کتاب کلچر کا تحفظ، وقت کی ضرورت

" محمد نورالہدیٰ "

کتاب انسان کی بہترین دوست ہوتی ہے۔ کسی کو تحفہ دینا ہو تو کتاب سے بہتر کوئی تحفہ نہیں ہوتا۔ ہمارے زمانہ طالبعلمی میں کتابیں اور ڈائریاں دینے کا سلسلہ عام تھا۔ کتاب میلوں میں جا کر دوست ایک دوسرے کو کتب کے تحائف دیا کرتے تھے۔ یادگار کے طور پر آپس میں ڈائریوں کا تبادلہ ہوتا تھا جن پر اپنے ہاتھ سے خوبصورت سا کوئی سلوگن یا دعا لکھ کر اس تحفے کو مزید یادگار بنایا جاتا تھا۔ بدقسمتی سے آج کے دور میں یہ سلسلہ ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ اب کتاب میلے بھی ہوتے ہیں تو محض ضرورت کی کتاب خریدی جاتی ہے اور وہ بھی صرف اپنی ذات کیلئے۔ دوستوں کے گروپ ان میلوں کا دورہ کرتے ہیں لیکن ”ونڈو شاپنگ“ کا رجحان زیادہ ہے۔ بہت ضرورت کی کتاب ہوئی تو خرید لی، وگرنہ خالی ہاتھ واپس ہو لیتے ہیں۔ اس نفسا نفسی کے عالم میں اگر کوئی بغیر کسی حرص اور تمنا کے اس روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش کرتا ملے تو خوشی بھی ہوتی ہے اور اطمینان بھی، کہ ہمارے ماضی اور شناخت کا تحفظ کرنے والے لوگ ابھی اس معاشرے میں موجود ہیں۔
مجھے گذشتہ دنوں چند نادر کتب کا ایک گمنام پارسل موصول ہوا۔ سینئر لکھاریوں کی یہ کتب اس قدر انمول تھیں کہ جی خوش ہوگیا۔ میں شش و پنج میں تھا ایسی مہربانی کس نے اور کیوں کی؟۔ میرا محدود سا صحافتی، سماجی اور سیاسی حلقہ احباب ہے۔ نظر دوڑائی تو کچھ سمجھ نہ آیا کہ وہ مہربان کون ہو سکتا ہے۔ چند روز قبل ادب دوست عبدالستار عاصم سے ملاقات ہوئی اور انہوں نے کتب کی پسندیدگی بارے استفسار کیا تو راز کھلا۔ عبدالستار عاصم جیسا حوصلہ ہر فرد کا نہیں ہوتا کہ مختلف سینئر لکھاریوں کی مہنگی اور دیدہ زیب کتب کے تحائف دوستوں کو بھیجے جائیں۔ کتاب کا تحفہ آپ کو کسی بھی کتاب دوست کی جانب سے موصول ہو سکتا ہے لیکن جتنی قیمتی کتب کا تحفہ عبدالستار عاصم کی جانب سے محبانِ کتاب کو موصول ہوتا رہتا ہے، ایسے بڑے دل والے افراد ہمارے ہاں بہت کم پائے جاتے ہیں۔ قلم فاؤنڈیشن کے پلیٹ فارم سے یہ کاوش بلاشبہ کتاب سے محبت کرنے والوں کیلئے کسی غنیمت سے کم نہیں۔ ایسی کاوشیں دم توڑتے کتاب کلچر کو سہارا دینے کی ترغیب کے ساتھ ساتھ اس امر کی بھی تصدیق ہیں کہ کتاب آج بھی انسانی زندگی کی ضرورت اور انسان کی شعوری بیداری کی تحریک کا اہم عنصر ہے۔
کتاب سے استفادہ نہ صرف ہماری سوچوں کو وسعت دیتا ہے بلکہ رویوں اور مزاج میں بھی ٹھہراؤ پیدا کرتا ہے۔ لہذا کتاب کی اہمیت بارے صرف وہی جان سکتا ہے جو اس کی لذت سے آشنا ہو۔ ہمارے ہاں لکھنے والے بہت زیادہ ہوتے جا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اخبارات کی تعداد کے اعتبار  سے روزانہ کم و بیش 200 کالمز شائع ہوتے ہیں۔ ان 200 میں سے کتنے لوگ پڑھے جاتے ہیں، یہ ایک الگ بحث ہے۔ یہی حال کتاب کا ہے۔ کتابیں لکھنے والے بھی بے شمار ہیں۔ کیونکہ ہر فرد کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ معروف ہو، معاشرے میں نمایاں مقام کا حامل ہو، راہ چلتے پہچانا جائے، محافل میں اسے رتبہ ملے، لیکن ایسا نہیں ہوتا۔ کتاب شائع ہو جاتی ہے مگر اسے خریدنے اور پڑھنے والوں کا فقدان دیکھنے کو ملتا ہے۔ صرف وہی کتابیں گردش میں نظر آتی ہیں جن کے مصنف معروف ہوتے ہیں۔ میں ایک ایسے کاتب کو جانتا ہوں جو شہرت کے لالچ میں انتہائی مختصر عرصہ میں دو یا تین کتب لکھ چکا ہے۔ صورتحال یہ ہے کہ یہ کتب اشاعت کے بعد عرصہ سے پبلشر کے پاس پڑی ہیں اور مذکورہ کاتب کی جانب سے ان کتب کی اشتہاری مہم کے باوجود پبلشر کے پاس موجود کتب کم ہونے کا نام نہیں لے رہیں۔ البتہ اتنا فرق ضرور پڑا ہے کہ موصوف کو ادبی حلقوں میں خود کو داخل کرنے کیلئے اپنا ایک تعارف مل گیا ہے۔
اسی طرح ہمارے ایک اور دوست نے ”صاحبِ کتاب“ ہونے کے شوق میں  اپنے حلقہ احباب سے اپنی تعریف میں تحاریر لکھوا کر انہیں مسودے  کی زینت بنایا اور کتاب چھاپ دی۔ ہمارے حلقہ احباب میں شامل ایک ایسے ہی دوست کو نام کمانے کا شوق چرایا۔ موصوف نے رابطے میں موجود لکھاریوں سے ان کی تحاریر جمع کیں اور انہیں مجلد کرکے سرورق پر اپنا نام لکھ کر کتاب شائع کر دی۔ اب جس تقریب میں بھی جاتے ہیں، مہمانان کو دینے کیلئے مذکورہ کتاب موصوف کے ہاتھ میں دکھائی دیتی ہے اور اسے اپنی تصنیف قرار دے کر تقسیم کرتے پائے جاتے ہیں۔
ہمارے ایک ”پرو۔دانشور“ دوست کو ایسی ہی ایک کتاب کا تحفہ موصول ہوا۔ انہوں نے کتاب کے پہلے ورق کا پہلا ہی پیراگراف پڑھ کر اسے بوریت کا سرٹیفیکیٹ دیتے ہوئے سائیڈ پر رکھ دیا۔ وہ کتاب آج بھی ان کی فالتو فائلوں اور ردی کاغذوں میں دبی، ٹیبل کی صفائی کے دوران گرد آلود حالت میں کبھی کبھار نظر سے گزرتی رہتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کی خوش قسمتی ہے کہ وہ پھر بھی میز پر پڑی ہے، وگرنہ مذکورہ طرز کی تمام کتب ردی میں فروخت ہونے کے بعد ”فٹ پاتھ شاپس“ کی زینت بنی ملتی ہیں۔
مثالیں دینے کا مطلب یہ ہے کہ ایسی اشاعتیں معیاری کتب کو مات دینے کا سبب بنتی ہیں کیونکہ ان تصانیف میں شاید ہی کوئی کام کی بات ملتی ہے۔ معیاری کتاب کے توسط سے عوام کی علمی سطح جتنی بلند ہوگی ذہنی استعداد کار اتنی ہی وسیع ہوگی۔ لیکن کتاب لکھنے کا مقصد اگر محض ذاتی تشہیر ہو تو ایسی کتاب اپنی اہمیت کے ساتھ ساتھ تخلیقی قوت کو ابھارنے کی صلاحیت بھی کھو دیتی ہے اور دونوں اطراف کے پیسے اور وقت کے ضیاع کا سبب بھی بنتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کتاب کا معیار اور مقام اسے لوٹایا جائے تاکہ وہ صحیح معنوں میں علم بڑھانے کا ذریعہ بن سکیں، نہ کہ ان سے اپنی جعلی شناخت بنانے کے کا کام لیا جائے۔ یہ اقدام کتاب کے کھوئے ہوئے وقار کی بحالی اور کتاب کلچر کے تحفظ کیلئے بہت ضروری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *