’بھارت پانی روکتا بھی ہے تو پاکستان کو فرق نہیں پڑے گا‘

لاہور: بھارتی وزیر کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کے تحت اپنے حصے کا پانی روکنے کی دھمکی کو پاکستان نے نظرانداز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر بھارت مشرقی دریاؤں(راوی، ستلج اور بیاس) کا پانی روک بھی دے تو پاکستان کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

وفاقی وزیر برائے آبی وسائل کے سیکریٹری خواجہ شمائل نے ڈان سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اگر بھارت مشرقی دریاؤں کا پانی روک کر اسے اپنے لوگوں کو فراہم کرے یا دیگر کاموں کے لیے استعمال کرے تو ہمیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ سندھ طاس معاہدہ اس کی اجازت دیتا ہے۔

خیال رہے کہ پلوامہ حملے کے بعد بھارتی حکام کی جانب سے مستقل سخت بیانات دینے کا سلسلہ جاری ہے اور جمعرات کو بھارتی وزیر ٹرانسپورٹ اور آبی وسائل نتین گاڈکاری نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا تھا کہ 'وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہماری حکومت نے پاکستان کی جانب بہنے والے اپنے پانی کا رخ موڑنے کا فیصلہ کیا ہے، ہم مشرقی دریاؤں سے پانی کا رخ موڑ دیں گے اور جموں و کشمیر اور پنجاب میں اپنے لوگوں کو فراہم کریں گے'۔

تاہم پاکستان کے سیکریٹری آبی وسائل خواجہ شمائل نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارتی وزیر کی ٹوئٹ پریشان کن نہیں۔

انہوں نے کہا کہ دراصل بھارت دریائے راوی پر شاہ پور کنڈی ڈیم بنانا چاہتا ہے جبکہ اس منصوبے کو 1995 میں منسوخ کردیا گیا تھا لیکن اب وہ اسے تعمیر کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے حصے کے اس پانی کو استعمال کر سکے جو غیر مستعمل ہونے کے سبب پاکستان کی جانب بہہ کر چلا جاتا ہے۔

خواجہ شمائل نے کہا کہ اگر اب وہ اپنے عوام کے لیے ڈیم کی تعمیر کے ذریعے یا کسی اور طریقے سے اسے محفوظ بنا کر استعمال کرنا چاہتے ہیں تو ہمارا اس سے کچھ لینا دینا نہیں۔

البتہ انہوں نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے مغربی دریاؤں(دریائے سندھ، چناب اور جہلم) کے پانی کا رخ موڑنے یا اسے استعمال کرنے کی کوشش کی تو ہم اس پر ضرور سخت اعتراض کریں گے کیونکہ اس پر ہمارا حق ہے۔

سندھ طاس پر پاکستانی کمشنر سید مہر علی شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت کو 1960 میں ہی مشرقی دریاؤں کے پانی کے استعمال کا حق دے دیا گیا تھا لہٰذا اب یہ ان پر انحصار کرتا ہے ہے کہ وہ ایسا کرتا ہے یا نہیں۔

ان کا کا کہنا تھا کہ اب وہ پانی کا رخ موڑتے ہیں یا استعمال نہ ہونے والے مشرقی دریاؤں کے پانی کو استعمال کرتے ہیں، ہمیں اس سے کوئی مسئلہ نہیں، وہ اب ایسا کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں کوئی مسئلہ نہیں اور اگر وہ اسے استعمال نہیں کرنا چاہتے تو بھی ہمیں کوئی مسئلہ نہیں۔

سید مہر علی شاہ نے کہا کہ بھارت نے جس شاہ پور کنڈی ڈیم کی منصوبہ بندی کی ہے دراصل وہ رنجیت ساگر ڈیم کا دوسرا مرحلہ ہے، اس ڈیم سے بھی توانائی پیدا کی جائے گی اور اسے آبپاشی کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان پلوامہ حملے کے بعد بڑھتے تناؤ کے تناظر میں دریائے سندھ پر بھارتی ماہرین کے مجوزہ دورے کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دیکھیں کیا ہوتا ہے، ہمیں بہتری کی امید ہے۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ سید مہر علی کی قیادت میں پاکستان کے 3 رکنی وفد نے 28جنوری سے یکم فروری تک بھارت کا دورہ کر کے مختلف ہائیڈروپاور منصوبوں کا معائنہ کیا تھا جس میں دریائے چناب پر واقع 1ہزار میگا واٹ کا پاکل دل ڈیم، 48 میگا واٹ کا لوئر کلنائی ڈیم، 850 میگا واٹ کا رتلے ڈیم اور 900میگا واٹ کا بگلیہار ڈیم کے منصوبے شامل ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ پلوامہ حملے سے 2دن قبل بھارت نے سندھ طاس معاہدے کے تحت دریاؤں پر بنائے جانے والے 3ہائیڈرو پاور منصوبوں کے ڈیزائن کا پاکستان سے تبادلہ کیا تھا۔

ان میں بلتی کالان، کالاروس اور تماشا ہائیڈو پاور پراجیکٹ شامل ہیں جنہیں جہلم طاس اور تماشا پر بالترتیب تعمیر کیا جائے گا۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *