سنو بدھو ، لوٹ کے گھر کو آؤ

عجب تماشا ہے ۔۔!
اسٹیڈیئم ویران پڑے ہیں ۔۔۔ الو بولتے سنائی دیتے ہیں یا کمنٹریٹر ۔۔ !!
اکثر اسٹینڈز میں ہو کا عالم ہے صرف چند نشستوں پہ باسوں کے نکالے ، بیگمات کے ہنکالے یا بی سی پی کے پالے ہوئے پڑے نظر آتے ہیں ۔۔
اس عالم میں یو اے ای میں پی ایس ایل 4 پورے زور و شور سے جاری ہے ۔۔۔ عقل حیران ہے کہ یہ کیسا پریمیئر ٹورنامنٹ ہے کہ جہاں بجائے اس کے کہ بہت سے تماشائی ٹکٹ نہ ملنے کے باعث مایوس لوٹیں ، الٹا ٹکٹ بیچنے والے مایوس ہوکے گھروں کو لوٹتے ہیں ۔۔۔
میڈیا کی مہربانی ہے کہ اس عجب تماشے کو زندہ رکھا ہوا ہے ورنہ یہ پی ایس ایل کا مردہ تو کبھی کا گل سڑ  گیا ہوتا ۔۔۔
البتہ کیمرہ مین بھی کوشش تو بہتیری کرتے ہیں کہ سنسان اسٹینڈز کی طرف کیمرہ نہ جا پائے ۔۔۔ لیکن لاکھ احتیاط پہ بھی کبھی کبھی ہاتھ بہک ہی جاتا ہے اور صاف معلوم ہوجاتا ہے کہ اس وقت یہ اسٹیڈیئم محنتی طلبہ کے لیئے سکون اور توجہ سے پڑھنے کی موزوں ترین جگہ کے طور پہ دستیاب ہے ۔۔۔
اگر پی سی بی اور اسٹیڈیئم کے ملازمین اور چند ہر جگہ پڑے رہنے کے عادی مفت خورے مہربانی نہ کریں تو شاید شائقین کی تالیاں بھی ریکارڈ کی ہوئی لگانی پڑیں
سوال یہ ہے کہمحض میڈ یا کے بل پہ پرائے دیس میں اپنوں کے گھمسان کی یہ سب 'مسخری' کب تک ایسے ہی چلے گی ۔۔۔۔ کیونکہ یہ محض کھیل کا نہیں بلکہ قومی غیرت کا معاملہ بھی ہے ۔۔۔ دہشتگری کے واقعات کیا بھارت نہیں ہوتے  لیکن وہاں ہوئے 11 آئی پی ایل ٹورنامنٹس میں سے صرف ایک یعنی دوسری بار کا ٹورنامنٹ ہی جنوبی افریقا میں منعقد کیا گیا تھا اور اسکی وجہ وہاں ایک صدی زائد سے رہتے بستے بھارتیوں کی بہت بڑی تعداد ہے ۔۔۔
لیکن ہمارے کیس میں تو یہ لیگ مسلسل یو اے ای کی دست نگر بنی ہوئی ہے اور پرائے میدانوں اور میڈیا کے استھانوں پہ تمسخر کا نشانہ بنتی چلی جارہی ہے اور دنیا بھر میں اسے کھلی آنکھوں سےدیکھا ہی جا رہا ہے  میں یہاں غیرت کے بجائے وقار کا لفظ استعمال کرلیتا لیکن سقوط ڈھاکا کے بعد سے اس لفظ کا پرچہ ترکیب استعمال کہیں کھو گیا ہے اور دیسی کانوں کو پشتو اور پنجابی فلموں کی بدولت غیرت کا لفظ زیادہ مانوس ہے اور اسے سنا کے سامع یا ناظر کو حسب خواہش جلدی غیرت اور فوری حرکت دلائی جاسکتی ہے -
اور ویسے بھی اس بیرونی تماشے کی اب کوئی خاص ضرورت نہیں کیونکہ  اب اس چوتھے پی ایس ایل کے آتے آتے کئی غیر ملکی کھلاڑی پچھلے ٹورنامنٹس میں یہاں آکے کھیل بھی چکے ہیں اور ایسے کئی غیرملکی کھلاڑی جو اپنی جان عزیز ہونے کے اشتہاری تھے دوگنے دام ملتے ہی موت کے خوف سے آزاد ہوتے چلے گئے یعنی وطن عزیز میں دہشتگردی کے خدشے کے سبب اب یہاں نہ کھیلنے کا جواز کبھی کا دم توڑ چکا اور  ااس بار بھی 7 میچز یہاں ہونے ہیں‌ تو پھر اب کیا حرج ہے کہ جو کرکٹ کا یہ بدھو لوٹ کے گھر کو آجائے اورآئندہ اس بیرونی بکھیڑے ہی سے جان چھڑا لی جائے اور عین مناسب ہے کہ اگلے پورے پی ایس ایل کو یہیں اپنے ملک میں کرانے کے لیئے ابھی سے کمر کس لی جائے اور کرکٹ کے مقامی متوالوں کی مزید توہین نہ کی جائے اور اپنے پیارے کرکٹرز کو اپنے ہی میدانوں میں دیکھنے کی انکی خواہش دید پوری کی جائے ۔۔۔۔ اس سے یہ بھی ہوگا کہ میدان بھی تناشائیوں سے خالی نہیں ہونگے اور کھیلنے والے بھی زیادہ جوش اورولولے سے کھیلیں گےاور میڈیا پہ اسکا پھیلاؤ اور اثر پزیری کی قؤت بھی بڑھ جائے گی کیونکہ پھر کم وسائل رکھنے والے میڈیا ادارے بھی اسکی کؤریج اور رپورٹنگ کرکے اس کھیل کی شہرت کو وسیع تر کرسکیں گے ۔۔۔ یوں اس کھیل کا دائرہء قبولیت اور حلقہء اعتبار بھی   بڑھے گا اور پی ایس ایل کا وقار بھی ۔۔ یہاں مجھے وقار کا لفظ استعمال کرنے پہ معاف کردیجیئے کیونکہ کیا کروں کہ ایک مدت سے متروک ہوجانے کے باوجود یہ لفظ اب بھی اکثر میرے قلم کا روستہ روک ہی لیتا ہے جیسا کہ ابھی روک لیا ہے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *