شمیمہ کو ’ہم اتنی آسانی سے نہیں چھوڑ سکتے‘

دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے والی شمیمہ بیگم کا خاندان برطانوی حکومت کے فیصلے کو چیلنج کرے گا

15 برس کی عمر میں انگلینڈ سے شام جا کر شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کرنے والی شمیمہ کے خاندان نے برطانوی وزیر داخلہ کو ایک خط کے ذریعے بتایا ہے کہ وہ ان کے فیصلے کو چیلنج کریں گے۔

گذشتہ روز برطانوی وزیر داخلہ ساجد جاوید نے دولت اسلامیہ میں شمولیت کے لیے برطانیہ چھوڑنے والی شمیمہ بیگم کو برطانوی کی شہریت سے محروم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

شمیمہ بیگم کے خاندان نے اپنے خط میں برطانوی وزیر داخلہ کو بتایا ہے ’ہم اسے آسانی سے چھوڑ نہیں سکتے‘ اور ان کی حیثیت کا معاملہ ’برطانوی عدالتوں میں ہے۔‘

تاہم ان کا یہ بھی کہنا ہے ’شمیمہ بیگم کے حالیہ بیان سے ہمیں ذہنی کوفت ہوئی ہے۔‘

واضح رہے کہ اپنے انٹرویو میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شمولیت کے لیے سنہ 2015 میں مشرقی لندن سے جانے والی شمیمہ بیگم نے کہا ہے کہ انھیں اپنے اقدام پر افسوس نہیں لیکن وہ واپس برطانیہ آنا چاہتی ہیں۔

مزید پڑھئیے " شمیمہ بیگم کو برطانوی شہریت سے محروم کرنے کا فیصلہ "

شمیمہ بیگم کے خاندان نے ان کے نومولود بچے کو برطانیہ واپس لانے کے لیے بھی مدد طلب کی ہے۔

بیتھنل گرین اکیڈمی میں پڑھنے والی شمیمہ نے سنہ 2015 میں برطانیہ چھوڑا تھا اور وہ شام کے شمال میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ میں موجود ہیں جہاں انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک بیٹے کو جنم دیا۔

شمیمہ بیگم نے پیر کو بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ انھیں شام کا سفر کرنے کے اپنے اقدام پر افسوس نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ کی جانب سے کیے جانے والے ہر اقدام سے متفق نہیں ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ سنہ 2017 میں مانچیسٹر ایرینا حملے میں مارے جانے والے 22 افراد جس کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے لی تھی کے بعد دہشت زدہ ہو گئی تھیں تاہم انھوں نے اس کا موازنہ اتحادی افواج کی جانب سے دولت اسلامیہ کے مضبوط ٹھکانوں پر کیے جانے والے حملوں سے کیا اور اسے ’بدلہ‘ قرار دیا۔

شمیمہ بیگم کی بہن رینو بیگم کی جانب سے برطانوی وزیر داخلہ کو لکھے جانے والے خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم یہ بات واضح کرنا چاہتے ہیں کہ پورے ملک کی طرح ہم بھی شمیمہ بیگم کی جانب سے حالیہ دنوں میڈیا کو دیے جانے والے بیانات سے ششدر ہیں۔‘

خط میں مزید کہا گیا ہے کہ ’شمیمہ بیگم کے بیانات برطانوی اقدار کی نمائندگی نہیں کرتے اور ان کا پورا خاندان اسے مسترد کرتا ہے۔‘

دولت اسلامیہ

کادیزا سلطانہ، امیرا عباس اور شمیمہ بیگم

معافی اور مدد

2015 میں مشرقی لندن سے شام جانے والی شمیمہ بیگم کا کہنا ہے کہ وہ واپسی کے لیے برطانوی حکومت سے معافی اور مدد چاہتی ہیں۔

دولتِ اسلامیہ کے آخری ٹھکانے باغوز سے فرار ہونے کے بعد وہ گذشتہ ہفتے شام کے ایک پناہ گزین کیمپ میں ملی تھیں، جہاں انھوں نے اپنے بیٹے کو جنم دیا۔

پیر کو ایک انٹرویو میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے 19 سالہ شمیمہ بیگم کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی دولت اسلامیہ کی ’پوسٹر گرل‘ بننا نہیں چاہتی تھیں اور اب وہ صرف خاموشی سے برطانیہ میں اپنا بچہ پالنے کی خواہشمند ہیں۔

آئی ٹی وی نیوز نے بیگم کی ماں کو بھیجے گئے خط کی کاپی حاصل کر لی ہے جس میں انھیں اپنی بیٹی کو شہریت کی منسوخی کے فیصلے سے آگاہ کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

بیتھنل گرین سے تعلق رکھنے والی 19 سالہ شمیمہ نے چار برس قبل اپنی دو دوستوں کے ہمراہ براستہ ترکی، شام کا سفر کیا تھا۔

برطانوی اخبار دی ٹائمز نے گذشتہ ہفتے شام میں واقع ایک پناہ گزین کیمپ میں انھیں ڈھونڈ نکالا جہاں وہ دولت اسلامیہ کا آخری گڑھ باغوز چھوڑنے کے بعد قیام پذیر تھیں جس کے بعد اس صورتحال پر بحث جاری ہے۔

انھوں نے گذشتہ ہفتے ایک بچے کو جنم دیا ہے جبکہ اس سے قبل وہ اپنے دو بچوں کو کھو چکی ہیں۔ انہوں نے اپنے نوزائیدہ بچے کا نام اپنے پہلے بیٹے کے نام پر رکھا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اپنے پہلے بچے کو دولت اسلامیہ کا جنگجو بنانا چاہتی تھیں لیکن اب وہ اپنے اس بچے کو برطانوی شہری بنانا چاہتی ہیں اور اس کے ساتھ برطانیہ واپس جانا چاہتی ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *