خدا اور بجٹ خسارہ کے بیچ ایک خوشگوار بندھن

کراچی پاکستان:چند سال قبل جب میں اور میری بیوی اور میں نے فیصلہ کیا کہ اپنے بیٹے کا نام چنگیز رکھیں جو  Chan gaze جیسا لگتا تھا، تو میری بڑی بہن یہ سن کر غصہ میں  آ گئیں اور کہنے لگیں: چنگیز تو ایک قاتل ہے جس نے ہزاروں لوگوں کو قتل کیا ہے۔ اس وقت ہمارے ذہن میں اس چنگیز خان کا خیال تک نہیں تھا۔ ہمیں یہ نام اچھا لگتا تھا اور ہم نے اسے اپنانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ میں نے بہن سے پوچھا کہ وہ پھر کیا نام تجویز کرنا چاہیں گی۔ انہوں نے مجھے ایک پیغمبر سے منسوب نام بتایا۔ میں نے کہا ہو سکتا ہے اس پیغمبر کو بھی کچھ لوگ قتل کرنا پڑے ہوں۔ دنیا میں جو بھی حکمران آیا اس نے کچھ قتل ضرور کیے۔ لیکن پھر بھی لو گ ان حکمرانوں کوپسند کرنے سے باز نہیں آتے۔

جب اتوار کے روز محمد بن سلیمان پاکستان تشریف لائے  تو ملک بھر میں جشن تھا اور کسی قسم کے قتل کی کوئی خبر نہ تھی۔ کچھ صحافیوں نے اپنی ڈسپلے پکچر  میں پرنس کے حکم پر قتل کیے جانے والے صحافی خشوگی کی تصاویر لگا رکھی تھیں۔ خشوگی کو پچھلے سال اکتوبر میں ترکی کے سعودی کونسل خانے میں قتل کیا گیا تھا۔ ان کے باسز نے فون کر کے انہیں یہ تصاویر ہٹانے کا کہا اور زیادہ تر صحافیوں نے ہٹا بھی لیں۔ ہمارے ٹی وی سکرینوں پر ریڈ کارپٹ بار بار دکھائی دیتے رہے اور بار بار یہ بتایا جاتا رہا کہ یہ ایک خاص دورہ ہے۔

پاکستانی حکومت پچھلے کچھ عرصہ سے سادگی کی مہم پر تھی۔ حکومت نے سادگی کے چکر میں وزیر اعظم ہاوس کی لگژری کاریں بھی نیلام کر دیں۔ لیکن سعودی وفد کے لیے حکومت کو 300 پراڈو ایس یو وی  کرایہ پر لینا پڑیں۔ پاکستانی اہلکاروں کو شہزادہ کی آمد پر آزاد کرنے کے لیے 3500 کبوتروں کا بندو بست بھی کرنا پڑا۔ گلیوں میں رقص ہونے لگا۔ ائیر فورس جیٹس کی مدد سے شہزادے کے جہاز کو اسکورٹ کیا گیا۔ یہ ایک رائل ویلکم  تھا۔

محمد بن سلمان کی آمد سے کئی دن قبل سے ٹی وی صحافی مختلف قسم کے تجزیے کرنے میں مصروف تھے۔  شہزادے کی آمد سے قبل مال سے بھرے 80 کنٹینرز کی آمد متوقع تھی۔ عمران خان کے گھر میں ایک سپیشل جم تیار کی گئی تھی۔ وزیر اعظم کے گھر میں دو بچوں نے بھاری گلدستوں کے ساتھ پرنس کا استقبال کیا۔ شہزادے نے بچوں کو پیار کیا اور سر پر تھپکی دی۔

یہاں اکثر یہ دعوی کیا جاتا ہے کہ سعودی عرب مسلم امہ کا  غیر متنازعہ لیڈر ہے  کیونکہ اس کے حکمران مکہ اور مدینہ کے کسٹوڈین ہیں۔ پاکستان اپنے نیوکلیر ہتھیارون کی وجہ سے اپنے آ پ کو ان خادم حرفین شریفین کا بھی  گارڈین مانتا ہے۔ ہمیں یہ بتایا جاتا ہے کہ ایمان کے لحاظ سے ہم سب بھائی ہیں  لیکن حقیقت یہ ہے کہ حال ہی میں ایک بار پھر سعودی عرب نے پاکستان کو معاشی بحران سے نکلنے کے لیے بیل آوٹ پیکج دیا ہے۔ یہ خدا اور بجٹ کے خسارے کے بیچ ایک ہیپی میرج ہے۔ پرنس محمد  نے حالیہ دورے میں 20 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ لانے کا دعدہ کیا ہے۔ یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنے باپ کی رقم پاکستان پر اڑا رہا ہے۔ لیکن پاکستانیوں کا خیال ہے کہ چونکہ اللہ نے سعودیہ کو مالا مال کیا ہے اس لیے ہم اس میں سے اپنا حصہ ہی لے رہے ہیں۔

چونکہ اربوں ڈالر کا وعدہ ہمیں دیا گیا ہے اس لیے ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ دنیا بھر میں سب اقوام کے مقابلے میں سب سے زیادہ نقصان مسلم امت کو  حرمین شریفن کے خادموں نے ہی پہنچایای ہے۔سعودی عرب نہ صرف  غریب مسلم ممالک پر بمباری کرتا ہے بلکہ غریب ممالک سے آنے والے مزدوروں کی  مزدوری دینے کی بجائے انہیں جیلوں میں بند کر کے چابی دور پھینک دیتا ہے۔

جب عمران خان نے پاکستانی مزدوروں کی رہائی کی اپیل کی اور محمد بن سلیمان نے سعودی جیلوں سے 2000 پاکستانی قیدیوں کی رہائی کا اعلان کیا تو  اس سے انہوں نے بہت سے پاکستانیوں کے دل جیت لیے ۔کسی نے بھی جسٹس سسٹم کے میرٹ پر سوال نہیں اٹھایا  جس میں ایک شہزادہ  یک جنبش قلم ہزاروں قیدیوں کو ایک ساتھ اپنے اچھے موڈ کی وجہ سے  جیلوں سے رہائی دلوا سکتا ہے۔

پرنس کو ایک بڑا ماڈرنائزر اور گلوبل تھنکر قرار دے کر  مغرب کو اس وقت بڑا دھچکا لگا  جب یہ خبر سامنے آئی کہ خشوگی کا قتل پرنس سلمان کے حکم پر ہوا تھا۔انہیں  بہت سی جگہوں پر بہت تعریفی کلمات سے نوازا جا رہا تھا۔ جب  خشوگی کے قتل کے حکم کے معاملے پر میڈیا کوریج شروع ہوئی تو بہت جلد محمد بن سلیمان ایک برانڈ کی شکل اختیار کر گئے۔

ان کا ایشیا کا فاتحانہ دورہ ایسے وقت میں شروع ہوا جب بھارت پاکستان کو کشمیر میں ہونے والے حملے کا ذمہ دار قرار دے کر بدلہ لینے کی دھمکی دے رہا ہے۔ کشمیر میں ہونے والے حملے میں 40 فوجی مارے گئے تھے۔ پیر کے روز ایک اور حملے  میں مزید 6 فوجی مارے گئے تھے۔ کوئی  بھی پرنس سے یہ توقع نہیں رکھتا کہ پاک بھارت جنگ کے دھانے پر موجود ہوں اور شہزادہ کوئی کردار ادا کر سکے۔ تمام چھوٹے شہزادوں کی طرح محمد بن سلیمان کے پاس بھی اختیار نہیں کہ وہ کسی ایک کی سائیڈ لے سکیں۔ جب وہ بھارت کے دورے پر ہوں گے تو ان سے یہی توقع رکھی جائے گی کہ وہ بھارت سے انویسٹمنٹ کے معاہدے کریں گے۔ پاکستانی اور بھارتی حکومتیں اس دورے کو اپنے اپنے لحاظ سے تاریخی قرار دے رہی ہیں۔ لیکن سچ یہ ہے کہ اس کو تاریخی کہنے والے لو گ وہی ہیں جنہیں تاریخ کا کوئی علم نہیں ہوتا۔ اس وقت پرنس بھارت اور پاکستان کے ساتھ کھیل رہا ہے کیونکہ مغرب کے لڑکے اور لڑکیاں اس کے ساتھ کھیلنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

اس دورے سے 79ء کے ایرانی انقلاب اور افغانستان پر سویت یونین کے حملے کا دور یاد آ جاتا ہے جب سعودی عرب نے پاکستان کو کمیونسٹوں کے خلاف لڑنے کے لیے پیسہ دینا شروع کیا اس سے کچھ لوگ تو بہت امیر ہو گئے لیکن زیادہ تر تفرقہ بازی کا شکار ہو گئے۔ افغانستان میں بھی امریکہ اور سعودی عرب نے ملک کے بے تحاشہ ڈالروں کی بارش کی اور ایک ملٹی نیشنل جہاد کمپلیکس کی بنیاد رکھی جو آج بھی دنیا وکا پیچھا کر رہی ہے۔ جب رواں ہفتے پرنس پاکستان آنے والے تھے تو پاکستان میں کچھ لوگوں نے یمن جنگ کی وجہ سے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے  #MBSNotWelcome ہیش ٹیگ جاری کیا ۔ جواب میں وزارت داخلہ کی طرف سے ایک نوٹس جاری کیا گیا جس میں صرف شیعہ کمیونٹی کو سعودی عرب کے خلاف سازش کرنے میں اس ہیش ٹیگ  کے جاری کرنے والوں کو ذمہ دار قرار دیا گیا۔

جب یہ سوال اٹھا کہ اس طرح سے تو پرانے طریقہ کار کی طرح کی تفرقہ بازی کو فروغ ملے گا تو ایک دوسرا نوٹس جاری کیا گیا  جس کا مقصد پرانے نوٹس کے اجرا کی انکوائیری کرنا تھا۔ یاد رہے کہ وزارت داخلہ کے سربراہ عمران خان خود ہیں ۔عمران خان پرنس کے انتظار میں بے چین اور استقبال کے لیے اتنے پرجوش تھے کہ وہ پرنس کی گاڑی خود ڈرائیو کرنے پر مصر نظر آئے۔ ملک میں پرنس کی مقبولیت کو بیان کرنے کے لیے انہوں نے از راہ مذاق کہا کہ اگر پرنس پاکستان میں الیکشن لڑیں توخود ان کو ہی ہرا سکتے ہیں۔ بات البتہ یہ ہے کہ پرنس پاکستان میں تو کیا، دنیا میں کہیں بھی الیکشن نہیں لڑنا چاہتے۔ وہ شاہی خاندان  کا حصہ ہوکر اقتدار پر قبضہ کے متمنی رہیں گے۔ پیر کو مشترکہ نیوز کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے  سعودی عرب کے وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف بیان بازی شروع کی اور اسے  دنیا بھر میں دہشت گردی کا حمایتی قرار دے دیا۔

ٹی وی چینلز نے فوری  طور پر ان کی تقریر میوٹ کر دی ۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے خود کو ہی میوٹ کر لیا۔ اسی دن پرنس محمد کو پاکستان کا سب سے اعلی سویلین ایوارڈ دیا گیا۔ یہ سب ایک ایسے موقع پر ہوا جب ایرانی حکومت پچھلے ہفتے ایران میں ہونےو الے بم دھماکوں کے الزامات پاکستان پر لگا رہی ہے جس میں 27 ریوولوشنری گارڈز کی جانیں چلی گئی تھیں۔ پاکستان کو سعودی عرب سے آنے والی دولت شاید قبول ہو لیکن اسے یہ سوچنا چاہیے  کہ جواب میں سعودی عرب کیا چیز مانگ سکتا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *