تحریک انصاف کے فالوورز کا مخمصہ


اچھا تحریک انصاف کے فالوورز اور سپورٹرز کا یہ پختہ یقین ھے۔ کہ عمران خان پہلا وزیراعظم ھے۔ جس سے مقتدرہ خوفزدہ ھے۔ جو اپنی مرضی کرتا ھے۔ اور یہ جو نان اسٹیٹ ایکٹرز کو لے کر کاروائ ھو رھی ھے۔ اس کا تمام کریڈٹ عمران خان کو جاتا ھے۔ یہ عمران خان کا فیصلہ تھا۔ اور ان تحریکی سپورٹرز کو یہ یقین بھی ھے۔ کہ اس ملک میں سویلین سپریمیسی کا سورج عمران خان کے دور حکومت میں ھی طلوع ھو گا۔ اور اسٹیبلشمنٹ ملکی سیاست سے نکل جائے گی۔ اور ملک معاشی طور پر ترقی کر جائے گا۔ ان فالوورز کا یہ بھی یقین ھے۔ اگر عمران خان یہ سب کچھ حاصل کرنے میں ناکام رھا تو اس کی وجہ کرپٹ سیاسی مافیا ھو گا۔ جو احتساب سے خوفزدہ ھے۔ اور جس نے عمران حکومت کے خلاف گٹھ جوڑ کر لیا ھے۔ شاید اسی لیے پیش بندی کے طور پر کرپٹ مافیا کا نعرہ زندہ رکھا گیا ھے۔ تاکہ مستقبل میں ناکامی کا جواز گھڑا جا سکے۔ پچھلے دنوں جب ایک پی ٹی آئی سپورٹر نے میرے سامنے عمران حکومت کو درپیش کرپٹ مافیا کے ھاتھوں مشکلات کا ذکر کیا ۔ تو میں نے وھاں موجود اپنے آٹھ دس پی ٹی آئی ھارڈ کور دوستوں سے پوچھا۔ کرپٹ مافیا تو ھر جگہ ھوتا ھے۔ حکومتیں ان کے ھاتھوں یرغمال نہیں بنتیں۔ آپ اگر مجھے ان سات ماہ میں پی ٹی آئی حکومت کا کوئ ایک ایسا مثبت قدم بتا دیں۔ جو ملکی معیشت کی ترقی کے لیے اٹھایا گیا ھو۔ اور جس سے ریاست کی آمدن میں اضافہ ھوا ھو۔ تو میں آپ کا مشکور ھوں گا۔ اور اپنی نالائقی تسلیم کر لوں گا۔ اس پر پی ٹی آئی کے وہ تمام سپورٹرز میری شکل دیکھنے لگے۔ اور پھر ایک دوسری کی شکل تکنے لگے۔ آخر ایک بندے نے ھمت کرکے کہا۔ ھماری نظر میں ایسی کوئ پالیسی یا قدم نہیں ھے۔ جس سے ریاستی آمدن بڑھی ھو۔ سوائے اس کے کہ نئ ٹیکسیشن پالیسی آئ ھے۔ اور حکومت نے کچھ ریوینو اکھٹا کیا ھے۔ میرا جواب تھا۔ ٹیکسوں اور ڈیوٹیز میں اضافہ کرکے اور سبسڈیز کو ختم کرکے آمدن میں اضافہ کرنا لوگوں کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے کے مترادف ھے۔ خاص طور پر اگر یہ اضافی ٹیکس موجودہ ٹیکس دہندگان سے وصول کیا جائے۔ جبکہ صورت حال یہ ھے۔ اسٹیٹ بنک کی ھی رپورٹ کے مطابق مالی سال کی اس ششماھی میں ٹیکس وصولی میں بہت زیادہ کمی ھوئ ھے۔ اور نئے ٹیکس دہندگان میں اضافہ نہیں ھو سکا۔ جن کے متعلق عمران خان نے اپنی انتخابی مہم میں بار بار یہ اعلان کیا تھا۔ کہ وہ حکومت ملنے پر ٹیکس نیٹ ورک میں اضافہ کرے گا۔ اور نئے ٹیکس دہندگان سے آٹھ کھرب روپے اکھٹے کرے گا۔ اسی طرع منی لانڈرنگ، رشوت پر قابو پا کر آمدن میں اضافہ ھو گا۔ اور لوٹی ھوئ دولت واپس لا کر اور بچتوں سے بھی آمدن میں بڑھوتی کی جائے گی۔ لیکن بدقسمتی سے عمران حکومت کی یہ تمام معاشی پالیسیاں ناکام ھو گئ ھیں۔ اور آ جا کر ادھار اور قرض لے کر حکومت چلائ جا رھی ھے۔ یہاں تک کہ ترقیاتی فنڈ میں بھی کٹوتیاں لگائ جا رھی ھیں اور اب تو سی پیک کے فنڈز بھی نکالے جا رھے ھیں ۔ اور یا پھر جرمانوں اور فیسوں میں اضافہ کرکے کچھ وصولیاں کی جا رھی ھیں۔ حکومت کا خیال تھا۔ روپے کی قیمت میں کمی کرکے برامدات بڑھ جائیں گی۔ اور تجارتی خسارے میں کمی آئے گی۔ لیکن یہ پالیسی بھی بیک فائر کر گئ۔ روپے کی قدر میں کمی سے مہنگائ اور بے روزگاری میں اضافہ تو ھوا لیکن برآمدات میں بڑھوتی نہ ھو سکی۔ اسی طرع سعودی حکومت نے جس سرمایہ کاری پیکج کا اعلان کیا تھا۔ وہ کسی کولڈ سٹوریج میں پڑا ٹھنڈی ھوائیں کھا رھا ھے۔ اور حکومت روز مرہ کے معاملات چلانے کے لیے مقامی بنکوں سے دھڑا دھڑ قرض لے رھی ھے۔ وزیر خزانہ اسد عمر نے ریونیو اکٹھا کرنے کے لیے بھاری سود کی شرائط پر جن بانڈز کا اجراء کیا تھا۔ وہ بھی ناکام ھو گیا ھے۔ حالانکہ یہ بھی قرض کی ھی ایک شکل تھی۔ پی ٹی آئی سپورٹرز اور فالوورز کا مخمصہ یہ ھے۔ ان کے پاس ان تمام ناکامیوں کی دو ھی جوابات ھیں۔ پچھلی حکومتیں کرپٹ تھیں ۔ اور کرپٹ مافیا حکومت کے خلاف کام کر رھا ھے۔ اگر ان کے ساتھ حقائق اور اعدادوشمار کے ساتھ بات کی جائے۔ تو پہلے تو انہیں ماننے سے ھی انکار کر دیتے ھیں۔ ان کی پالیسی یہ ھے۔ کہ جو بات ھمیں معلوم نہیں وہ ھے ھی نہیں۔ اس پالیسی کا دوسرا نقطہ یہ ھے۔ بقول ان کے اگر پچھلی حکومتیں اتنی ھی کامیاب تھیں۔ تو ملک کی ایسی حالت کیوں ھے۔ لیکن خدا کا شکر ھے۔ جب سے پی ٹی آئی حکومت میں آئ ھے۔ ان پر کافی تلخ حقیقتیں آشکار ھو رھی ھیں۔ اور یہ معلوم پڑ رھا ھے۔ پیسہ کدھر جا رھا ھے۔ لیکن پی ٹی آئی سپورٹرز کی ایک پالیسی یہ بھی ھے۔ وہ کسی بات کا کبھی سیدھا جواب نہیں دیتے۔ بات کو گھما دیتے ھیں۔ اور سنجیدہ گفتگو بے معنی ھو کر رہ جاتی ھے۔ اسی طرع یہ لوگ پوچھی جانے والی بات کا جواب دینے کی بجائے پوچھنے والے پر براہ راست حملہ کر دیتے ھیں۔ اور کردار کشی شروع کر دیتے ھیں۔ بہرحال یہی سیاسی عصبیت ھے۔ جب کسی لیڈر کے فالوورز دل جمعی کے ساتھ اپنے لیڈر کی ھر بات کا دفاع کرتے ھیں۔ یہاں تک کہ اس لیڈر کو اسٹیبلشمنٹ کے آھنی ھاتھ لگتے ھیں۔ اور لیڈر اور اس کے فالوورز کا بیانیہ تبدیل ھو جاتا ھے۔ پیپلزپارٹی کے ساتھ یہ ھوا۔ بلوچیوں کے ساتھ یہ ھوا۔ ن لیگ کے ساتھ یہ ھوا۔ مولانا فضل الرحمن کے ساتھ یہ ھوا۔ اے این پی اور جماعت اسلامی کو ھاتھ لگے۔ ابھی سفر جاری ھے۔ سویلین سپریمیسی کی جدوجہد ایسے ھی کامیاب ھو گی۔ اور شعور ، آگاھی اور ادراک میں یونہی اضافہ ھوتا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *