کشمیریوں کے لیے سنہری موقع

اگرچہ یہ کہنا حد سے زیادہ رجائیت پسندی ہو سکتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پیراملٹری فورسز کے قافلے پر خودکش بمباری کے سانحے کی وجہ سے پیدا ہونے والے فوجی تنازعہ  کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے لیکن یہ ضرور کہا جا سکتا ہے کہ کشیدگی میں  بہت کمی آ چکی ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں لائن آف کنٹرول کے ارد گرد شدید شیلنگ اور فائرنگ بڑی حد تک کم ہو چکی ہے۔ بالاکوٹ کے قریب ایئر سٹرائیکس، پاکستان کی اگلے دن کی جوابی کاروائی اور 2 انڈین جیٹ گرانےاور پائلٹ کو پکڑنے  کے بعد ہندوستان کی طرف سے ایل او سی پر حملوں میں تیزی آئی  تھی۔

تاہم، چونکہ دونوں ممالک کی افواج ہائی الرٹ پر ہیں اور بی جے پی حکومت الیکشن کی تیاری میں مصروف ہے جو کچھ ہفتہ کی دوری پر ہیں  اس لیے ابھی امکان باقی ہے کہ بھارتی حکومت بالا کوٹ سٹرائیک جیسا کوئی اور کھیل کھیلنے کی کوشش کرے گی۔

خاص طور پر بھارتی میڈیا اور اپوزیشن کی طرف سے مودی پر سخت تنقید کی وجہ سے  حکومت کو ایسا کرنا پڑ سکتا ہے۔ میڈیا اور اپوزیشن دونوں نے حکومت کی کامیابی اور بالا کوٹ میں مارے جانے والے   دہشت گردوں کی تعداد پر حکومت کے سامنے سوال اٹھانے شروع کر دیے ہیں۔

اگرچہ مشرقی سرحد پر افواج چوکس ہیں لیکن پاکستان فوج نے کہا ہے کہ  شدت پسند تنظیموں کے خلاف جن میں حافظ سعید کی جماعت الدعوہ اور مسعود اظہر کی جیش محمد سر فہرست ہیں کے خلاف کاروائی میں حکومت کو فوج کی بھر پور حمایت حاصل رہے گی۔

 اس بیان پر بین الاقوامی قوتیں اور میڈیا شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں کیونکہ  اس سے قبل بھی کئی بار ان جماعتوں پر پابندی کا اعلان کیا گیا ہے لیکن یہ  نئے ناموں کے ساتھ کام کرنے لگتی ہیں ۔

تاہم، جیسا کہ کچھ نوجوان افسران نے بتایا ہے کہ  پاکستان کی  قبائلی علاقوں میں اس وقت کے مذہبی عسکریت پسندوں کے خلاف لمبی اور خونی جنگ   شاید اسٹیبلشمنٹ   کی سوچ میں تبدیلی کا باعث بنی ہے ۔

ان افسروں  کو یقین تھا کہ اب ان کے ادارے کو سمجھ آ چکی ہے کہ اس طرح کے عناصر  کو اتحادی بنانا خطرے سے خالی نہیں  کیونکہ یہ عناصر مستقبل میں ناقابل تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ایک شخص نے کہا کہ "ہمارے ذہنوں میں کوئی شبہ نہیں  کہ اگر ہم نے مستقبل محفوظ بنانا ہے تو  ان عسکریت پسندوں سے اسلحہ چھیننا ہو گا۔ "یہ نظریہ سابقہ انٹیلی جنس چیف شجاع پاشا کے نظریہ سے ہزاوروں  میل دور دکھائی دیتا ہے جس کا اظہار انہوں نے2008 میں بمبئی دہشت گرد حملے کے بعد پاک بھارت کشیدگی کے جواب میں کیا تھا۔

مستقبل کے خطرناک نتائج  کے ادراک کے علاوہ اس ایکشن کی ایک اور وجہ FATF  کی طرف سے پاکستان کو بلیک لسٹ  کرنے کی دھمکی ہے جس سے بچنے کے لیے ان گروہوں کے خلاف کاروائی ضروری ہے۔

بلیک لسٹ ہوئے  ممالک بھی اپنی بقا قائم رکھ سکتے ہیں لیکن ان کے معاشی لین دین کی قیمتیں بہت زیادہ  ہیں کیونکہ ان ممالک کا نام ان  میں شامل ہے جو منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی امداد کو روکنے میں ساتھ  دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ ان پر پابندیاں لگائی جاتی ہیں  اور پاکستان اس طرح کی پابندیاں اپنے معاشی حالات کی وجہ سے سہنے کی طاقت نہیں رکھتا۔

FATF کو  اہم اقدامات  کے ذریعے  مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی اور  نئے اصول وضوابط اور انفراسٹرکچر تبدیلیوں کے ذریعے معیشت پر اٹھنے والے خطرات سے ملک کو بچانے کی کوشش کی جائے گی ۔ اس کا قومی سکیورٹی پر بھی گہرا اثر پڑے گا۔

اس لیے پاکستان کے پاس ٹھوس وجہ ہے کہ وہ ان تمام تنظیموں کے خلاف کاروائی کرے جو مسئلہ کشمیر کو عالمی سطح پر اجاگر کرنے کے اقدامات  پر غلط اثر ڈالتی ہیں۔ جیسا کہ پلوانہ حملے میں جیش کی طرف سے دھماکے کی ذمہ داری قبول کر کے کیا گیا اور بھارت کو غیر ملکی  مداخلت کا الزام لگانے کا موقع مل گیا اور کشمیریوں کی  تحریک آزادی پر ایک برا دھبا لگا دیا گیا۔

میں اس بات پر آمادہ ہوں کہ وادی کشمیر میں بھارتی  مظالم کے خلاف مزاحمت کی شدت مسئلہ کشمیر  کے حل کا موجب بنے گی  جس میں عوام کی رائے کے مطابق فیصلہ ہو سکے گا۔

پلوامہ بمبار کی پروفائل کو ہی دیکھ لیجیے، جو مقبوضہ کشمیر میں پلا بڑھا، اور سیکیورٹی فورسز کی طرف سے اس کے ساتھ کیسا سلوک کیا گیا، اور ہر چیز کا گواہ وہ خود ہے۔  حیرت کی بات یہ ہے کہ جیش محمد  کی طرف سے ذمہ داری کے بیان کرے بر عکس اس علاقے میں سابق انڈین ملٹری کمانڈر لیفٹننٹ جنرل ڈی ایس ہوڈہ کے  بیان کو میڈیا میں اتنی حیثیت نہیں دی گئی۔

لیفٹیننٹ جنرل ہودہ نے کہا کہ ایل اوسی پر سیکیورٹی فورسز کی موجودگی کی وجہ سے اتنا بارود بارڈ سے پار لے جانا ناممکن تھا جو پلوامہ کی بمباری میں استعمال ہوا، بعض اعداد و شمار کے مطابق یہ 350 کلو وزن کا تھا۔ ان کے نظریے  کے مطابق یہ بارود سری نگر جموں روڈ سے لایا گیا تھا جو دھماکہ کی جگہ سے زیادہ دور نہیں ہے۔

پاکستان میں عسکریت پسند تنظیموں کے خاتمے کا ایک فائدہ یہ ہو گا کہ ایک بار جب یہ ہو جائے گا انڈیا کشمیر میں مظالم کا جو ایک بہانہ اکثر استعمال کرتا ہے اس سے محروم ہو جائے گا۔پھر کشمیری نوجوانوں کی طرف سے مزاحمت کا الزام صرف بھارت پر ہی آئے گا ۔  اور 2008 میں ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی  کرنے والوں کے خلاف ٹرائل کی تکمیل ایک اہم سنگ میل ثابت ہو گی۔

یقینا پاکستان کو اپنے کام پر توجہ دینی ہو گئی کیونکہ فارین منسٹر اور ملٹری کے بیانات مین تضاد سے ملک کے امیج پر برا اثر پڑتا ہے ۔ اکثر کہا جاتا ہے کہ موجودہ حکومت اور فوج ایک صفحے پر ہیں ۔ اس لیے دونوں اداروں کو اپنا ہوم ورک کرنا چاہیے اور  میڈیا پر بیان دیتے و قت اس بات کا خیال رکھا جائے کہ کہیں کوئی تضاد نظر نہ آئے ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *