بدلتے معیار

انسانی زندگی کا دارومدار صرف ایک انسان کی بقا پہ منحصر نہیں بلکہ اس کے ارد گرد کے ماحول اور تعلقات پہ بھی اثرانداز ہوتا ہے اور ہم سب ایک باریک سی لائن پہ چلنے والی چیونٹی کی طرح اپنے آپ سے ہٹنے کے قائل نہیں، اگر اس چیونٹی کی راہ میں رکاوٹ آ جائے تو وہ اس رکاوٹ کو عبور کرنے کی بجائے راستہ بدل لیتی ہے اور ہم سب بھی بالکل اسی طرح ہیں اگر کسی رشتے یا تعلق میں کوئی غلط فہمی کی رکاوٹ آ جائے تو ہم اس رکاوٹ کو ختم کرنے کی بجائے تعلق اور رشتہ ہی بدل لیتے ہیں اور پھر ہم اشرف المخلوقات بھی کہلاتے ہیں
ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں ہمارے معیار پہ پرکھا جائے سب کچھ ویسا ہو جیسا ہم چاہتے ہوں ہمیں کسی امتحان میں ڈالے بنا کامیابی نصیب ہو جائے اور ہم اس دنیا کے پل صراط کو بصورتِ دشت لے کر آزادانہ چنچل گھوڑے کی طرح ہر حد عبور کرتے ہوئے ایک سمت سے دوسری سمت دوڑتے چلے جائیں اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو دوسری طرف باقی تمام لوگ ان سب قوانین کی پاسداری کریں جو معاشرے کی بھلائی کے لیے ہیں تاکہ معاشرہ بھی درست سمت میں چلتا رہے اور یہ مسئلہ ّصرف میرے یا آپ کے ساتھ نہیں بلکہ ہم میں سے تقریبا 99 فیصد لوگوں کے ساتھ ہے ہم اپنی آزادی کے ساتھ ساتھ معاشرے کے قوانین کی مکمل پاسداری بھی چاہتے ہیں
دنیا ایک حسین وادی کی طرح تھی لیکن اس میں موجود انسانی مخلوق نے اسے اپنی مرضی کے ٹکڑوں میں بانٹا اپنی مرضی کے شہر بسائے اپنی مرضی کی درجہ بندیاں کیں اور اپنی مرضی کو قدرت پہ بھی مسلط کرنے کی کوشش کی لیکن یہ بھول گئے کہ قدرت ہر لمحہ بدلتے رہنے کا نام ہے اور وہ انسانی سوچ اور فکر سے ماوراء شے ہے ہم نے اپنے بھلے اور آسانی کے لیے جتنی بھی ایجادات کی ہوں وہ اب تک اس قدر موزوں ثابت نہیں ہوئی کہ ہم اپنے آپ کو قدرت سے الگ کر لیں اور ہم اب تک انسانی نفرت کو دور کرنے والی کسی قسم کی ایجاد سے محروم ہیں جبکہ انسانی جسم فنا ہونے کے قریب ہے
ایک ہی شہر میں بستے ہوئے ایک دوسرے سے انجان لوگ جب پاس سے گزرتے ہیں تو ایک دوسرے سے نظریں چراتے ہوئے یہ سوچتے ہیں کہ مجھے اس سے کیا غرض میں اس سے بات کیوں کروں، بس میں ساتھ بیٹھے ہوئے مسافر کو کن اکھیوں سے دیکھ کر بے زاری کا اظہار کرتے ہوئے اور ناک بسوڑتے ہوئے ونڈو گلاس سے باہر کے ماحول پر ویران نگاہیں ڈالتے ہوئے وہ خود کو منفرد نہیں بلکہ خود کو تنہا کر رہے ہوتے ہیں اور اسی تنہائی کا شکار یہ پورا معاشرہ ہو چکا ہے اور اس تنہائی نے تمام انسانی ہمدردی اخلاقیات اور نرم دلی جیسے رویوں کو زیر کر کے انسانی اقدار کو ناپید کر دیا ہے اور ہم اس غرور میں مست ہیں کہ ہم دنیا کو فتح کیے جا رہے ہیں
ہم ایک لمحے میں رہتے ہوئے مختلف اوقات کے حامی لوگ ہیں ہم جیتے ہوئے مرتے بھی ہیں بولتے ہوئے خاموش بھی رہتے ہیں اور جاگتے ہوئے سوئے بھی رہتے ہیں ہم اپنے آپ میں دفن لوگ صرف اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھ سکتے ہم اس معاشرے میں رہتے ہوئے اس معاشرے کی جڑیں کاٹنے والے لوگ صرف اپنا سوچ سکتے ہیں ہماری نظر میں ہم ہی معتبر اور حق پر ہیں، ہمارے علاوہ دنیا کے تمام لوگ غلط بھی ہیں اور بے کار بھی
ہمارا یہ منافقانہ رویہ صرف انسانی فطرت کا عکاس نہیں بلکہ یہ ہمارے رویوں اور ہماری روز مرہ زندگی کا واقعاتی پہلو ہے، ہم سوچتے ہیں کہ ہم جو کریں وہ درست ہم جو چاہیں وہ ہمارا حق ہم جو سوچیں وہی دنیا کے لیے بے حد ضروری اور جو ہم پہ اعتراض کرے وہ نا سمجھ ذہنی اپاہج اور غدار دوسروں کی خامیاں ڈھونڈنے اور اپنے آپ کو دیوتا ثابت کرنے کی کوشش ہم سب اس لیے کرتے ہیں کہ ہم لوگ اپنے علاوہ کسی کو نہ خوش دیکھ سکتے ہیں نہ مطمئن اور یہ ہمارے اندر احساسِ کمتری یا برتری ہی ہے، احساسِ برتری بھی ایک حوالے سے احساس ِ کمتری ہی ہے اور ہم اس احساس کے مارے لوگ ہمیشہ سے خود غرضی اور خود پسندی کی دلدل میں دھنسے چلے جا رہے ہیں
ایک وقت میں ایک ہی تصویر کے دو مختلف زاویے دو مختلف آراء کو جنم دیتے ہیں اور دونوں زاویے ایک ہی جگہ پر بیٹھ کر نہیں دیکھے جا سکتے ہماری نظر میں کسی کی غلطی لازمی نہیں کہ واقعی غلط ہو وہ کسی اور حوالے سے درست بھی ہو سکتی ہے، کسی کی خامی ہماری نظر میں خامی ہو اور وہ کسی اور کی نظر میں خوبی یا طاقت بھی ہو سکتی ہے، صرف اپنے انداز سے سوچنا اور اپنی سوچ اور فکر کو دوسروں پر تھوپتے ہوئے صرف اپنی مرضی اور پسند کا فیصلہ کرنے سے ہی یہ صورت حال پیدا ہوتی ہے کہ ہم دوسروں کی ہر چھوٹی سے چھوٹی خامی یا کمزوری کو بہت بڑا قصور بنا کر پیش کرتے ہیں اور اپنی غلطی کو کوتاہی کا روپ دے کر معافی کے طلب گار نظر آتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم دوسروں کو معاف کرنے پہ آمادہ نہیں ہوتے لیکن اپنے لیے رعایت مانگتے ہیں
نیند میں جاگتے رہنے کی عادت اور چلتے ہوئے اپنے رستے سے ناواقفیت کا گمان ہمیں ایسی منزل کی طرف لے کر جا رہا ہے جہاں ہمارے سامنے صرف شیشے کی دیوار ہو گی اور ہم اپنے سوا کسی کو نہیں دیکھ سکیں گے تب ہمیں خیال آئے گا کہ ہم نے کیا غلط کیا اور کیا درست ہم نے کیوں ایک ایک کر کے اپنے ہمسفر گنوائے کیوں اپنے ساتھیوں کی چھوٹی سے چھوٹی غلطی پر ان سے کنارہ کشی کی کیوں اپنے آپ کو مکمل اور بہترین سمجھا کیوں اپنے اردگرد کے لوگوں سے نفرت اور بے زاری کا اظہار کیا کیوں تنہائی کو اختیار کیا اور کیوں اپنے آپ کو اپنے اندر ہی قید کیا یہ ایسا وقت ہو گا جب انسان اپنے جیسے انسان کو دیکھنے کے لیے ترسے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ اُسے کوئی تو نظر آئے جو چاہے کیسا بھی ہو کتنا ہی برا ہو کتنا ہی بے کار ہو پر ساتھ چلنے والا تو ہو لیکن اس وقت تک بہت دیر ہو چکی ہو گی اور سب اپنے اپنے تنہا راستوں پہ چلتے ہوئے ایسی منزل تک پہنچ چکے ہوں گے جہاں ان کے سامنے شیشے کی دیوار ہو گی اور انہیں اپنے سوا کچھ نظر نہیں آئے گا
اور میں اُس وقت سے بے حد خوف زدہ ہوں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *