علامہ اقبال اور قائد اعظم کا موازنہ

نظر انداز کر دیے جناح

کافی عرصے تک میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی زندگی  کے بارے میں لکھے گئے لٹریچر اور مضامین جن کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکستان کیا ہے اور اسے کیا ہونا چاہیے پر تحقیق کرتا رہا ہوں۔

یہ   ساری مشق ایک ایسے شخص کے امیج کی بہتری کی کہانی ہے جس نے زندگی  کے ہر مشکل کے شکست دے کر پاکستان کو دنیا کے نقشے پر لانے کا فریضۃ سر انجام دیا اور  پاکستان بننے کے تقریبا ایک سال بعد ہی دنیا سے رخصت ہو گیا ۔

اس موضوع پر میری تحقیق سے مختلف طرح کے جناح  سامنے آئے  ہیں۔ ہر جناح اپنے وقت اور جس دور میں اس کے بارے میں کتاب ، مضامین اور تقاریر لکھی گئی  تب کے حالات کے لحاظ سے ایک منفرد  شخصیت ہے۔ لیکن سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ 1947 میں پاکستان کی تخلیق اور 1950 کی دہائی کے اختتام تک ان کے بارے میں زیادہ نہیں لکھا گیا۔

1950 کی دہائی پاکستان کی تاریخ کا خاموش دور تھا۔ پاکستان کی بانی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ ملک کے پہلی حکومتی جماعت کے طور پر   ملک میں مختلف تنازعات کا سامنا کرتی رہی اور بہت سی معاشی، نسلی، مذہبی چیلنجز سے نمٹنے میں ناکام رہی جو اس وقت نمودار ہوئے جب انڈیا کی اقلیت پاکستان میں اکثریت کے طور پر نمودار ہوئی۔

میری تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ ایک دانشورانہ سطح پر اس معاملے میں مسائل ایسے تھے جن کو جناح کے اقوال اور شخصیت کے اجاگر کردہ اصولوں کے ذریعے حل نہیں کیا جا سکتا تھا۔ اس کے بجائے حکومت اور ریاست نے زیادہ انحصار شاعر اور فلاسفر علامہ محمد اقبال کے کاموں پر کیا۔ مثال کےطور پر 1953 میں جب پنجاب میں احمدیہ مخالف دنگے کنٹرول سے باہر ہونے لگے تو حکومت کی طرف سے دیر سے لیکن سخت رد عمل  سامنے آیا۔ اس کی وجہ سے صوبے میں مارشل لا کا نفاذ ہوا جس نے آخر کار دنگوں کو کچل دیا۔

پھر ان لوگوں کو زیر کرنے کے لیے جو دنگوں کے ذمہ دار تھے، حکومت نے ایک پمفلٹ شائع کیا جس کی تصنیف محترم اسلامی سکالر ڈاکٹر خلیفہ عبدالحکیم نے کی تھی۔ اقبال اور ملا کے عنوان سے اس پمفلٹ میں اقبال کی طرف سے  علما پر تنقید کا حوالہ دیا گیا تھا۔

1956 میں، جب دوسری باالواسطہ انتخابات سے بننے والی اسمبلی نے ملک کا پہلا آئین  منظور کیا تو آئین کے بہت سے مصنفین نے اقبال کے روحانی جمہوریت کے نظریات کا حوالہ دیتے ہوئے دنیا اور مذہب کے درمیان ممکنہ توازن کی وضاحت کی۔

تب بھی جناح کا کوئی خاص ذکر سننے میں نہیں آیا ۔ اس کے علاوہ جناح کی بہن، جنہوں نے اپنے بھائی پر ایک کتاب کی تصنیف کی تھی، کا ذکر حکومت نے اس کی اشاعت کے وقت کیا تھا۔ 1954 میں حکومت نے برطانوی مصنف ہیکٹر بولیتھو کو اختیار دیا کہ جناح کی بائیو گرافی تحریر کریں۔ لیکن بولیٹھو کو رائے شماری پر مبنی اور ٹکڑوں ٹکڑوں میں جناح کی 11 اگست 1947 کی تقریر ملی جس میں انہوں نے پاکستان کی بطور جدید اور کثیر الثقافت ملک کی وضاحت کی تھی  اور کہا تھا کہ ریاست شہری کے مذہب سے لا تعلق رہے گی۔

 ایسا لگتا تھا کہ ریاست اور حکومت پاکستان  1950 کی دہائی میں جناح کے نظریات سے کوئی فائدہ نہیں اٹھا سکتی تھی ، خاص طور پر ایک ایسے دور میں جب ملک  کو بہت سے سیاسی اور معاشی مسائل کا سامنا تھا۔ شاید جناح کے نظریات اس طرح کی ریاست  اور اس کے نظریات سے بلکل مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

تخلیقی صلاحیت کے حامل جناح

لیکن 1958 میں ایوب خان کے آنے کے بعد  یہ رویہ اچانک کافی حد تک بدل گیا۔ وہ پہلے پاکستانی حکمران بنے جنہوں نے عوامی ریلیوں میں جناح کی تصاویر اپنے ساتھ رکھنا معمول بنا لیا تھا۔ پاکستان کو جدید بنانے کے ان کے مقصد میں انہوں نے لگاتار جناح کو بطور ترقی پسند مسلمان کے طور پر پیش کیا۔ اپریل 1962 میں ان کی حکومت نے جناح کی تقریروں پر مبنی ایک بڑی کتاب شائع کی۔ اس میں جناح کے وہ اقوال بھی تھے جنہیں  بولیٹھو کی لکھی جناح کی بایو گرافی سے سینسر کر دیا گیا تھا۔

ایوب نے جناح کو ان بندشوں سے نکال دیا جن میں انہیں 1950 میں رکھا گیا تھا۔ ایوب حکومت نے بانی کو اس شخص کے طور پر پیش کیا جو ایک ایسی  جدید مسلم ریاست کے خواہاں تھے جس کی مضبوط معیشت ہو اور ملک کی فلاسفی اور نظریاتی حدود کا دفاع کرنے پر آمادہ ایک طاقتور فوج ہو۔

بہت سی کتابوں میں جناح کے امیج کو ایک بار پھر اہمیت ملنا شروع ہوئی جن میں 1965 کی آئی ایچ قریشی کی تصنیف "پاکستان کے لیے جدوجہد "، 1966 کی مضامین پر مشتمل "قائد اعظم اور ان کے ہم  منصب"، اور 1969 کی وزیر اطلاعات کی طرف سے شائع کی گئی "جناح: بانی پاکستان" شامل تھیں۔

دائیں بازو  سے تعلق رکھنے والے ایوب خان کےمخالفین نے اس  امیج کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے تجویز دی کہ چونکہ جناح ایک مضبوط نظریہ قائم نہ کر سکے (پاکستان کی تخلیق کے فورا بعد وفات پا جانے کی وجہ سے)، علما کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی نظریاتی سمت کا تعین کرنے کے لیے سامنے آئیں کیوں کہ ملک اسلام کے نام پر معرض وجود میں آیا۔ ایوب نے اس کا جواب یہ دعویٰ کرتے ہوئے دیا کہ یہ ناممکن ہے کیوں کہ زیادہ تر علما جناح کے خلاف تھے اور یہ کہ بانی نے ایک  مذہبی  ریاست کی خواہش نہیں کی تھی۔

پاپولسٹ جناح

لیکن یہ تصور بدلنا شروع ہو گیا جب ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی پاکستان میں  1971 میں اقتدار میں آئی۔ سوشلسٹ ریفارمز کے وعدہ کے ساتھ اقتدار میں آنے والی اس جماعت  کے رویہ سے جناح کا امیج ایک بار پھر بدل گیا  جس کا  اندازہ 1973  کی بورڈ آف انڈسٹریل  مینیجمنٹ  کی ایک پریس ایڈورٹائزمنٹ  سے لگایا جا سکتا ہے۔ اس میں جناح کی تصویر کو 1945 کے ایک قول کے ساتھ نمایاں کیا گیا تھا جس میں اہم صنعتوں کو قومیانے پر زور دیا گیا تھا۔

چونکہ 1970 کی دہائی کے وسط میں بھٹو نے خود کو بائیں بازو کی لبرلزم ، نیشنلازم اور سیاسی اسلام کے درمیان کھڑا کرنا شروع کر دیا تھا،  اس لیے سوشلسٹ جناح  کا امیج ایک بار پھر منظرسے غائب ہو گیا اور کرسمیٹک اور نیشنلسٹ  امیج  میں بدل گیا۔

1976 میں، بھٹو حکومت نے قائد اعظم اکیڈمی قائم کی۔ جناح پر لٹریچر کا ایک وسیع خزانہ سامنے آیا۔ صرف 1976 میں جناح پر 12 کتابیں شائع ہوئیں، جن میں سے زیادہ تر انہیں کرسمیٹک اور پاپولسٹ نیشنلسٹ کے طور پر پیش کر رہی تھیں، جو ایک مضبوط جمہوری ملک کی تعمیر کرنا چاہتے تھے، ایک ایسا تصور جو بھٹو خود کے لیے لاگو کرنا چاہتے تھے۔

1976 میں ہی شریف المجاہد کی Ideological Orientation of Pakistan منظر پر آئی۔ یہ اس دور میں شائع ہوئی تھی جس میں بھٹو حکومت دائین بازو کی طرف جھک چکی تھی، اس کتاب نے جناح کو ایک ایسی شخصیت کے طور پر پیش کیا جس کا مقصد اقبال کے تصور کے مطابق ایک الگ مسلم ریاست کا قیام تھا۔

اسلامی جناح

جناح کا تصور ایک بار پھر تبدیل ہو رہا تھا۔ 1977 میں جنرل ضیا الحق کی فوجی حکومت کے بھٹو حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد نئی حکومت نے جناح کی ایک ڈائری دریافت ہونے کا اعلان کیا۔ ضیا نے دعویٰ کیا کہ اس ڈائری میں جناح نے جمہوریت کی مخالفت کی اور وہ ایک مضبوط آرمی کے ساتھ ایک اسلامی ریاست کے خواہاں تھے۔

جناح کے ہم  عصر  لوگوں نے اس دعوے کی تردید کر دی اور حکومت اس معاملے پر خاموش ہو گئی۔ جناح کے کسی قول کے ذریعے اس کی صفائی پیش کرنے میں ناکام ضیاء حکومت نے ریاستی میڈیا کو مشورہ دیا کہ وہ بانی کے صرف ان اقوال کو استعمال کریں جن میں انہوں نے اسلام کے بارے میں بات کی ہو۔

1980 کی دہائی میں جناح پر کچھ  آزادانہ    طور پر لکھی گئی تحاریر بھی سامنے آئیں۔ اس نے سختی سے ضیاء کے جناح کے تصور کی تردید کی۔ سٹینلے والپرٹ کی Jinnah of Pakistan (1982)، اور عائشہ جلال کی The Sole Spokesman (1985) نے اپنے طور پر ضیاء کے جناح کے تصور کو بالکل بدل دیا جس میں بانی کو ایک ماڈرن اور روحانی شخصیت کے طور پر پیش کیا گیا تھا جسے ایوب حکومت نے پروموٹ کیا تھا ۔

رد عمل کے طور پر ضیاء حکومت نے اقبال کی اسلام پر مبنی تحریروں کو سامنے لا کھڑا کیا۔ یہ مضحکہ خیز تھا کیوں کہ 1950 کی دہائی میں ریاست نے اقبال کی تحریروں کو فنڈامنٹلسٹس کے خاتمے کے لیے استعمال کیا تھا۔ لیکن 1980 کی دہائی میں ریاست کی طرف سے اقبال کو جناح کے  متبادل تصور کے طور پر پیش کیا جانے لگا جس کا ظہور خود مختار سکالر شپ سے ہوا۔

اقبال کو 1950 کی دہائی میں مذہبی ریڈیکلزم کے خلاف استعمال کیا جا رہا تھا، 1980 کی دہائی میں انہیں ضیاء کے پاکستان اور جناح پر نظریات کی مخالفت کے طور پر استعمال کیا جانے لگا۔ یہ صرف اقبال کے فلسفہ اور شاعری کے بڑے کام سے صرف کچھ دانے اٹھانے جیسا تھا۔

تب سے ابھی تک کچھ تبدیل نہیں ہوا۔ اگر کوئی ریاض احمد کی کتاب Iqbal’s letters to Quaid-i-Azam (1976) پڑھے، تو معلوم ہوتا ہے کہ دونوں شخصیات مختلف موضوعات پر ایک ہی نظریے کی حامل تھیں۔ لیکن اقبال پاکستان کی تخلیق سے ایک عشرہ قبل ہی دنیا سے رخصت ہو گئے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ 1970 کی دہائی سے نظریہ دان، سیاست دان، اور آمروں نے جمہوریت، ایمان، ریاست اور سیاست  سے متعلق دونوں کو مخالف سمت میں رکھا ہوا ہے۔ اصل میں اقبال اور جناح کے جو نظریات تھے ان سے ہم ہمیشہ سے دور رہے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *