’اب یہ ملک ہمارے لیے سمٹ رہا ہے‘ سعودی عرب میں مقیم پاکستانی انجینئر

سعودی عرب کا شمار بیرونِ ملک نوکریوں کے متلاشی پاکستانیوں کے پسندیدہ ممالک میں ہوتا رہا ہے۔ اس وقت بھی لاکھوں پاکستانی سعودی عرب میں روزگار کے سلسلے میں مقیم ہیں تاہم اب ’سعودآئزیشن‘ کی وجہ سے اس تعداد میں کمی آ رہی ہے اور وہاں مقیم پاکستانی مشکلات کا شکار ہیں۔ پڑھیے ایسے ہی ایک پاکستانی کی ڈائری جو بی بی سی اردو کی حمیرا کنول سے ان کی گفتگو کی بنیاد پر لکھی گئی ہے۔

پاکستان سے دور یہاں سعودی عرب میں اپنے دفتر میں بیٹھا میں یہ سوچ رہا ہوں کہ ولی عہد محمد بن سلمان نے پاکستان کا دورہ کیا۔ ویزہ فیس کم کی، قیدیوں کی رہائی کی بات کی۔ بہت مسکراہٹوں، بہت سے وعدوں اور اربوں ڈالرز کے منصوبوں کے معاہدوں کے ساتھ رخصت ہوئے لیکن اس سب میں ہماری پاکستانی حکومت کی ترجیحات کیا تھیں۔

کیا یہ زیادہ تر پس پردہ اور کچھ حد تک سامنے نظر آنے والے بس سکیورٹی تعلقات ہی ہیں۔ میرا اس سرزمین سے سات سال کا تعلق ہے، جب میں 2013 میں یہاں آیا تو یہ سچ ہے کہ اسی عرصے میں سعودی بادشاہ نے خزانے کا منہ اپنے ملک کے انفراسٹرکچر اور ترقی کے لیے کھول دیا تھا۔

لیبر کی مانگ نے ہم جیسے ملکوں کے مزدور طبقے کو یہاں مزید جگہ دی لیکن آج حالات یکسر مختلف ہو چکے ہیں اور بدقسمتی سے اس کا ادراک ہماری حکومت کو نہیں ہو سکا۔ میرا مختصر مشاہدہ اور مستقبل کے حوالے سے ادراک کچھ اتنا خوش کن نہیں ہے۔

اس ملک میں زندگی پاکستان کی طرح آزاد نہیں۔ یہاں آپ کو خاندان کے ساتھ رہنے کے لیے فی کس گیارہ ہزار ریال فیس کی صورت میں ٹیکس دینا پڑتا ہے۔ یہاں سیون سیٹر گاڑی کے لیے ایک مضحکہ خیز شرط یہ ہے کہ آپ کے پانچ بچے ہونے چاہییں۔

یہاں آپ واقعی عجمی ہیں اور زیادہ تر مکین آپ کو فقط اپنی خدمت کے لیے آیا ہوا تصور کرتے ہیں، یہاں آپ ہفتے میں کام تو 60 گھنٹے کرتے ہیں لیکن وہ کتاب میں 48 گھنٹے شمار ہوتے ہیں۔

اس کے باوجود اپنے ملک میں نوکری اور تنخواہوں کے مشکل حالات مزدوروں اور تعلیم یافتہ طبقے کو یہاں کھینچ لاتی تھی، لیکن اب یہ ملک ہمارے لیے سمٹ رہا ہے۔ اس کی ایک مثال میں خود آپ کے سامنے ہوں۔ میں ایک انجینئیر ہوں۔ جب یہاں آیا تھا تو میری فیلڈ میں 650 تک انجینئرز تھے اور اب یہ تعداد 150 بھی نہیں رہی۔

مجھے اور ان دیگر ساتھیوں کو اب تک ہر چھ مہینے بعد مزید چھ ماہ کی توسیع ملتی آ رہی ہے لیکن یہ تلوار چھ ماہ تک ہماری گردن سے ہٹتی نہیں کہ آگے کیا ہونے والا ہے۔

یہاں مزدوری کرنے والے زیادہ تر پاکستانی ہیں۔ بنگالی شہری صفائی کے شعبے میں کام کر رہے ہیں اور انڈین آپ کو سیلز، ریٹیل اور اکاؤنٹس کے شعبوں میں کام کرتے ملیں گے۔ پہلے لوگ اوپن ویزا پر آتے تھے، کفالت سسٹم میں کام کرتے تھے اور اپنے کفیل کو سال بھر کی فیس دیتے تھے۔ مگر اب ایسا نہیں۔ پرمٹ پر جو لکھا ہوا ہے آپ صرف وہی کام کر سکتے ہیں اور جس نے آپ کو ملازمت پہ رکھا ہے صرف اسی کے ساتھ کام کریں گے۔

سعودآئزیشن پر گذشتہ تین سال سے تیزی سے عملدرآمد ہو رہا ہے اور 70 سے زیادہ فیصد دکانیں اور کاروبار سعودیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ اب موبائل کی دکانوں، فرنیچر کے کاروبار، مالز میں دکانوں، گاڑیوں کی ورکشاپس اور کراکری وغیرہ کی دکانوں سے غیر ملکی ہٹ رہے ہیں۔ اب آپ کو کہیں یہ 15 فیصد دکھائی دیں گے مگر یہ منتقلی کا عمل ہے تیز تر ہے۔

دوسری جانب سنہ 2012 اور سنہ 2014 سے اب تک جو منصوبے چل رہے ہیں، لگتا ہے وہ اگلے برس تک مکمل ہو جائیں گے اور ابھی تک نئے منصوبوں کا اعلان نہیں کیا گیا۔ سعودی ولی عہد کے حالیہ دورے میں کیا ہماری حکومت نے یہ بات کرنا گوارا سمجھا کہ وہ ان سے اس مسئلے پر بات کریں کہ ہمارے مزدوروں کا مستقبل کیا ہو گا؟

سعودی

اگر صورتحال یہی رہی تو سنہ 2020 یعنی اگلے برس سے آپ کو جہاز بھر بھر کر پاکستانیوں کو ویلکم کرنا پڑے گا، جبکہ دوسری جانب آپ خود کہہ چکے ہیں کہ ہمارے ہاں بے روزگاری بہت ہے۔

اگلے برس یہ ہو گا کہ ہماری نوکریاں بھی سعودیوں کے پاس چلی جائیں گی تو ایسے میں بہت سے پاکستانی جو یہاں اشیائے خوردونوش کے کاروبار سے منسلک ہیں، انھیں وطن واپس لوٹنا پڑے گا۔ تو کیا آپ اس کے لیے تیار ہیں؟

یہ جو وزٹ ویزا فیس آج کم ہوئی ہے جسے ایک بہت بڑا معرکہ سمجھا جا رہا ہے، یہ تو انڈیا، انڈونیشیا اور بنگلہ دیش کے لیے گذشتہ برس ہی کم ہو چکی تھی۔

سعودی عرب میں پہلے بھی آہستہ آہستہ تبدیلیاں آتی رہی تھیں لیکن حالیہ تبدیلیاں یک دم آئی ہیں۔ شاہ عبداللہ نے فیصلہ کیا تھا کہ اب سعودیوں کو بھی کام کرنا ہے۔ سعودآئزیشن کوئی بری بات نہیں۔ ان کا ملک ہے، وہ کام کریں یہ ان کا حق ہے۔

ولی عہد محمد بن سلمان نے تبدیلیوں کو بین الاقوامی تناظر میں تو دیکھا لیکن ملک میں کام کرنے والے اس سے کیسے متاثر ہو رہے ہیں، اسے وہ دیکھ نہیں پائے اور نہ ہی ہماری حکومت اس پر توجہ دے سکی ہے۔

ریاض احمد

بہتر روزگار کی تلاش بہت سے پاکستانیوں کو سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں جانے پر مجبور کرتی ہے

جب یہاں کے سکول میں یمن جنگ کے بعد بہت سے پاکستانی بچوں کو آوٹ آف سیزن ایڈمیشن مل سکتا ہے تو کیا پاکستانی حکومت اپنے کارکنوں کی سہولت کے لیے کوئی اقدامات کرنے کے لیے نہیں سوچ سکتی؟ اب آگے دیکھیے کہ آپ کا ہمسایہ ملک اپنے لیبرز کے لیے سعودی حکام سے کیا کچھ منوائے گا لیکن ہماری پالیسیاں ہی شاید ہمیں کبھی جیل یا پھر دھکوں کی صورت میں وہاں سے نکلواتی ہیں۔

ابھی کچھ ہی برس پہلے میرے والد نے بھی ایک سعودی کمپنی میں 17 برس کام کیا تھا لیکن ساری عمر کی خواری کے بعد آپ کو انعام تو دور، عزت بھی نہیں ملتی۔

جب عید پر ریٹائرمنٹ ملنے پر انھوں نے اپنے کفیل سے ایک دو دن رکنے کی مہلت مانگی، تو کہا گیا کہ ہم تمھہیں ’ہاروب‘ یعنی بھگوڑا قرار دے دیں گے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *