10 دن تک چینی سے دوری پر جنیفر لوپز پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟

معروف امریکی گلوکارہ جنیفر لوپز نے گزشتہ ماہ کے آخر میں 10 دن تک چینی اور کاربوہائیڈریٹس کو اپنی خوراک سے نکالنے کے چیلنج کو قبول کیا تھا۔

اور اب انہوں نے 10 روز کے دوران درپیش آنے والی مشکلات کا احوال بیان کیا ہے۔

49 سالہ گلوکارہ نے ایک ٹی وی شو کے دوران بتایا کہ 10 روز تک چینی کو خود سے دور رکھنا ان کے لیے بہت مشکل ثابت ہوا ' ایسا کرنے پر صرف سر درد کا ہی سامنا نہیں ہوتا بلکہ آپ کو ایک نئی حقیقت کا سامنا بھی ہوتا ہے، جیسے آپ خود کو پہلے جیسا محسوس نہیں کرتے، آپ کو احساس ہوتا ہے کہ آپ چینی کی لت کے شکار ہیں'۔

جنیفر لوپز نے بتایا کہ وہ ہر وقت چینی کے بارے میں سوچتی رہتی تھیں 'ہر وقت میں سوچتی تھی وہ وقت کب آئے گا جب میں دوبارہ چینی کھاسکوں گی، آغاز میں یہ چیلنج بہت مشکل تھا، پہلے تو میں نے سوچا یہ تو صرف 10 دن کی بات ہے وہ تو ایسے ہی گزر جائیں گے مگر پہلے دن سے ہی مشکل محسوس ہونے لگی، پھر درمیان کا وقت بھی کچھ مشکل تھا اور آخر میں سب کچھ ٹھیک ہوگیا'۔

اس چیلنج کے اختتام کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ وہ یہ محسوس کرکے حیران رہ گئیں کہ اب انہیں چینی کھانے کی خواہش پہلے جیسی نہیں رہی اور اچھا محسوس کرنے لگی ہیں ' اس سے ورم کسی حد تک کم ہوجاتی ہے، آپ کو اچانک جسم کو سوجا ہوا لگتا ہے اور اچھا احساس ہوتا ہے، آپ اس احساس کے بھی عادی ہوجاتے ہیں'۔

گلوکارہ کے شوہر بھی اس چیلنج میں ان کے شریک تھے۔

چینی چھوڑنے پر جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟

اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو فوری طور یر کچھ جسمانی تبدیلیوں کا امکان ہوتا ہے جو کہ فائدہ مند ہوتی ہیں۔

ایک امریکی ماہر طب تمارا ڈیوکر فریومین نے بتایا کہ جب کوئی شخص چینی کا استعمال ترک کرتا ہے یعنی کسی بھی شکل میں اسے جسم کا حصہ نہیں بناتا تو گھنٹوں کے اندر ہی جسم میں تبدیلیاں آتی ہیں۔

خیال رہے کہ چینی سے ہٹ کر بھی خوراک کی شکل میں شکر یا مٹھاس جسم کا حصہ بنتی ہے تو یہاں بات صرف چینی کی ہورہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چینی نہ کھانے سے چند گھنٹوں کے اندر ہی ہارمونز کی سطح میں تبدیلیاں آتی ہیں اور انسولین کی سطح کم ہونے لگتی ہے۔

جیسا آپ کو علم ہوگا کہ انسولین جسم کے اندر مٹھاس کو کنٹرول کرنے اور اضافی گلوکوز کو ذخیرہ کرنے کا کام کرنے والا ہارمون ہے۔

اگر جسم میں انسولین کی بہت زیادہ مقدار گردش کررہی ہو تو جسمانی وزن میں کمی اور چربی گھلنے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔

ماہر طب کے مطابق جب آپ چینی کا استعمال ترک یا بہت کم کردیتے ہیں تو جسم کے لیے ذخیرہ شدہ چربی تک رسائی اور توانائی کے لیے اسے گھلانا بہت آسان ہوجاتا ہے۔

چینی کا استعمال ترک کرنے کے چند دنوں یا ہفتوں بعد جسم میں لپڈ (شحم چربی) کی سطح بھی گرنے لگتی ہے جو کہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ خون میں پائے جانے والی چربی کی ایک قسم ٹرائی گلیسیرائیڈز کی مقدار میں کمی لاتا ہے۔

اگر چربی کی یہ قسم خون میں زیادہ ہو تو یہ شریانوں کو سکڑنے یا سخت کرنے کا باعث بنتی ہے جس سے امراض قلب کا خطرہ بڑھ جاتا ہے، جبکہ جسم کے لیے نقصان دہ کولیسٹرول کی سطح بھی گرجاتی ہے۔

ایک اور بڑی تبدیلی جو طویل المعیاد بنیادوں پر دیکھنے میں آتی ہے وہ پیلیٹ یا تالو میں تبدیلی ہے جو چینی کو چھوڑنے کے عمل کو آسان بناتی ہے۔

واضح رہے کہ 2016 میں کیلیفورنیا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ محض نو دن تک چینی کا بہت کم استعمال ہی صحت کو ڈرامائی حد تک بہتر بناسکتا ہے۔

محققین کا کہنا تھا کہ چینی میٹابولزم کے لیے اپنی کیلوریز کے باعث ہی نقصان دہ نہیں بلکہ یہ جسم پر بوجھ بڑھانے کے باعث خطرناک ہوتی ہے۔

تحقیق کے مطابق چینی کا استعمال کم کرنے سے میٹابولک سینڈروم کا خطرہ دور ہوتا ہے جو کہ ایسی علامات کا اجتماع ہوتا ہے جو دل کے امراض، فالج اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتی ہیں۔

یہ سینڈروم ہائی بلڈ پریشر، ہائی بلڈ گلوکوز لیول، کمر پر اضافی چربی کے جمع ہونے اور کولیسٹرول لیول میں اضافے کا باعث بھی بنتا ہے۔

تحقیق کے دوران یہ بات معلوم ہوئی کہ چینی کا استعمال کم کرنے سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کی سطح کم، جگر کے افعال میں بہتری جبکہ انسولین لیول ایک تہائی حد تک کم ہوگیا۔

اس تحقیق کے دوران رضاکاروں کی غذا میں چربی، پروٹین، کاربوہائیڈریٹس اور کیلوریز کی سطح تو یکساں رہی تاہم چینی کی مقدار کو 28 فیصد سے 10 فیصد تک کم کیا گیا اور مختصر وقت میں ان کی صحت میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔

اس غذا کے نتیجے میں ان کے جسمانی وزن میں کمی بھی دیکھنے میں آئی اور وہ صحت مند سطح تک پہنچ گیا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *