ثاقب نثار اور پی۔کے۔ایل۔آئی، اصل جھگڑا بھائی نے پیدا کیا؟

پچھلے ہفتے سپریم کورٹ نے خاموشی سے سابق چیف جسٹس پاکستان کے ابتدائی سو موٹوز  میں سے ایک اہم معاملے کو نمٹا دیاجس میں پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ کا معاملہ بھی شامل ہے، یہ معاملہ 2018 کے پورے سال میں سابق چیف جسٹس پاکستان کی ریٹائمرمنٹ تک بار بار سر اٹھاتا رہا۔ مہینوں تک سابق چیف جسٹس پاکستان نے پی کے ایل آئی سے  متعلقہ ہر شخص  کی تحقیر کرتے ہوئے یہ باور کروایا کہ پی کے ایل آئی کا قیام ایک گناہ سے کم نہیں تھا  اور اس کے صدر ڈاکٹر سعید نے کتنا برا کام کیا ہے۔ اس وقت یہ معاملہ کیس کی کاروائی کے دوران اور اس کے بعد میڈیا میں اچھالا جاتا رہا۔

یہ سب مارچ 2018 میں شروع ہوا جب چیف جسٹس پاکستان نثار اپنے لیے ایسا ترکہ چھوڑنے کے خواہش مند تھے  جس کی وجہ سے مستقبل میں انہیں یاد رکھا جائے۔ انہوں نے صحت کے نظام میں بہتری کے لیے ہسپتالوں کے دورے شروع کر دیے تھے (اور بعد میں تعلیمی اداروں اور پانی  کی سہولیات کا بھی معائنہ کرنے لگے۔)۔ 24 مارچ 2018 کی ایک کاروائی کے دوران انہوں نے سرکاری ہسپتالوں کی نسبت پی کے ایل آئی کے  ڈاکٹروں کو ادا کی جانے والی تنخواہ کے متعلق از خود نوٹس لیا۔ یہ ابتدائی دن تھے جب اعلی عدالت 24 گھنٹے کام کر کے مثال قائم کرنے کی خواہش مند تھی ۔ لاہور میں گزرنے والے ویک اینڈ از خود نوٹس کے  دن ہوتے تھے ۔

ڈاکٹر سعید کو امریکہ میں بڑی پہچان حاصل تھی جہاں وہ ٹیکساس ٹیک ہیلتھ سائنسز سینٹر میں یورولوجی کے ڈیپارٹمنٹ کے چیئرمین کے طور پر اپنی خدمات سر انجام دے چکے تھے اور چاہتے تھے کہ اب وہ وطن واپس آ کر  اپنے وطن کی محبت کا قرض ادا کریں۔  وہ کہتے ہیں کہ شفا انٹرنیشنل میں بطور ٹرانسپلانٹ سرجری ڈائریکٹر انہیں معلوم ہوا کہ  انسانی خدمت کے جذبے سے بہت کم لوگوں کو سہولت فراہم کی جا سکتی ہے اور بہت سے لوگوں کو جو مہنگی سرجری اور ادویات  کی وجہ سے علاج نہیں کروا سکتے خالی ہاتھ لوٹا دینا بہت تکلیف دہ امر ہے۔

ڈاکٹر اختر کے مطابق اس کا حل عوامی سطح پر سٹیٹ آف دی آرٹ ادارے کا قیام تھا  جس میں صاحب استطاعت لوگ پیسے دے کر علاج کروائیں اور غریب لوگوں کو ریاست کی طرف سے مالی مدد فراہم کی جائے۔ شوکت خانم  کے علاوہ  کسی ایسے پرائیویٹ ادارے کا قیام اور انتظام  چندہ کی رقوم سے بہت مشکل ہے جہاں عوام سے ان کی اہلیت کے مطابق فیس وصول کر کے علاج کی سہولت دی جا سکے۔  سرکاری ہسپتالوں میں جو ورک ایتھک، پے سٹرکچر اور پروفیشنل احتساب  کی کمی کی وجہ سے اس طرح کے ٹیلنٹ کے حصول کو یقینی نہیں بنا سکتے جو مختلف سہولیات رکھنے والے ادارے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔

اس طرح ڈاکٹر اختر سعید نے ہر  سننے اور سمجھنے کی صلاحیت رکھنے والے  کو تجویز دی  کہ اس ملک میں ایک ہائی برڈ ماڈل کی شدید ضرورت ہے یعنی ایسے پبلک سیکٹر ادارے کا قیام جہاں فنڈنگ ریاست کی طرف سے ہو  لیکن انتظامیہ اوربیوروکریسی کی طرف سے  کام میں کسی قسم کی مداخلت نہ ہو تا کہ کام کی اخلاقیات، احتساب اور ترغیب کا ڈھانچہ نجی سہولیات کے مشابہ ہو جائے۔ یہ نظریہ آخر کار شہباز شریف کی توجہ کا مرکز بنا جس کی وجہ ان  کا نیو یارک میں ایسے ہی ایک ادارے سے علاج کروانا تھا ۔ انہیں ڈاکٹر اختر کی تجویز سمجھ آ گئی اور اس طرح پی کے ایل آئی کیا قیام عمل میں آیا۔

پنجاب اسمبلی نے پاکستان کڈنی اینڈ لیور انسٹی ٹیوٹ اینڈ ریسرچ سینٹر ایکٹ 2014 کا اعلان کیا۔ اس قانون کے تحت پی کے ایل آئی کو سی ایم کی  سربراہی میں قائم بورڈ نے ایک این جی او کے طور پر چلانا تھا جو صحت کے سیکرٹریوں اور نجی ٹرسٹ کے نامزد کردہ 11 ارکان پر مشتمل ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صوبائی حکومت بجٹ کی امداد کے ذریعے اس کا کنٹرول سنبھالے گی اور پرائیویٹ ممبران کا بورڈ سی ایم اور متلعقہ سیکرٹریوں کی مداخلت کے بغیر اس کی مینیجمنٹ سنبھالے گا۔

بورڈ نے پوری دنیا سے بہترین پاکستانی ٹیلنٹ پر توجہ مرکوز کی اور انہیں مارکیٹ ْبیس تنخواہوں کی پیشکش کی (1 سے ڈیڑھ ملین روپے ماہر اور تجربہ کار ڈاکٹروں کے لیے) لیکن انہیں نجی کاروبار سے پابند کر دیا۔  ڈاکٹر اختر نے کسی طرح شفا کے ڈاکٹر فیصل ڈار (جو شفا میں پاکستان کی واحد لیور ٹرانسپلانٹ کے قیام کو عمل میں لانے والوں میں سے ہیں جس نے 2012 سے 700 سے زائد ٹرانسپلانٹ سرجریاں کی ہیں) جیسے سپر سٹارز کو شفا کے ساتھ ساتھ پی کے ایل آئی کو بھی ٹائم دینے پر آمادہ کر لیا۔ اختر اور ڈار جیسے ڈاکٹروں کی ساکھ نے کئی دوسرے ڈاکٹرز  کی توجہ حاصل کی جو بیرون ملک کام کر رہے تھے لیکن ان کے دل پاکستان میں تھے۔

ڈاکٹر سعید اختر کے مطابق 11 مارچ 2018 ایک بدقسمتی سے بھر پور دن تھا جو ڈاکٹر اختر اور پی کے ایل آئی کے لیے ایک سال کے عرصے کا عذاب لے کر آیا۔ ڈاکٹر اختر کہتے ہیں کہ وہ ایک  قریبی دوست کی وساطت سے چیف جسٹس پاکستان نثار سے ملے تھے اور سوچا تھا کہ سپریم کورٹ کو کڈنی اور لیور کی فروخت کے پر پابندی کے احکامات کو نافذ کر سکیں تا کہ ملک میں غیر قانونی ٹرانسپلانٹ  کے کیسز کوملک سے ختم کیا جا سکے جن کی وجہ سے صحت مند ڈونرز حضرات کی زندگیاں خطرے میں ڈالی جاتی ہیں ۔ سابق چیف جسٹس پاکستان غالبا ہیلتھ سیکٹر میں اپنے  انقلابی اقدامات کے لیے تجاویز لینے کے خواہشمند تھے۔   ڈاکٹر سعید اور ان کی اہلیہ ڈاکٹر معصومہ سعید کو شیخ امین (چیف جسٹس پاکستان نثار کے ہم جماعت اور پی کے ایل آئی کے بورڈ ممبر) اور ان کی اہلیہ کے ساتھ ان کے گھر مدعو کیا گیا۔

ڈاکٹر اختر کہتے ہیں کہ ایک خوشگوار میٹنگ کی حالت اچانک اس وقت بدلی جب چیف جسٹس نثار کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر ساجد نثارسروسز ہسپتال میں کام کرنے والے ایک پروفیسر (جو ابھی ابھی عمرے سے واپس آئے تھے)  وہاں آ گئے۔  ڈاکٹر اختر کے  مطابق پہنچتے  ہی ڈاکٹر ساجد نثار نے شکایت کی کہ  پی کے ایل آئی  پر اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہیں اور بیرون ملک سے آئے ڈاکٹرز کو بہت بڑی بڑی تنخواہیں دی جاتی ہیں جب کہ سرکاری ہسپتالوں میں پروفیسروں کو انتہائی کم تنخواہیں ملتی ہیں۔  (انہوں نےنجی کاروبار کرنے والے ڈاکٹروں کی اچھی بھلی آمدن کے بارے میں ذکر نہیں کیا  اور صرف سرکاری تنخواہوں کا ذکر کیا)۔

جیسے کہ ڈاکٹر اختر  بتاتے ہیں ، ایک سنجیدہ گفتگو اچانک تلخی میں بدل گئی۔ ڈاکٹر اختر نے پی کے ایل آئی ماڈل کے دفاع کی کوشش کی ، اس کی وجوہات بیان کیں اور پبلک سیکٹر ہیلتھ کئیر کی پروفیشنل ازم پر تنقید کی۔  وہ کہتے ہیں کہ چیف جسٹس پاکستان  ثاقب نثار انتہائی ناراض اور مشتعل ہو گئے۔ گھر بلائے مہمانوں  کی موجودگی میں انہوں نے اعلان کیا کہ وہ اس مسئلے کا از خود نوٹس لیں گے جس کی طرف  ان کے بھائی نے  توجہ دلائی تھی۔ ڈاکٹر اختر اور ان کی اہلیہ نے  صورتحال کو پرکھتے ہوئے رخصت ہونے کا فیصلہ کیا۔ لیکن مصیبت آ چکی تھی۔ ہفتوں کے اندر اندر لاہور رجسٹری میں سماعت کرتے ہوئے پی کے ایل آئی کے تمام اقدامات کے خلاف سو موٹو ایکشن لے لیا گیا۔

باقی جو ہوا سب جانتے ہیں ۔ ڈاکٹر سعید اور پی کے ایل آئی سپریم کورٹ اور میڈیا کی طرف سے  ٹرائل کا سامنا کرنے پر مجبور ہوئے۔ ٹرائل کے ذریعے انہیں ولن ثابت کیا گیا۔  سابق چیف جسٹس پاکستان نے پی کے ایل آئی  کا معائنہ کیا  اور سب کے سامنے کچھ ڈاکٹرز سے ان کی  تنخواہوں کے بارے میں بھی پوچھا۔ ڈاکٹر سعید کا نام ای سی ای میں ڈال دیا گیا۔ پی کے ایل آئی کے قانونی بورڈ کو ختم کر دیا گیا  اور اپنی مرضی کی نئی کمیٹی بنائی گئی۔چیف منسٹر کو پی کے ایل آئی بورڈ کا حصہ ہونے پر ڈانٹ پلائی ارو چیف سیکرٹری کو اتنی بڑی تنخواہیں دینے پر  سخت سرزنش کی گئی۔ پی کے ایل آئی کی مالیت کے آڈٹ کا حکم دیا گیا اور اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ نے پی کے ایل آئی کے معاملات میں جھانکنے میں گہری دلچسپی لی۔

لیکن پھر چیف جسٹس پاکستان اپنی منتخب کردہ کمیٹی اور نئی پی ٹی آئی حکومت پر پنجاب میں 2018 کے اختتام سے قبل پی کے ایل آئی میں پہلا لیور ٹرانسپلانٹ  مکمل نہ کر سکنے پر ناراض نظر آئے۔ کیا  چیف جسٹس یک محفوظ اور فنکشنل ملٹی ڈسپلنری ٹرانسپلانٹ یونٹ کی پیچیدگی کی سمجھ نہیں رکھتے تھے؟ کیا اس بات پر  حیران نہیں ہوئے کہ شفا نے ایک ایسا یونٹ بنا لیا لیکن پمز اور شیخ زید ہسپتال ایسے یونٹ نہ بنا سکے؟ کیا انہیں یقین تھا کہ  کورٹ نمبر  سے بے عزتی کے ڈر سے یا پھر کرپشن کی تحقیقات کے ڈر سے یا توہین عدالت  کی سزا کے ڈر سے کوئی معجزانہ طور پر اس طرح کی جدید ترین سہولت اتنی تیزی سے قائم کر لے گا؟

اس سال 28 فروری کو پی کے ایل آئی معاملہ جسٹس منظور ملک، منصور علی شاہ اور یحییٰ آفریدی پر مشتمل ایک بینچ کے ذمہ لگایا گیا۔ اڑھائی صفحوں کے حکم کے ذریعے عدالت نے ڈاکٹر اختر کا نام ای سی ایل پر رکھنے کے احکامات  واپس لیے ، پی کے ایل آئی کا چارج سنبھالنے والی سپریم کورٹ کی نامزد کمیٹی کو بحال کیا گیا جب کہ پی کے ایل آئی بورڈ کو پی کے ایل آئی ایکٹ کے سیکشن 6 اور 8 کے تحت بحال کیا گیا اور ہدایت کی گئی کہ اگر اینٹی کرپشن ڈیپارٹمنٹ کسی کے خلاف کوئی کاروائی  کرتا ہے  تو متعلقہ ادارہ سپریم کورٹ کے  ریمارکس کو مد نظر رکھے بغیر آزادانہ فیصلہ کرنے کا مجاز ہو گا۔

 مارچ 2018 میں چیف جسٹس کے گھر پر ہونے والی  ڈنر کے دوران بات چیت  اچانک تلخی میں بدل گئی یہ اس کا انجام تھا۔ لیکن کیا اس عمل میں ڈاکٹر اختراور ان کے ساتھیوں کی  کھوئی ہوئی عزت بحال ہو جائے گی؟ اس سے بھی اہم سوال یہ ہے کہ کیا اب غربا   کے لیے قائم کیا گیا پی کے ایل آئی ایک جدید ہسپتال جہاں غربا کے لیے  ٹرانسپلانٹ کی مفت سہولت موجود ہو   کا قیام ممکن ہو سکے گا؟  ڈاکٹر اختر اور دوسروں کی جنہوں نے بڑی بڑی تنخواہیں اور مراعاتا چھوڑ کر پبلک سروس کے لیے خود کو چنا ان کے ساتھ جو سلوک ہوا اس کے بعد کیا کوئی ایسا قدم اٹھانے کی ہمت کرے گا؟

اور یہی وجہ ہے کہ آرٹیکل 184 (3) کے سکوپ کی تشریح اور اس کے استعمال کے طریقہ کار کی وضاحت ضروری ہے۔  آرٹیکل 184 (3) کے استعمال کا موجودہ طریقہ سارے اختیارات صرف چیف جسٹس کے ہاتھ میں دیتا ہے۔  سپریم کورٹ آخری  ثالث کی حیثیت رکھتا ہے۔ لیکن اگر، اللہ معاف کرے، چیف جسٹس  ہی آپ کے خلاف ہو جائیں تو  آپ کو کہیں چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی۔ نہ کوئی راستہ ہو گا بچ نکلنے کا اور نہ کوئی سہولت بچے گی جس کو استعمال کر کے نقصان کا ازالہ کیا جائے۔ ہمارے  آئینی چیک اینڈ بیلنس کا کوئی بھی حل مدد گار ثابت نہیں ہو گا  اور جب تک چیف جسٹس اپنے عہدے پر موجود ہے کوئی آپ کی حمایت میں آواز نہیں اٹھائے گا۔

کیا   اس طرح کے  اختیاراات  قانون کی حکمرانی کے  لیے فائدہ مند ہو سکتے ہیں؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *