پی ایس ایل کے نشریاتی حقوق لینے والی بھارتی کمپنی کا لیگ نشر کرنے سے انکار

پاکستان کرکٹ بورڈ( پی سی بی) نے بھارتی کمپنی آئی ایم جی ریلائنس سے پاکستان سپر لیگ کے نشریاتی حقوق واپس لیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ آئی ایم جی ریلائنس اب لیگ کے میچز نشر نہیں کرے گا۔

پاکستان سپر لیگ نے مشہور بھارتی تاجر مکیشن امبانی کی کمپنی آئی ایم جی ریلائنس کو رواں سال پاکستان سپر لیگ(پی ایس ایل) کی نشریات کے حقوق دیے تھے لیکن اب انہوں نے لیگ کی مزید نشریات سے انکار کردیا ہے۔

پی سی بی کے مطابق آئی ایم جی ریلائنس نے ہمیں مطلع کیا ہے کہ وہ پی ایس ایل 2019 کے بقیہ میچز کے لیے ہمارے ساتھ پارٹنرشپ نہیں کر سکیں گے اور پی سی بی تمام حقوق محفوظ رکھتا ہے۔

پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان نے کہا کہ بورڈ کے پاس پہلے سے ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا منصوبہ موجود تھا اور ہم پراعتماد ہیں کہ پیر کو رسمی کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد اس پوزیشن میں ہوں گے کہ نئے پارٹنر کا اعلان کر سکیں۔

وسیم نے مزید کہا کہ پی سی بی نے حال ہی میں رونما ہونے والے چند واقعات پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور ہمارا ماننا ہے کہ کھیلوں کو سیاست سے الگ رکھنا چاہیے۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ کھیل خصوصاً کرکٹ نے لوگوں اور ملکوں کے درمیان پُل کا کردار ادا کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی شائقین کو پی ایس ایل کی ڈیجیٹل نشریات سے روکنا اور اہم تاریخی میدانوں اور مقامات سے وزیراعظم عمران خان سمیت پاکستان کے سابق عظیم کرکٹرز کی تصاویر کو ہٹانا انتہائی قابل مذمت ہے۔

پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر نے کہا کہ بورڈ اس معاملے کو آئی سی سی کے اجلاس میں کھیلوں کی عالمی گورننگ باڈی اور بھارت کے سامنے اٹھائے گا۔

یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر کے علاقے پلوامہ میں ہونے والے حملے کے بعد بھارت چینل نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) 2019 کی لائیو کوریج کے نشریاتی حقوق حاصل کرنے کے باوجود ایونٹ کی نشریات بند کر دی تھیں جبکہ دیگر بھارتی ویب سائٹس نے بھی لیگ کے میچوں کی اسکور اپ ڈیٹس بند کر دی تھیں۔

بھارت میں پی ایس ایل کے میچز دکھانے کے حقوق ڈی اسپورٹس کے پاس تھے جس نے پی ایس ایل کے رواں سیزن کی نشریات بند کر دیں۔

علاوہ ازیں ڈی اسپورٹس کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پلوامہ حملے کے بعد بھی پی ایس ایل کے اسکور کی اپ ڈیٹس دی جاتی رہیں جو اب بند کردی گئی ہیں۔

پاکستان سپر لیگ کا چوتھا ایڈیشن 14 فروری سے متحدہ عرب امارات میں جاری ہے جسے دیگر ممالک کی طرح بھارت کے ڈی اسپورٹس نے اپنے ملک میں نشر کرنے کے لیے حقوق حاصل کیے تھے۔

واضح رہے کہ 14 فروری کو مقبوضہ کشمیر میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں 44 بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد نئی دہلی نے کسی بھی طرح کی تحقیقات کیے بغیر اس کا الزام پاکستان پر عائد کردیا تھا جسے اسلام آباد نے مسترد کردیا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *