا'۔

نیوز نائٹ کو ایک جواب میں لارڈ نذیر کا کہنا تھا کہ 'میں ان تمام الزامات سے مکمل طور پر انکار کرتا ہوں کہ میں نے اپنی طاقت کو عام عوام کے ساتھ نامناسب تعلقات قائم کرنے کے لیے استعمال کیا یا میں نے خواتین کی موجودگی میں اپنی ذاتی یا پیشہ ورانہ حیثیت میں نامناسب طرزِ عمل اختیار کیا۔‘

لارڈ نذیر کا مزید کہنا تھا کہ 'برطانوی دارالامرا کی سٹینڈرڈز کمشنر لوسی سکاٹ مونکریف نے شکایت کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا کہ یہ شکایت میری پارلیمانی حیثیت کے حوالے سے (کسی) نامناسب رویے میں نہیں آتی۔ انہوں نے اس پر مزید کارروائی نہ کرنے کا فیصلہ کیا'۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'ایک پارلیمنٹیرین کے طور پر میں اپنی ذمہ داریوں کو بہت سنجیدگی سے لیتا ہوں اور میں ایسا کوئی کام نہیں کرتا جس سے میری ذاتی اور پیشہ ورانہ ساکھ متاثر ہوتی ہو۔‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *