جنگ کے دھانے سے واپسی

پاکستانی قیادت کی طرف سے حالیہ بحران کا بڑی مہارت سے حل کرنا ہندوستان کے ساتھ کشیدگی کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوا ہو گا۔  لیکن ابھی خطرہ ٹلا نہیں ہے ۔ پاکستان کو اب بھی بڑے چیلنجز کا سامنا ہے اگر چہ اس نے ہندوستان کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر گنیں آگ اگل رہی ہیں، صورت حال مسلسل غیر مستحکم ہے اور صرف ایک چھوٹا سا واقعہ دوبارہ سے  صورتحال کو قابو سے باہر کر سکتا ہے۔

پاکستان نے وزیر اعظم نریندرا مودی کی روایتی جنگ سے دھونس جمانے کی کوشش کو شاندار طریقے سے ناکام بنا یا ہے۔ بالاکوٹ پر بھارتی حملے کے جواب میں پاکستان نے بھارتی طیارے مار گراے ہیں  اور ایل او سی کے پار بھارتی فوج کے  ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔ اس طرح پاکستان نے بھارت کے  بادشاہ بننے کے خواب کو پوری قوت سے چیلنج کیا ہے۔

تنازعہ کے قابو سے باہر ہونے کے خطرات کا احساس اور ایٹمی جنگ سے بچنے کے احساس نے لگتا ہے کہ دونوں اطراف کو  کشیدگی ختم کرنے پر آمادہ کیا ہے ۔ایک طرف بھارتی جارحیت کا جواب دے کر پاکستان نے بہادری کا مظاہر کیا تو دوسری طرف معاملے کو آگے بڑھنے سے روک کر  عقلمندی کا ثبوت دیا ہے۔  مودی کی  چالوں کا جواب پاکستان نے ایک نپے تلے طریقے سے دیا ہے۔ لیکن انڈیا کا جنگی جنون ابھی تک تھمتا دکھائی نہیں دے رہا ہے۔  جنگ کے بادل بھلے ہی چھٹ چکے ہوں لیکن وہ مکمل طور پر دور نہیں ہوئے۔

فوجی مقابلہ بازی کی وجہ سے کشیدگی کی بنیادی وجوہات سامنے آ گئی ہیں جو ان دو ایٹمی طاقتوں کو  ہمیشہ ایک دوسرے کے خلاف برسر پیکار  رہتی ہیں۔ یہ وجوہات ہیں کشمیر کا مسئلہ اور مسلح بغاوت۔ دونوں مسئلے آپس میں جڑے ہیں اور الگ نہیں کیے جا سکتے۔  ہندوستانی فوجی قافلے پر پلوامہ حملہ جس کا جیش محمد نے دعوی کیا ہے، نے مودی حکومت کو ایک بہانہ دیا ہے کہ وہ پاکستانی سر زمین پر جیش محمد کے  خلاف کاروائی کرے۔

یہ   حیرانی کی بات نہیں ہے کہ  بھارت نے پاکستانی سرحدوں کی خلاف ورزی کو دہشت گردی کے خلاف ایکشن قرار دیا نہ کے پاکستانی فوج کے خلاف اقدام قرار دیا اور اس پر دنیا کی طرف سے کوئی مذمت دیکھنے کو نہیں ملی۔ یہ حقیقت کہ اس حملے کا  ذمہ ایک ایسی تنظیم نے لیا ہے جو پاکستان کے علاقے سے  آپریٹ کرتی ہے  نے پاکستان کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے۔

لیکن مودی  کی حماقتوں  پر مبنی فوجی ایڈونچر نے مقبوضہ علاقے کے کشمیری لوگوں کی اپیل کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کر دی ہے۔ ارندھتی رائے، انڈیا کی ایک معروف رائٹر کے الفاظ میں، "پاکستان کو جوابی حملے پر مجبور کرتے ہوئے،  اور دو ایٹمی قوتوں کو جنگ کے دھانے پر لا کر مودی نے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی  سطح پر اجاگر کر دیا ہے"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "انہوں نے دنیا پر ظاہر کیا ہے کہ کشمیر کرہ زمین پر سب سے خطرناک جگہ ہے، اور ایٹمی جنگ کے لیے ایک فلیش پوائنٹ ہے۔"

یہ حیرانی کی بات نہیں ہے کہ کشمیر میں  انسانی حقوق کی بڑھتی ہوئی  خلاف ورزیوں اور بھارت کی طرف سے کشمیریوں کی جدو جہد آزادی کی تحریک کو طاقت سے کچلنے کی  پالیسی نے مغربی میڈیا کی توجہ حاصل کر لی ہے  جو کہ پچھلے چند سالوں میں بلکل ختم ہونے کے قریب تھی۔

متنازعہ علاقے میں صورتحال ماضی کے مقابلے میں بد تر ہے۔ وہ زیادہ تر گھرمیں پلے بڑھے مجاہد ہیں جو اب مقبوضہ کشمیر میں بغاوت کا علم لیے چل رہے ہیں ۔ خود کش بمبار جس نے مقبوضہ وادی میں اپنی بارودی کار کو قافلے میں اڑا دیا ایک نوجوان کشمیری تھا جس نے بھارتی فوجوں کی طرف سے ٹانگ پر گولی مارے جانے کے بعد ہاتھ کھڑے کر دیے تھے۔

انڈیا حکومت جس چیز کو ماننے سے انکار کرتی ہے یہ ہے کہ یہ بیرونی چیلنج کے بجائے انڈیا کا ذاتی مسئلہ ہے، اور انڈیا کو ہی اس سے نمٹنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ کشمیر کو انڈیا اور پاکستان کے مابین ایک علاقائی تنازعے کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے، بلکہ اسے لوگوں کی خود ارادیت کے حق کے لیے ایک جدوجہد کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔

عمران خان نے بین الاقوامی سطح اور اپنے وطن کی طرف سے اپنی  امن پسندی پر داد حاصل کی ہے جس نے پاکستان اور انڈیا کے درمیان بے انتہا کشیدگی کو ٹھنڈا کر دیا۔ لیکن اب شاید جہادی سیاست جو پاکستان کی اپنی سالمیت کو بڑے خطرے سے دوچار کرتی ہے اور جو ملک کو بین الاقوامی سطح پر تنہا کرنے کے لیے ایک  خطرہ ہے کے ترکے کو ختم کرنے کے لیے  زیادہ سنجیدہ کوشش کرنا ہوگی۔ اب وقت ہے کہ اپنے گھر کو درست کیا جائے۔

پاکستان پر انڈیا کے ساتھ حالیہ سٹینڈ آف کے بعد ایک نیا بین الاقوامی دباؤ ہے کہ وہ ملک میں موجود جہادی انفراسٹرکچر کو مکمل طور پر ختم کر دے۔ حکومت نے حلف اٹھایا ہے وہ یو این سیکیورٹی کونسل کے حکم کو بجا لائے گا جس کے مطابق پاکستان کو ان افراد اور تنظیموں کے خلاف کاروائی کرنی ہے جنہیں بطور دہشت گرد بلیک لسٹ کیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق بہت سی کالعدم تنظیموں پر کریک ڈاون شروع ہو چکا ہے  جو مختلف فلاحی تنظیموں کے نام سے کام کر رہی ہیں۔ گرفتار ہونے والوں میں جیش محمد کے سربراہ مسعود اظہر کے بھائی اور بیٹا  بھی شامل ہیں  جن پر ایل او سی کے قریب حملے  کا الزام لگایا گیا ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ انڈیا کے  الزامات کی تصدیق کر نا قبل از وقت ہو گا کہ جیش محمد پلوامہ حملے میں ملوث تھی، لیکن پاکستان کو ایک بار پھر نشانے پر رکھ دیا گیا ہے۔ ہماری ملکی سالمیت کی خاطر کسی بھی عسکریت پسند گروہ جس پر سرحدوں پر حملوں کے لیے پاکستانی سرزمین کے استعمال کا الزام دیا جاتا ہے کے خلاف سخت کاروائی مطلوب ہے۔ تازہ ترین کاروائی عین اس وقت پر عمل میں آئی ہے جب پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ میں ہے اور بلیک لسٹ میں آنے سے بچنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اب یہ عسکریت پسندی اور مذہبی جارحیت کے خلاف صفر برداشت کی پالیسی پر غور کر رہی ہے۔

یہ سننے میں اچھا ہے۔ لیکن ایسے واقعات جن کی وجہ سے پاکستان بین الاقوامی دباؤ کا شکار ہوا کے بعد کیا یہ  رد عمل ہم نے پہلے کبھی نہین دیکھا ؟ اپنی سر زمین کو کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے پر ہمیں کاربند ہونا ہو گا ورنہ ہم عالمی سطح پر اپنا اعتبار کھو دیں گے۔

 ساتھ ہی ایسے گروہوں  پر ہماری ریاست کے کنٹرول  کس حد تک ہے اس بارے میں سوال اٹھائے گئے ہیں ، اور اکثر پوچھا جاتا ہے کہ غیر ریاستی عناصر جو ریاست کے لیے ایک بڑا چیلنج ہیں کو ختم کرنے میں حکام نے کس حد تک مؤثر اقدامات کیے ہیں۔ پلوامہ حملے میں اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ کاروائی کرے اور نتیجہ اخذ کرے۔

عین اسی وقت پر، ماضی کے برعکس اس مرتبہ سول اور فوجی قیادت  نے  انکار کارویہ اختیار نہیں کیا اور مسئلے  سے  نمٹنے کے لیے انہوں نے کافی سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کیا ہے۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *