امریکی امداد کی کہانی

وزیراعظم لیاقت علی خان نے اگرچہ روس کے دورے کی دعوت کو مسترد کرکے مئ 1950 میں امریکہ کا 23 دن کا دورہ کیا اور پاک امریکہ باھمی تعلقات کی بنیاد رکھی گئ لیکن پاکستان کو ملنے والی امریکی مالی و فوجی امداد خاطر خواہ نہ تھی۔ کہا جاتا ھے۔ صدر ٹرومین نے لیاقت علی خان کو پشاور ائر بیس استعمال کرنے کی درخواست کی تھی۔ جو کہ لیاقت علی خان نے مسترد کر دی۔ غالبا ایسی ھی درخواست صدر آئزن ھور کی جانب سے خواجہ ناظم الدین کو بھی کی گئ۔ لیکن یہ بھی تسلیم نہ ھوئ۔ پاک امریکہ تعلقات میں اس وقت تیزی اور گہرائ آئ جب امریکہ میں پاکستان کے سفیر محمد علی بوگرہ 1953 میں پاکستان کے وزیراعظم بنتے ھیں۔ 1954 میں پاکستان اور امریکی ایک فوجی معاھدے پر دتستخط کرتے ھیں ۔ 1954 میں پاکستان سیٹو اور پھر 1955 میں سینٹو کا ممبر بن جاتا ھے۔ اور ان معاھدوں پر دستخط اس وقت کے وزیر دفاع اور کماندر انچیف جنرل ایوب کرتے ھیں۔ جبکہ اسکندر مرزا وزیر داخلہ ھیں۔ ان معاھدوں کے ساتھ ھی امریکہ پاکستان کی فوجی و مالی و معاشی امداد بڑھا دیتا ھے۔ جبکہ پاکستان کولڈ وار میں روس کے خلاف امریکہ اور برطانیہ کا اتحادی بن جاتا ھے۔ ایک اندازے کے مطابق سرد وار کے اس دور میں پاکستان کو امریکہ سے مختلف مدوں میں 16 ارب ڈالر کی امداد وصول ھوتی ھے۔ جسے پاکستان اپنی فوجی ضروریات پوری کرتا ھے اور معاشی ترقی حاصل کی جاتی ھے۔ صدر ایوب 1960 میں پشاور کا بدھابیر کا فضائ اڈا بھی امریکہ کے حوالے کر دیتے ھیں۔ صدر ایوب امریکہ کی اسٹیٹ وزٹ بھی کرتے ھیں جہاں ان کا بطور ایک کولڈ وار اتحادی کے طور پر شاندار استقبال کیا جاتا ھے۔ 1964 میں پاکستان کا جی ڈی پی 9.38 فیصد کی ریکارڈ گروتھ پر پہنچ جاتا ھے۔ لیکن پھر 1965 کی پاک بھارت جنگ کی وجہ سے امریکہ اور برطانیہ دونوں پاکستان کی جنگی و معاشی امداد پر پابندی لگا دیتے ھیں۔ اور جنگ کی وجہ سے 1966 میں پاکستان کا جی ڈی پی 2.32 فیصد تک گر جاتا ھے۔
اگرچہ جنرل یحیی خان اپنے دور میں چین اور امریکہ کے درمیان تعلقات قائم کروانے میں مدد فراہم کرتے ھیں۔ ھنری کسنجر اور پھر صدر نکسن چین کا دورہ کرتے ھیں لیکن پاکستان پر امریکی امداد بند رھتی ھے۔ ذولفقار علی بھٹو کے جمہوری دور میں صدر جمی کارٹر پاکستان پر یہ پابندیاں مزید سخت کر دیتا ھے۔ کونکہ بھٹو بائیں بازو کی سیاسی پالیسیوں پر عمل کرتا ھے۔ روس کے ساتھ تعلقات استوار کرتا ھے۔ روسی سرمایہ کاری لے کر اتا ھے ۔ ایٹم بم کی بنیاد رکھتا ھے۔ اور عرب ممالک کو بتاتا ھے۔ تیل کو بطور ھتیار کیسے استعمال کرنا ھے۔ بھٹو کی یہ قوم پرستانہ اور خودمختار پالیسیاں امریکہ کو پسند نہیں اتیں اور ھنری کسنجر بھٹو کو ایک خوفناک مثال بنانے کی دھمکی دیتا ھے۔ اور پھر 1979 میں بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا جاتا ہے ۔
افغانستان میں روسی مداخلت سے امریکہ ایک بار پھر پاکستان کی مدد شروع کر دیتا ھے۔ اور آپریشن سائیکلون کے تحت امریکہ، یورپ، عرب ممالک اور اسرائیل پاکستان کی مدد کو پہنچ جاتے ھیں ۔ اور اربوں ڈالر کی فوجی و معاشی امداد پاکستان کو فراھم کی جاتی ھے۔ 1989 میں روس کو افغانستان میں شکست ھو جاتی ھے۔ اور امریکہ بغیر کسی حل کے افغانستان سے نکل جاتا ھے۔ ادھر افغانستان خانہ جنگی کا شکار ھوتا ھے۔ اور ادھر امریکہ ایک بار پھر پاکستان کی امداد بند کر دیتا ھے۔ پریسلر ترمیم کا نفاز ھو جاتا ھے۔ جو یہ کہتی ھے۔ پاکستان نہ صرف ایٹم بم بنا رھا ھے بلکہ ایٹمی مواد ایکسپورٹ بھی کر رھا ھے۔ بے نظیر اور نوازشریف کے دو دو ادوار میں یہ پابندی جاری رھتی ھے۔ جب نواز شریف 28 مئ 1998 کو ایٹمی دھماکے کرتے ھیں تو یہ پابندیاں اور سخت ھو جاتی ھیں۔ ایٹی دھماکے اور سی پیک جیسے قوم پرستانہ اقدام کے باعث نواز شریف ویسے ھی مصیبت کا شکار ھیں جیسے کبھی بھٹو صاحب ھوئے تھے۔ نواز شریف پر روسی اور چینی ونڈوز کھولنے کا بھی الزام ھے۔
نائن الیون کے بعد جنرل مشرف دھشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ کے اتحادی بن جاتے ھیں ۔ امریکہ پاکستان کو اھم ترین نان نیٹو اتحادی کا درجہ دیتا ھے۔ اور پاکستان کی فوجی و مالی مدد شروع ھو جاتی ھے۔ بقول صدر ٹرمپ ھم نے پاکستان کو اس دوران 33 ارب ڈالر دیے۔ جبکہ پاکستان اسے 18 ارب ڈالر مانتا ھے۔ یہ امداد ایک بار پھر جنوری 2018 میں روک دی گئ۔ اور جو اب تک رکی ھوئ ھے۔ بقول امریکہ پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنا فرض پورا نہیں کیا اور امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کی۔
اب تازہ ترین صورتحال یہ ھے۔ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لیے طالبان سے براہ راست گفتگو کر رھا ھے۔ دوسری جانب پاکستان کے دگرگوں معاشی و مالی حالات کی وجہ سے پاکستان کا بازو مروڑا جا رھا ھے۔ اور اسے واپس امریکی بلاک میں لانے کی کوششیں جاری ھیں۔ تاکہ سی پیک پر کمپرومائز کروایا جا سکے۔ اور افغانستان میں بہتر موافق مواقع حاصل ھو سکیں۔ مقبوضہ کشمیر میں حالیہ ھلاکتیں پاکستان پر دباو بڑھانے کی مزید ٹیکٹس ھیں۔ اب دیکھنا یہ ھے۔ پاکستان ان تمام پریشرز سے کیسے باھر نکلتا ھے۔ اور یا پھر کسی نئ امریکی مہم جوئ کا حصہ بن جاتا ھے۔ اور سیاسی و معاشی و جغرافیائی عدم استحکام پر ڈالر اور ریال کماتا ھے۔ تاریخ بتاتی ھے۔ فوجی ادوار میں پاکستان کو امریکہ کا ساتھ دینے پر امداد ملتی رھی جبکہ سویلین ادوار میں قوم پرستانہ اور خود مختار اور امریکہ مخالف پالیسیاں بنانے پر یہ مدد بند رھی۔ ایک حقیقت یہ بھی معلوم ھوئ جب تک امریکہ کو ھماری ضرورت رھی ۔ امداد ملتی رھی جیسے ھی ضرورت ختم ھوی۔ امداد بھی روک دی گئ۔ امریکی اندازوں کے مطابق امریکہ نے 1947 سے آج تک پاکستان کو کل 67 ارب ڈالرز کی امداد دی ھے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *